بہاولپور-ریاست سے شہر تک/زید محسن حفید سلطان

کسی زور آزما شاعر نے کہا تھا:
میں نے تو دنیا میں ہی ایک حور دیکھا ہے
سچ کہوں تو میں نے بہاولپور دیکھا ہے

پاکستان میں جن چند خوبصورت ریلوے اسٹیشنوں کو میں نے دیکھا ہے وہ یہ ہیں:
پنڈی ، لاہور ، ملتان ، بہاولپور اور پھر اس کے بعد خستہ حال اسٹیشنوں کے طویل سلسلے کے بعد کراچی کینٹ۔۔۔۔۔۔اور حسنِ اتفاق یہ ہے کہ ان میں سے تقریبا تمام شہریوں کو بھی دیکھنے کا موقع ملا ہے۔
ایئر پورٹ ، اسٹیشن اور بس اڈے کسی بھی شہر یا ریاست کے ذوقِ تعمیر کا خلاصہ ہوا کرتے ہیں۔۔۔۔
علی الطنطاوی عرب کے مشہور عالم اور ساتھ ساتھ ادیب بھی ہیں ، انہوں نے جب پاکستان کا سفر کیا تو اپنے سفر نامے میں ایک افسوس کا یہ اظہار فرمایا کہ ان کی فلائٹ کراچی میں رات کو اتری کیونکہ ان کے مطابق جب آپ کسی نئے شہر میں جاتے ہیں تو سب سے پہلے اس کے ایئر پورٹ ، ریلوے اسٹیشن کو دیکھ کر ، وہاں کے لوگوں سے مل کر اور پھر انفرا اسٹرکچر کو دیکھ کر آپ چند ہی ثانیوں میں شہر کے بارے میں بہتر نظریہ قائم کر پاتے ہیں۔۔۔۔اس حساب سے یہ ہماری خوش قسمتی کہئے کہ ہم جب بہاولپور اسٹیشن پر اترے تو دن چڑھ چکا تھا ، گو کہ وقت ایسا تھا کہ سورج بھی اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ ہمارا استقبال کرتا لیکن اس حسین موسم کے کیا کہیے جس نے سورج کو بھی کہیں پرے دھکیل دیا تھا اور ہلکی ہلکی یخ بستگی میں بہاولپور کے خوبصورت ، صاف ستھرے اور فنِ تعمیر میں عمدہ مثال رکھنے والے اسٹیشن پر ہمارا استقبال کیا ، ابھی ہم اسٹیشن کی خوبصورتی میں ہی گم تھے کہ ایک بچھڑا ہوا یار ایک دم نمودار ہوا اور ہمارے ابتداء سفر کو ہی خوشیوں کی انتہاؤں تک پہنچا دیا۔۔۔۔
بہاولپور میں ہم اسٹیشن کی پر شکوہ عمارت سے داخل ہوئے تو خوشی یہ ہوئی کہ یہاں کی صفائی ستھرائی صرف ایک عمارت تک محدود نہیں تھی بلکہ یہاں کی سڑکیں بھی قدرے کشادہ اور صاف ستھری تھیں۔

بہاولپور ایک تاریخی شہر ہے ، جس کی بنیادوں میں تاریخ کے اوراق کے مطابق آلِ عباس رضی اللہ عنہ کا بڑا کردار ہے ، آج کا یہ شہر سن سینتالیس سے پہلے تک مستقل ریاست کی حیثیت رکھتا تھا ، اس کی حدودِ اربعہ کافی وسیع تھیں جو دریاؤں سے لے کر صحراؤں تک پھیلی ہوئی تھیں اور موجودہ بہاولپور اس ریاست کا دارالحکومت تھا ، جس کے آخری بادشاہ نواب صادق عباسی نے از خود پاکستان سے الحاق کیا اور نہ صرف اپنی ریاست کو پاکستان میں ضم کر لیا بلکہ زبان زدِ عام باتوں کے مطابق یہاں کے خزانوں کے منہ بھی پاکستان کیلئے کھول دئے گئے۔۔۔۔

اس ریاست کی تاریخ ایک لمبی داستان ہے ، جس میں کئی بھول بھلیاں اور کئی حیران کن پہلو بھی ہیں ، یہی تاریخی اہمیت ہے کہ یہاں کہ لوگ آج بھی اپنے شہر سے نہ صرف محبت کرتے بلکہ ایک عام شہری بھی اس ریاست کے بہت سے تاریخی حقائق سے واقف ہے۔۔۔۔

گو کہ یہ شہر بہت وسیع وعریض نہیں لیکن اس کا چپہ چپہ ، اور چوک چوک اپنے اندر ایک تاریخ سموئے ہوئے ہیں ، کہیں نوابوں کا دربار محل ہے ، تو کسی موڑ پر وسیع رقبے پر پھیلا نور محل ہے ، کسی موڑ پر سینٹرل لائبریری کی حیران کن عمارت ہے تو کہیں گلزارِ صادق پارک اپنی طرف دعوت دے رہا ہوتا ہے ، کہیں پر نواب صاحب کا قائم کیا گیا “شیر باغ” چڑیا گھر بن گیا ہے تو اس کے بالکل سامنے بہاولپور کا کرکٹ اسٹیڈیم موجود ہے ، کہیں بڑے بڑے میناروں سے مرکزی مسجد کا پتا چلتا ہے ، تو کہیں کوئی چوک اپنے تاریخی ہونے کا ثبوت دے رہا ہوتا ہے ، بازاروں میں ہر بازار کا داخلی دروازہ پشاور کے قصہ خوانی بازار کی طرح بنا ہوا ہے ، کہیں بازار ختم ہو جائے تو یونیورسٹیوں کی نہ ختم ہونے والی دیواروں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے ، کسی موڑ پر دینی مراکز قائم ہیں تو کہیں کھانے پینے کیلئے سمٹی ہوئی صاف ستھری سی فوڈ اسٹریٹ قائم ہے۔
کوئی بتاتا ہے کہ یہ عید گاہ نواب صاحب نے تعمیر کروائی تھی ، تو کسی کا کہنا ہوتا ہے فلاں ادارہ نواب صاحب کے ہاتھوں سے لگا ہوا ہے۔۔۔۔الغرض ایک تاریخ ہے اور بہت وسیع تاریخ ہے۔

یہاں کے اسٹیشن کے بعد ہمیں یہاں کا انفرا اسٹرکچر دل کو بھا گیا ، کیا ہی صفائی ستھرائی کے ساتھ تعمیرات کی گئی ہیں ، کیا ہی عمدگی سے پارکنگ ایریاز وغیرہ کا اہتمام کیا گیا ہے ، شاید ہم شہری لوگ ایسے پر سکون شہر کی تلاش میں ہی تھے۔۔۔۔۔

شام ڈھلتے ہی یہاں کے لوگ نور محل کا رخ کرتے ہیں ، جس کو عوام کیلئے کھول کر رکھا گیا ہے ، اندر ایک شاندار محل اور وسیع وعریض باغات کا سلسلہ ہے ، سورج ڈھلتا ہے تو برقی قمقموں سے اس محل کو روشن کر دیا جاتا ہے ، لیکن کچھ ہی دیر میں اندھیرا ہو جاتا ہے ، ہم کافی دیر سے نور محل کے سامنے جمی محفل کو دیکھ رہے تھے ، ہمارا خیال تھا کہ کوئی نجی محفل ہوگی ، کسی نے ہمت کر کے اس حوالے سے پوچھا تو معلوم چلا ابھی ایک پریزنٹیشن پیش کی جائے گی۔۔۔۔۔جب ہمارے کراچی سے آنے کا پتہ چلا تو بالکل شروعاتی نشستوں پر ہمیں بطورِ مہمان خصوصی کے بٹھایا گیا ، ذرا سا میوزک بجا تو ہماری غیرتِ مولویانہ جاگ اٹھی ، لیکن اس سے پہلے کہ ہم اٹھتے وہاں ایک تماشہ شروع ہوا ، چہار سو پھیلے ہوئے اندھیرے کو 3D سے نوش نمایاں کرنے والی روشنیوں نے توڑا اور خاموشی کو توڑنے کیلئے ایک ریکارڈنگ لگا دی گئی ، اب جو کچھ کہا جاتا رہا وہی کچھ نور محل کی عمارت پر بنتا جاتا رہا ، ہم حیران تھے اور اپنی تاریخ کو یوں خوبصورت اور جدید انداز سے پیش کرنے پر مبارکباد بھی دے رہے تھے۔۔۔۔بائیس منٹ میں ہم بہاولپور کے پہلے نواب امیر مبارک خان عباسی (1702ء) سے ہوتے ہوئے آخری نواب صادق محمد خان عباسی (1947ء) تک کے چیدہ چنیدہ کارناموں کو جانتے ہوئے ریاستِ بہاولپور کی جامع اور مختصر تاریخ کو جان سکے ، یہ بھی ایک اہم ذریعہ ہے جس نے آج بھی شہرِ بہاولپور کے لوگوں کے قلوب و اذہان پر ریاستِ بہاولپور کا خیال روشن کر رکھا ہے ، اور ان کی دلوں اپنی ریاست اور نوابوں کیلئے محبت قائم کر رکھی ہے۔۔۔۔

یہاں کی سب سے مقبول ترین شخصیت آخری نواب جناب صادق خان عباسی ہیں ، جن کے نام کو بڑی عقیدت واحترام سے لیا جاتا ہے اور جن کی باتوں کو زبانی یاد کیا اور کروایا جاتا ہے ، آپ ایک خود مختار نواب تھے ، جنہوں نے کم و بیش ۹۰ یا ۱۰۰ شادیاں کیں ، شادی کے کچھ ہی دنوں بعد وہ بیوی کو طلاق دے دیتے اور ساتھ ایک بڑا قطعہ ارضی بھی نوازتے ، حیران کن طور پر علامہ محمد اقبال اور قائد محمد علی جناح دونوں ہی نواب صاحب کے Law advisor رہ چکے ہیں ، بالآخر قیامِ پاکستان کے بعد نواب صاحب نے پاکستان سے الحاق کیا یوں اپنی فوجی اور مالی امداد کو پاکستان کیلئے مختص کر دیا۔

آپ اگر بہاولپور گھومنا چاہیں تو اس کیلئے دو دن کافی ہیں ، یہاں کے محلوں کے بعد ، شیر باغ (Zoo) ، خوبصورت سی سینٹرل لائبریری ، گلزارِ صادق پارک ، عید گاہ ، مرکزی بازار ، مرکزی مسجد ، یونیورسٹیاں اور اپنے شہر سے محبت کرنے والے لوگ یہاں کا اثاثہ بھی ہیں اور ورثہ بھی۔۔۔۔

julia rana solicitors

ہمارا بھی یہاں قیام تقریبا ۳۰ گھنٹے ہی رہا ، جس نے ہمارے اوپر بہت ہی یادگار نقوش چھوڑے ، بس ہمارے ایک دوست پر اثرات کچھ زیادہ ہوئے تو ان کے دماغ پر نوابی چڑھ گئی جس کو اتارنا بے حد مشکل ہو گیا۔۔۔۔۔بقولِ شاعر:
خدا جب حسن دیتا ہے نزاکت آ ہی جاتی ہے
بالکل اسی کے مصداق:
بندہ جب بہاولپور جاتا ہے نوابی آ ہی جاتی ہے
خیر جی ، کبھی موقع لگے تو ضرور اس شہر میں گھومئے ، یہاں کے کھانے لذیذ ، سڑکیں خوبصورت ، محلات عالیشان ، لوگ محبت کرنے والے ، تاریخ شاندار اور مستقبل جاندار ہے۔

Facebook Comments

زید محسن حفید سلطان
ایک ادنی سا لکھاری جو ہمیشہ اچھا لکھنے کی کوشش کرتا ہے!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply