کرسمس کی تقریبات جوبن پر ہیں۔ ہر تقریب کی ایک وائب (vibe) ہوتی ہے لیکن نشانیاں اور علامتیں (signs and symbols) ہمیشہ ان کے لیے ہیں جو غور کرتے ہیں اور عقل کا استعمال (reasoning) کرتے ہیں۔ عقل مندی ایک مختلف چیز ہے لیکن عقل و دانش کا استعمال اور دل سے عمل ہر کسی کے بس میں ہے، قابل دسترس اور رَسائی کے قابل (reachability and accessibility) معاملہ ہے۔ تدبر تفکر تعقل تشعر اور دیگر عقلی اصطلاحات (consciousness and consciences) کا ایک سمندر ہے جو خدا کی زبان (the love language) سے منسوب ہے اور جسے ٹھکرانا مسائل کا آغاز ہے۔ غامدی صاحب سے سوال کیا گیا کہ دل یا عقل؟! تو جواب خاصا خوبصورت تھا: عقل کا استعمال اور دل سے عمل! کوشش کم از کم! ادنی سی کوشش! ایک سوال کیا گیا کہ مسلمانوں کے بیچ اتحاد کیسے ممکن ہے تو غامدی صاحب نے جواب دیا کہ اتحاد کی ضرورت ہی کیا ہے؟ ضرورت نہ ہونے سے مراد ان کی یہ ہے کہ انسان معاشی معاشرتی سیاسی سماجی عمرانی سائنسی مذہبی نفسیاتی اور فلسفیانہ اعتبارات سے مختلف ہوتے ہیں اور مختلف سانچوں میں پکتے ہیں اور وہ مختلف زندگیاں جیتے ہیں (uniqueness)! ان کا کہنا تھا کہ اختلاف کیوں نہ سیکھیں؟ جیسے عید کی ایک وائب ہے اسی طرح کرسمس کی بھی ایک وائب ہے۔ سالہاسالی تاریخ ٹٹولنے سے بہتر اس کا حالیہ نتیجہ ہوتا ہے۔ مخصوص انداز، نرالے گیت، ٹمٹماتی کمکمیں، روشن خیالی، مذہبی ہم آہنگی، ثقافتی پس منظر، ثقافتی جڑت، خوشیوں میں شراکت داری، ککماتے درخت، سرخ رنگت، اور سفیدی! ہمارے ایک استاد تھے جو ہمیں اسلامیات پڑھاتے تھے ایک دن چرچ لے گئے۔ اس وقت میں چھوٹا تھا لیکن مجھے یاد ہے ہم سب طلبہ بہت غور سے جانچ پڑتال کر رہے تھے۔ ایک ایک چیز کو غور سے جانچنا اور اس کی بامعنی وجودیت (meaningful existence) اور دیگر اسلوب سے تعلق (coexistence) پہ غور کرنا مقصود تھا۔ سر نے ہمارے ذہنوں کو تحقیقی اور مشاھداتی (unbiased) بنایا ہوا تھا تاکہ تعصبات کی بجائے ایک محققانہ نظر (research point of view) سے دیکھا جائے اور اپنے متعصبانہ غیر تحقیقی، غیر تنقیدی اور پسے ہوئے ناسٹیلجیا کو حدود میں محدود کیا جائے۔ انھوں نے بہت احترام سے عبادت گاہ اور متولین کے ساتھ معاملہ کیا۔ ہم احترام سے وہاں بیٹھ گئے اور مذہبی ہم آہنگی پہ ان کی بات سنی! یوں تو کئی بار آنا جانا رہتا ہے لیکن یہ والا اس لیے یاد رہ گیا کیونکہ مذہبی ہم آہنگی اور رواداری (religious harmony and tolerance) جیسے موضوعات کو ذہن میں رکھتے ہوئے ان ٹیچر نے ہمیں یہ موقع فراہم کیا تھا اور بہت احترام سے پیش آئے تھے! اسی طرح سندھ میں ایک بار بڑے سے مندر میں جانے کا اور گھنٹی بجانے کا موقع ملا تھا! وہاں ایک مختلف وائب تھی! وہاں کیا تھا، دیواروں میں کیا لکھا تھا، لوگ کون تھے، کیا کر رہے تھے، سب یاد ہے! مجھے ماضی کی بہت سی آوزیں اور احساسات از بر ہیں۔ وہ جب بھی محسوس ہوتی ہیں میرے سامنے ماضی کی فلم چل پڑتی ہے! اسی طرح کبھی کبھی سونگھنے کی حس کام کرتی ہے۔ کبھی حس سماعت میں جان پڑ جاتی ہے۔ یہ ایک مفید چیز ہے! یہ ساری کِتھا چِٹّھی میں بانٹنے کا مطلب یہ ہے کہ مذہب اور مذہبی رنگ اور مذہبی تقاریب تعصبات سے بالاتر ہیں اور خدا اوپر ہی اچھا لگتا ہے۔ اپنے ذاتی تعصبات مذاکرات جرگوں میں خدا کا غلط استعمال بہت ہی نیچ سطحِ انسانیت ہے۔ بالاتر تو بالاتر ہوتا ہے۔ انسان کو گناہ ہی کرنے ہوتے ہیں۔ اسی لیے توبہ تائب کے فلسفے بھی رائج ہیں۔ کوئی بھی تقریب جوں کی توں تاریخی اعتبار سے شاید ثابت نہیں ہے کیونکہ تاریخ خود ہی متنازعہ ہے کیونکہ تاریخ نازل نہیں ہوئی ہم جیسے ہی کمزور انسانوں کا انسانوں کو تحفہ ہے! کسی نے کہا تھا کہ اگر کتابوں کو سونگھ لیا جائے تو فلسفے کی کتاب سے منطق، معاشیات کی کتاب سے معیشت، نفسیات کی کتاب سے رویوں اور تاریخ کی کتاب سے خون کی خوشبو آئے گی۔۔ یہی وہ تقاریب ہوتی ہیں جو مذہبی رواداری پیدا کرتی ہیں اور ایک پل کا کردار ادا کرتی ہیں۔ کچھ لوگ مسلک بھی چھوڑ دیتے ہیں۔ اپنی مرضی کرتے ہیں۔ ان کی مرضی سلامت رہے! کچھ لوگ مسلک چھوڑتے ہیں نہ کسی کا چھیڑتے ہیں۔ یہ بھی درست ہیں۔ اس کے بعد تیسرا آپشن آج کل کی متنوع دنیا میں اپلائے ہی نہیں ہوتا اور اگر اپلائے ہو گا تو قدیم اصطلاح میں یزیدیت اور جدید اصطلاح میں زائن ازم (zionism) بن جاتا ہے!
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں