انگریزی کا ایک مشہور مقولہ ہے، جس کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ “آپ کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ اہم نہیں، اہم یہ ہے کہ اس پر آپکا ردعمل کیسا ہوتا ہے۔ زندگی میں حادثات صرف دس فیصدی ہوتے ہیں، باقی نوے فیصدی حالات آپ کے رد ِعمل سے ہونے والے نتائج ہوتے ہیں”۔ یہ مقولہ یاد اس لئے آیا کہ بسا اوقات فیس بک پر لوگوں کے نہایت ہی غیر فطری ردعمل دیکھنے کو ملتے ہیں، آج بھی کچھ ایسا ہی دیکھنے کو ملا۔ اکثر دیکھتا ہوں کہ ہم جب بھی کچھ لکھتے ہیں تو پوسٹ سے قبل طے کرچکے ہوتے ہیں کہ میرا یہ موقف حرف آخر تھا۔ نتیجتاً ہماری جہاں ایک طرف خواہش ہوتی ہے کہ ڈھیر سارے لائکس و شیئر کے ساتھ واہ واہ ، ماشاء اللہ و سبحان اللہ والے کمنٹس آئیں، وہیں دوسری طرف ایک بھی غیر موافق کمنٹ ہمارے قلب و دماغ پر گراں گزرنے لگتا ہے۔
شروعات کسی غیر موافق کمنٹ سے ہوتی ہے، جو ردِعمل کی تکرار، بیجا مباحثے سے ہوتی ہوئی بداخلاقی، ذاتیات کی کردار کشی کے ساتھ بلاک پر جاکر ختم ہوجاتی ہے۔ دلچسپ تو یہ ہے کہ اس معاملے میں کم و بیش سبھی حمام میں ننگے ہی ہیں۔
آپ نے کوئی تحریر پوسٹ کی ہے اور اسکی رسائی کو پبلک کر رکھا ہے تو اس کا صاف مطلب ہے کہ آپ نے ایک چیز کو ردِعمل کے لئے عمومی کردیا ہے، اب اس پر مثبت و منفی ہر دو طرح کے کمنٹس آسکتے ہیں۔ جہاں کمنٹ کرنے والے کے لئے لازمی ہے کہ اخلاقیات کے دائرے میں رہ کر اختلاف کرے، وہیں صاحب پوسٹ کے لئے بھی ضروری ہے کہ کسی غیر موافق اختلافی کمنٹ کو مخالفت نہ تصور کرے۔
یوں تو یہ بیماری ہر بیک گراؤنڈ کے لوگوں میں عام ہے، پر چونکہ جن کی پوسٹس زیادہ تر میرے سامنے سے گزرتی ہیں وہ مدارس و جامعات کے فارغین ہیں، اس لئے میرے مخاطب فی الحال وہی ہیں۔ ممکن ہے میرا تجزیہ غلط ہو، پر شاید اسکی بنیادی وجوہات دو ہیں۔ ایک تو یہ کہ ہمیں دورانِ تعلیم یہ باور کرایا گیا ہے کہ جو آپ پڑھ رہے ہیں صرف اور صرف وہی درست تھا، دوسرے یہ کہ آپ کو بہت زیادہ سوال و جواب کرنے، اپنی آراء رکھنے اور اختلاف و بحث کرنے کی آزادی نہ دی گئی تھی۔ پھر دہراتا ہوں، ممکن ہے میرا تجزیہ غلط ہو اور وجوہات کچھ اور ہی ہوں، پھر بھی وجوہات سے قطع نظر ‘یہ رویہ عملی زندگی میں نہایت ہی خطرناک ہے۔
مجھے یاد ہے کہ میرے ساتھ بھی یہ تجربات ہوچکے ہیں۔ جب یونیورسٹی پہنچا تو ایک دو سال لگ گئے یہ سمجھنے میں کہ اساتذہ سے سوالات کرنا یا ان سے کسی موضوع پر اختلاف راۓ رکھنا کوئی بری بات نہیں۔ جب عملی زندگی میں داخل ہوا تو کسی میٹنگ میں اگر میرے کسی پریزنٹیشن پہ کسی نے کوئی سلبی ریمارک کر دیا تو بُرا لگ جاتا تھا اور ردعمل میں سامنے والے کی بات مکمل سننے سے قبل ہی صفائی دینا شروع کردیتا تھا ۔ رفتہ رفتہ یہ راز کھلا کہ اختلاف اچھی اور تعمیری چیز ہے مگر اخلاقیات کے دائرے میں اور اصلاح کی نیت کے ساتھ۔
آج کچھ دیر قبل ایک پڑھے لکھے شخص کی پوسٹ اور اس پر بہتیروں کے کمنٹس نظر سے گزرے جو بیحد تکلیف دہ تھے۔ یہ بات یاد رکھی جانی چاہیے کہ اگر ہمیں کسی کا نام لیکر منفی پوسٹ کرنی پڑے یا کسی کو بلاک کرنا پڑ جائے تو یہ دونوں ہی صورتیں کچھ زیادہ بہتر نہیں بلکہ ہماری اپنی خامیاں ہیں کہ اختلاف کی صورت میں ہم خوش اسلوبی کے ساتھ تعلقات کو جوڑے رکھنے میں ناکام رہ گئے۔
سوشل میڈیا اپنی باتیں رکھنے کے ساتھ ساتھ سیکھنے سکھانے کا بھی ایک بہترین پلیٹ فارم ہے، اس مقصد کے لئے استعمال ہو تو زیادہ مفید ہوسکتا ہے۔ یقین جانیں کہ کم و بیش ایک دہائی سے لمبا عرصہ یہ وطیرہ رہا ہے کہ جب میرا اردو یا دینیات سے براہ راست واسطہ ختم یا نہ کے برابر تھا، یہ سوشل میڈیا کا ہی اثباتی پہلو تھا کہ بہتوں کو پڑھنے، ان سے سیکھنے اور پرانی چیزوں کے اعادے کا موقع ملا۔
آپ، بالخصوص نوجوان لکھنے والوں سے یہی درخواست ہے کہ اس پلیٹ فارم کو مثبت استعمال کریں، چند لوگوں کی واہ واہ کو اپنے حق میں کچھ زیادہ سمجھ کر منفیت اور نخوت کا شکار نہ ہوں، ردعمل میں اخلاقیات اور سامنے والے کی عزت نفس کا خیال رکھیں ، یہ نہ بھولیں کہ آپ کا کسی بھی چیز کو پیش کرنے کا طریقۂ کار آپ کی کامیابی کا بڑی حد تک ضامن ہے۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں