کامریڈ انور ہوژا، ایک عظیم ردِ ترمیم پسند راہنما

کچھ دن پہلے گارڈین میگزین میں ایک کتاب کی رونمائی کے بارے میں پڑھا،بڑے شدومد سے اس کتاب میں کامریڈ انور ہوژا پہ تنقید کے محاذ کھولے ہوئے تھے۔کتاب کا نام تھا عوامی جمہوری ظالم حکمران اور مصنف بیلنڈی فزیو نام کا ہے۔کتاب کی تحریر سے ایسے لگا کہ مصنف شدید قسم کی کمیونسٹ دشمن اور بغض وعناد رکھتے ہیں کامریڈ انور ہوژا اور کمیونسٹوں سے۔ اس لیے سوچا کہ مصنف کے الزامات میں موجود سچائی کی جانچ کی جائے۔ یہ یاد رہے مصنف منحرف ہوکر ملک سے فرار ہوگئے تھے لیکن صاحبِ تحریر سرمایہ داری کے پرزور حامی تھے۔صاحبِ تحریر کے بقول البانیہ کی بربادی کا ذمے دار انور ہوژا ہے۔
سب سے پہلے کامریڈ انور ہوژا کا تعارف کروا دیا جائے تو بہتر ہوگا، کامریڈ انور ہوژا ایک ادنٰی درجے کے سرکاری افسر کے بیٹے تھے۔ جس کی زندگی کا بیشتر حصہ عسرت میں ہی گزرا۔ اطالوی فاشسٹوں نے جب البانیہ پہ حملہ کیا تو یہ نوجوان مزاحمت پسندوں میں شامل ہوگئے اور دل وجگر سے اطالوی فاشسٹوں کے خلاف مزاحمتی جنگ لڑی۔ پھر جرمن فاشسٹوں نے حملہ کیا تو نام نہاد قوم پرست فاشسٹوں اور نازیوں کے بغل بچے بن گئے ان حالات میں عام مزدور اور کسان قوم پرستوں کے مخالف ہوگئے کیونکہ ان کی اکثریت کمیونسٹ حامی اور نازیوں کے جبر سے بے زار تھی۔ اسی دران مزاحمتی جنگ میں سوویت یونین نے فاشسٹوں کو زبردست مار دی اور ان کو مشرقی یورپ سے نکال باہر کیا۔ اس زبردست خدمت اور آزادی دلانے میں بہترین کردار ادا کرنے پہ مشرقی یورپی عوام نے انقلابات برپا کرنے شروع کردئیے اور جلد ہی پورا مشرقی یورپ انقلابات سے گونجنے لگا۔
ان ہی علاقہ جات میں البانیہ بھی شامل تھا جس میں پارٹی آف لیبر کی قیادت میں کمیونسٹوں نے عوامی تائید کے ساتھ انقلاب برپا کردیا۔اور 1944میں البانیہ میں عوامی جمہوری حکومت قائم ہوئی،ایسی حکومت جس نے البانیہ کے برادری نظام پہ قائم جاگیردارانہ معاشرے کو ایک جدید سوشلسٹ ریاست میں تبدیل کردیا اور اس تمام تبدیلی کا سہرا کامریڈ انور ہوژا کو جاتا ہے جس نے عوام کی راہنمائی کرتے ہوئے ان کو سوشلزم کا راستہ دکھایا اور عوامی حکومت قائم کی۔ایسی عوامی حکومت جس کی نظیر نہیں ملتی۔
کامریڈ انور ہوژا اکثر کہتے تھے کہ وہ ریاست کبھی سوشلسٹ نہیں ہوسکتی جس میں عوام کو آزادیِ اظہار نہ ہو۔اسی لیے البانیہ میں اظہار رائے پہ تو پابندی نہ تھی مگر سرمایہ داری کے گماشتوں کے لیے زبردست آڑ تھی۔ریاست سرمایہ داری اور مذہبی منافرت کے سوا ہر چیز برداشت کرسکتی تھی۔
جدید بورژوازی میڈیا کامریڈ انور ہوژا کو ایک جلاد بنا کر پیش کرتا ہے،جھوٹے پروپیگنڈے کیے جاتے ہیں۔اگر انور اتنا ہی ظالم تھا تو آج بھی البانوی عوام کی اکثریت انور ہوژا کے دور کو آج کے سرمایہ دار البانیہ سے بہت زیادہ بہتر سمجھتی ہے۔دلدلی ساحل جو البانیہ کے وسیع رقبے پہ محیط بے کار پڑا تھا اور کسی قسم کے تصرف میں نہیں تھا، کامریڈ انور نے اسے آباد کیا۔ایک فیصد شرح خواندگی سے نوے فیصد تک لے گئے۔ ایک جاگیردار ریاست کو ایک جدید صنعتی ریاست میں تبدیل کیا۔ ملیریا کا خاتمہ کردیا۔رہائش سب کے لیے،روزگار سب کے لیے کا عملی نمونہ پیش کیا۔
کامریڈ انور ہوژا کی زندگی جدوجہد کی عملی تصویر ہے، ہوژا سوشلزم میں ہر طرح کی ترمیم کی مذمت اور مخالفت کرتے تھے۔اسی بناء پہ مارکسزم لینن ازم کی تاریخ میں ان کا نام درخشاں باب کی مانند ہے۔خروشیف نے جب امن بقائے باہمی کے نظریے کو واضع کرنے کی کوشش کی تو کامریڈ انور ہوژا ایک زبردست ناقد بن کر ابھرے اور خیروشیف کی مذمت کی اور ساتھ ہی اس سے اس نظریے سے پیچھے ہٹنے کا بھی مطالبہ کیا۔ ان کا موقف تھا کہ اگر بقائے امن ہی قائم کرنا ہے تو اس کا سیدھا سیدھا یہ مطلب ہے کہ پسماندہ ممالک اور ترقی یافتہ ممالک کے مزدوروں اور کسانوں کو خونخوار امراء اور جاگیرداروں اور سامراج کے تصرف میں دے دو۔ بعد میں اس خود دار انسان نے سوویت یونین سے قطع تعلق کرلیا لیکن حقیقی مارکسزم لینن ازم سے غداری قبول نہ کی۔ سامراج کے ساتھ خروشیف کے یارانے پہ بھی زبردست موقف دیا، اس کے علاوہ ٹیٹو کے رجعتی اقدامات پہ بھی بہت لکھا اور دنیا کو دکھایا کہ ٹیٹو دراصل سوشلزم کے پردے میں سرمایہ داری کا بیوپاری ہے۔اس کا مارکیٹ سوشلزم ایک حسین جال ہے جو سامراج نے کمیونسٹ بلاک کو توڑنے کے لیے بنایا ہے۔پھر نکسن کے دورہ چین پہ بھی تنقید کی وہ اسے سمجھتے تھے کہ سامراج اپنے باتوں کے جال میں الجھا کے سوشلسٹ ممالک کے اتحاد کو ختم کرنا چاہتا ہے اور جس میں وہ بہت حد تک کامیاب بھی ہوا۔بعد میں ڈینگ زیاو پنگ کے ساتھ بھی قطع تعلق کرلیا۔ اس قطع تعلق کی وجہ بھی ترمیم پسندی کا احیا تھا۔ جس کو وہ مارکسزم لینن ازم سے انحراف اور سرمایہ داری کی طرف سفر خیال کرتے تھے۔
کامریڈ انور ہوژا ایک خالصتا نظریاتی انسان تھے، کامریڈ سٹالن کے گہرے دوست اور کامریڈ سٹالن کے دفاع کو مارکسزم لینن ازم کے دفاع سے مشروط کرتے تھے۔ ان کی خود داری کا یہ عالم ہے کہ یوگو سلاویہ،سوویت یونین اور چین سے قطع تعلق کے بعد خود انحصاری کے نظریے پہ قائم رہے اور ملک مسلسل ترقی کرتا رہا۔ 1985 میں کامریڈ انور ہوژا کا انتقال ہوگیا اور ترانہ ان کا مدفن بنا۔
اب زرا سرمایہ داری کے قائم ہونے کے بعد کے حالات پہ بھی نگاہ ڈالی جائے،
کرپشن سب سے بڑا مسئلہ ہے۔افسر شاہی کرپشن میں اس قدر طاق ہے کہ سیکنڈل تک منظر عام پہ نہیں آتے۔ آج طوائفیں عام ملتی ہیں ترانہ کے روڈز پہ،ایک وہ بھی دور تھا جب یہ فعل ممنوع تھا اور البانیہ کی سڑکیں اس قسم کی خواتین سے پاک تھیں، سب کو روزگار ملتا تھا۔ وہ البانیہ جس پہ ایک پیسے کا بھی قرضہ نہیں تھا آج اس ملک پہ نو بلین ڈالر کا قرضہ ہے۔جس ملک میں کوئی شخص بھی بے روزگار نہیں تھا وہاں حکومتی بیانیے کے مطابق تیرہ فیصد بے روزگاری ہے۔مشرقی یورپ کے غریب ترین ممالک میں شامل ہے۔ امریکی سامراج کا گماشتہ بن گیا ہے۔ جی ڈی پی دو اعشاریہ سات کے قریب ہے۔ یورپی اکنامک کمیشن، آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کا گماشتہ بن چکا ہے۔ لا اینڈ آرڈر ایک خواب بن چکا ہے۔ ہیومن سمگلنگ عام ہے۔ البانیہ کی خواتین مغربی یورپیوں کی جنسی تسکین کے لیے سمگل کی جاتی ہیں۔ جن کا کوئی پرسان نہیں ہے۔ انور ہوژا پہ قتل عام کے الزامات لگانے والے آج خود قتل کرتے ہیں لیکن کوئی بولنے والا نہیں۔کیوں کہ سامراج کی جو در پردہ حمایت حاصل ہے۔
انور کے البانیہ میں کوئی بے روزگار نہیں تھا، مگر آج بڑی تعداد بے روزگار ہے۔ پہلے غربت کی شدید مزمت کی جاتی تھی اور اس کے خاتمے کو پہلی ترجیح دی جاتی تھی مگر آج دونوں پارٹیاں اپنی جیبیں بھرنے میں مصروف ہے۔نجی کاریاں ہورہی ہیں اور خریدنے والے بھی حکومتی اہلکار اور افسر شاہی کے لوگ ہوتے ہیں۔
منصوبہ بند معشیت پہ الزام لگانے والے اب اس تضاد کا جواب دینے سے قاصر ہیں۔ وہ ہوژا پہ تشدد اور سخت گیری کے الزامات لگاتے ہیں مگر اس کی اچھائیوں کو بھول جاتے ہیں۔سی آئی اے کے پروپیگنڈے پہ دل وجان سے یقین رکھ کر سب کچھ درست مان لیتے ہیں، اور حقائق کو پس پشت ڈال دیتے ہیں۔
ہوژا ایک عظیم لیڈر اور پسماندہ لوگوں کے لیے باپ کی مانند تھا۔جس کو سامراج نے جلاد بنا کر پیش کیا۔مگر آج بھی اگر ایک عام البانوی سے پوچھا جائے کہ موجودہ دور اچھا ہے یا ہوژا کا؟تو وہ کہتا ہے کہ وہ دور آج سے بہت بہتر اور اچھا تھا۔

ہمایوں احتشام
ہمایوں احتشام
مارکسزم کی آفاقیت پہ یقین رکھنے والا، مارکسزم لینن ازم کا طالب علم، اور گلی محلوں کی درسگاہوں سے حصولِ علم کا متلاشی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *