آخری بات/سعیدالرحمٰن علوی

ملک کے غیر مسلم حضرات اور اقلیتیں ہم پریہ حق رکھتی تھیں کہ ہم انہیں انسانی برادری کا حصہ سمجھ کر حکمتِ دینی کا لحاظ کر کے دین کی دعوت دیتے، ان کے انسانی مسائل کے حل کرنے میں اپنا رول ادا کرتے اور خدمت کے راستہ سے ان کے دلوں میں گھر کرتے، لیکن افسوس کہ آج ملک کا کوئی مذہبی ادارہ، دینی جماعت یا فرد ایسا نہیں جو اس فرض کو پہچانتا ہو اور اس پر عمل پیرا ہو۔ حضور اقدس ﷺ کی ختمِ نبوّت کے سبب امت کے اہلِ علم پر تبلیغِ دین لازم تھی، لیکن اہلِ علم اس سے غافل ہیں، تبلیغ پر اب اکثریت سے وہ لوگ قابض ہیں جنہیں اس میدان میں ابھی بڑی تربیت کی ضرورت ہے، لیکن ہم نے عرض کیا کہ اہلِ علم سارے جہاں کے بیکار مشاغل میں پڑ کر اس فرض کو یکسر فراموش کر بیٹھے ہیں، لیکن اپنی شریعت بہر طور تمام غیر مسلم حضرات پر لاگو کرنا چاہتے ہیں، یہ روش بہت ہی افسوسناک ہے اور ہماری درخواست ہے خداوندانِ علم و دانش سے کہ وہ دین و شریعت کے حوالہ سے دور اسلاف کے ذمّہ دار اہلِ علم کی آراء ملاحظہ فرمائیں اور پھر فیصلہ کریں کہ وہ جو کر رہے ہیں اور جو کہہ رہے ہیں وہ کہاں تک صحیح ہے؟

آپﷺ نے فتنہ و شرارت کو مٹانے کے لئے ہر تدبیر اختیار کی، قرآن مجید نے اس مسجد تک کو ڈھانے کی بات کی جو مرکزِ فساد بننے والی تھی اور اللہ تعالیٰ کے نبی نے اسے ڈھا کر فساد کا راستہ روکا، لیکن حیرت ہے کہ یہاں کے نام نہاد فدائیانِ رسولﷺ فساد ہی کو سب سے بڑی نیکی خیال کرتے ہیں، حضور سرور کائنات ﷺ کے متعلق مخدومہء کائنات سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا کی روایت علاّمہ شبلی نے اپنی معروف کتاب سیرت النبی میں نقل کی کہ آپﷺ نے کسی سے ذاتی انتقام نہیں لیا، شبلی اور ان کے نامور شاگرد سیّد سلیمان کی مشترکہ سعی سے مرتب ہونے والی اس معروف علمی کتاب میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ حضرت عائشہ ؓ کی اس روایت کو صحاح کے تمام مصنفین و مؤلفین نے اپنی کتب میں درج کیا، جو فنی اعتبار سے اسکی صحت کی عظیم دلیل ہے اور واقعہ بھی یہی ہے کہ بخاری ومسلم سمیت ہر کتا ب میں اس روایت کو دیکھا جاسکتا ہے۔

شبلی نے سیرت کی جلد اوّل میں فتح مکّہ کے حوالہ سے جو لکھا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ:
“اربابِ سیرت کے نزدیک اہلِ مکہ کے لئے امن اور عام معافی کے باوصف 10افراد کے لئے بہر طور قتل کا حکم تھا ان میں سے بعض خونی مجرم تھے بعض مکّہ میں آنحضرتﷺ کو ستاتے تھے تو بعض آپﷺ کی ہجو میں اشعار کہتے تھے”۔شبلی کا کہنا ہے کہ محدثانہ تحقیق کے حوالہ سے یہ بیان صحیح نہیں کیونکہ اس جرم کا مجرم(ستانے اور ہجویہ اشعار) تو سارا مکّہ تھا، چند حضرات ضرور ایسے تھے جنہوں نے اختلاف میں شرافت کی حدود کا لحاظ کیا ورنہ تو سب اس حمام میں ننگے تھے، اس کے باوجود امن اور عام معافی کا مژدہ انہیں سنایا گیا، حتیٰ کہ خیبر میں جس یہودی عورت نے کھانے میں زہر دیا اس کے لئے بھی ایسی سزا نہ تھی(جلد 1ص296)حاشیہ میں لکھا ہے کہ حافظ مغلطائی نے ایسے 15آدمی لکھے جنہیں بہر حال قتل کرنے کا حکم تھا، جو محدثین کے نزدیک غیر محتاط ہیں، عام اربابِ سیرت کی روایت 10افراد کی ہے،سیرت نگار ابنِ اسحاق نے 8نام لکھے ہیں، محمد ابوداؤد اور دارِقطنی نے 6کا ذکر کیا ہے جبکہ امام بخاری نے سرف ایک شخص ابنِ خطل کا ذکر کیا ہے۔

شبلی مزید کہتے ہیں کہ
عام رویت کی رو سے جن دس اشخاص کا ذکر ہے وہ شدید قسم کے مجرم تھے، جن میں سے سات خلوص سے ایمان لائے۔ باقی تین میں سے ایک عبداللہ بن خطل ہے جو مسلمان ہوا پھر اپنے ایک مسلمان ملازم کو قتل کرکے اسلام کو چھوڑ گیا اور مرتد ہو گیا، مقیس بن حبابہ کا بھائی ایک انصاری کے ہاتھوں غلطی سے قتل ہو گیا۔ تحقیق کے بعد نبی علیہ السلام نے اسے دیت دلوا دی لیکن اس نے پھر خیانت و دھوکہ سے اس انصاری کو قتل کردیا،حویرث نامی شخص نے سفرِ ہجرت کے دوران نبی علیہ السلام کی دو صاحبزادیوں سے اسطرح زیادتی کی کہ انہیں سواری سے گرا دیا۔(اسی موقع پر آپﷺ کی بڑی صاحبزادی حضرت زینبؓ کا پیٹ کا بچہ ضائع ہوا اور وہ کئی سال تکلیف میں رہ کر انتقال کر گئیں) جبکہ ایک خاتون قریبہ جو ابنِ خطل کی لونڈی تھیں اور آپﷺ کی ہجو کرتی تھی(اس کا معنیٰ یہ ٹھہرا کہ تین افراد فوجداری جرائم کا شکار تھے جبکہ قریبہ نامی لونڈی والی روایت پر امام ابوداؤد نے تنقید کی کہ یہ محلِّ نظر ہے)۔

شبلی کہتے ہیں کہ صحیح بخاری جسے امت کی اکثریت قرآن کے بعد سب سے صحیح کتاب قرار دیتی ہے، اس میں صرف ابنِ خطل کا ذکر ہے اور یہ بات طے ہے کہ اس کا قتل قصاص میں تھاکہ اس نے اپنے مسلمان غلام کو قتل کیا، باقی روایات بقول شبلی ایسی ہیں کہ ان کا معاملہ صرف ابنِ اسحاق جیسے سیرت نگار تک پہنچتا ہے اور اصول کے اعتبار سے یہ روایات منقطع شمار ہوتی ہیں۔

julia rana solicitors

امام ابوداؤد کے حوالہ سے بھی شبلی کا کہنا ہے کہ وہ4ہی آدمیوں کا ذکر کر کے کہتے ہیں کہ سوائے ابنِ خطل باقی کسی روایات کی وہ سند نہیں جو ہونی چاہیے۔شبلی نے مزید لکھا ہے کہ جن اشخاص کو امن اور معافی دی گئی، انہیں اسلام قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا گیا، اسی لئے ان میں سے بہت لوگ حضور اقدس ﷺ کے ساتھ حنین کی جنگ میں شریک ہوئے اور شبلی کا کہنا ہے کہ اس جنگ میں ابتدائی پسپائی انہی کے سبب ہوئی کہ یہ حضرات تربیت یافتہ نہ تھے۔سیرت النبیؐ گوکہ اردو میں ہے لیکن شبلی اور ان کے شاگرد سیّد سلیمان نے محدّثانہ اصولوں کا بھرپور لحاظ کر کے اسے مرتب کیاخاص کر اسکی دو ابتدائی جلدیں تو شاہکار کا ردجہ رکھتی ہیں اورجو تفصیل اوپر دی گئی وہ پہلی جلد سے منقول ہے اس سے اس خاص معاملہ میں پیغمبرِ اسلام کے ذوق کا اندازہ ہوتا ہے اور کعب بن اشرف وغیرہ چند لوگوں کے قتل کے جو واقعات ہیں ان کا محدّثانہ انداز سے جائزہ لیا جائے تو بہت سوں کا قصہ ہی ناتمام ٹھہرے گا اور جو ثابت ہوں گے ان کے پسِ منظر میں بغاوت، ارتداد اور غدر و خیانت جیسے مجرمانہ افعال نظر آئیں گے، گویا وہ کیس بھی فوجداری نوعیت کے ہوں گے۔ حضور اقدسﷺ کے بعد امت کا مثالی دور خلافتِ راشدہ کا ہے اس میں بھی کمیت کے اعتبارسے حضرت صدیقؓ کا دور سب سے بڑھ کر ہے ویسے بھی صدیقِ اکبرؓ کا جو مقام ہے وہ دنیا میں صحابہ کے بعد کسی کو نصیب نہیں ہوا ، پیغمبرِ اسلام سے جو قرب و تعلقِ خاطر انہیں تھا اس کی مثال نہیں ملتی ان کے مکاتیبِ گرامی(اسی طرح حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ کے بھی) کو دہلی یونیورسٹی کے فاضل استاد خورشید فاروق صاحب نے ایڈٹ کیا۔حضرت مہاجر بن ابی امیّہ کے نام جوخطوط ہیں ان سے اس مسئلہ پر روشنی پڑتی ہے، بنو کندہ سے حضرت کا معرکہ ہوا ظاہر ہے کہ انہوں نے ہزیمت اٹھائی تو جذبات کی شدّت کی وجہ سے اپنی زبان سے دل کا غبار نکالا۔ مؤرّخ طبری نے نقل کیا ہے کہ حضرت مہاجر کے سامنے دو خواتین لائی گئیں ایک پر فردِ جرم تھی کہ اس نے رسولِ مکرّم کی ہجو میں شعر کہے تو دوسری نے مسلمانوں کی برائی میں، حضرت مہاجر نے پہلی کا ہاتھ کٹوا دیا اور سامنے کے دانت اکھڑوا دئیے، حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خبر ہوئی تو آپ نے انہیں لکھاکہ :
مجھے اس سزا کا علم ہو ا جو تم نے رسول اللہ کی برائی میں شعر گانے والی عورت کو دی، اگر تم یہ سزا نہ دے چکے ہوتے تو میں یقینا ً اس کے قتل کا حکم دیتا، انبیاء کے خلاف جرم کی سزا عام لوگوں کے خلاف جرم کی سزا کے برابر نہیں، اگر کوئی مسلمان ایسا کرے گا تو اس کو مرتد کی سزا دی جائے کوئی معاہدہ (ایسا کافرجو مسلم حکومت کی حدود میں معاہدہ کے تحت قیام پذیر ہو) ایسا کرے تو اس کے معنیٰ ہوں گے کہ اس نے عہد کو توڑ دیا اور مسلمانوں کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا، سیّدنا امام ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گرامی نامہ کا واضح مطلب یہ ہے کہ بد بخت مسلمان ایسی حرکت کرتا ہے تو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو کر مرتد ہوجاتا ہے اس لئے وہ سزائے قتل کا مستحق ہے لیکن یاد رہے کہ ہر مرتد کی اس شخص کو بھی اپنے فیصلہ پر نظرِ ثانی کا موقع دیا جائے گا جس کی تصریح ذمّہ دار اہلِ علم نے کی، دوسری بات یہ ہے کہ سزا کا اختیار سٹیٹ کو ہوگاافراد کو نہیں اور قانون کسی کو ہاتھ میں لینے کی اجازت نہ ہوگی، جب کہ معاہد یا ذمّی کی ایسی حرکت کا مطلب یہ ہو گا کہ اس نے معاہدہ توڑ کر محاربت و فساد انگیزی کی اور فساد انگیزی ناقابلِ معافی جرم ہے۔حضرت ابو بکرؓ کے اس گرامی نامی کی ایک دوسری شکل بھی مؤرّخ طبری نے نقل کی:
معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مہاجر نے دونوں خواتین کو ایک جیسی سزا دی اس پر حضرت صدیقؓ نے جو لکھا اس میں نصیحت و عتاب کے دونوں پہلو ہیں۔
“مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم نے اس عورت کا ہاتھ کٹوا دیا اور اس کے اگلے دانت اکھڑوا دئیے جس نے مسلمانوں کی ہجو میں شعر گائے تھے صحیح طریقِ کار یہ تھا کہ اگر ہجو کرنے والی مسلمان ہوتی تو اس کو ڈانٹ پھٹکار دیا جاتا(اور مثلہ سے کم سزا دی جاتی) اور ذمّیہ ہوتی تو میری جان کی قسم تم جب اس کے شرک جیسے جرم عظیم کی چشم پوشی کر چکے،تو ہجو تو اس کے مقابلہ میں معمولی بات ہے، اگر میں ہجو کی سزا کے بارے میں تم کوپہلے ہدایت کر چکا ہوتا(اور پھر بھی تم وہ سزا دیتے جو تم نے دی) تو تمہیں اس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا، بردباری اور نرم مزاجی اختیار کرو، مثلہ کی سزا نہ دو، مثلہ سنگین گناہ ہے، اور اسلام سے منحرف کرنے والا تشدّد، صرف “عضوی قصاص” کے طور پر مثل کی سزا دی جاسکتی ہے۔اس خط کی ایک نقل”انساب الاشرف”کا مؤلّف نے نقل کی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس خاتون نے نہ رسولِ اکرم اور نہ ہی مسلمانوں کی برائی میں کچھ کہا بلکہ حضرت ابو بکرکی برائی کی، جناب مہاجر نے اس کا ہاتھ کٹوا دیا، اس روایت میں دانت اکھڑوانے کا ذکر نہیں، اس قصہ کی خبر حضرت ابو بکرؓ کوہوئی تو انہوں نے بہت آزردہ ہو کر لکھا کہ
“مجھے معلوم ہو اہے کہ تم نے ایک عورت کو پکڑا جس نے مجھے گالیاں دی تھیں، اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا، خدا نے تو شرک جیسے جرمِ عظیم کا انتقام نہیں لیا اور مثلہ کی سزا تو کھلے کفر تک میں نہیں دی۔ میرا یہ خط پاکر اپنے معاملات میں آئندہ بردباری اور نرمی سے کام لینا اور کبھی مثلہ نہ کرنا، کیونکہ یہ بڑا گناہ ہے، خدا نے اسلام اور اہلِ اسلام کو طیش اور شدّتِ غضب سے پاک کر دیا ہے، رسول اللہ صلیّٰ اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کے ہاتھ ایسے لوگ آئے جنہوں نے انہیں ستایا تھا، ان کو گالیاں دی تھیں، وطن سے نکالا تھا اور جنگ کی تھی، لیکن آپ نے کبھی ان کا مثلہ نہ کیا”۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply