ایران اردن تعلقات کی آنکھ مچولی/علی ہلال

غزہ جنگ سے مشرق وسطی میں پیدا ہونے والا نیا تنازع کیا ہے؟

 سات اکتوبر 2023ء کو مقاومتی تنظیم حماس کے راکٹ حملوں کے جواب میں غزہ پر جاری اسرائیلی جارحیت کےرواں ماہ 6 تاریخ کو دس ماہ پورے ہوگئے ہیں۔ غزہ میں جہاں اسرائیل نے عالمی سطح پر ممنوعہ ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے فلسطینیوں کی نسل کشی کرکے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا ارتکاب کیا ہے وہیں اس جنگ سے غزہ کا انفراسٹرکچر بدترین تباہی کا شکار ہواہے۔ ایک لاکھ ٹن بارود گرانے کے باوجود بھی یہ جنگ جاری ہے۔

بدھ کو حماس نے ایک تازہ بیان میں رواں ہفتے دوحہ میں ثالثوں اور اسرائیلی فریق کے درمیان شروع ہونے والے مذاکرات میں شرکت سے انکار کردیا ہے۔
حماس نے رواں ہفتے اسرائیل کے ساتھ نئی شرائط پر مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے امریکی صدر جو بائیڈن کہ تجویز پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا ہے۔ جو غزہ میں جنگ بندی کے لئے تین مراحل پر مشتمل ہے۔ اور جسے جو بائیڈن نے گزشتہ مئی میں دی تھی۔

مشرق وسطی کے سیاسی وعسکری منظر نامے پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کے مطابق غزہ جنگ سے نہ صرف غزہ کی تباہی ہوئی ہے۔ اس جنگ کے اثرات نے پورے خطے کو لپیٹ میں لے لیا ہے جس کے اثرات سیاسی، سفارتی اور عسکری سطح پر مرتب ہورہے ہیں۔
غزہ جنگ کے دھویں سے نئے تنازعات جنم لے رہے ہیں۔ جن میں اردن اور ایران کا تنازع بہت اہم ہے۔ اردن اور ایران کے تعلقات کی ایک طویل تاریخ ہے جو مدوجزرسے بھری پڑی ہے ۔خطے میں عالمی قوتوں کے مفادات کے کھیل کے اثرات سے دونوں ممالک کے تعلقات متاثر ہونے کی بھی تاریخ ہے۔ حالیہ جنگ میں ایران اسرائیل کشیدگی کے اثرات بطور خاص ایران اردن تعلقات پر مرتب ہوئے ہیں۔
رواں برس اپریل میں ایران اور اردن کے درمیان اس وقت بڑے تندو تیز بیانات کا سلسلہ شروع ہوا جب اپریل میں ایران نے اسرائیل پر حملے کے لئے بیک وقت سینکڑوں ڈرون طیارے روانہ کئے۔

اسرائیل کے ساتھ پڑوس میں واقع اردن کی جغرافیائی حیثیت کے باعث ایران کی یہ کارروائی طہران اور عمان کے درمیان سفارتی کشیدگی کی وجہ بنی ہے۔
ایران کی جانب سے اسرائیل پر اس ڈرون حملوں کی وجہ شامی دارالحکومت دمشق میں ایرانی قونصل خانے پر اسرائیلی حملے کا ردعمل تھا۔ جس میں کئی ایرانی جان کی بازی ہارگئے تھے۔
اس وقت اردنی حکومت کی جانب سے بیان جاری ہوا تھا کہ اردن نے اپنے فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے پر کئی ڈرون گرا دیے ہیں۔ خطے میں امریکہ کے مضبوط شراکت دار ہونے کے باعث طہران کو اسرائیل کا یہ بیان اچھا نہیں لگا اور ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے لیک ہونے والے بیان میں اردن کو اسرائیل کے بعد اگلا ہدف قراردیا گیا ۔ اردن نے اس بیان کو اپنے داخلی معاملات میں مداخلت قراردیتے ہوئے عمان میں ایرانی سفیر کو بلا کر انہیں احتجاجی مراسلہ تھمادیا ۔

ایران نے اردن کے اس احتجاج کے جواب میں عمان میں اپنے سفارت خانے کے ذریعے پیغام دیتے ہوئے بتایا کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے لیک ہونے والا بیان طہران کا موقف نہیں ہے۔ یہ ایک غیر رسمی بیان تھا۔ ایران اپنے رسمی بیانات وزارت خارجہ کے ذریعے جاری کرتاہے۔
31 جولائی کو ایرانی دارالحکومت طہران میں حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ اسماعیل ہانیہ حملے میں مارے گئے جس کے ردعمل میں ایران نے اسرائیل کے خلاف جوابی کارروائی کرتے ہوئے انتقام لینے کا اعلان کیا ہے۔

جس سے خطے میں سیکورٹی صورتحال میں سخت تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ اردن نے اگست کے پہلے ہفتے میں اپنا وزیرخارجہ ایمن الصفدی کو طہران بھجوادیا جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود بزشکیان کو اردنی فرمان رواں شاہ عبداللہ دوئم کا پیغام پہنچایا جبکہ اپنے ہم منصب علی باقری کے ساتھ بھی ملاقات کرکے دو طرفہ تعلقات اور نئی صورتحال پر بات چیت کی۔
ایران اور اردن کے درمیان تعلقات کا آغاز 1925ء سے ہوا۔ جس زمانے میں اردن کو امارت مشرقی اردن کہا جاتا تھا۔

1941ء میں ایرانی بادشاہ رضاپہلوی نے اپنے بیٹے محمد رضا شاہ پہلوی کو تخت نشین کیا۔ نئے بادشاہ پہلوی نے بیت المقدس میں اپنا قونصل خانہ کھول کراردن کے اس وقت کےامیر عبداللہ اول کے ساتھ تعلقات قائم کئے۔ 1946ء میں اردن نے آزادی حاصل کی اور اردنی امارت کو باقاعدہ مملکت کا ٹائٹل مل گیا جس پر ایران اور اردن کے درمیان اچھے تعلقات قائم ہوگئے۔ 1959ء میں کنگ حسین بن طلال کے دور میں ایرانی بادشاہ پہلوی نے اردن کا دورہ کرلیا اور عمان میں پہلا ایرانی سفارت خانہ قائم ہوا۔

تعلقات کا یہ دور زیادہ طویل نہیں ہوا اور 23 جولائی 1960ء کو اس وقت کی ایرانی حکومت کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے پر احتجاج کرتے ہوئے اردن نے طہران کے ساتھ تعلقات ختم کردیے ۔ جس پر ایرانی حکومت نے تعلقات معمول پر لانے کی کوشش کرتے ہوئے اردن کوسمجھانے کی کوشش کی کہ یہ نیا فیصلہ نہیں ہے بلکہ 1950ء میں طہران کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے قیام کے معاہدے کا حصہ ہے۔

1965ء میں سعودی عرب کے شاہ فیصل بن عبدالعزیز آل سعود نے اسلامی الائنس قائم کیا جس میں ایرانی بادشاہ پہلوی بھی شامل تھے۔ اس الائنس کے قیام کا مقصد مصر کے نیشنلزم جمال عبد الناصر کا راستہ روکنا تھا۔ اس الائنس میں ایران اور اردن جمع ہوگئے ۔ نہ صرف یہ بلکہ ایرانی شاہ پہلوی نےبعد ازاں 1967ء میں مغربی کنارے کی اردنی سرزمین پر اسرائیلی قبضے کی مخالفت بھی کی۔ اور اسے اردن کو دینے کا مطالبہ کیا۔
نومبر 1973ء میں اردنی فرمان رواں شاحسین نے ایران کا دورہ کیا۔

اس دورے کے موقع ایران نے امریکہ کی اجازت سے اردن کو 20 لڑاکا ایف فائیو طیارے دے دیے جس سے دونوں ممالک کے تعلقات ایک نئے دور میں داخل ہوگئے۔
1978ء میں ایران میں شہنشاہیت کے خلاف عوامی تحریک اٹھی ۔ جس پر اردنی سربراہ نے نومبر 1978ء میں ایران کا دورہ کرکے شاہ کو اپنے تعاون کی یقین دہانی کرائی ۔ تاہم فروری 1979ء میں ایران میں عوامی تحریک کامیابی سے ہمکنار ہوگئی اور ایرانی شہنشاہ ملک سے فرار ہوگئے۔ اردن نے شروع میں تو ایران کے نئے نظام کے ساتھ تعلقات قائم نہیں کئے لیکن پہلے سالگرہ پر تہنیتی پیغام بھیج کر نیک خواہشات کا اظہار کردیا جس پر دونوں ممالک کے درمیان ایک بارپھر تعلقات کا نیا دور شروع ہونے جارہا تھا کہ 1980ء میں ایران عراق جنگ شروع ہوگئی۔ اس دوران ایرانی حکومت نے اسلامی انقلاب کو ہمسایہ ممالک تک پھیلانے کا عزم بھی ظاہر کیا تھا جس پر اردن نے اس ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لئے ایران کے مقابلے میں عراق کی حمایت کا اعلان کردیا۔

اردنی فرمان رواں شاہ حسین بن طلال کی جانب سے عراقی حمایت کے اعلان کے بعد جنوری 1981ء میں ایران اردن سفارتی تعلقات ختم ہوگئے۔ 1982ء میں اردنی فرمان رواں نے عراق کا دورہ کیا ۔ عراقی میگزین ذی قار کے مطابق اردن میں عراقی جنگ میں رضاکاروں کی تربیت کے لئے 15 تربیتی مراکز قائم ہوئے جہاں ہزاروں رضاکاروں کو تربیت دے کر بھیجا گیا۔
عراق کا ساتھ دینے پر طہران اور عمان کے تعلقات مکمل خراب ہوگئے۔ یہ کشیدگی 1989ء تک برقرار رہی۔ بعد میں ہاشمی رفسنجانی ایران کے صدر بنے تو انہوں نے دیگر ممالک کے ساتھ اردن کے ساتھ بھی تعلقات بہتر بنانے کی سعی کی۔یہ کاوش کامیاب ہوگئی اور اردن نے ایران کے خیر سگالی جذبے کے جواب میں اردن میں مجاہدین خلق کے مراکز بند کروادیے۔ دسمبر 1991ء میں سینیگال میں عالم الموتمر اسلامی کی کانفرنس کے موقع پر ہاشمی رفسنجانی اور شاہ حسین کی ملاقات ہوئی۔

اس دوران اردن میں ایک برطانوی بینک اور فرانسیسی مرکز پر حملے کا واقعہ رونما ہوا جس میں جیش محمد نامی ایک تنظیم ملوث نکلی ۔ جس کے گرفتار عناصر نے ایران سے مالی تعاون لینے کا اعتراف کیا۔
یہ واقعہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں خرابی کا سبب بنا۔ تاہم اس وقت حسن روحانی جو بعد ازاں ایرانی صدر بنے، اردن گئے اور اس تنظیم سے ایران کے تعلق کی خبر کو غلط قراردیکر عمان حکام کو اس حوالے سے اعتماد میں لینے میں کامیاب ہوگئے ۔ تاہم 1992ء میں اردنی انٹیلی جنس نے ملک میں اسلحے کے ایک بڑے ڈیپو تک رسائی حاصل کرکے تفتیش کی جس سے معلوم ہوا کہ ایرانی ادارے فلسطینی تنظیموں کو اردن میں حکومت کا تختہ الٹنے کے لئے منصوبہ بندی کررہے ہیں۔

یہ واقعہ دونوں ممالک کے درمیان قائم ہونے والے اعتماد کو کراچی کراچی کرگیا۔ تاہم سفارتی تعلقات برقرار رہے ۔1994ء میں اردن نے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ کیا جس پر ایران نے شدید تنقید کی جس پر اردن نے ایک مرتبہ پھر دعوی کرتے ہوئے بتایا کہ ایران نے حماس اور حزب اللہ کے ذریعے اردن میں حکومت گرانے کی سازش کی ہے۔ جس کے الزام میں اردن نے ایرانی سفیر سمیت 21 سفارت کاروں کو ملک سے بے دخل کیا۔ 1996ء میں ایران نے اردن پر مجاہدین خلق کو پناہ دینے کا الزام عائد کیا۔ 1997ء میں خاتمی ایرانی صدر بنے تو ایک مرتبہ پھر ایران اور اردن کے تعلقات بنے۔

2000ء میں صدر محمد خاتمی اور شاہ عبداللہ دوئم کے درمیان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ملاقات ہوئی۔ دونوں راہنما ایک دوسرے کو دوروں کی دعوت دے کر گئے۔ ابھی اس ملاقات کو زیادہ دن نہیں گزرے تھے کہ اردنی حکام نے ایران سے آنے والے چار فلسطینیوں کو بھاری کرنسی کے ساتھ حراست میں لے لیا۔ ان افراد نے دوران تفتیش بتایا کہ وہ اسرائیل کے خلاف کارروائی کے لئے یہ رقوم لارہے تھے۔اس واقعہ سے ایک بار پھر دونوں ممالک کے تعلقات متاثر ہوگئے۔

چھ ماہ بعد اردن نے مزید 18 اردنی باشندوں کو حراست میں لیا جو ایران میں تربیت کے رہے تھے۔ جس پر اردنی فرمان روا کو شدید خطرہ لاحق ہوگیا کہ ایران اردن کو اسرائیل کے خلاف کارروائیوں کے لئے مرکز کے طور پر استعمال کرنا چاہتاہے۔ واشنگٹن پوسٹ کو انٹرویو میں بھی اردنی فرمان رواں نے بتایا کہ ایران عراق میں انقلابی حکومت قائم کرکے اردن کی اراضی کو بطور مرکز استعمال کرنا چاہتاہے۔

اس موقع پر اردنی فرمان رواں نے امریکی صدر بش کو بھی بتایا کہ ایران حزب اللہ اور اردن میں قائم کردہ خفیہ گروپوں کے ذریعے اسرائیل کے خلاف محاذ کھول کر اردنی امن وامان کو سبوتاژ کرنے کے لئے سرگرم ہے۔ ستمبر 2003ء میں اردنی فرمان رواں نے ایران کا دورہ کرلیا اور دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک عجیب تبدیلی رونما ہوئی۔سعودی جریدے الوطن کے مطابق یہ دورہ ایران اور امریکہ کے درمیان اردنی ثالثی تھی جو ایرانی جوہری ہتھیاروں سے متعلق مذاکرات کا حصہ تھا۔

2003ء میں عراق پر امریکی حملے سے منظرنامہ تبدیل ہوگیا۔عراقی جنگ کے متاثرین لاکھوں عراقی اردن گئے جبکہ دوسری جانب ایران کو عراق میں دروازے مل گیا اور اپنی ہمنوا تنظیموں کا جال بچھادیا۔ جس پر اردن کے عراق کے ساتھ تعلقات بری طرح متاثر ہوگئے نیز عراقی جنگ سے پیدا ہونے والی صورتحال سے اردن کا امن خطرے سے دوچار ہوگیا۔

julia rana solicitors

2015ء میں اردن نے ایران اور مغربی ممالک کے درمیان جوہری معاہدے کا خیر مقدم کیا تاہم اسی دوران جولائی 2015ء میں عراقی شہری خالد الرباعی کو اردنی حکام نے اس وقت حراست میں لے لیا جب وہ اردن میں ایک بڑی دہشت گرد کارروائی کی تیاری کررہا تھا۔ بعد ازاں دوران تفتیش خالد نے ایرانی پاسداران انقلاب سے تعلق کا اعتراف کیا جس پر اردن اور ایران کے تعلقات پھر کشیدہ ہوگئے۔ اگست 2015ء میں سعودی عرب اور اردن نے ایک مشترکہ بیان میں ایران پر خطے میں مداخلت کا اعلان کیا۔ جنوری 2016ء میں اردن نے ایران کی جانب سے 5 لاکھ ایرانی زائرین کو ویزہ دینے کی درخواست مسترد کردی۔اسی دوران طہران میں سعودی سفارت خانے پر حملے کا واقعہ رونما ہوا جس پر اردن نے بھی سعودی عرب کا ساتھ دیتے ہوئے ایران سے اپناسفیر بلالیا۔
درمیان میں عراق اور شام میں سرگرم ایرانی حمایت یافتہ تنظیموں کا اردن میں حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔ روان برس اپریل میں عراقی تنظیم حزب اللہ العراقی نے اعلان کیا کہ وہ اردن میں 12 ہزار جنگجو کو تربیت دے کر تیار کرچکے ہیں اور یہ اردن میں اسلامی مقاومت کا حصہ ہے۔ جس پر ایک مرتبہ پھر دونوں ملکوں کے درمیان شدید کشیدگی ہے ۔اردنی میڈیا اور حکومتی ذرائع کے مطابق ایران غزہ جنگ کی آڑ میں اردن میں حالات خراب کرنے کے لئے کوشاں ہے۔

Facebook Comments

علی ہلال
لکھاری عربی مترجم، ریسرچر صحافی ہیں ۔عرب ممالک اور مشرقِ وسطیٰ کے امور پر گہری دسترس رکھتے ہیں ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply