• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • سفر نامہ
  • /
  • سیلون کے ساحل ۔ہند کے میدان( باب نمبر7) سنہالی اور تامل زبانوں کے خوبصورت اور ہر دل عزیزشاعر/سلمیٰ اعوان

سیلون کے ساحل ۔ہند کے میدان( باب نمبر7) سنہالی اور تامل زبانوں کے خوبصورت اور ہر دل عزیزشاعر/سلمیٰ اعوان

۱۔ کرو شاعر ہی نہیں۔بہترین گلوکار،بہترین آناؤنسر،ڈیبٹیر، میوزک کمپوزر،کرکٹ کمنٹیڑ،ڈرامہ اور سٹوری رائٹر کے طور پربھی بہت کامیاب تھا۔
۲۔ سنیل آریےارتن کو فطرت نے نغمہ نگاری کے ساتھ ساتھ دُھن سازی کی بھی اعلیٰ خوبی سے نوازا تھا۔
۳۔ روی ،سسِلاگورے اور جین فکری اور انقلابی سوچ کی وجہ سے بہت مقبول ہیں۔

شو مئی قسمت جانے کون سی گھڑی تھی جب کہیں ہم سے اپنے لکھاری ہونے کی ڈینگ ماری گئی۔مسٹر جسٹنن تو شعروشاعری کا شوقین بندہ تھا۔یوں بھی بڑا محب وطن تھا۔اب انہوں نے کیا سنہالی، کیا تامل شاعروں کے کہیں شوخ و چنچل ،کہیں غم انگیز اور کہیں درد بھری شاعری اور گیت سُنوا سنوا کر ایک طرف اگر ہمیں قدرت کی اس فیاضی کے اعتراف کو ایک بار پھر دہرانے اور سراہنے کا موقع فراہم کیا کہ ملک چھوٹے ہوں یا بڑے۔ جگہیں بہت ترقی یافتہ ہوں یا کم تر، لوگ دیہاتی ہوں یا پڑھے لکھے، قدرت اپنے ہونے کا ایک اظہار انہیں تخلیقی قوتیں دے کر کرتی ہے۔اور ایسی ایسی خیال آفرینیاں سامنے آتی ہیں کہ بندہ حیرت زدہ ہوکر رہ جاتا ہے تو دوسری طرف ایک اجنبی زبان کے گیت اور شاعر سُنوا سُنوا کر ہماری مت مار دی۔

کبھی کبھی جب ہم بوریت محسوس کرتے ۔تب دو ایک بار کہا بھی کہ جناب ہمیں اردو کے وہ پرانے گیت سُنوا دیں جنہیں ریڈیو سیلون سے سُنتے ہمارا بچپن گزرا تھا۔مگر انہوں نے ہماری درخواست کو رتی برابر اہمیت نہ دی۔اپنے ملک کی محبت میں ڈوبے،اپنے شاعروں کا دم بھرتے سری لنکا کا یہ چہرہ ہمیں دکھاتے رہے۔

یوں سچی بات ہے میں تو خودکرونیرتن ابی سکارا Karunaratne Aboysekera ، روی سایتسوم Ravi Sathasivam ، سسِلا ،سنیل آریےارتنAriyaratneاور جین آریسنیاگم جیسے بے مثال شاعروں کہ جن کی شاعری، آواز اور دیگر صلاحتیں اتنی زیادہ اور ایسی بے پایاں تھیں کہ بے اختیارانہیں سراہنے اور اپنے اُردو دان لوگوں سے ملانے کو جی چاہتا تھا۔

ان سب کے ہاں فکر کی جو گہرائی نظر آتی تھی وہ بہت متاثر کن تھی۔کچھ ایسا ہی حال بقیہ شاعروں کا تھا۔تاہم کرو شاعر ہی نہیں تھا۔بہترین گلوکار،بہترین آناؤنسر،ڈیبٹیر،میوزک کمپوزر،کرکٹ کمنٹیڑ،ڈرامہ اور سٹوری رائٹر کے طور پربھی بہت کامیاب تھا۔ زمانوں اپنی شاعری ،گلوکاری، کمپوزنگ اور کرکٹ کمنٹری جیسی صلاحیتوں کے ساتھ، سری لنکا کی ادبی اور ثقافتی زندگی کے آسمان کا روشن ستارہ بنا رہا کہ جس کی دھوم ملک میں ہی نہیں ہندوستان تک میں بھی رہی۔

1930کے لگ بھگ جنوبی سری لنکا کے ایک چھوٹے سے گاؤں رتمالی Ratmaleمیں پیدا ہونے والاکرواپنے ساتھ بے شمار میدانوں میں مہارت رکھنے کے گنوں کا وصف لے کر پیدا ہوا تھا۔
شاعری کب شروع کی اورگیت گانے کا آغاز کب سے ہوا؟اورلکھاری کب بنا؟ وہ تو خود لاعلم رہا کہ یہ سب کیسے اسکی ذات میں داخل ہوکر اپنے آپ کا اظہار کرنے لگے تھے۔تاہم اِن سب کاموں کا آغازیکے بعد دیگرے ہوگیا تھاکہ ہر ایک میں وہ ایک کے بعد ایک اپنے جھنڈے گاڑتا گیا۔

اُس کے اندر ایک خداداد شاعر تھا۔اس کا علم محض نو سال کی عمر میں اُس وقت ہوا جب وہ اپنے والدین کے ساتھ کینڈی میں پیرا ہرا(Perahera)(بدھا کا مقدس دانت دکھانے کی سالانہ تقریب)میں گیا۔ہاتھی کے ہودے میں بیٹھ کر اُس نے ترنم سے بدھا لارڈ کے حضور منظوم کلام گا کر پیش کیا۔اس کی آواز کا ترنم اور شاعری سبھوں نے لوگوں کو حیران کردیا۔ اتنا چھوٹا سا بچہ ایسا جاندار کلام اور ایسی موہ لینے والی آواز۔ تقریب بطور شاعر اور گلوکار اُس کا ابتدائی تعارف تھا۔کروکی سکینڈری تعلیم کولمبو میں ہوئی۔حد درجہ مودب اور فرما بردار شاگرد ۔چھوٹی سی جگہ سے ایک بڑے شہر میں آکر اُسے ایڈجسٹ ہونے میں ذرا دقّت نہیں ہوئی۔کالج کے تقریری مقابلوں میں حصّہ لیتا تو اپنے اشعار بیچ میں شامل کرتا اور تقریر کے دوران سامعین کو بتاتا کہ یہ اشعار اس کے اپنے تخلیق کردہ ہیں۔اُس کی شاعری میں اُداسی ،دُکھ اور غم کا عنصر کم عمری سے ہی تھا۔

وہ مذہباً بدھ تھا۔نرم خو ،نرم مزاج اورنرم دل رکھنے والا۔ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات کی مصداق اُس کی شہرت نے لوگوں کی توجہ کھینچ لی تھی۔پندرہ سال کی عمر میں اُسے ریڈیو سیلون پر بچوں کا پروگرام کرنے کی پیشکش ہوئی۔وہ ا ُس عمارت میں داخل ہواتھاجس نے آنے والے وقتوں میں اس کے اوپر شہرت،عزت،دولت سبھی دروازے کھول دئیے تھے۔
2000سے زیادہ گیتوں اور شاعری کا خالق ۔جس میں تنوع تھا۔موضوعات کے اعتبار سے انفرادیت تھی۔

ایک خدادا د صلاحتیں رکھنے والا شاعرکم عمری سے نئی جدتوں کے ساتھ میدان میں اُترنے والاشاعر،نغمہ نگار اب براڈ کاسٹر خاص طور پر کرکٹ کی کمنٹری اور اس فیلڈ میں نئی نئی اصطلاحیں ایجاد کرنے والا بن گیا تھا۔سنہالی زبان کو اُس نے کرکٹ کمنٹری کرتے ہوئے جس طرح وسعت اور مانوسیت دی وہ اس کا بڑا کارنامہ ہے۔نئے الفاظ،نئے انداز، بولتے میں زبان سے حرکات کا بھرپور تاثر،آسٹریلیا،انڈیا،ساؤتھ افریقہ، انگلینڈ اور پاکستان کے ساتھ میچوں میں ہمیشہ لوگوں کی خواہش اُسے سُننے اور دیکھنے کی ہوتی۔ ڈائیلاگ ،رائٹنگ اور ڈرامے لکھنے میں بھی اُسے کمال حاصل تھا۔نغمہ نگار تو تھا۔کمپوزنگ بھی کرنے لگا۔تب اِس میں بھی بڑا نام پیدا کیا اور بہترین کمپوزر مشہور ہوا۔
ذرا دیکھیے اُس کی شاعری کا ایک نمونہ ۔
ہماری زندگی میں خوشی اور مسرت ہی نہیں
غم،دُکھ اور مصائب بھی بہت ہیں
کہیں یہ ہمارے ماحول سے جڑے ہیں
کہیں یہ لنکا کی روایات سے جڑے ہیں
کہیں اُس ماحول سے جس میں ہم بڑھے پلے ہیں
لیکن کیا ہمیں ان سے فرار ہے
یا کہیں ان سے کچھ بہتر ہے
شاید وہ ایک گیت
جو ہمیں ہماری پرانی یادوں میں لے جائے
پس تو آہیں انہی خیالوں میں کھو جائیں
اکیلے گیت گاتے یا کہیں دوستوں کے ساتھ
باہر اونچے اونچے گاتے

اناؤنسمنٹ شروع کی تو اسمیں اپنی صلاحیتوں سے وہ اضافے کئیے کہ سری لنکن لوگوں کو کہنا پڑا کیسا فنکار انسان ہے؟ہمارے دلدار پرویز بھٹی کی طرح کا کہ بات سے بات نکالتا،مزاح پیدا کرتا بات بھی بڑی معنی خیز ہوتی۔

ایک عوامی شاعر جس کے گیت ہر روز گائے جاتے ہیں۔سُنے جاتے ہیں۔دکانوں پر ،شاہراؤں پر،نئی آوازوں میں ڈب کرکے نئے رنگ و آہنگ کے سامان کے ساتھ وہ آج بھی اتنا ہی ہردلعزیز ہے جتنا ماضی میں تھا۔بوڑھے ،جوانوں کو آج بھی اس کے گیت تڑپاتے ہیں۔

سری لنکا کی حکومت نے کولمبو کی ایک اہم شاہراہ اس کے نام پر کی ہے۔بے شمار تمغات اور انعامات سے اُسے نوازا گیا ہے۔مگر اس کا سب سے بڑا انعام اس کی شاعری اور آواز ہے۔زندہ رہنے والی جو ہمیشہ نہ صرف اپنے لوگوں کو بلکہ دور دیس کے لوگوں کوبھی کہیں نہ کہیں اُداس کرتی ہے اور کوئی میرے جیسی اُس پر چند لفظ لکھنے کو اپنے لئیے ایک ا عزاز سمجھتی ہے۔روی ساتسوم بھی کمال کا شاعر ہے۔سری لنکا اس کی زندگی ہے۔اپنی بیوی تارہ اور بچوں سنجے اور سریش سے بھی زیادہ محبوب ۔کمال کا شاعر۔

Sicila Gooray سیسلا گورے جدید شاعری کی بے مثال شاعرہ ہے۔کالج میں پڑھاتی ہے۔سوچ میں بڑی انقلابی ،عملی زندگی میں روایتی،شوہر اور بیٹے کی ممنون کہ ان کی حوصلہ افزائی نے اُسے شاعری پر آمادہ کیا۔اپنے بارے میں کہتی ہے کہ موڈی ہوں۔اُس وقت لکھتی ہوں جب تحریک پیدا ہوتی ہے۔

سنیل کو فطرت نے نغمہ سازی کے ساتھ ساتھ دھن سازی کی وہ خوبی عنایت کی ہے کہ اُس نے سری لنکا کے فلمی گانوں پر زمانوں کے چھائے ہوئے تامل اثر کو ختم کرتے ہوئے سنہالی کلچر میں ڈوبی ہوئی دُھنوں کو فروغ دیتے ہوئے سنہالی موسیقی کی اہمیت کو بڑھاوا دیا۔مسٹر جسٹنن کینڈی کی انگریزی زبان کی شاعرہ جین آریسنیا گم Arasanaygamکی شاعری کے بھی بہت مدّاح تھے۔جس وقت ہم کینڈی میں داخل ہوئے ۔انہوں نے محبت اور سرشاری میں ڈوبے لہجے میں کہا تھا۔

‘‘کینڈی میری محبوب شاعرہ کا شہر ہے۔یہاں وہ پیداہوئی۔کیا شاعری ہے اس کی۔ ایک مصور کی طرح وہ چہرے ،آوازیں ،فضا ثقافتی رنگ ڈھنگ ،دکھ،حادثات،سماجی اور سیاسی تنازعات کو کِس کمال فنکاری سے لفظوں میں پینٹ کرتی ہے۔

julia rana solicitors

وہ ڈچ برگر کلاس سے تعلق رکھنے والی ہے۔جس کے آبا کی کِسی دلکش عورت کو ایک ڈچ افسر نے پسند کیا اور بیاہ کرلیا تھا۔جین نے خود ایک تامل سے شادی کی ۔مگر قدامت پرست روایتی گھرانہ جنہیں وہ قبول ہی نہیں تھی۔دو بیٹیوں کی ماں جس کی زندگی کو اجیرن بنا دیا گیا۔
ذرا سُنیے۔
کِسی نے دروازے کو توڑ دیا تھا
اور جیسے مجھے آزاد کردیا
کہ میں دنیا میں گھوموں پھروں
آزاد اپنی ذات کے خول سے باہر آزاد
1983 میں جب تامل اقلیت اور سنہالی اکثریت میں خون ریز جھڑپیں ہورہی تھیں۔وہ بھی اِس زد میں آئی اور گھر سے بے گھری اس کا مقدر بھی بنی۔مہاجر کیمپ میں ڈرخوف،گھر بدری کا دُکھ،اپنی پہچان اور شناخت کا گم ہوجانا یہ سب وہ احساسات تھے جنہوں نے اس کی شاعری کو درد سے بھردیا۔اس کی اسی زمانے کی شاعری پر نیشنل ایورڈ دیا گیا۔
جاری ہے

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply