کِس کِس پر لعنت ڈالیں؟۔۔عمار کاظمی

پندرہ بیس سال پہلے ایک سفید رنگ کی1994 ماڈل سوزوکی مہران ایک لاکھ پینسٹھ ہزار میں خریدی۔ گاڑی سیکنڈ ہینڈ تھی اور بری طرح استعمال ہوئی تھی چنانچہ خریدتے ہی مسائل شروع ہوگئے۔ صبح اٹھتے ہی گاڑی سٹارٹ نہیں ہوتی تھی۔ بیٹری چینج کروائی، متعدد بار ٹیوننگ کروائی، انجن کا کام کروایا، مگر مسلہ حل نہ ہوا۔ وہ ہر تیسرے چوتھے روز ورکشاپ کا چکر لگواتی رہی۔ موٹر مکینکوں کا کھیل بنا ہوا تھا سو ورکشاپ سے گاڑی سٹارٹ کروا کر گھر بھیج دیتے۔ اس معمول سے تنگ آ کر سوچا اسے بیچ دیا جائے۔نیازی پینٹر جودوست تھا ،سے مشورہ کیا تو بولا’’ یار تو اسے بیچ دے اوران پیسوں سے تیرے پاس جو انیس سو بہتر کی ٹو ڈور سپورٹس ماڈل کرولا بند کھڑی ہے اسے تیار کروا لے، اسکی باڈی بھی مضبوط ہے اور گاڑی ہے بھی ڈگی والی ہے‘‘۔ نئی نئی شادی ہوئی تھی،سوچا جب لاکھ ڈیڑھ لاکھ گاڑی پر لگے گا تو نئی ہو جائے گی۔ سو گاڑی بیچنے کی ٹھانی اور اسے لے کر اپنے ایک عزیز کے شو روم چلا گیا۔ عزیز نے گاڑی دیکھی اور بولے گاڑی شو روم پر کھڑی کیے بغیر نہیں بکے گی، تم کھڑی کر جاو جیسے ہی کوئی مناسب گاہک لگے گا تو بتا دوں گا۔ سو گاڑی وہیں کھڑی کی اور گھر لوٹ آیا۔

اُمید تھی کہ مارکیٹ کی گاڑی ہے،ہفتہ دو ہفتے میں آسانی سے بک جائے گی، مگر ایسا نہ ہوا۔ اور تین مہینے بعد کہیں جا کر بار بار کی یاد دہانی اور منت سماجت کے  بعدعزیز کا فون آیا کہ اسکا ایک پینسٹھ تو کوئی دینے کو تیار نہیں البتہ ایک تیس ملتے ہیں اگر کہو تو بیچ دوں؟ انتظار بڑی ظالم شے ہے انسان کو توڑ کر رکھ دیتاہے۔سو نا امیدی اور مایوسی میں کہا ،چلو بیچ دو یار اب اور کتنا انتظار کریں، یہ بکے گی تو ہی کرولا تیار ہوگی۔ گاڑی بکی اورپیسے پکڑ کر سیدھا پینٹر دوست کے پاس اسکی ورکشاپ پہنچ گیا۔ اس نے اپنے ساتھی ڈینٹر اور مکینیک کو بلایا اور کام شروع کر دیا۔ سب سے پہلے مکینک نے اسکا انجن نکالا اسکے بعد ڈینٹر نے اسکی سیٹیں نکالیں اور باقی جہاں جہاں ڈینٹنگ کی ضرورت تھی وہ شروع کر دی۔ ڈینٹنگ شروع ہوئی اور تین ماہ لگ گئے۔ اسی دوران نیازی پینٹر صاحب گاڑی کی پوٹینیں بھی شروع کر چکے تھے۔

خیر ہوتے ہوتے کوئی چار سے چھ ماہ میں گاڑی تیار ہوئی تو پتہ چلا کہ اسکا انجن بھی اوور ہال ہونیوالا ہے۔ سیٹیں نکال کر اندر باہر سے گاڑی پینٹ کروا کر نئی جیسی کروا چکے تھے تو سوچا کہ اب اگر چلنے میں مزہ نہیں دے گی تو کیا فائدہ چنانچہ تیس ہزار میں انجن بھی اوور ہال کروا لیا۔ مختصر یہ کہ مہران کے جتنے پیسے ملے تھے سب کرولا پر لگ گئے۔ سال چھ مہینے کرولا چلی اور پرانی گاڑی، پھر سے پرانی ہوکر کام نکالنے لگی۔ ایک دو بار ہیٹ ہوئی تو انجن بھی فارغ ہو گیا۔ مکینیکل کام ختم ہوتا تو سسپینشن کا کام نکل آتا اور جو سسپینشن سے جان چھوٹتی تو الیکٹریشن کا کام نکل آتا۔ مجبوری کا نام شکریہ، تنگی میں جیسے تیسے چل سکتی تھی، چلاتے رہے۔  پھر جب ایک مشترکہ پلاٹ بیچنے کے بعد کچھ پیسے ہاتھ لگے تو سوچا اب کرولا بیچ کر دوبارہ نئی مہران لے لوں۔ جب بیچنے کی بات نیازی سے کی تو ساتھ کھڑا ڈینٹر میری طرف دیکھ کر ہنسنے لگا اور بولا ’’شاہ صاحب نے مہران دے سارے پیسے کرولا وچ لا دتے سن تے ہن کرولا وچوں مہران کڈھنا چاہندے نیں جیہڑی ہن نئیں نکلنی‘‘۔ میں بے بسی اور غصے سے اسکا منہ تکتا رہا ۔مگر وہ ڈینٹر سچاتھا۔

مہران پھر مارکیٹ کی گاڑی تھی جو تیس پینتیس ہزار کا گھاٹا دے کر بک گئی ،مگر یہ جس پر ایک لاکھ بیس ہزار لگایا تھاوہ اب لاکھ کی بھی نہیں بک رہی تھی۔ سوچا انتظار کر کے دیکھ لیتے ہیں شاید کوئی ہمارے جیسا کم بخت شوقین نکل آئے ،مگر ایسا کوئی نہ تھا۔ ہم شاید اپنی نوعیت کے اکلوتے احمق تھے۔ اخیر گاڑی چلنے پھرنے سے بھی گئی۔ اور جب گھر پر کھڑے چھ ماہ گزر گئے تو اسی مارکیٹ سے ایک ڈینٹر جو ہر تیسرے چوتھے ہفتے گاڑی بیچنے کا پوچھتا رہتا تھا، آیا اور بولا ’’شاہ جی رپیہ ستائیس ہزار ہے جے، لینا اے تے گل کرو‘‘ بند کھڑی گاڑی کو زنگ کھا رہا تھا اور حالت دن بہ دن خراب ہو رہی تھی ،چنانچہ دُکھی دل کیساتھ پیسے جیب میں ڈالے اور گاڑی کی کاپی اسکے حوالے کر دی۔ اب جب بھی کوئی نوجوان پرانی گاڑی تیار کرنے کی بات کرتا ہے تو اُسےسمجھاتے ہوئے لڑنے لگتا ہوں۔گاڑی میں ہزار چیزیں ہوتی ہیں۔ آپ پرانی گاڑی کی کون کون سی چیز بدلیں گے؟ کیا کیا نیا ڈالیں گے؟ کچھ بھی کر لیں، بہت کچھ رہ ہی جاتا ہے، کیونکہ پرانی گاڑی پرانی ہی ہوتی ہے۔

اسکے بعد جو گاڑی لی وہ دو ہزار پانچ ماڈل کراچی نمبر کی سیمی نیوسوزوکی مہران تھی جو صرف گیارہ ہزار کلو میٹرچلی ہوئی تھی۔ اسنے بہت ساتھ دیا اور آج تک ہے۔ پہلے پانچ سال تو اسنے بالکل کام نہیں نکالا مگراب چار پانچ سال سے مسلے کرنے لگی ہے۔ اب اسے بھی بیچنے کا سوچ رہا ہوں مگر اس گاڑی کی فائل اور پیپرز برسوں پہلے گم ہوگئے تھے۔ درمیان میں دو تین مرتبہ گمشدگی کی ایف آئی آر بھی کٹوائی اور بہت کوشش کی کہ لاہور ہی سے ڈپلیکیٹ پیپرز بن جائیں مگر یہ ممکن نہ ہوا۔ اسکے بعد تنگ آ کر ایک دن فیس بک پر سٹیٹس دیا کہ اگر کوئی کراچی سے ڈپلیکیٹ پیپرز بنوا کر بھیج سکے تو رابطہ کرے۔ اس پرایک دوست نے کہا کہ میں پتہ کرتا ہوں آپ تفصیلات بھیجیں۔ تفصیلات ارسال کیں مگر دوست کچھ نجی مصروفیات کی وجہ سے توجہ نہ دے سکے اور اج کل کرتے وقت گزرتا چلا گیا۔ ادھر میں بھی اس سلسلے میں سستی کرتا رہا کہ چلو کسی دن اسی بہانے کراچی کا چکر لگا لوں گا۔

انہی دنوں میں یعنی کوئی سال دو سال پہلے ہی میں نے سندھ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کی ویب سائٹ گاڑی کا نمبر ڈال کر وہیکل ویری فکیشن کی تو اس میں جو تفصیلات سامنے آئیں ان میں میرا نام اور گاڑی کا انجن نمبر واضع تھا۔ یہ دیکھ کر اطمینان ہوا اور فوراً اسکا سکرین شارٹ لے کر ہارڈ ڈرائیو پر سیو کر لیا کہ چلو گاڑی اور اسکی اوریجنل سرکاری نمبر پلیٹس کے علاوہ گاڑی کی ملکیت کا ایک مستند حوالہ اور ثبوت تو میرے پاس موجود ہے۔ آج جب پھر ایک ڈیڑھ سال بعد سٹیٹس دیا تو سوچا ایک بار پھر سکرین شارٹ حاصل کر لوں کہ پہلے والا نہ جانے کہاں سیو کیا ہوگا تو گاڑی کا نمبر اینٹر کرنے پر دیکھ کر حیرت ہوئی کہ ویب سائٹ پر چنددیگر تفصیلات تو موجود ہیں مگر گاڑی کا انجن نمبر اور میرا نام غائب ہے۔ نام ہٹانے میں کیا مصلحت، حکمت یا پھر دو نمبری ہے ؟اسکا مستند جواب تو سندھ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن والے ہی بتا سکتے ہیں؟ تاہم دوستوں کا خیال ہے کہ یہ سب سکیورٹی کی وجہ سے کیا گیا ہے اور اسکا مشورہ حکومت پاکستان کو کسی غیر ملکی آڈٹ فرم نے دیا تھا۔ چلیے نام تو سکیورٹی کی وجہ سے ہٹا دیا، انجن نمبر کس وجہ سے ہٹایا گیا؟یاد رہے کہ ویب سائٹ پر ملکیت، اورانجن نمبر وغیرہ دینے کے بعد سے چوری کی گاڑیوں کی خریدو فروخت میں نمایاں کمی واقع ہوئی تھی۔ اسکے علاوہ دھماکوں میں استعمال ہونے والی گاڑیوں کی ملکیت بھی انجن اور چیسسز نمبر سے ہی ممکن ہوتی تھی۔ سرکار کے پاس تو خیر پھر بھی ڈیٹا موجود رہے گا ،مگر عام آدمی سے چھپانے کا مقصد؟

ایک مقصد تو واضع طور پر سمجھا جا سکتا ہے کہ خیرات پر چلنے والی عادی مجرم ریاست فارن فنڈنگ رُکنے کے بعد اوچھے ہتھکنڈوں پر اُتر آئی ہے۔ اور ڈرامے کی وجہ سکیورٹی سے زیادہ یہ ہے کہ لوگ ایک بار پھر ریاستی ٹاوٹوں سے ہزار دو ہزار میں تصدیق کروانے پر مجبور ہوں اور انکے ریونیو میں اضافہ ہو۔ ملک کو ہاتھوں پیروں سے لوٹنے والے نیا ٹیکس لگانے اور عوام کو ٹھگنے کا کوئی موقع، کوئی بہانہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ بہر حال میں گاڑی کے پیپرز گم ہونے کی ایف آئی آر بہت پہلے کٹوا چکا ہوں اور آج ایک بار پھر اس ریاست کے اُن اعلی سرکاری افسران پر لعنت بھیجتا ہوں جن کے پاس سیدھے سادھے مسائل کا کبھی کوئی سیدھا سادھا حل نہیں ہوتا۔ اس کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی ایج میں جب تم ویب سائٹس پر ویریفکیشن کر سکتے ہو تو دوسرے صوبے میں ڈپلیکیٹ پیپرز بنا کر دینے میں کیوں موت پڑتی ہے؟

شیخ رشید اور عمران نے ایک ادارے پر لعنت ڈالی اورعوام کی اکثریت کے نزدیک درست ڈالی، مگر ہمارا جی چاہتا ہے کہ سب پر لعنت ڈالی جائے۔ سب نے اپنی اپنی جگہ عام آدمی کا جینا حرام کر رکھا ہے۔مگر کیا ہے کہ سب عمران اور شیخ رشید سے لاڈلے نہیں ہیں۔ عام آدمی پارلیمان کے علاوہ کسی ادارے کا نام لیکر لعنت ڈالے گاتو یا تو وہ غائب کر دیا جائے گا یا پھر غدار قرار دے کر جیل میں پھینک دیا جائے گا۔ بہر حال، میری ان باتوں کاجو بھی نتیجہ نکلے،میری گاڑی کے پیپرز بنیں نہ بنیں، میں اپنے حصے کی لعنت ڈال کر اپنی بھڑاس نکال رہا ہوں۔
عمار کاظمی

عمار کاظمی
عمار کاظمی
عمار کاظمی معروف صحافی اور بلاگر ہیں۔ آپ سماجی مسائل پر شعور و آگاہی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *