ان دنوں پہاڑی ریاست ہماچل پردیش کے درالحکومت شملہ کے مضافات سنجولی میں واقع ایک مسجد کو لیکر ہنگامہ بپا ہے۔ شملہ سفر کے دوران میں مسلمانوں سے متعلق میں نے کچھ معلومات اکٹھا کی تھیں۔ کچھ اقتباسات اپنے معزز قارئین کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔
مال روڈ کے متوازی، قدرے نشیب میں لوئر بازار ہے۔ یہاں جنرل اسٹور اور خورد و نوش کی اشیا کی دکانیں ہیں۔اسی بازار میں ایک مسجد ہے، جہاں کشمیری رہتے ہیں۔ مسجد کی حالت خاصی خستہ اور مخدوش ہے۔۔ کہا جاتا ہے کہ شملہ متعدد مذہبی مقامات کی خوبصورت آماجگاہ ہے اور یہ مسجد ان میں سے ایک ہے ۔ یہ مسجد لوئر بازار اور مال روڈ کے درمیان سیڑھی کے راستے پر واقع ہے ۔ اسے مقامی لوگ پرانی مسجد کے نام سے بھی پکارتے ہیں کیوں کہ یہ اپنی دیگر ہم عمر عمارتوں کے مقابلے کافی پرانی ہے ۔ اس مسجد کو کشمیری مسجد کے نام سے بھی جانا جاتا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ کشمیری عرصہ دراز سے روزی روٹی کی تلاش میں شملہ کا رخ کرتے ہیں ۔ ان کی ایمانداری اور سچائی کی وجہ سے لوگ ان کا احترام بھی کرتے ہیں ۔ یہی کشمیری اس مسجد کو آباد کئے ہوئے ہیں، دوسرے لفظوں میں ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہ مسجد ان کشمیری مہاجروں کی قیام گاہ کا بھی کام کرتی ہے جو دور دراز سے حصول رزق کے لیے یہاں آتے ہیں ۔ ان کشمیریوں کو یہاں خان بھی کہا جاتا ہے جو بارش ہو یا برف باری، شملہ کی معیشت کو اپنی پیٹھ پر لادے ناقابل رسائی منزلوں تک پہنچاتے اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر عزم و ہمت کے ساتھ اترتے چڑھتے دیکھے جا سکتے ہیں۔
مسلم تہذیب و ثقافت کے آثار یہاں خال خال ہی دکھائی دیتے ہیں۔ مال روڈ پر گفتگو کے دوران یہ بات آئی تو ہم نے ایک مسلم ہوٹل والے سے اس کے بارے میں پوچھ ہی لیا۔ اس نے نیچے دور ایک پہاڑی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ قریب ہی عید گاہ کالونی ہے۔ وہاں پر آپ کو بہت سارے مسلمان اور اسکول و مدرسے دیکھنے کو ملیں گے۔ یہ بستی مال روڈ سے ایک سوا کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے جسے پیدل بھی طے کیا جا سکتا ہے۔ شام ابھی ڈھلی نہیں تھی، میں نے یہاں کی تاریخی عید گاہ کے بارے میں پہلے ہی سن رکھا تھا،سو ہم پیدل ہی عید گاہ کی جانب نکل کھڑے ہوئے۔ کالونی میں کورونا کی وجہ سے زیادہ چہل پہل نہ تھی۔ ایک چائے کی دوکان کھلی تھی وہیں رک کر سردی بھگانے کے لیے چائے پی۔ چائے والا پڑھا لکھا معلوم ہوتا تھا۔ ہم نے عیدگاہ کے بارے میں پوچھا تو اس نے انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے بتایا یہی سامنے عید گاہ ہے۔ پہاڑ کی چوٹی پر وسیع عیدگاہ کا منظر بڑا دلفریب تھا۔ اس شخص نے بتایا یہ وہی عید گاہ ہے جہاں تقسیم سے قبل گاندھی جی نے تقریر کی تھی۔
مجھے تاریخ میں پڑھی ہوئی کئی چیزیں یاد آ گئیں۔ واقعی یہاں گاندھی جی نے بڑی معرکہ آراء تقریر کی تھی اور ہندو مسلم سب کو اتحاد کی تلقین کرتے ہوئے آزادی کے لیے سنگھرش جاری رکھنے کی بات کہی تھی۔ گاندھی جی جب یہاں آئے تھے تو تقریباً پندرہ ہزار لوگوں نے ان کا خیر مقدم کیا تھا۔ انھوں نے اس میدان کا انتخاب اس لیے کیا تھا کہ شملہ میں اس وقت انگریزوں نے کسی بھی قسم کا جلسہ منعقد کرنے پر پابندی لگا رکھی تھی۔ اس جلسہ میں شملہ کے شہریوں کے علاوہ آس پاس گاؤں کے لوگوں نے پہلی مرتبہ گاندھی جی کو سنا تھا۔ اکیڈمی آنے کے بعد مجھے اس کے بارے میں مزید تفصیلات جاننے کی بڑی بے قراری تھی۔ اس کا ذکر ابھیشیک کمار جی سے کیا تو انھوں نے شملہ اور گاندھی پر ہیم پرتھ نامی ایک رسالہ کا خصوصی نمبر دیا، یہ رسالہ 2018ء کے ماہ اکتوبر میں شائع ہوا تھا۔ اتفاق سے اس رسالہ میں گاندھی جی کی وہ تقریر موجود ہے۔ حالات کی مناسبت سے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس تقریر سے وہ حصہ یہاں نقل کیا جائے جو مسلمانوں سے تعلق رکھتا ہے۔ گاندھی جی نے کہا تھا:
”ہم کو بار بار یہ سنا کر ڈرایا جاتا ہے کہ انگریزوں کے چلے جانے سے ہمارے دیش میں افغانی حملہ کر دیں گے۔ حالانکہ جب تک میں زندہ ہوں اس ملک کے کسی بھی حصے پر کسی بھی غیر ملکی کا عمل دخل نہیں ہونے دوں گا۔ میں آپ سے کہتا ہوں ہندوستانی مسلمانوں کے جذبات کے بارے میں شک نہ کریں، میں چاہتا ہوں کہ تمام مذاہب کے لوگ مل کر آزادی کی لڑائی میں ان کا ساتھ دیں، سب سے پہلی بات اپنے دلوں سے خوف و ہراس کو نکال دیں۔ ہندو مسلمان اور پٹھان و مسلمان ہندوؤں سے خوف نہ کھائیں اور ایک دوسرے کو شک و شبہہ کی نگاہ سے نہ دیکھیں، افغانوں کا خوف ایک افواہ ہے۔ میں افغانوں کے کردار سے بہت پہلے سے واقف ہوں۔ ان میں چاہے جتنی بھی کمزوریاں ہوں، مگر وہ خدا سے ڈرنے والے لوگ ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ بھارت پر حملہ کرنے کی بات وہ کبھی نہیں سوچیں گے۔ دوسری بات میں خود آزادی کی لڑائی میں مدد کے لیے کبھی نہ بلاؤں گا، اس کے باوجود اگر افغانوں نے ہم پر حملہ کیا تو ہم ان کے خلاف پورے عزم و ہمت کے ساتھ مزاحمت کریں گے اور جیتے جی مادر وطن کی ایک بالشت سر زمین پر بھی کسی کو قابض نہ ہونے دیں گے۔
میں آپ سے پھر استدعا کرتا ہوں کہ ہندو اور مسلمان کے نام پر اپنے ذہنوں میں ناچاقی اور بد ظنی کو جگہ نہ دیں۔۔۔ ہم نے آپس میں جو سمجھوتہ کیا ہے وہ کسی سودے بازی کی خاطر نہیں ہے۔ ہندو مسلمانوں کے معاملے میں اس لیے ساتھ دیتے ہیں کہ وہ ایسا کرنا اپنی ذمہ داری تصور کرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ بھلائی سے بھلائی کا فروغ ہوتا ہے۔ اس لیے ان کا مسلمانوں سے یہ کہنا کہ وہ گؤ کشی کرتے ہیں خطرناک ہوگا، اس تعلق سے محض وہ ہی دوشی نہیں ہیں، پھر گؤ رکشا کا معاملہ زور زبردستی سے کبھی طے ہونے والا نہیں ہے۔ مسلمانوں کا کھلے دل سے اعتراف کرنے اور جی کھول کر ان کو تعاون دینے سے ہی کامیابی ملے گی۔ اسلام کی بنیاد شرافت ہے اور اگر وہ اسے ہی ترک کر دیں گے تو وہ خود ٹِک نہیں سکیں گے۔۔۔ بنیادی بات جو سب سے اہم ہے اس کا تعلق اہنسا سے ہے۔ اس تعلق سے میں سکھوں سے بھی ہاتھ جوڑ کر کہوں گا کہ وہ لکچھمن سنگھ اور دلیپ سنگھ کی راہ کو اپنائیں جو مہنت نارائن داس سے لڑنے میں کامیابی کے باوجود تشدد پر اتارو نہ ہوئے“۔(تفصیل کے لیے دیکھیے مذکورہ شمارہ کا صفحہ نمبر 13-14)
محمد علم اللہ کے سفرنامہ “ہم نے بھی شملہ دیکھا” سے ماخوذ

جاری ہے
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں