آرائیں، گرائیں، پائی۔۔ شام علی

 ایسے زریں خیال  لوگوں سے بھی واسطہ رہا ہے جو اپنے دل پسند موضوعات پر عرصہ دراز   سے ہمارے سامنے بین بجا  رہے  اور   کچھ بھی سمجھ آکے نہیں دیتے خود ہی جھوم جھام کر محفل برخاست کرجاتے ہیں۔ تب ہم یوسفی کو مایوس کرنے کے ارادے سے قلم اٹھا کے قلم کاریاں کرتے  ہیں لیکن اپنی ہی تحریر  پڑھنے کے بعد اس کے  گولے بنا کر  ادھر  ادھر گھما اور پھر  یہ جا وہ جا۔۔

پھر ایک سال پہلے یوسفی جیسے لوگ ہمارے اردگرد پائے گئے۔۔ جو گہنائے ہوئے  تفکرات  کو  پھر سے سہلا  گئے اور خیالات کے محلات پھر سے مہکا گئے ۔ اپنے کھوئے  ہوئے سایوں کا رنگ ملا کر  اک ویسا انگ ملا جب تحریر پڑھی اپنا ہر لفظ گنگ ملا ۔۔کوئی ہم جیسا عکس ملا اور سب ہی کے برعکس ملا ۔ فلم جیسی فنکاری نہ ہوشیاری ،نہ کوئی دلآزاری نہ کوئی دینی بیماری ۔ نہ کنوار گندل کی طرح نرم ونازک نہ گلی ڈنڈے کی طرح تو تڑاخ مزاج اور جابجا بردباری کی آبیاری اور کہیں کہیں قلم میں حلم ناز پُرکاری انکساری سب وافر تھے۔ اور حسن تولنے میں کچھ حد تک کافر بھی ، لیکن مکاری نہیں صرف خالص بے قراری کی کہیں کہیں چنگاری ،ساری نہیں ماڑی ماڑی۔

تحریر پھکی نہیں چنانچہ قاری بے کار نہیں سکھی ہیں۔ کہیں مکتب کا ماحول پیدا کردیتے ہیں کبھی مے خانے کا ،مگر صد شکرن مسجد سے پرہیز گاری اور اس کی جگہ کنیا کماری کے شکاری باعث اطمینان رہے۔ لفظوں کی کاریگری بھی کہیں جلوہ دکھاتی ہے رضوان دا مسئلہ ایہہ  ہے  کہ  اوہنوں  کوئی مسئلہ نئیں ، اوہنوں سیاسی کیڑا کدی تنگ نئیں  کردا، کوئی عرش معلٰی تے آکے نئیں  بہندا،اوہنے آخر تے ڈگدا اے ۔ نہ محل سرا بناتا ہے نہ محل سرا میں غلام گردشوں میں گردش کرکرکے کوئی مرتا دکھتا ہے۔ مطلب اے راوی اپنے لئی  چین ای چین لکھدا اے۔ کبھی بھی ایسا نہیں ہوگا کہ کھمبے پر چڑھے کسی کی سیڑھی کھسکا کر کھسک لیں اور ٹنگا بندہ سوچے پنگا کس سے لے  لیا۔۔

رضوان سیدھا انسان ہے شریف بشرط ظریف ہے پر خفیف نہیں ہے اور نہ ہی کوئی اس کا حریف ہے۔اچھی شکل پہ عقل فدا کیے پھرتے ہوں ایسی کوئی شدت نہیں ،تھوڑی جدت کے ساتھ حدت ہے، پر اتنی نہیں کہ صنف نازک نوں پِت ای نکل آئے۔ اپنے اردگرد سب کا خیال  رکھیں گے۔ رضوان اس وقت کی پیداوارہیں جب دستکاری میں کشیدہ کاری بھی ایک صنعت سر فہرست ہوتی تھی جس میں ناڑے پر لاچے سے بھاری کشیدہ کاری کی جاتی تھی، یہ تب کی بات ہے جب ہماری نانیاں دادیاں گلی ڈنڈا کھیلا کرتی تھیں، باسکٹ بال کا تب پتا نہیں تھااس لیے  فلموں میں ڈانس بھی کوارگندل کی طرح نرم وملائم نہبں بلکہ گلی ڈنڈے جیسا ہی کرخت اور تابڑ توڑ ہوتا تھا۔ اس وقت رضوان نے باہمی دلچسپی کے امور پر غوروفکر سیکھا۔ اسی دلچسپی کے امور پر جھولی بھر بھر سیکھا اور مکالمہ کے ذریعے ہم پر کچھ مکالمات میں  نزول ہوا۔ جیتے رہیں ایسے لوگ، سلامت رہیں اور تاقیامت رہیں ،یونہی ادب کو خوش خلقی سے زندہ رکھیں۔

شام علی
طالب علم

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *