نہایت اہم کتاب : شہزادہ احتجاب
مصنف : ہوشنگ گُلشیری (فارسی)
اردو مترجم : اجمل کمال
تبصرہ و انتخاب : مسلم انصاری
تہران سے 1969 میں شائع ہونے والے اس مختصر ناول “شازدہ احتجاب” کے مصنف ممتاز ایرانی ادیب ہوشنگ گلشیری نے کہا تھا “یہ ناول محض ایک ایسے شخص کی کہانی بیان کرتا ہے جو کھانسی میں مبتلا ہو کر مر گیا”
قلم و قلم کار :
گلشیری نے 1950 کے عشرے کے آخر میں کہانیاں لکھنا شروع کیں اور پھر اپنے کچھ دوستوں کے ہمراہ “جُنگِ اصفہان” نامی ادبی رسالہ نکالا جو تہران کے باہر کا سب سے اہم رسالہ بنا، 1968 میں گلشیری کی کہانیوں کا پہلا مجموعہ “مثلِ ہمیشہ” شائع ہوا، اسی دور میں گلشیری نے ادب پابندیوں کے خلاف تحریک میں حصہ لیا، مذکورہ ناول ان کا پہلا ناول رہا، 1979 میں یعنی انقلاب کے سال گلشیری نے نقاد اور مترجم فرزانہ طاہری سے شادی کی جو ایک ادبی سرگرمی کی ابتداء ثابت ہوئی، انقلاب کے نتیجے میں گلشیری کا گھر ادب کے مطالعے اور تدریس کا مرکز بن گیا، درجن بھر کتابوں کے مصنف کے لئے انقلابی برس اپنی کچھ کتابوں کی اشاعت ایران کے بجائے سویڈن سے کروانی پڑیں
مصنف کا پہلا ناول “شازدہ احتجاب” تختہ پلٹ، حکومتی و حکمرانی سخت گیری اور سفاکیت پسند شاہی تاجداری کی چوٹ اور تنقید کی ایسی تیکھی اور کرخت کہانی کی آواز تھی کہ اولین طور پر جلد ہی یہ ناول شاہکار کا درجہ حاصل کر گیا تاہم 1974 میں بہمن فرمان آراء نے گلشیری کے اس ناول پر اسی عنوان سے فلم بنائی تو مطلق العنان شاہی کے ادارے پر وہ کچوکہ لگا اور تنقید کی وہ واضح برچھی کھبی جو دراصل اس ناول کی جان ہے، فلم کے مکمل ہوتے ہی گلشیری کو چھ ماہ قید جھیلنی پڑی،
گلشیری کے لئے تختہ مشق بننے کا عمل اس سے قبل بھی 1960 میں جاری تھا جب انہیں مختصر مدت کال کوٹھری دیکھنی پڑی تاہم شاہی دور کے اختتام کے بعد اسلامی انقلاب میں بھی گلشیری کے مذکورہ ناول اور دوسری تحریروں کو عورتوں کے مقام اور دیگر امور پر مذھبی نوعیت کے ایسے اعتراضات کا سامنا کرنا پڑا کہ انہیں پریشانیوں کے ساتھ ساتھ 1990 میں قتل کئے جانے کا خطرہ بھی پیش پیش رہا
1990 کے عشرے میں گلشیری نے اپنی اشاعتی تحریک کو تقریباً موقوف کیا اور ساری توجہ اظہار کی آزادی پر لگائی جانے والی پابندیوں کے خاتمے پر مرکوز کردی، اس کے رد عمل پر سرکاری ٹیلی ویژن پر گلشیری کی بے عزتی کی گئی اور ان پر بیرونی روابط و رواسم کے الزامات کی بھرمار کی گئی، گوکہ گلشیری کو ممتاز ترین ایرانی فکشن نگاروں میں شمار کیا جاتا تھا مگر یہ وہ دن تھے جب اشاعت سے قبل ہی سسنر کی جانب سے سختی کے ساتھ جانچ پڑتال کی جاتی تھی، اسی باعث گلشیری نے اپنے آخری ناول “جن نامہ” بھی 1998 میں اسٹاک ہوم سے پبلش کروایا، یہ وہی دن تھے جب ایران میں سیکولر دانشوروں کے سلسلہ وار قتل جاری تھے، قتل کی اس آتشی لہر میں کئی ادیب مثلاً محمد مختاری، محمد جعفر پویندہ اور مجید شریف بھی شامل تھے، 15 دسمبر 1998 کو محمد مختاری کی تدفین کے موقعے پر گلشیری نے جو تقریر کی اور جسے بی بی سی کی فارسی سروس نے پورے ایران اور بیرون ممالک نشر کیا، وہ تقریر انتشار زدہ حکومت کے خلاف سرکشی اور بچی کھچی محصور ایرانی ثقافت کے حق میں اتم درجہ رکھتی تھی مگر اسی دوران گلشیری کی صحت بری طرح گر چکی تھی، 1937 کو جنم لینا والا ہوشنگ گُلشیری 5 جون 2000 کو انتقال کر گیا
کتاب کہانی کے کردار :
گُلشیری کے مذکورہ ناول “شازدہ احتجاب” کے انگریزی مترجم جیمز بوچن نے لکھا تھا : “اس ناول نے ثابت کیا کہ ایرانی لکھنے والوں نے نہ صرف یورپ اور امریکہ کے جدید فکشن کی تکنیک سیکھ لی ہے بلکہ ان میں چند اپنی اختراعات کا اضافہ بھی کیا ہے۔ ایرانی تاریخ کے جسیم موضوع کو ایک حسرت آمیز اور غیر دلکش گھریلو ڈرامے کی صورت میں پیش کرنے والے ہوشنگ گلشیری کو اپنے تجربے میں کامیاب ہونے کا کوئی حق نہیں پہنچتا تھا پھر بھی وہ کامیاب ہوا!”
کردار اول : اس ناول میں شہزادہ احتجاب کا فرضی کردار اپنے شاہی خاندان کے آخری افراد میں سے ایک ہے، ایرانی تاریخ کے واقعات اور پس منظر، پرچھائیوں کے طور پر شہزادہ احتجاب کے نیم تاریک کمرے کے کونوں میں بھٹکتے سایوں کی مانند اس کے الجھے ہوئے بیمار ذھن پر چھپتے رہتے ہیں، دیواروں پر ٹنگی تصویروں سے نکل نکل اس کے سامنے آتے رہتے ہیں یہاں تک کہ گفتگو کرتے ہیں، یادوں کے حصوں کے نشتر شہزادے کے دماغ میں اتارتے رہتے ہیں، شہزادہ احتجاب جو اپنی بیوی کے مرنے کے بعد اپنی گھریلو ملازمہ اور اپنی گرتی جسمانی و روحانی صحت کے ساتھ ذاتی اور خاندانی یادوں کے ہمراہ ایک شکستہ پرانے مکان میں رہ رہا ہے کوئی ایک بھی نمایاں خصوصیات نہیں رکھتا، نہ شہزادہ دلیر ہے، نہ ذھین، نہ مہربان نہ دولت مند یہاں تک کہ زیادہ بد طینت بھی نہیں ہے، البتہ وہ سفاک ہے مگر اس حد تک نہیں کہ اس کے آباء و اجداد شرما سکیں ہاں مگر جوئے میں سب ہارنا اس کردار کے نزدیک اپنی جمع کی گئی اور پائی گئی املاک کو ٹھکانے لگانے کا سامان ہے، اس کردار کا اپنی معصوم بیوی اور مفلوک الحال ملازمہ کے ساتھ ظالمانہ سلوک اس کے اسلاف کے ہاتھوں بہت سے لوگوں کے سر قلم کئے جانے سے کہیں زیادہ ناقابل برداشت محسوس ہونے لگتا ہے!
کردار دوم : شہزادہ احتجاب کی بیوی “فخر النسا” جو شادی کی شاہی سیاست اور افیون کی لت کا شکار ہو کر مرنے والے معتمد میرزا کی یتیم بیٹی ہے، جس نے دودھ کی جگہ شکر کے ٹکڑے چوسے ہیں، اپنی بوڑھی دادی کی نگرانی میں بڑی ہوئی ہے اور بچپن کی غیر متوقع نرمی کو جھیلا ہے، جو کتب بین ہے، یا شاید فقط کتب بین اور مے نوش ہے، دبلی اور سفید ہے، سوائے چشمہ ہاتھ میں تھامے ٹہلنے، سوچنے اور اپنے آباء بشمول اپنے شوہر شہزادہ احتجاب کے آباء کی حکمرانی کے قصوں کو پڑھنے پرکھنے اور سنانے کو اداسی لپیٹے ہوئے ہے، یہ کرادر اتنا جاندار ہے کہ اولین طور پر یہ سخت گیری اور شوہر کو طعنہ مارنے والی بیوی کے سوا کچھ معلوم نہ ہو مگر دھیرے دھیرے اس کا قاری کے ذھن میں سب سے معتبر صورت بنا لینا یقینی ہے
کردار سوم : انتہائی مظلوم و معتوب کردار شہزاد احتجاب کی گھریلو ملازمہ “فخری” ہے جو اپنے طویل لمحے آئنے کے سامنے گزارتی ہے، جس کا بیانیہ مصنف نے ایک ہی نشست میں کچھ پندرہ بیس صفحات پر اتار دیا ہے، یہ کردار اس قدر تلخیاں لئے ہوئے ہے کہ اس کا سارا بیانیہ میں نے نشان زد کر چھوڑا ہے، صفحات میرے ہائی لیٹر سے خاکی سے سبز ہو چکے ہیں، شہزادہ احتجاب نے اس کے رشتے دار اور متولی کو چپ کروانے کے لئے پیسے دے رکھے ہیں، فخری جسے شہزادہ کچوکے مارتا ہے، گدگدی کرتا ہے تاکہ وہ ہنسے اور اس کی بیوی فخر النسا کی کھانسی کی آواز ملازمہ فخری کی ہنسی میں دب جائے، یہ کردار جسے شہزادہ دن رات جسمانی استعمال میں لاتا ہے یہاں تک کہ اپنی بیوی فخر النسا کی لاش کے سامنے بھی، ایام حیض میں بھی، خلوت و جلوت میں بھی، اور اسے اپنی منکوحہ جیسے لباس پہننے پر مجبور کرتا ہے، لیپا پوتی اور گال کا تِل تک لگواتا ہے تاکہ وہ ملازمہ اسے اپنی بیوی ہی لگے، شہزادہ پوری پوری رات اس کے سینے پر سوتا ہے، تھپڑ مارتا ہے اور اس سے اپنی ہی بیوی کی نگرانی اور جاسوسی کرواتا ہے
افففف یہ آخری کردار اور اس کا مکالمہ!!
مرکزی طور پر یہ تین کردار (ایک مرد اور دو عورتیں) اپنی اپنی اٹھان اور بیانئے میں ایک دوسرے پر سبقت لیتے ہوئے معلوم ہوتے ہیں مگر ہائے شہزادے کا جاتے ہوئے ہر دن گھر کا باہر سے بند کر جانا اور گھر کو ہی دو عورتوں کے لئے کال کوٹھری بنا دینا
مصنف پر داد!!
اسلوب :
اس بات کا یہاں ذکر انتہائی ضروری ہے کہ اس ناول کا اسلوب اور بیانیہ بیک وقت سادہ بھی ہے اور تلمیحات سے بھرا ہوا بھی، اس بیانیے میں سب سے زیادہ ہنر مندی کے ساتھ جس تدبیر سے کام لیا گیا ہے وہ “بدلتا ہوا بیان کنندہ” ہے، ایک جملے سے دوسرے جملے تک پہنچتے پہنچتے راوی بدل جاتا ہے اور یہ طے کرنے کا کام پڑھنے والے کو کرنا ہے کہ اس جملے کا “میں” کون ہے!
جس طرح تصویروں میں ٹنگے کردار نکل نکل کر بیانیے اور مکالمے میں شامل ہوتے ہیں یہ اسلوب اور امیجری سینما تکنیک سے بہت ملتی جلتی ہے اور یہ تعجب کی بات نہیں کہ اس ناول کو اتنی کامیابی سے فلم کی صورت دی جا سکی!
اقتباس :
میرا نہیں خیال کہ اس طرح کے تفصیلی تبصرے اور “نہایت اہم کتاب” کا عنوان باندھنے کے باجود کوئی اقتباس پیش ہونا اپنی ضرورت رکھتا ہو، سوائے یہ کہ اس کتاب کو پڑھا جائے اور دوسری کوئی رائے نہیں!
نوٹ : ناول کے اس تعارف کا بیشتر حصہ اس ناول کے انگریزی مترجم جیمز بوچن کی تحریر اور اردو مترجم اجمل کمال صاحب کے بیان کردہ تعارف سے لیا گیا ہے
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں