وہ ایک معصوم احتجاج/اختر شہاب

”یہ نہیں ہو سکتا  ‘۔
یہ تین لفظی احتجاج اس وقت سامنے آیا جب ایک شادی کے بعد ہونے والے فنکشن میں عورتوں اور مردوں کے مکس طائفے نے ناچنے اور گانے میں اپنے بھرپور جسمانی فن کا مظاہرہ کیا۔ جب اس دن فنکشن کے نام پر مردانہ مجرا ہونے کے بعد اصل مجرا تو نہیں ہوا مگر جب مردانہ زنانہ مکس مجرا شروع ہوا تو میرے قریب بیٹھے ایک چھ سات سالہ بچے نے اپنی معصوم کمزور اور مہین آواز میں کہا۔” یہ نہیں ہو سکتا۔

تو میرا جی بھی چاہا کہ بلند آواز میں کہوں ۔۔ ”بند کرو یہ سب،  یہ ملک اس لئے نہیں بنا تھا ۔ یہاں یہ سب کچھ نہیں ہو سکتا ۔” مگر میری خواہش اور اس بچے کی کمزور آواز ، دوسرے لوگوں کی طرح بغیر کوٹھے پر جائے مفت میں مجرا دیکھنے کی خواہش کے پیچھے ، ناچنے والوں کی دھمک اور موسیقی کے شور میں دب گئی ۔

یہ قصہ آج سے کئی سال پہلے میرے ایک دوست نے سنایا تھا اور اس وقت میں نے اسے سمجھا یا تھا کہ یہ باتیں تو ہماری روایات میں شامل ہیں۔ شادی بیاہ اور بچے کے عقیقے وغیرہ میں طوائفوں کو بلا کر مجرا کرانا تو ہمیشہ سے پیسے والوں کا دستور رہا ہے اور ہم جیسے غریب غربا ء کا یہ طور رہا ہے کہ یا توہم اس پر احتجاج کرتے ہیں یا پھر تمھاری طرح مفت میں مجرا دیکھتے رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ اب چونکہ ہم اسلامی ملک ہونے کے دعویدار ہیں تو اب ہم زنانہ مجرا چھپا کے کراتے ہیں اور باقیوں کے لئے فنکشن کے نام پر مردانہ مجرا کروا دیتے ہیں ۔ جو ہماری بہن بیٹیاں بھی اسی شوق سے دیکھتی ہیں جس شوق سے ہم مردانہ مجرا دیکھتے ہیں۔ مگر مردانہ زنانہ مکس مجرا کرا کے جس شخص نے پہلا پتھر پھینکا ہے اس نے بالکل ایک نئی رسم کی نیو ڈالی ہے جو تم دیکھنا بالآخر زنانہ مجرے پر منتج ہو گی۔

یہ بالکل ویسی ہی ابتدا ہے جیسے پی ٹی وی کی صاف ستھری چینل کی رسم کو صرف ایک شخص نے خراب کر دیا ۔ پی ٹی وی پہلے ایک فیملی چینل تھا ۔ اس میں زبا ن وبیان کی صحت، معاشرتی اقدار  کا پاس اور اسلامی روایات کے احترام کا خاص خیال رکھا جاتا تھا۔ پی ٹی وی کی یہ روایات اس وقت تک برقرار رہیں جب تک ایس ٹی این نامی چینل شروع نہیں ہوا تھا ۔ میرا دل چاہتا ہے کہ ایس ٹی این شروع کرنے والے کو میں شیطانی سلام پیش کروں۔ اس نے پہلے اپنے چینل پر ناچ گانا شروع کرایا۔ پھر بہن بھائی کو نچوا دیا اور بعد میں مکس مجرا  شروع ہو گیا ۔ اس کی دیکھا دیکھی پی ٹی وی بھی اس کے پیچھے ناچنے لگا اور آہستہ آہستہ اس کا قبلہ بھی تبدیل ہو گیا۔ پہلے سر سے ڈوپٹہ گیا اور بعد میں باقی شرم و حیا۔ اب عید شو 2006 دیکھ کر میں سوچ رہا تھا کہ پی ٹی وی نے تو بے حیائی میں اب کئی دوسرے چینلوں کو مات دے دی ہے۔ حالاں کہ پی ٹی وی والوں کا اب بھی یہی کہنا ہے کہ پی ٹی وی فیملی  چینل ہے۔ لیکن ہماری اس قدر برین واشنگ ہو چکی ہے کہ ہم فیملی کے ساتھ بیٹھے پہلے کلاسیکل مجرا ، پھر انگریزی مجرا اور پنجابی مجرا اور نہ جانے کون  کون سے مجرے دیکھتے ہیں اور اسے بُرا نہیں سمجھتے۔

میں کل کی طوائفوں کو سلام کرتا ہوں جو چند مخصوص افراد کے سامنے ناچتی تھیں اور اپنا گند ایک کونے میں رکھتی تھیں ہر ایک کو خراب نہیں کرتی تھیں۔ ان کے مقابلے میں آج کی شریف زادیاں (فنکارائیں ) پیسے لے کر پوری قوم کے سامنے ناچنے پر فخر محسوس کر رہی ہیں۔ ان کی دیکھا دیکھی پور ی قوم ہی ناچ رہی ہے اور مذہب سے بیگانہ ہو تی جا رہی ہے ۔ ویسے میرا آپ سے ایک سوال ہے عورت پیشہ کرے تو طوائف کہلاتی ہے  اور مرد پیشہ کرے تو اسے گگلو کہتے ہیں تو اسی لحاظ سے طوائف اگر ناچے تو مجرا ہو گا اور گگلو اگر ناچے تو اسے کیا نام دیں گے۔؟

پہلے مجروں میں   صرف مرد حضرات ہی نوٹ لٹایا کرتے تھے مگر اب مجرے کے نام پر بد ترین اور بیہودہ ڈانس عورتوں اور بچوں کے سامنے ہو رہے ہیں اور نا  صرف ان طوائفوں کی مردوں کے ساتھ فحش حرکات سے سبھی لطف اندوز ہو رہے ہیں بلکہ خواتین اس پر اعترض کرنے کے بجائے مردوں سے بڑھ کر ان پر نوٹ لٹانا شروع ہو گئی ہیں۔

اس کے علاوہ ان باتوں پر پہلے گردنیں کٹ جایا کرتی تھیں، لیکن آسانی سے پیسہ کمانے کی دوڑ میں بے شمار شریف زادیاں بھی طوائفوں کی طرح بلکہ ان سے دو ہاتھ آگے ہو کر  باحیا اور بے حیا دونوں قسم کے ناچ ٹک ٹاک اور یوٹیوب وغیرہ جیسے چینلوں پر پیش کر رہی ہیں جس پر ان کے گھر والوں اور خاندان کو کوئی اعتراض نہیں ہوتا، بلکہ اب تو ان کی غیر اخلاقی ویڈیو آنا شروع ہو گئی ہیں جو شاید حقیقت ہیں یا یہ بھی پیسہ کمانے کا ایک طریقہ ہے کون جانے !

یا خدا! یہ بے حیائی  و  خرابی آخر کہاں جا کے رُکے گی؟ کیا اس کی کوئی انتہا بھی ہے کوئی نہیں جانتا ،لیکن یہ ضرور ہے کہ اس صدی میں یہ جس تیزی سے پھیلی ہے یہ بھی قیامت کی بہت سی علامات میں سے ایک علامت ہے جو تیزی سے وقوع پذیر ہو رہی ہیں ۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply