چیزیں اپنی ضدوں سے پہچانی جاتی ہیں ، زمین ہوتی آسمان نہ ہوتا، آگ ہوتی پانی نہ ہوتا، زندگی ہوتی موت نہ ہوتی، صحت ہوتی علالت نہ ہوتی، راحت ہوتی مشقت نہ ہوتی، امارت ہوتی غربت نہ ہوتی، مرد ہوتا عورت نہ ہوتی وغیرہ وغیرہ یہ ساری چیزیں محض اس لئے جانی مانی پہچانی جاتی ہیں کہ خلاق عالم نے ان کی ضدوں کو بھی پیدا کردیا ہے ورنہ انسانی ذہن آگ سے پانی تک نہیں پہنچ سکتا تھا ، زندگی سے موت کا تصور نہیں ہوسکتا تھا اسی لئے عربی کی مشہور کہاوت اور ضرب المثل ہے کہ تعرف الاشیاء باضدادہا اس کی فارسی کہاوت “چیزہا بہ کمک متضادہایشان شناختہ می شوند”ہے۔
اسلام بھی ایک مذہب ہے ،ایک دین اور شریعت ہے ، ہمارے نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ہماری کتاب قرآن کریم ہے سوچیں اگر اور تین آسمانی کتابیں نہ ہوتیں تو اپنے کلام پاک کو کیسے اتنی اہمیت دے پاتے ،اپنے نبی کی بزرگی و برتری اور ختم المرسلینی کا کیونکر ڈنکا بجا پاتے ۔
اب آتے ہیں اپنے مقصود اصلی اور عنوان و معنون پر ، کمبھ کا میلہ بارہ سال بعد منعقد ہوتا ہے ، یہ یوپی کے الہ آباد میں سنگم نامی دو دریاؤں کے پاس واقع ہوتا ہے ، پچھلی بار بھی ہوا ہوگا لیکن یاد ہی نہیں ہے شاید نیٹ بھی اتنا سستا نہیں ہوگا پتہ نہیں موبائل اتنی فراوانی سے تھے بھی یا نہیں خیر اس سال کمبھ میلہ منعقد ہوا ، حکومت نے پانی کی طرح پیسہ دریا برد کیا ، دنیا جہان کی بھیڑ اکٹھی کرنے کے سو سو جتن کرلئے ، کافی حد تک بھیڑ جمع کرنے میں کامیاب بھی ہوئے ،مگر ناقص انتظامات ، پانی کی عدم دستیابی، بھیانگ آگ کی وجہ سے سینکڑوں عارضی مکانوں کا جل کر خاک ہوجانا ،درجنوں لوگوں کا بھگدڑ میں مرجانا خیر ہمیں ان سے کیا لینا دینا دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میلے نے ان کے ایسے ایسے گرؤوں سے پردہ اٹھایا ہے کہ لطیف المزاج لوگوں کو الٹیاں آنے لگیں گی۔مثلا ایک بابا اپنے پورے لاؤلشکر کے ساتھ ننگا رہتا ہے یہی نہیں اس کے ساتھ تمام ہی بابا ننگ دھڑنگ رہتے ہیں اور سنئے ایک بابا کوڑے شاہ بھی پرکٹ ہوا ہے جو ہر کسی کو کوڑے مارتا رہتا ہے ،ایک بابا تو صاف صاف کہتا ہے کہ میں گو یعنی پاخانہ کھاتا ہوں اور کھاؤں گا، ایک بابا پانی شاہ بھی برآمد ہوا جو ہمیشہ پانی میں رہتاہے ،اور سنو جناب ایک بابا کانٹے شاہ بھی ہے جو کانٹوں میں سو سوکر لوگوں سے بڑے پیسے اکٹھا کررہا ہے اور جناب ایک بابا مردوں کو کھاجاتا ہے بلکہ کہتا بھی ہے کہ مجھے روز ایک مردہ کھانے کے لئے چاہیے۔ ایک نے تو گوبر کی بریانی بھی پکوالی، حدتوتب ہوئی جب ایک بابا کہتا ہوا نظر آتا ہے کہ اس نے 35 سال سے غسل ہی نہیں کیا ہے ،ساٹھ سال سے منہ چہرہ بدن نہیں دھویا ہے، کبھی دانت نہیں صاف کئے۔طرح طرح کے کرتب اور مختلف الانواع ڈرامے بازیاں یہاں دکھائی دے رہی ہیں۔میں تو کہتاہوں ان لوگوں کی ایسی حرکتوں کی وجہ سے ہمیں اسلام جیسے صاف شفاف پاکیزہ دین اور دھرم پر شکر ادا کرنے کی توفیق ملتی ہے۔
شاعر نے کہا:
ضدّان لمّا استجمعا حسُنا
والضدُّ يظهر حسنه الضدُّ
اتنی گندگی کے باوجود پاخانہ اور گوبر مردوں کا گوشت اور ہڈیاں کھانے ، پیشاب پینے کے باوجود یہ خود کو پاک اور پوتر سمجھتے ہیں تو یہ ان کی کج فہمی ہی ہے اللہ نے انھیں بھی پاک و پاکیزہ چیزیں عطا کیں لیکن انھوں نے ناپاکی کو گلے سے لگالیا ایک اسلام ہے مسواک۔ غسل ، وضو ، پیشاب کے قطروں سے بچنے کی تاکید ورنہ عذاب قبر کی دھمکی ، وضو پر وضو کی ترغیب بلکہ ہروقت باوضو رہنے کی فضیلت سبحان اللہ ع
ایں سعادت بزور بازو نیست
تانہ بخشد خدائے بخشندہ
ان کے مردوں کی آخری رسومات کو کم از کم موبائل پر دیکھیں ، مرتے ہی مردے کو بیڈ اور چارپائی سے نیچے گرا دیا جاتا ہے، معدودے چند لوگ مردےکو شمشان گھاٹ لے جاتے ہیں ، میں نے تو بچپن میں ایک خاتون کو مردہ حالت میں اپنے ہی گاؤں میں دیکھا تھا بے شمار موٹی موٹی سوئی اس کے تلوے میں چبھوئی ہوئی تھیں ، یہ لوگ کس بے دردی کے ساتھ اپنے مردے کو پانی میں پھینکتے ہیں یا آگ میں جلاتے وقت کیا سلوک کرتے ہیں آپ تصور بھی نہیں کرسکتے، پھر ہم اپنے دین اور شریعت کے مطابق اپنے مردوں کے ساتھ رویے کو دیکھیں تو بے ساختہ شکر کے کلمات ہماری زبانوں سے ادا ہوتے ہیں کتنے اہتمام سے قبر کھودی جاتی ہے ، مردے کو مکمل اہتمام واحترام سے نہلایا ، کفنایا اور دفنایا جاتا ہے، ان کی قبروں پر بعد میں بھی جانے کا حکم ہوتا ہے، ایصال ثواب اور دعاء مغفرت کی تاکید ہوتی ہے ، ان کے نیک کاموں کو کرتے رہنے کی ہدایت ہوتی ہے کیا یہ چیزیں ہمیں اسلام کی حقانیت ، شفافیت ، اللہ کی وحدانیت ، رسول کی رسالت اور خیر کے کاموں کی طرف لانے اور بلانے میں کلیدی کردار ادا نہیں کرتی ہیں۔؟
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں