دفتر کی دیواریں ہمیشہ یکساں لگتی تھیں، جیسے صدیوں سے یہاں وقت رک گیا ہو۔ یہاں کام کرنے والے لوگ بھی ایک جیسے تھے—چپ چاپ، مشینی انداز میں چلتے پھرتے، اپنے چہروں پر مصنوعی مسکراہٹیں سجائے، جیسے وہ کسی نیم سرکاری غلامی میں قید ہوں۔ میں بھی انہی میں سے ایک تھا، یا شاید میں نے خود کو انہی جیسا بنا لیا تھا. ہر روز صبح گھر سے نکلنے سے پہلے آئینے میں دیکھتا تو لگتا کہ کوئی اجنبی مجھے گھور رہا ہے۔ میں اپنے چہرے کو غور سے دیکھتا، ہاتھ سے چھوتا، جیسے اس کی حقیقت جاننا چاہتا ہوں، مگر روز یہ چہرہ کچھ اور بن چکا ہوتا تھا۔
“تمہیں کیا لگتا ہے، ہم روز اپنا ہی چہرہ دیکھتے ہیں؟” میری بیوی نے ایک دن حیرانی سے پوچھا تھا۔ “کیوں نہیں؟” میں نے الجھن سے جواب دیا تھا۔ “یہ دفتر تمہاری شکل بدل رہا ہے، تمہیں لگتا ہے کہ تم وہی ہو جو دس سال پہلے تھے؟” میں اس سوال پر خاموش ہوگیا تھا۔ شاید میں واقعی نہیں تھا۔
یہ دن بھی عام دنوں جیسا تھا۔ میں فائلوں میں الجھا ہوا تھا جب صفائی کرنے والا ملازم آیا اور میرے کمرے کے کونے میں رکھی ردی کی ٹوکری خالی کرنے لگا۔ ایک پرانی فائل اور کچھ پھٹی ہوئی تصویریں زمین پر گر گئیں۔ میں نے بے خیالی میں ان میں سے ایک تصویر اٹھائی، اور میرا دل ایک لمحے کے لیے رک سا گیا۔ یہ تصویر میری اپنی تھی—یا کم از کم مجھ سے مشابہہ تھی۔ مگر یہ میں کب کا تھا؟ یہ تصویر کچھ ایسی تھی جیسے کسی پرانے شناختی کارڈ کی کاپی ہو، مگر مجھے یاد نہیں آیا کہ میں نے یہ کب کھینچوائی تھی۔ “یہ تصویر کہاں سے آئی؟” میں نے ملازم سے پوچھا۔
“یہ سب پرانی چیزیں ہیں، جو دفتر سے ردّی میں جاتی رہتی ہیں۔” وہ لاپروائی سے بولا اور آگے بڑھ گیا۔ پرانی چیزیں؟ پرانی شناختیں؟ میں نے تصویر کو غور سے دیکھا۔ یہ میں ہی تھا، مگر آنکھوں میں وہ چمک تھی جو شاید برسوں پہلے کھو چکی تھی۔
اس رات آئینے میں اپنا چہرہ دیکھا تو وہی تصویر میرے ذہن میں ابھری۔ میں نے محسوس کیا کہ میرا چہرہ دھندلا ہو رہا تھا، جیسے کاغذ پر پینسل سے بنائی گئی کوئی پرانی تصویر جسے وقت آہستہ آہستہ مٹا رہا ہو۔
اگلے دن میں نے دفتر میں پرانی فائلیں دیکھنے کا فیصلہ کیا۔ میں آرکائیو روم میں گیا، جہاں سالوں پرانی رپورٹس اور دستاویزات پڑی تھیں۔ وہاں مجھے کئی ملازمین کے پرانے شناختی کارڈز اور تصاویر ملیں۔ حیرت انگیز طور پر، ان میں سے کچھ لوگ میرے جیسے ہی لگ رہے تھے—نہ بالکل، مگر حیران کن حد تک مشابہہ۔ جیسے ایک ہی چہرہ بار بار مختلف روپ میں نظر آ رہا ہو۔
دفتر کے پرانے ملازم، جو اب ریٹائر ہو چکے تھے، ان سے بات کی تو ایک خوفناک حقیقت سامنے آئی۔ یہ دفتر صرف ایک عام ادارہ نہیں تھا، یہ ایک ایسی جگہ تھی جہاں ملازمین کی شناخت وقت کے ساتھ بدلتی رہتی تھی۔ “یہاں ہر سال نئے چہرے آتے ہیں، اور پرانے چہرے غائب ہوجاتے ہیں۔ مگر لوگ وہی رہتے ہیں۔” ایک بزرگ ملازم نے سرگوشی میں کہا۔
مجھے لگا جیسے میں کسی راز کے قریب پہنچ رہا تھا۔ میں نے مزید کھوج لگانے کا فیصلہ کیا اور ایک رات دیر تک دفتر میں رک گیا۔ آرکائیو روم کی پرانی الماریوں کے پیچھے مجھے ایک خفیہ دروازہ ملا، جس پر “پرانی فائلیں” لکھا تھا۔ اندر داخل ہوا تو ایک تہہ خانے میں پہنچ گیا۔ وہاں لکڑی کی شیلفوں پر ہزاروں شناختی کارڈز، تصاویر اور سرکاری فائلیں پڑی تھیں۔ اور تب مجھے اپنی اصل تصویر ملی۔ یہ ایک بلیک اینڈ وائٹ شناختی کارڈ تھا، جس پر میرا نام، میرا ہی پتہ اور میرا ہی دستخط تھا، مگر تاریخِ اجراء… وہ میرے پیدائش سے بھی پہلے کی تھی!
دفتر صرف کام کی جگہ نہیں تھا، یہ ایک ایسی جگہ تھی جہاں شناختیں چھین لی جاتی تھیں، اور لوگوں کو نئے چہروں کے ساتھ ایک نئی زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا جاتا تھا۔ مگر اصل سوال یہ تھا کہ یہ سب کون کر رہا تھا؟ اور کیوں؟ میں نے دفتر کے ایک سینئر افسر سے بات کرنے کی کوشش کی، مگر اس نے میری طرف ایسے دیکھا جیسے میں کوئی پاگل ہوں۔ “یہ سب تمہارا وہم ہے، تم بس کام پر دھیان دو۔” مگر اب میں خاموش نہیں رہ سکتا تھا۔ میں نے تہہ خانے سے کچھ پرانی شناختیں اور فائلیں اٹھا لیں اور ان کے بارے میں تحقیق شروع کی۔ جتنا گہرا کھودتا گیا، اتنا ہی حیرت زدہ ہوتا گیا۔ یہ دفتر صرف ایک عام سرکاری ادارہ نہیں تھا، یہ ایک ایسی مشین تھی جو لوگوں کی یادداشتیں اور شناختیں مٹا کر انہیں نئے سانچوں میں ڈھالتی تھی۔
ایک رات جب میں گھر پہنچا، تو میں نے آئینے میں دیکھا اور چونک گیا۔ مجھے اپنا چہرہ یاد نہیں آیا! میں نے کوشش کی، مگر ہر بار ایک نیا چہرہ نظر آتا تھا، جیسے میں روزانہ بدلتا جا رہا ہوں۔کیا میں اصل میں وہی تھا؟ یا میں بھی کسی ردّی کی ٹوکری میں پھینکی گئی کوئی پرانی شناخت ہوں، جسے نئے چہرے کے ساتھ نئی زندگی دے دی گئی ہے. میری بیوی نے مجھ سے کہا: “تمہیں لگتا ہے کہ ہم روز اپنا ہی چہرہ دیکھتے ہیں؟” میں نے آئینے میں دیکھا، اور وہاں مجھے کوئی اجنبی نظر آیا۔
دفتر میں اب بھی کام جاری تھا۔ نئے ملازمین آ رہے تھے، پرانے جا رہے تھے۔ شاید کچھ عرصے بعد میں بھی کسی اور چہرے کے ساتھ کسی اور زندگی میں جا چکا ہوں گا۔ مگر میری اصل شناخت کہاں گئی؟ یہ سوال شاید ہمیشہ کے لیے ان ردی کی ٹوکریوں میں دفن ہو چکا تھا، جہاں سے میں نے اپنی پرانی تصویر اٹھائی تھی۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں