خوشبو کردار کی ہوتی ہے، ذائقہ ایمان کا ہوتا ہے۔ اس شخص کا اس دنیا میں آنا اور جانا کچھ معنی نہیں رکھتا، جس نے ایمان کا ذائقہ نہیں چکھا اور جسے کردار کی خوشبو میسر نہ آئی۔ اس مادی جہان میں روحانی جہت کی حامل اگر کوئی چیز ہے تو وہ ذائقہ اور خوشبو ہی ہے۔ کہتے ہیں جانوروں کی زبان میں ذائقہ کی حس نہیں ہوتی، وہ اپنی بھوک کی وجہ سے خوراک کھاتے ہیں، ذائقوں سے لطف لینے کے لیے نہیں۔ انسان کا حال اس کے برعکس ہے، وہ عموماً ذائقوں کی تلاش میں ہوتا ہے۔ اسے کارخانہِ قدرت میں پیدا کی گئی خوارک زیادہ خوش نہیں آتی، وہ گندم، چاول اور گوشت کو یوں ہی نہیں کھا سکتا۔ جب تک اس کی خوراک کے ساتھ کسی انسانی ہاتھ کا تمسک اور تصرف شاملِ حال نہیں ہوتا، خوراک اس کے لیے قابلِ قبول اور قابلِ تناول نہیں ہوتی۔ انسانی ہاتھ کا تصرف جب قدرت کے ہمراہ ہو جاتا ہے تو اسے خوب سے خوب تر کر دیتا ہے۔ انسانی ہاتھ میں کیا کیا کمالات ہیں، اسے قوتِ یزداں سے کیا نسبت ہے، اقبالؒ سے بہتر کون جانتا ہو گا۔۔۔
خدائے لم یزل کا دستِ قدرت تو، زباں تو ہے
یقیں پیدا کر اے غافل کہ مغلوب گماں تو ہے
اب یقین کا تعلق ایمان سے ہے۔ یقین اور ایمان بھی انسان کو قدرت اور فطرت سے براہ راست میسر نہیں آتے۔ ایمان اور یقین کی دولت بھی اسے کسی انسان کے توسط سے میسر آتی ہے۔ یقین کسی فارمولے پر نہیں ہوتا، کسی کلیے کو جان لینے کا نام یقین نہیں ہے۔ ’’سورج مشرق سے نکلتا ہے‘‘، ’’پانی کا بہاؤ نشیب کی طرف ہوتا ہے‘‘، زمین کی کششِ ثقل نو اعشاریہ آٹھ میٹر فی سیکنڈ ہے‘‘، پینسلین جراثیم کش ہوتی ہے… یہ سب فارمولے ہماری تحقیق کا نتیجہ ہیں، ان کا تعلق تسلیم سے نہیں ہے۔ تسلیم ان چیزوں کی ہوتی ہے، جو انسان کی تحقیق کے دائرے میں نہ آ سکیں۔ یہیں سے انسان کی بے پایاں عظمت کا احساس ہوتا ہے۔ ایک انسان، ایک اور انسان پر یقین کر لیتا ہے اور اس یقین کے سبب وہ اپنے دائرہِ شعور سے باہر دنیاؤں کی سیر کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ عظیم انسان، انسان کو عظیم تسلیم کرتا ہے۔ وہ شخص جو انسان کو اس قابل نہیں سمجھتا کہ اس پر یقین کیا جائے، وہ عظمت کے راستوں سے آشنا نہیں ہوتا۔
قابلِ غور بات یہ ہے کہ ایک انسان جب قابلِ یقین ہوتا ہے تو لوگ اس پر یقین کرتے ہی لے جاتے ہیں، جبکہ دوسرا اپنی چرب زبانی اور لفظوں کی ارزانی کے باوجود خود کو قابلِ یقین ثابت نہیں کر پا رہا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مخلوق کے دلوں میں کسی انسان کے لیے عزت کا پیدا ہو جانا ایک خدائی راز ہے۔ عزت اور چیز ہے، شہرت اور چیز۔ شہرت عارضی ہوتی ہے، پراپیگنڈہ اور اشتہارات کی محتاج ہوتی ہے۔ عزت خاموش لیکن بارعب ہوتی ہے۔ شہرت صرف صفات کی ہوتی ہے، عزت ذات کا اثاثہ ہے۔ صفات کے زائل ہو جانے پر شہرت زائل ہو جاتی ہے، عزت صفات میں کمی بیشی سے بالاتر ہوتی ہے۔ عزت وہی ذات دیتی ہے جو خود عزت والی ہے۔ … وہ جس کو چاہتا ہے، عزت دیتا ہے۔ قرآنِ کریم میں عزت کے بارے مرحلہ وار کچھ ارشاداتِ باری یوں ہیں: ’’بے شک عزت سب کی سب اللہ کے لیے ہے‘‘ ایک اور جگہ ارشاد ہوتا ہے: ’’اور عزت اللہ کے لیے ہے، اور اس کے رسولوں کے لیے ہے اور پھر مومنین کے لیے ہے‘‘۔ ایک اور جگہ ارشاد ہے: ’’جو کوئی عزت چاہتا ہے، وہ جان لے کہ عزت تو بس خدا ہی کے لیے ہے‘‘۔ غور کریں، عزت جس کا مالک وحدہُ لاشریک اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہے، یہ رسولوں کے پاس بھی ہے اور پھر رسولوں کے ماننے والوں کے پاس بھی۔ رحمان کے فرستادہ پیغمبر جو پیغام مخلوق کے نام لے کر آئے، وہ رحمانی فکر کا ابلاغ ہے۔ ان پیغام بروں کے ماننے والے، ان پر یقین کرنے والے، مومنین کہلاتے ہیں۔ مومنین اسی فکر پر چلنے کی کوشش کرتے ہیں جو انہیں تعلیماتِ انبیاء سے موصول ہوا۔ وہ اپنے عمل کو فکرِ رحمانی کے مطابق ڈھالنے میں مصروف رہتے ہیں، اس میں استقامت انہیں کردار کی پختگی عطا کرتی ہے۔ ان کا کردار خوشبو دار ہو جاتا ہے اور اس جہانِ تغیر میں تغیر سے نجات پا لیتا ہے۔ وہ قابلِ ذکر ہو جاتے ہیں۔ وہ دوسروں کو خوشبودار کرنے میں معاون ہو جاتے ہیں۔ خوشبو کا تذکرہ بھی ماحول کو خوشگوار کر دیتا ہے۔ عزت، خوشبو اور ذائقہ قابل ذکر ہوتے ہیں۔
فکر رحمانی عزت کی حامل ہوتی ہے، اور اس کے برعکس کی فکر پر چلنے والے شیطانی فکر کا فائق جانتے ہیں، قرآنی الفاظ میں ’’وہ طاغوت پر ایمان لاتے ہیں‘‘، ایسے لوگ کسی عزت کے مستحق نہیں ہوتے۔ قانونِ مشیت کے تحت ان کے پاس دولت ہو سکتی ہے، شہرت اور دیگر چکاچوند والے شعبے ہو سکتے ہیں، لیکن عزت سے یہ تہی رہتے ہیں اور رہیں گے … یہ کائنات بنانے والے کا فیصلہ ہے۔ فیصلے کے دن سب کچھ واضح ہو جائے گا، فیصلے کے دن سے پہلے چیزوں کو جاننے کے لیے ماننا پڑے گا۔ انبیاء و رسل کے فکر کو ماننا پڑے گا، اور انبیاء و رسل کے ماننے والوں … مومنین و محسنین … کی تعلیم کو تسلیم کرنا پڑے گا … ان کی بات پر یقین کرنا پڑے گا۔ جس قدر یہ یقین مستحکم ہوتا جائے گا، اسی قدر ایمان کا ذائقہ چکھنے کی صلاحیت بیدار ہوتی چلی جائے گی۔ احادیث میں متعدد مقامات پر ایمان کا ذائقہ چکھنے کی بات کی گئی ہے۔ ذائقہ حسیات سے تعلق رکھتا ہے۔ بولنا، سننا، دیکھنا، چکھنا اور محسوس کرنا … بنیادی حسیات ہیں۔ اگر کوئی روحانی حقیقت … نظروں سے اوجھل رہنے والی … غیب سے تعلق رکھنے والی حقیقت، ہماری جسمانی حسیات سے تعامل کر لے تو یہ ایک خوش قسمتی کا مقام ہوتا ہے … یہ مقامِ مشاہدہ ہوتا ہے۔ اسلام اور ایمان کا تعلق سننے کے ساتھ … سمعنا و اطعنا… سننے کے بعد زبان سے تصدیق اسلام ہے، قلب سے تسلیم ایمان ہے، اور ایمان کو حسیات کی سطح پر محسوس کرتے ہوئے، اس کا ذائقہ چکھنا محسنین کا نصیبہ ہوتا ہے۔
اسلام، ایمان اور احسان کی درجہ بندی قرآن و حدیث میں واضح طور پر قائم ہے۔ معروف حدیثِ جبریل میں درجہ احسان کی تعریف یوں فرمائی گئی ہے کہ مقامِ احسان یہ ہے کہ تو اپنے رب کی اس طرح عبادت کرے جیسے تو اسے دیکھ رہا ہے۔ دیکھنا بلا واسطہ اور بلا شبہ مشاہدے کا مقام ہے۔ قرآنی اصطلاح میں صوفیاء کو محسنین اور مخلصین کہتے ہیں، سورۃ فرقان میں عبادالرحمٰن بھی ان ہی کے کردار کا تذکرہ ہے۔ اقبالؒ نے تصوف کی تعریف میں یہی کہا تھا کہ یہ مذہبی تجربہ ہے، Religious experience ہے۔ مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ فرماتے ہیں: ’’ایک روشن روحانی زندگی کا حصول بھی ہم پر فرض ہے۔ یہ ہمارا حق بھی ہے کہ ہم کسی روحانی تجربے سے گزریں اور اگر ممکن نہ ہو تو کم اَز کم کسی روحانی بزرگ سے آشنائی تو ہونا چاہیے۔ رُوح زندہ تو انسان زندہ، نہیں تو نہیں‘‘۔
صرف سننے سنانے کی حد تک محدود رہنے والوں کو ان کی زندگی اور ایمان مبارک، لیکن جو لوگ لامحدود فضا میں پرواز کرنا چاہتے ہیں، اپنے اسلام کو ایمان اور احسان کے دائروں تک وسیع کرنا چاہتے ہیں … اَن دیکھے اور اَن سنے تجربات سے گذرنا چاہتے ہیں، سیر و فی الارض میں بلیک اینڈ وائٹ تصویر کو رنگین دیکھنا چاہتے … نیرنگ میں رنگ اور رنگ میں بے رنگ دیکھنا چاہتے ہیں … ان پر ہر وقت اعتراض کا گنڈاسہ لہراتے رہنا، انسانی شعور کے بنیادی آداب کی خلاف ورزی ہے۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں