عربی
یہاں عربیوں سے مراد سعودی شہری ہیں سچ پوچھیں تو میں ان سے غائبانہ بدگمان تھا مگر ایسا کچھ نہیں ہے مجموعی طور پر میں نے انہیں خوش اخلاق اور عبادت گزار پایا ۔ مسجد نبوی میں تو مقامی فیملیز بچوں سمیت جیسے پکنک پہ آتی ہیں۔ ساری ساری رات وہاں صحن میں گزارتے ہیں بچے وہاں کھیلتے رہتے ہیں نماز کے وقت سارے نماز ادا کرتے ہیں یوں بچوں کو مسجد کی اچھی عادت پڑ جاتی ہوگی۔
سارے عربی رفع یدین نہیں کرتے شاید وہ عراقی وغیرہ ہوں۔ اکثر رکوع کے بعد جب کھڑے ہوتے ہیں تو دوبارہ ہاتھ باندھ لیتے ہیں پاکستان میں بھی شاذ شاذ اہلحدیث بھی ایسا کرتے ہیں خصوصاً بدیع الدین راشدی اسکول آف تھاٹ والے۔اور نماز میں تھوڑی بہت ہل جل بھی کر لیتے ہیں یعنی تھوڑی بہت نظر گھما لیتے ہیں۔ ہر سوموار اور جمعرات کو روزہ رکھتے ہیں ان دنوں میں مسجد میں افطاری بھی تقسیم ہوتی ہے مدینہ میں تو ملی تھی مگر مکہ والے تاک کر عربیوں کو ہی دیتے ہیں انہیں شاید پتا ہے کہ باقی یہ روزے نہیں رکھتے۔
مردوں کی نسبت خواتین اور بچے بہت خوبصورت ہیں اور خواتین حجاب میں بہت باوقار اور پُرکشش دکھائی دیتی ہیں۔ حجاب میں جابز اور کاروبار کرتی نظر آتی ہیں۔
ان دنوں میں بچے تو بہت ہی کم دکھائی دیئے یقین جانیں چلڈرن سِکنس ہوگئی تھی میں اور بیگم کوئی بچہ دیکھتے تو لپک کر اٹھا لیتے یہاں تک کہ ایک ریستوران میں ایک سوڈانی فیملی کھانا کھا رہی تھی ان کا ایک ڈیڑھ دو سال کا بچہ کھیلتا ہوا ہمارے پاس آ گیا پہلے تو اس کا باپ اسے اٹھا کر لے گیا جب دوسری بار باپ بچے کے پیچھے آیا تو میں نے کہا تم واپس جاؤ اور بچے کو گود میں اٹھا کر خوب پیار کیا ،سیاہ فام ہونے کے باوجود بہت کیوٹ بچہ تھا بڑا فرینک سا۔ ویسے بھی ہر طرف گنجے دیکھ دیکھ کر جی اوب گیا تھا۔کچھ فیملیز بچوں کے ساتھ حج کی ادائیگی کے لئے آئے ہوئی تھیں۔ چھوٹے چھوٹے حاجی احرام پہنے بہت ہی پیارے لگتے تھے ۔
مکہ مدینہ میں GMC کو چھوڑ کر تقریباً وہی گاڑیاں ہیں جو ہمارے ہاں چلتی ہیں بلکہ کنڈنشن بھی اکثر ہماری گاڑیوں جیسی ہے بس موٹر سائیکل، رکشے یا چنگچی رکشے نہیں ہوتے۔ سڑکیں کشادہ ہیں اور ٹریفک بہت سکون سے چلتی ہے بے ہنگم رش ہے، نہ اوور اسپیڈنگ۔ تحمل اتنا ہے کہ اگر آپ نے سڑک پر پیر رکھ دیا ہے تو ساری ٹریفک تھم جاتی ہے حالانکہ جب نماز کے بعد مسجد نبوی سے لوگ باہر آتے ہیں تو ان کو سڑک کراس کرنے میں پندرہ بیس منٹ بھی لگ جاتے ہیں مگر کوئی گاڑی والا یہ کوشش نہیں کرتا کہ اس سے پہلے پہلے میں گاڑی نکال لوں ۔ شاید حج کے دنوں میں حد رفتار کم کی ہوئی ہو کیونکہ جو بس ہمیں مدینہ سے مکہ اور مکہ سے جدہ لے کر گئی وہ ستر کی رفتار سے زیادہ نہیں چلتی تھی ۔ ہم نے بیزار ہو کر ڈرائیور سے کہا تو بولا کہ حاجیوں کے لئے اس سے زیادہ کی اجازت نہیں ہے۔ مطلب حکومت سعودیہ اس بارے میں بھی متفکر رہتی ہے بلکہ یہاں تک کہ حج سے کچھ پہلے ریسٹورینٹس پر چٹنی سلاد دینے پر بھی پابندی لگا دیتی ہے کہیں حاجی ان دنوں میں بیمار نہ ہو جائیں۔ بس ڈرائیور بھی سارے عربی دیکھے قومیت کا تو پتا نہیں مگر کوئی بھی پاکستانی نہیں تھا۔
البتہ سڑک کراس کرتے وقت ہمیں لیفٹ رائٹ کے فرق کی وجہ بڑی کنفیوژن ہو جاتی تھی ہم کہیں اور دیکھ رہے ہوتے اور ٹریفک اور جانب سے آ رہی ہوتی۔
حاجیوں کی عزت کرتے ہیں ایک بار میں اور مسز، مسز کی ایک کزن اور ان کے ہسبنڈ کے ساتھ ایک کافی شاپ میں بیٹھے تھے کہ ایک عربی بھی شاپ میں آ گیا اور Vape پینے لگا میں نے کافی شاپ والے سے پوچھا کہ میں بھی سگریٹ لگا لوں وہ بولا نہیں ،دو سو ریال فائن ہو جائے گا۔ تو میں نے کہا کہ وہ عربی جو پی رہا ہے ؟ تو شاپ والا بولا فلیور پی سکتے ہیں ۔ میں نے کہا شاواشے! گڑ کھا لو مگر گلگلوں پر پابندی ہے۔
عربی شاید سمجھ گیا اور ویپ بند کر دیا۔ کچھ دیر بعد شاپ والا چار پانی کی بوتلیں اور دو ڈشز میں کیک لے آیا جو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بڑی نفاست سے کٹے ہوئے تھے۔ میں نے حیران ہو کر پوچھا کہ ہم نے یہ کب آرڈر کیا ہے؟ تو اس نے اسی عربی کی طرف اشارہ کیا اور بولا یہ اس کی طرف سے ہیں۔ ایک اور عربی کا میں گذشتہ قسط میں ذکر کر چکا ہوں کہ کس طرح اس نے ہمارے کھانے کا بل ادا کیا تھا۔ (اس کے علاوہ لوگ پانی کی بوتلوں سے بھرے بڑے بڑے ٹرک تقسیم کرتے ہیں یہ الگ بات ہے کہ تقسیم کرنے والے ملازمین ٹارگٹ پورا کرنے کیلئے ایک بوتل والے کو پورا کریٹ ہی اٹھا دیتے ہیں۔ کہیں گاوا، جوس اور پلاؤ والے تقسیم کرنے والے نظر آئے لیکن جتنا سنتے تھے اس سے کم۔ ہاں ایک بات ہے تقسیم کرتے وقت ٹھنڈی چیز ٹھنڈی اور گرم کو گرم رکھنے کا مکمل اہتمام کرتے ہیں)۔
میں نے دور سے ہاتھ ہلا کر اسکا شکریہ ادا کیا تو وہ سینے پہ ہاتھ رکھ عربی میں کچھ بولا جسے میں نے my pleasure سمجھا ۔ ہمارے یہاں ایسی باتوں کو تویین سمجھا جاتا ہے الٹا اور اکڑ دکھاتے ہیں بلکہ منہ پر دھواں چھوڑتے کہ پٹ لو جو پٹنا ہے۔
مدینہ میں ایک مارکیٹ میں شاپنگ کے لئے گئے تو جس دوکان میں بھی داخل ہوں پہلے ہمارے ہاتھ میں پانی کی ایک بوتل تھما دیتے تھے۔ ہمارے ہاتھ میں دو دو تین تین پانی کی بوتلیں تھیں جب ہم چوتھی دوکان میں انٹر ہوئے وہاں بھی ایک لڑکا پانی کی بوتلیں لے کر ہماری طرف لپکا۔۔
میں نے یہ دیکھ کر کہ لڑکا پاکستانی ہے اس سے کہا ابے بانسری کے! پلانی پلا پلا کر مارو گے یا اس میں کوئی چینی پتی بھی ڈالو گے
وہ لڑکا سرائیکی تھا ہماری بات سمجھ گیا اور دو کپ چائے منگوا لی۔
مسجد نبوی اور حرم میں ہر نماز کے بعد نماز جنازہ ضرور ہوتا ہے جس میں کئی مَیتوں کے لئے اجتماعی نماز ہوتی ہے۔
نماز جنازہ کے بعد ایک سلام پھیرتے ہیں۔
اتنے جنازے اگر میں اپنے شہر میں پڑھتا تو اگلا الیکشن پکا تھا۔
ایک موقع پر تو قریشی صاحب نے یہ بتا کر میرا تراہ نکال دیا کہ یہ حاجیوں کے جنازے ہوتے ہیں۔
میں نے کہا خیر ہے ؟ ہم حج پہ آئے ہیں یا جہاد پہ۔
ابھی تو حج شروع نہیں ہوا اور اتنے جنازے ؟

جاری ہے
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں