(Strong Will)
ذہنی مضبوطی کے لیے پہلا قدم یہ تھا کہ یہ ممکن ہے۔ دوسرا قدم یہ تھا کہ میں کر سکتا ہوں۔
اب تیسرا قدم ایک مضبوط ارادہ ہے۔ کوئی بھی چیز اپنے آپ پیدا نہیں ہوتی۔ بغیر بیج کے کبھی بھی درخت نہیں اگا کرتے۔
مضبوط ارادہ کریں کہ ذہنی طور پر مضبوط ہونا ہے۔ جب آپ ارادہ کریں گے تو یہ کائنات مختلف پہلوؤں سے آپ کو مواقع میسر کرے گی جس کی مدد سے آپ خود کو ذہنی طور پر مضبوط کر لیں گے۔
اگر آپ ذہنی طور پر تیار نہیں ہوں گے تو شاید مواقع آپ کے سامنے سے گزر جائیں، لیکن آپ ان کی شناخت نہ کر سکیں اور اس پر ایکشن نہ لے سکیں۔
رومن فلسفر سینیکا کا قول ہے
“Luck is where preparation meet the opportunity.”
“آپ کی تیاری کو موقع مل جائے تو اس کو قسمت کہا جاتا ہے” ۔
اگر تیاری نہیں ہوگی تو وہ لوگ اس موقع کو کھو دیں گے اور اس چیز کو بری قسمت سے منسوب کریں گے۔ جب کہ حقیقت میں وہ خود تیار نہیں تھے۔
جہاں آپ نے اپنی زندگی میں اور بھی ٹارگٹ رکھے ہوئے ہیں تو ان میں ذہنی صحت مضبوط کرنے کا ٹارگٹ بھی شامل کر لیں۔
تیسرا قدم مضبوط ارادہ ہے۔
(Life gives me the best)
آپ نے مانا کہ یہ ممکن ہے۔
آپ نے مانا کہ میں بھی کر سکتا ہوں۔
آپ ذہنی طور پر تیار بھی ہو گئے۔
اب اگلے قدم پر جانے کے لیے نیچے دی گئی تصویر کو دیکھیں کیا نظر آتا ہے۔ آپ کو ایک بڑھیا نظر آتی ہے یا جوان لڑکی؟
غور سے دیکھیں پھر بتائیں۔
کچھ لوگوں کو بڑھیا اور کچھ کو جوان لڑکی نظر آئی ہوگی۔ کچھ لوگ اپنا فوکس تبدیل کر کے دونوں کو دیکھ سکتے ہوں گے۔
یہاں میں آپ کو یہ سکھانا چاہ رہا ہوں ایک تصویر کو مختلف فوکس سے دیکھنے سے تصویر مختلف نظر آتی ہے۔
مضبوط ذہنی صحت کے حامل لوگ ہر وقت ہشاش بشاش اور خوش نظر آتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ ان کی زندگی میں مسائل یا چیلنجز نہیں ہوتے بلکہ وہ ہمیشہ حالات کا مثبت رخ دیکھتے ہیں۔ اگر وہ چاہیں تو حالات کے منفی رخ دیکھ کر پریشان بھی رہ سکتے ہیں۔ لیکن وہ ہمیشہ مثبت کا انتخاب کرتے ہیں۔
اسی طرح کچھ لوگ ہمیشہ دکھی اور اداس نظر آتے ہیں۔ وہ اپنے حالات اور چیلنجز کا منفی رخ دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ وہ جان بوجھ کر منفی رخ کا انتخاب کرتے ہیں بلکہ شروع سے ان کی عادت بن چکی ہوتی ہے۔ ذہن کا ایک پیٹرن بن چکا ہوتا ہے۔ یہ پیٹرن آٹومیٹک ہوتا ہے۔
ہماری اس سیریز کا مقصد بھی یہی ہوگا کہ اس پیٹرن کو توڑا جائے اور نیا پیٹرن بنایا جائے۔
آج سے ایک نیا وظیفہ یاد کر لیں۔ ایک نیا نظریہ بنا لیں۔
“آج کے بعد میری زندگی میں جو کچھ بھی ہوگا وہ بہتر نہیں بلکہ بہترین کے لیے ہوگا۔”
چاہے بظاہر وہ آپ کے حق میں نہ ہو لیکن آپ نے اپنی ضد پر قائم رہنا ہے کہ “میری زندگی میں جو کچھ بھی ہوگا وہ بہترین کے لیے ہوگا۔” اگر زندگی میں کچھ چیلنجز آتے ہیں تو آپ ان کے مطابق ایکشن ضرور لیں گے لیکن بیک گراؤنڈ پہ آپ نے یہ نظریہ ضرور رکھنا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے بہترین کے لیے ہو رہا ہے۔
یہ ضروری نہیں کہ وہ بہتری ہماری آنکھ یا ہمارا دماغ شناخت (Detect) کر پائے۔ اس کے لیے خضر علیہ السلام اور موسی علیہ السلام کا واقعہ یاد کر لیں کہ بظاہر ظالمانہ نظر آنے والی واقعات میں کس قدر بہتری چھپی ہو سکتی ہے۔
ہر تصویر کے مختلف رخ ہوتے ہیں۔ اگر ہم تصویر کا مثبت رخ دیکھتے رہیں تو ہماری زندگی بھی خوشگوار ہو جائے گی اور ذہنی صحت بھی اچھی ہو جائے گی۔
اس پوائنٹ پر بہت کچھ کہا جا سکتا ہے۔ عموماً میں اپنی کلاسز میں تفصیل سے بیان کرتا ہوں۔ لیکن ابھی آرٹیکل لمبا ہونے کی وجہ سے اس کو شارٹ کر رہا ہوں۔
یہ نظریہ اپنا لیں۔ اپنے اندر راسخ کر لیں کہ میرے ساتھ جو کچھ بھی ہوگا بہترین کے لیے ہوگا۔
اب ایک دفعہ میرے ساتھ دہرائیے۔
“میرے ساتھ جو کچھ بھی ہوگا بہترین کے لیے ہوگا”
“میں افس سے لیٹ ہو گیا ہوں۔ کوئی بات نہیں میرے ساتھ بہترین ہوگا۔”
“میرا پیسہ ڈوب گیا ہے۔ کوئی بات نہیں میرے لیے بہترین ہوگا۔”
“میرا رشتہ ختم ہو گیا ہے۔ کوئی بات نہیں یہ میرے لیے بہترین ہوگا۔”
“فلاں شخص نے میری بےعزتی کی ہے۔ کوئی بات نہیں میرے لیے بہترین ہے۔”
“میری نوکری ختم ہو گئی۔ کوئی بات نہیں میرے لیے بہترین ہوگا۔”
یہاں آپ کو شک ہو سکتا ہے کہ اس سے کیا فرق پڑے گا۔ نوکری کون سا واپس آ جائے گی۔ جی ہاں۔
بالکل۔
آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔
آپ کی نوکری واپس نہیں آئے گی۔ لیکن اگر اس پر افسوس کرتے رہیں گے اور مایوس رہیں گے تو نوکری پھر بھی واپس نہیں آئے گی۔ جب دونوں صورتوں میں نوکری واپس نہیں آنی تو پھر کیوں نہ خوش رہا جائے اور chill کیا جائے۔
یہ نظریہ ہر جگہ اپلائی کرنے کی کوشش کریں۔ شروع میں تھوڑی سی مشکل ہوگی۔ آپ سے نہیں ہو پائے گا۔
کوئی بات نہیں۔
پریشان نہ ہوں۔
کوئی بھی نیا کام شروع میں ایسے ہی لگتا ہے۔ لیکن بار بار پریکٹس کے بعد وہ اچھا ہو جاتا ہے۔اور ویسے بھی تو آپ کے لیے آگے بہترین ہونے والا ہے۔
یقین نہیں تو اپنے دل سے پوچھ لیں۔
آگے آنے والی پوسٹ میں مزید کچھ اقدام بتائے جائیں گے جو آپ کو ذہنی طور پر مضبوط کرنے میں مددگار ہوں گے۔
ویسے آپ کو بڑھیا نظر آئی تھی یا جوان لڑکی؟

جاری ہے
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں