تیسرے درجے کا شہری/اقتدار جاوید

سیکنڈ کلاس شہری اور میں اکٹھے پلے بڑھے۔ساتھ ساتھ ہی ہمارے گھر تھے۔ سو اٹھنا بیٹھنا کھانا پینا بھی اکٹھا سا تھا۔ہم ہم عمر تھے سو اکٹھے جوان ہوئے تو اسے باہر جانے کا شوق چڑآیا اور ہمیں ملک میں رہ کر زندگی گزارنا اچھا لگا۔ تب باہر جانے کا شوق کم کم تھا اور امریکہ جیسے ملک میں پی سی پر آسانی سے پی آئی اے کے ذریعے جان ایف کینیڈی ائر پورٹ اترا جا سکتا تھا۔سیکنڈ کلاس شہری کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ ہی نہیں تھا۔ اس وقت ہمارے نزدیک ایسی خوشی کا کوئی جواز نہیں تھا۔یہ وہ زمانہ تھا جب نائن الیون ابھی پردہ غیاب میں تھا اور پاکستان امریکا کے پسندیدہ ترین ممالک میں شامل تھا۔

سیکنڈ کلاس سٹیزن نے پی سی کا سیکنڈ کلاس طریقہ اپنایا اور ایک دن سات سمندر پار چلا گیا۔وہ پڑھا لکھا تھا بلکہ ماسٹرز میں گولڈ میڈلسٹ تھا۔اس نے یہاں جاب ڈھونڈنے کی کوشش بھی کی مگر جب اور کوئی راستہ نہ رہا تو وہ امریکا پہنچ گیا۔ پہلے وہ ایک پٹرول پمپ پر کام کرنے لگا۔یہ پٹرول پمپ شہر سے کافی دور تھا۔آہستہ آہستہ وہ وہاں سیٹ ہو گیا۔اسے سکون سا آ گیا۔اس کے گھر کی حالت بدلی۔ پہلے اس کا گھر کیا تھا دو کمرے اور سامنے کھلا سا صحن۔سچ مچ صحن میں ریت اڑتی اسی جگہ پر اس نے ایک عالیشان قسم کی کوٹھی تعمیر کروائی۔اس میں پورچ بنوایا اور وہاں دو گاڑیاں کھڑی کر دیں۔سچ مچ اس کی بھی اور اس کے گھر کی بھی کایا کلپ ہی ہو گئی۔ایک بار وہ یہاں آیا اور شادی کر کے بیگم کو بھی ساتھ لے گیا۔ اب وہ مکمل تبدیل ہو چکا تھا۔اسے وہاں ووٹ ڈالنے کا حق مل چکا تھا۔میڈیکل کی سہولت کا حقدار ہو چکا تھا اور اس کی وہاں پیدا ہونے والی اولاد امریکہ کا صدارتی الیکشن لڑنے کی اہل ہو چکی تھی۔قانونی طور اس کی اولاد اس حق سے بہرہ ور ہو چکی تھی کہ وہ اپنی اہلیت کی بنیاد پر سینیٹر کیا اور گورنر کیا وہ صدر تک منتخب ہو سکتی تھی۔اس کا انداز گفتگو بیٹھنے اٹھنے کا انداز یعنی باڈی لینگوئج تبدیل ہو چکی تھی۔اسے اب اپنا ملک چھجو کا چوبارہ ہی لگتا مگر اس میں اسے کشش نہ محسوس ہوتی۔۔آ گیا ہوں تو بھی ٹھیک نہ آؤں   تو بھی ٹھیک والا معاملہ تھا۔

اب   وہ دوسرے سال آتا کبھی دو سال بعد بھی نہ آتا۔اب وہ سال کے چھ ماہ وہاں کام کرتا تھا اور چھ ماہ یہاں گزارتا تھا۔ ہماری نوک جھونک چلتی رہتی کبھی ہم سنجیدگی کے ساتھ اور کبھی ہنسی مذاق کی ٹون میں۔وہ مجھے تھرڈ دنیا کا باشندہ کہتا میں چھیڑنے کی خاطر اسے اے امیر مگر اے سیکنڈ کلاس سٹیزن کہہ کر مخاطب کرتا۔وہ اس کا برا نہیں مانتا تھا اور کہا کرتا تھا ” گھر اپنا ہووے بھانویں کچا پکا ہووے” اور اپنا مکان کوٹ سمان جیسے پنجابی ضرب الامثال سنتا ہنستا اور خوش ہوتا۔ ہم بھی آگے سے جو مزا چھجو کے چبارے نہ بلخ بخارے سے اقوال سناتے۔ اب جب اسے سیکنڈ کلاس شہری کہا جاتا تو وہ جواباْ کہتا کہ اب وہ وہاں کا شہری ہے اسے وہ سارے حقوق حاصل ہیں جو ایک امریکی شہری کو حاصل ہیں۔اب اس کی حیثیت وہاں قانونی ہے۔الٹا وہ مجھے تھرڈ کلاس سٹیزن کہتا۔تب میں اسے کہتا کہ دیکھو کہ کتنے تردد اور مشکلوں سے تمہیں وہاں ووٹ دینے کا حق حاصل ہوا ہے اور تم اس پر اتراتے پھرتے ہو۔میں تو اپنے ملک میں پیدائشی ووٹر ہوں۔مجھے کسی اور ملک کے آئین کی پاسداری کا حلف نہیں اٹھانا پڑا۔میں کبھی حلفاً کیا مذاق میں بھی وہ کچھ نہیں کہوں گا جو تم نے وہاں حلف اٹھاتے ہوئے کہا اور مانا اور شہریت لیتے ہوئے کہا تھا۔ مجھے یہاں کسی حلف کی ضرورت نہیں۔ میں ایک فرسٹ کلاس شہری ہوں۔اس فرسٹ کلاس کہنے پر اس کا رویہ میرے ساتھ ہتک آمیز سا لگتا۔وہ کہتا کہ تمہیں یہاں وہ حقوق نہیں جو مجھے وہاں شہریت حاصل ہونے کے بعد ملے ہیں۔ اتنا عرصہ وہاں گزارنے کے بعد اور اس سسٹم کو جاننے کے بعد وہ بہت تبدیل ہو گیا ہے۔اب وہ نوم چوسکی کی باتیں کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ وہ وہاں رہ کر امریکہ کے سرمایہ دارانہ نظام پر تنقید کرتا ہے۔وہ ورلڈ اکانومی کو مجھ سے بہتر سمجھتا ہے۔وہ خود کو امریکی سے زیادہ نیویارکر کہتا ہے۔ اس کا ورلڈ ویو مجھ سے بہتر ہے۔اس کا کہنا ہے مجھے وہاں ناانصافی کا ذرہ برابر خطرہ نہیں ہوتا اور تم انصاف کی توقع قیامت والے دن ہی کر سکتے ہو۔وہ میرے ساتھ آئین میں کی گئی ترامیم کا موازنہ کرتا ہے۔کبھی آئی ایم ایف کے پیکج کی بات کرتا ہے اور سوال کرتا ہے کہ پیکج کے بعد تم کو کون سی سہولت مہیا کی گئی ہے۔الٹا اس امداد کے پیکج کے بعد بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔گرانی بڑھتی ہے غریب کا جینا دوبھر ہوتا ہے۔اس امداد کے بعد قیمتوں میں اور بجلی گیس کے نرخوں میں کمی ہونی چاہیے۔ اپنی حکومت اور میرے حکمرانوں کی جانب سے دی گئی سہولتوں کا موازنہ کرتا ہے۔اس کا کہنا ہے وہاں کوئی ہماری طرح کا آئی پی پی نہیں۔

اس کا کہنا ہے کہ اس کے گھر میں گرمیوں میں چوبیس گھنٹے اے سی چلتا ہے اور ماہانہ بل محض سو ڈالر آتا ہے۔تین چار سو ڈالر تو میں روزانہ ٹیکسی چلا کر کما لیتا ہوں۔ میں سیکنڈ کلاس شہری نہیں ہوں تم اصل میں تھرڈ کلاس شہری ہو نہ تمہیں بولنے کی آزادی ہے اور نہ ووٹ دینے کی۔ٹیکس تم دیتے ہو اس ٹیکس پر حکومت اس کے کارندے اور چور پلتے ہیں۔ میں سیکنڈ کلاس سٹیزن ہوں ٹیکس دیتا ہوں اس کے بدلے وہ ملک مجھے صحت تعلیم اور روزگار کی سہولت فراہم کرتا ہے اے تھرڈ کلاس شہری تم تو ہسپتال میں اپنا علاج نہیں کروا سکتے میں تو سیکنڈ کلاس سٹیزن مگر تم تو تھرڈ کلاس شہری ہو۔ اے تیسرے درجے کے شہری بلکہ تھرڈ کلاس ووٹ کسی اور کو دیتے ہو حکومت کسی اور بن جاتی ہے۔

julia rana solicitors london

92 نیوز

Facebook Comments

اقتدار جاوید
روزنامہ 92 نیوز میں ہفتہ وار کالم نگار

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply