حجام اک پیشہ ہے سبھی جانتے ہیں میرے اس پیشے کے متعلق چند مشاہدات ہیں ایک تو اس پیشے سے منسلک افراد پر کاروباری لحاظ سے عروج آتا ہے مگر اس کا دورانیہ انتہائی مختصر ہوتا ہے ۔کسی بھی شہر یا قصبے میں اچانک ایک حجام کا کام بڑھ جاتا ہے اس کے کٹنگ سیلون پر رش لگ جاتا ہے اس کا ریٹ بھی مارکیٹ سے زیادہ ہوتا ہے لیکن لوگ پھر بھی وہیں جاتے ہیں اور اسکی دوکانداری خوب چل رہی ہوتی ہے پھر کچھ عرصے بعد گاہک کم ہونے لگتے ہیں اسکی بے شمار وجوہات ہو سکتی ہیں۔
لیکن ایک بڑا فیکٹر یہ ہے کہ باقی جتنے بھی پیشے ہیں ان میں جتنا پرانا بندہ ہو گا یعنی جس کا تجربہ زیادہ ہو گا لوگ اسے ترجیح دیں گے لیکن حجام والے کیس میں پرانے حجام کے پاس نئے گاہک جاتے ہی نہیں کہ یہ تو عمر رسیدہ یا پرانا حجام ہے اسے فیشن کا کیا پتا ۔لہذا اس پیشے سے وابستہ فرد کو اپنے عروج کو زیادہ دیر تک قائم رکھنے کے لئے ہمیشہ فکر مند رہنا چاہیے بصورت دیگر پرانے استرے اور قینچیاں لیکر فارغ بیٹھا رہے گا ۔
میں ایک ایسے شخص کو جانتا ہوں جو اس پیشے سے وابستہ ہے اس کا عروج شروع ہوا لوگ شیو کروانے کٹنگ کروانے اور فیشل کروانے جاتے اور بازار سے زیادہ قیمت دے کر بھی مطمئن ہو کر آتے ۔جب اس کا کام بہت اچھا چل رہا تھا وہ تبلیغی جماعت سے وابستہ ہو گیا ۔کچھ عرصے کے بعد اس نے تبلیغی جماعت سے واپس آنے کے بعد اعلان کیا وہ شیو نہیں کرے گا صرف بالوں کی کٹنگ اور خط وغیرہ کرے گا اپنی دوکان میں اس نے داڑھی کی سنت مبارکہ کی فضیلت کے متعلق پرنٹ کروا کر پینا فلیکس بھی لگا دی ۔
چند ماہ کے اندر ہی اسکے گاہک ختم ہو گئے وہ دوکان کا کرایہ دینے کے قابل بھی نہیں رہا اور ایک محلے میں چھوٹی سی دوکان میں منتقل ہو گیا ۔اسکی آمدن میں شدید کمی ہو گئی،یوں اسکی معیشت کا بھٹہ پاکستان کی معیشت کی طرح بیٹھ چکا ہے ۔ہنرمند ہونے کے باوجود اسکی آمدن تقریباً ختم ہو چکی۔آغاز کے دنوں میں بہت دھوم مچی کہ بھائی فلاں حجام نے شیو کرنے سے انکار کر دیا مگر اب اس کے خاندان کا گزارا کیسے ہوتا ہے کسی کو کوئی فکر نہیں ۔
دنیا میں کوئی بھی شخص نظریہ پر قائم رہنے کے لیے قیمت چکاتا ہے ۔اپنے نظریات پر کار بند ہر انسان قابل احترام ہوتا ہے کوئی شک نہیں ،مگر نظریہ کی خاطر پوری فیملی کو مصیبت میں ڈال دینے کو بہر حال عقل مندی نہیں کہا جا سکتا ۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں