اے جذبہ دل گر میں چاہوں…عاصم اللہ بخش

پچاس ہزار اہلکار صرف ایک چوتھے درجہ کے میچ کے لیے تعینات کر دیے گئے … مسجدوں کو تالے لگا دیے، اذان پر پابندی لگ گئی، جعلی ٹکٹ چھپوا کر بانٹ دیے گئے تاکہ ٹکٹ خریدنے والے اندر داخل نہ ہو سکیں، ساری توجہ اس میچ پر لگا دی اگر کسی اور شہر میں دھماکہ ہو گیا تو کیا ہوگا …. یہ سب افواہیں کسی دشمن کی کارستانی نہیں … یہ ہماری اپنی سوچ کی پیداوار اور قلم کا کمال ہے. میں اور آپ دھڑلے سے پوسٹ کر رہے ہیں …. اور ساتھ یہ سابقہ لگانا بھی نہیں بھولتے “لعنت ہو ایسے کرکٹ میچ پر”.
اگر یہ سب کافی نہیں تو ایک سیاسی رہنما اس میچ کے انعقاد کو پاگل پن قرار دے چکے، پھر اسی پر تؤقف نہیں کیا …. یہ بھی فرما دیا کہ اتنی سیکیورٹی میں تو عراق اور شام میں بھی میچ کروایا جا سکتا ہے.
سوال یہ ہے کہ کتنے میچ ہوئے عراق اور شام میں ؟ کوئی ایک ؟ تو یہی سمجھ لیجیے کہ ہم اتنا تو بہتر ہیں کہ سیکیورٹی تو ہے ہمارے پاس. چلیں یہی پیغام جانے دیجیے کہ عموم میں محفوظ نہیں بھی تو کم از کم خصوصی حالات میں حفاظت کی بھر پور صلاحیت تو ضرور رکھتے ہیں. عراق اور شام کے متعلق تو ادنی درجہ کی کانفرنسیں بھی بیرون ملک ہوتی ہیں اور ہم نے دو دن پہلے علاقائی تنظیم کی سربراہی کانفرنس کا کامیابی سے انعقاد کیا.
یہ بھی فرمایا کہ اگر ایک بم دھماکہ ہو گیا تو آئندہ کوئی نہیں آئے گا. پہلے کون دوڑا چلا آ رہا ہے ؟ ہم تو ایک کوشش کر رہے ہیں، خود پر اعتماد کرنے کی. خود پر اعتماد کریں گے تو کوئی دوسرا ہم پر اعتماد کرے گا. رہنما کا ویژن اہم ہوتا ہے، اس کی انا نہیں. صرف اتنا کہہ دیتے تو منظر ہی بدل جاتا کہ اگر کوئی دھماکہ ہو بھی جائے ہے تب بھی اس پروگرام میں خلل نہیں پڑنا چاہیے. قوم کا بھی حوصلہ بڑھتا اور دھماکہ کرنے والوں کے لیے بھی کوئی incentive باقی نہ بچتا.
الٹا اب تو یہ لگنے لگا ہے کہ سیاسی بصیرت، ذکاوت کا سرٹیفکیٹ پانے کے لیے ایک سانحہ کی محتاج ہے. خدانخواستہ.
ہم اپنی طمع، نفرت اور کج فہمی کی تاروں سے جس خوبصورتی سے اپنے ارد گرد جال بن لیتے ہیں، یہ ہمارا ہی خاصا ہے.
بھائیو یہ محض ایک میچ نہیں ہے … یہ قوم کا عزم ہے جس کے اظہار کا وسیلہ یہ میچ ہے. یہی اس کی اصل اہمیت ہے …. بس یہ پیغام :
اے جذبہ دل گر میں چاہوں … ہر چیز مقابل آ جائے !!!

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *