کراچی پریس کلب/ شہناز احد

کراچی پریس کلب کا شمار میری منی سی معلومات کے مطابق پاکستان کے اولین پریس کلب میں ہوتا ہے۔ پچاس کی دہائ میں پاکستان میں انگریزوں کے چھوڑے ہوۓ جم خانوں،سوشل کلبوں،نائٹ کلبوں کے بعد یہ واحد کلب بنا جس کے ممبر ایک مخصوص پیشے سے تعلق رکھنے والے صاحبان یعنی صحافی تھے۔

ابتدا میں اس کی روایات بھی اس وقت کے دیگر سماجی کلبوں سے ملتی جلتی ہی تھیں یعنی کھیلو کودو، پیو کھاؤ کچھ دیر کی ذہنی عیاشی کرواور گھر جاؤ۔ پریس کلب کے ان خدوخال پر کسی کو اعتراض بھی نہ تھا۔ سب خوش باش بہتی گنگا میں نہا تےدھو تے رہے۔
میری اس تحریر کا مقصد ہر گز بھی پریس کلبوں کی تاریخ بیان کرنا یا ان کے بخیہ ادھیڑنا نہیں ہے۔
میں نے یہ تمہید دوست، ساتھی،سہیلی، مشفق اور استادوں کی طرح سکھانے، بتانے والے اپنے بہت ہی عزیز اشرف شاد کی کتاب” کراچی پریس کلب” کے حوالے سے باندھی ہے۔
اشرف شاد بیس سے زائید کتابوں کے مصنف ہیں۔ انھوں نے وزیر اعظم سے لے کے جج صاحبان سمیت بہت سارے موضوعات کو بذریعہ قلم زندگی دی ہے۔ ان کی کتاب جلاوطن کو تو ایوارڈ بھی ملا ہے۔
گذشتہ چند سالوں سے وہ اپنی حیات کا سفر نامہ لکھنے میں مصروف ہیں۔ اس سفرنامے کو طے کرتے،کرتے یا لکھتے،لکھتے یہ ان کی تیسری کتاب کی آمد ہے۔ وہ کہتے ہیں جب میں اپنی اور ملک کی “ زیر زمین سرگرمیوں” کا آحوال لکھ رہا تھا تو مجھے احساس ہوا کہ یہ تو ایک مکمل کتاب ہے لہٰذا انھوں نے فورا” انڈر گراؤنڈ” کے نام سے کتاب چھاپ دی۔ سفر اور آگے بڑھا تو “ صحافت کے خاروگل” کے نام سے ایک اور کتاب نے جنم لیا اور اب کی بار ایک طویل سانس لے کے آگے کی جانب دیکھا تو “ کراچی پریس کلب” سامنے آ کھڑا ہوا۔
ہم سب جانتے ہیں کہ اس ملک کی صحافت اور سیاست میں کراچی پریس کلب کا کیا کردار رہا ہے۔ مجھے اس وقت ملک کے دوسرے پریس کلب بھی یاد آرہے ہیں۔ جیسے پنڈی پریس کلب، لاہور پریس کلب،حیدرآباد پریس کلب، میرپور خاص پریس کلب ان کی تبدیلی حالات کا سفر بھی ہم نے دیکھا ہے۔ اوہ بات آگے نکل گئ۔
اشرف شاد اور ان کے سیاسی قبیلے کےحضرات خوب جانتے ہیں کہ کراچی پریس کلب کے درودیوار نے سیاست اور صحافت کے وہ ،وہ رنگ دیکھے ہیں کہ ان دیواروں کو اگر زبان لگ جاۓ تو اتنی کہانیاں بیاں ہوں کہ کان پک جائیں۔
اشرف نےپریس کلب سے اپنی وابستگی کی قوس وقزح کے رنگ برساتے اور سمیٹتے ہوۓ کچھ دوستوں کو بھی کتاب میں رنگ برسانے کے لئے مدعو کیا ہے۔
پریس کلب کے حوالے سے ہر ایک نےاپنی ، اپنی بساط کے مطابق خوب رنگ بکھیرے ہیں اور یوں بکھیرے ہیں کہ “ کراچی پریس کلب “ کی اچھی خاصی تاریخ رقم ہوگئ ہے۔ جیسے مظہر عباس نے ایک عرصے سے تنازع کا شکار پر یس کلب کی عمارت کی سپردگی کے واقع کو سپرد قلم کرکے اس واقع کی ڈاکو مینٹیشن کردی ہے۔
فاضل جمیلی نے اپنی یادوں کے رنگوں کو سمیٹتے ہوۓ لکھا ہے” ضیائ دور کے وزیر اطلاعات جنرل مجیب نے کراچی پریس کو علاقہ دشمن” قرار دیا تھا۔ ان ہی کی تحریر سے یہ بات بھی سامنے آئ ہے کہ جنرل مشرف کے دور میں ڈی جی آئ ایس پی آر کے داخل کلب ہونے کےبعد اس وقت کی منتخب گورننگ باڈی کو گھر جانا پڑا تھا۔ اُن کے لکھے سے برسوں بعد یہ بات بھی ہم پر آشکار ہوئ کہ کلب کے کامریڈوں میں سے کامریڈ نعیم آروی مرحوم css پاس تھےلیکن پارٹی کے حکم پر صحافت کا پیشہ اختیار کیا۔
سیمابی کیفیت والے مجاہد بریلوی !میری یاداشت کے مطابق دو سے زائید مرتبہ کلب کے سیکریٹری اور اتنی ہی مرتبہ جوائنٹ سیکریٹری رہے ہیں اس کے علاوہ وقتا فوقتا کلب کی ادبی کمیٹی کی سربراہی بھی ان کی گرفت میں رہی ہے۔ ان کا دور کلب کا خاصہ ہنگامہ خیز دور رہا ہے شاید اس لئے کہ عہدہ صدارت پر عبدالحمید چھاپرا براجمان ہوتے تھے۔ ان دو ہنگامہ خیز شخصیات کے دور میں کلب میں بہت بڑی،بڑی تقریبات کا انعقاد بھی ہوا جیسے ے نظیر بھٹو اور نصرت بھٹو تشریف لائیں۔ حبیب جالب کو کلب کی اعزازی رکنیت دی گئ۔ مختلف گائیکوں نے موسیقی کے رنگ بکھیرے اور بلوچستانی سیاست کی بے شمار شخصیات بھی آتی جاتی رہیں۔
مجاہد چاہتے تو اپنی یادوں کے بہت رنگ بکھیر سکتے تھے لیکن شاید کر نہ سکے۔
تو صیف احمد خان کی پچیس صفحات پر پھیلی تحریر میں کلب کے انتخابات، ان کے طریقہ کار کی مختلف تبدیلیوں میں ان کی ذاتی کار گزار یوں کا کافی سے زیادہ تزکرہ ہے۔ کلب کے حوالے سے وہ بہت سی ایسی شخصیات کو بھی ضابطہ تحریر میں لاۓ ہیں جب شاید وہ خود ممبر بھی نہیں تھے۔ یہ ایک اچھی کوشش ہے پھر بھی کئ جگہ لگتا ہے کہ ان کی ذاتی پسند نا پسند کا اظہار بہت زیادہ ہے۔ جیسے محمود علی اسد مرحوم کا تزکرہ بار بار مختلف انداز سے کیا گیا ہے جب کہ عبدالحمید چھاپرا جوکہ نہ صرف پانچ بار کلب کے صدر بنے اور جن کا کردار بحثیت صحافی، سیاسی کے یو جے سے لے کر پی ایف یو جے تک پھیلا ہوا تھا ان کو مجاہد کے ساتھ ایک جملے میں یہ کہہ کے سمیٹ دیا کہ” عبدالحمید چھاپرا اور مجاہد بریلوی کے خلاف محاذ بنایا”———گویا پریس کلب میں ان دونوں کا اس سے زیادہ عمل دخل نہ تھا، کچھ ایسا ہی برتاؤ انھوں نے صحافتی تحریکوں کے روح روا ں منہاج برنا اور احفاظ الرحمن کے ساتھ بھی روا رکھا ہے۔
خیر ایسا بھی ہوتا ہے!
پریس کلب کے بہت سینئیر حسین احمد کو امین راجپوت نے انٹرویو کیا ہے۔ کتاب میں اس انٹرویو کی موجودگی سے کلب اور مختلف افراد کے نہ صرف تاریخی کردار کا پتہ چلتا ہے کلب کی نئ پرانی زندگی کے رنگوں کا احوال بھی قاری کو باندھے رکھتا ہے۔
ان گنت بار کلب کے سیکریٹری اور صدر رہنے والے حبیب خان غوری کی یادداشتوں کی بجھی ہوئ راکھ میں سے بہت کچھ نکالا جاسکتا تھا لیکن وہ بھی عمر کے اس حصے میں خیالات اور یاد داشت کو یکجا رکھنے کے مسئلے کا شکار ہیں۔ بقول مصنف ان کے پاس سے باتوں کے علاوہ کچھ یادگار تصاویر بھی ملی ہیں۔
اس کتاب کے مصنف نے اپنے خیالات،جذبات،احساسات کو “آخر شب کے مسافر “ کے عنوان تلے بیان کیا ہے۔
یہ بات ہم سب جانتے ہیں کہ اشرف شاد کو پاکستان چھوڑے جلد ہی آدھی صدی مکمل ہونے والی ہے لیکن یہ بھی ایک جیتی جاگتی حقیقت ہے کہ وہ سانسیں بے شک آسٹریلیا یا دنیا کے کسی بھی شہر میں لیتے ہوں۔ ان کا دل اور روح پاکستان میں اور اس سے زیادہ کراچی پریس کلب میں سانس لیتے ہیں۔ شاید اسی روحانی تعلق کا اثر ہے کہ یادوں میں بسے پریس کلب کو یہ کتاب لکھ کے زندہ جاوید بنا دیا ہے۔
پریس کلب ، اس کی سیاست،مختلف کرداروں کے گرد گھومتا کلب،کارڈ روم،گوشہ کیرم بورڈ اس سے جڑی اچھی بری یادیں وغیرہ وغیرہ ان سب کا حال انھوں نے ایسے لکھا ہے جیسے وہ ان کمروں ،برآمدوں ،راہ داریوں کی کسی میز پر بیٹھے سانس لے رہے ہوں یا گۓ دنوں کی طرح دھواں اُ اڑا رہے ہوں۔
کراچی پریس کلب نامی یہ کتاب کلب کے بارے میں ایک اچھی خاصی دستاویز ہے۔ جس کے ذرئیعے مستقبل کی آنے والی صحافی نسلوں کو پتہ چل سکتا ہے کہ جس پریس کلب کو وہ صرف ایک “ طعام گاہ” سے زیادہ کا درجہ نہیں دیتے وہ کن،کن مرحلوں سے گزر کے اس روپ میں ان کو سمیٹے ہوۓ ہے اور وہ کون لوگ تھےجنھوں نے ذاتی مفادات کو پس پشت ڈال کے کلب کی ساکھ پر آنچ نہ آنے دی۔
کتاب کی تمام تحریروں میں ایک بات کی بہت تشنگی محسوس ہوتی ہے کہ کلب کے کچھ گزرے کرداروں کو بالکل فراموش کر دیاگیا۔ اس بات کا اعتراف مصنف نے خود بھی کیا ہے کہ عبدالحمید چھاپرا کے بارے میں تفصیل سے نہیں لکھا گیا۔
اپنے زمانہ صحافت میں سفید لباس میں ملبوس دوپہر کا کھانا تناول کرنے والے واجد شمس الحسن کو بھی کسی نے قابل تزکرہ نہ جانا۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ اور بہت سے کرداروں کے خدوخال بنانے، سنوارنے میں بھی کراچی پریس کلب کا بہت بڑا ہاتھ رہا ہے۔ خاص طور پر ایم آر ڈی کی تحریک کبھی سر نہ اٹھا پاتی اگر پریس کلب انھیں روز، روز آنے جانے،ملنے اور بات کرنے کی سہولت نہ دیتا تو مارشل لا کے اس دور میں تحریک کیا کرتی؟
لکھنے والوں نے دبے دبے الفاظ میں لکھا ہے کہ مختلف ادوار کے کن،کن حکمرانوں، ان کے لواحقین کو پریس کلب آنے کی حسرت تھی لیکن اب وقت بدل چکا ہے کلب آنے کی خواہشوں کو لئے زیر زمیں جانے والوں نے اتنے کارندے داخل کلب کر دئیے ہیں کہ گنتی محال ہے۔
کراچی پریس کلب کے بارے میں بحثیت مجموعی یہ ایک ایسی تحریری دستاویز جسے خود اس کے لوگوں نے لکھا ہے۔ اس میں کردار بول رہے ہیں، بذریعہ قلم کرداروں کو زندہ کرنے کی کوشش بھی نظر آتی ہے۔ اس کو پڑھنے کے بعد یہ خیال بھی آتا ہے کہ پریس کلب سے وابستہ کچھ اور لوگ بھی اگر اپنی کھٹی میٹھی یادوں کو جگا نے کی کوشش کریں تو مزا آ جاۓ۔
اس کتاب کی تحریری ضخامت ایک سو چھیتر صفحات پر مشتمل ہے۔ تقریبا بیس صفحات میں سابقہ صدور اور سیکریٹری صاحبان کی تفصیل کے ساتھ ساتھ ، کلب کے مرحومین ممبران کی تفصیل بھی ہے۔ اس سب کے ساتھ کچھ یادگار تصاویر بھی ہیں۔
کتاب کی قیمت ایک ہزار روپے ہے۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply