خود میں جھانکیے ۔۔۔ ماسٹر محمد فہیم امتیاز

آپ سوشل میڈیا کے بادشاہ ہیں ، آپ کی پوسٹوں پر لوگوں کا ہجوم رہتا ہے ، آپ دن بھر کا آدھے سے زیادہ وقت سوشل میڈیا کو دیتے ہیں۔ آپ کی واہ واہ ہو رہی ہے ، پوری فیسبک پر مرشد ہیں، سالار ہیں، کمانڈر ہیں، بلاگر ہیں، ٹرینر ہیں، ڈیزائنر ہیں، ڈبیٹر ہیں ، سائبر سولجر ہیں اور بہت کچھ ہیں۔

سوشل میڈیا پر کوئی آپکے سامنے پَر نہیں مارتا ، آپ دلیل سے لے کر ذلیل تک سب کرنا جانتے اور کرتے بھی۔

tripako tours pakistan

تو بھی اس سب کے باوجود بھی یہ سب سوشل میڈیا تک ہی ہے، آپ حقیقی زندگی میں کیا ہیں یہ چیز  اہمیت رکھتی ہے۔

دیکھیے!  تعداد  کو چھوڑیے ،معیار  پر فوکس کرنا شروع کیجیے۔

سوشل میڈیا پر سب سے پہلے پوسٹ کرنا ، سب سے زیادہ پوسٹ کرنا یا سب سے زیادہ وقت گزارنا کوئی قابل فخر چیز نہیں ، اس سوشل میڈیا کو سر پر سوار نہ کیجئے کسی بھی دوسری چیز کی طرح اس کو بھی اعتدال میں رکھیے ۔

چاہے کم ہی سہی مگر بامقصد ، تعمیری اور مثبت کام کرنا / لکھنا یا وقت دینا سوشل میڈیا کو ہزارہا درجے بہتر ہے اس سے کہ آپ سارا سارا دن سوشل میڈیا پر بیٹھ کر کھلے لفظوں میں کہوں تو چولیں مار مار کے اپنی حقیقی زندگی میں موجود خامیوں پر،  ناکامیوں پر، احساس کمتری پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہوں۔

ایسا بندہ ”لوزر“ کہلاتا ہے! میں نے بہت سے لوگوں کو دیکھا ہے سوشل میڈیا پر جھگڑتے ہوئے کبھی سیاسی ، کبھی ذاتی ،کبھی کسی شخصی ایشو پر، میں نے ہزارہا لوگوں کو دیکھا ہے، انتہائی فضول چیزوں پر گھنٹوں ضائع کرتے ہوئے، میں دعوے سے کہہ رہا ہوں ان میں سے سو فیصد نہیں نوے فیصد نہیں، چلیں اسّی بھی نہیں تو ستر فیصد لوگ لازماً وہ ہوتے ہیں، جنہیں حقیقی زندگی میں لوزر یا بیکار کہا جا سکتا ہے  ، جنہیں کوئی کام نہیں یا جو کسی کام کے نہیں ۔

(یاد رہے کہ فضولیات میں پڑے لوگوں کی بات ہو رہی ہے۔ جو لوگ اچھا ،معیاری، مثبت اور تعمیری کام کر رہے ہیں وہ تو قلمی جہاد کر رہے ہیں، جس کی ضرورت ہے آج کے دور میں ،یہ الگ موضوع ہے اس پر الگ لکھوں گا)

میرے بھائی محاسبہ کیجیے، اپنا خود کا ۔۔آج سے ،ابھی سے، کچھ وقت کے لیے یہ خول توڑیے جو آپ نے اپنے ارد گرد بنا لیا ہے ۔ اس سوشل میڈیا کا اس فینٹسی ورلڈ کا ۔ سوشل میڈیا کی عارضی اور جھوٹی شان و شوکت اور چکا چوند کا ، یہ خول توڑیے جس میں رہ کر چار آئی ڈیز سے واہ واہ سن کر آپ اپنے آپ کو طرم خان سمجھ رہے ہیں، آپ کو اپنا آپ وزیراعظم سے نیچے دکھ ہی نہیں رہا۔ یہ توڑ کر حقیقی دنیا میں آئیے ایک بار اور سوچیے آپ کی عمر کیا ہے اس وقت۔

پھر سوچیے آپ نے اس عمر میں کیا کیا ہے؟

کیا  حاصل کیا ہے؟ کیا کچھ ایسا ہے جو سنا سکیں ، بتا سکیں یا جس پر فخر کر سکیں؟

کیا آپ تیسری یا چوتھی دہائی میں قدم رکھ کر گھر والوں کی روٹیوں پر تو نہیں پڑے ہوئے؟

کیا آپ کے ماں باپ آپ سے خوش ہیں؟

کیا آپ اپنی فیملی کو وقت دے رہے ہیں؟

کیا آپ پاکستان کے ایک اچھے شہری کی تعریف پر پورا اتر رہے ہیں؟

کیا آپ ایک اچھے یا معتدل مسلمان کے طور پر جی رہے ہیں؟

کیا آپ فنانشلی سٹیبل ہیں؟

کیا آپ فزیکلی فٹ ہیں؟ چار کلو میٹر دوڑ یا نوجوانی میں ہی پچاس پش اپس کر سکتے ہیں؟

کیا آپ کے صحت افزا مشاغل ہیں کچھ؟

کیا آپ موجود دور کے تقاضوں کے مطابق ٹیکنالوجی سے واقفیت رکھتے ہیں کچھ نہ کچھ؟

کیا آپ موجودہ دور کے اور انسانی ذہنی نشوونما کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے مطالعہ کرتے ہیں؟

کیا حقیقی زندگی میں دنیاوی لحاظ سے ہی آپکی کچھ ایسی حیثیت ہے جو پرمننٹ کہلائی جا سکے ؟

آپکی بات کی کام کی اور آپکی ذات کی ،سوشل میڈیا سے نکل کر حقیقی زندگی میں کوئی ورتھ کوئی ویلیو ہے؟

آپ ذہنی اور جسمانی  طور پر کتنے مضبوط  ہیں؟

کیا کیا صلاحیتیں ہیں آپکے اندر؟ کیا کیا سیکھا ہے آپ نے یا  حاصل  کیا ہے؟

کون کون سے ریکارڈز ہیں آپکے پاس؟

آج جھانکیے خود میں۔ اچھے طرح اور خود کو تیار کرنے کے لیے پہلا قدم اٹھائیے کہ ایک عمر گزارنے کے بعد جب آپ کہیں بیٹھے ہوں تو آپکے پاس لوگوں کو بتانے کے لیے، سنانے کے لیے کچھ ہو، کہ ہاں یہ جو عمر گزاری اس کی یہ ہے کہانی۔ لوگ آپکو ایک لیجنڈ کے طور پر دیکھیں نا کہ ایک لوزر کے طور پر۔

اور آج رات   یا کبھی بھی کچھ وقت اپنے لیے نکال کر  سوچیے اس پر جو لکھا میں نے، ان سوالات کو سامنے رکھیے اور ایک ایک کا جواب چیک کیجئے اپنے ذہن میں ہے کوئی یا نہیں؟؟ یہ چیز آپکو زندگی گزارنے سے زندگی جینے کی طرف لے جائے گی، ان شاءاللہ!

ماسٹر محمد فہیم امتیاز
ماسٹر محمد فہیم امتیاز
پورا نام ماسٹر محمد فہیم امتیاز،،ماسٹر مارشل آرٹ کے جنون کا دیا ہوا ہے۔معروف سوشل میڈیا ایکٹوسٹ،سائبر ٹرینر،بلاگر اور ایک سائبر ٹیم سی ڈی سی کے کمانڈر ہیں،مطالعہ کا شوق بچپن سے،پرو اسلام،پرو پاکستان ہیں،مکالمہ سمیت بہت سی ویب سائٹس اور بلاگز کے مستقل لکھاری ہیں،اسلام و پاکستان کے لیے مسلسل علمی و قلمی اور ہر ممکن حد تک عملی جدوجہد بھی جاری رکھے ہوئے ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *