اس وقت فیس بک کے چنڈو خانے میں دو لکھنے والے ہدف ملامت پر ہیں۔ ۔ بد قسمتی سے ایک شو بز کی دنیا کے باسی ہیں اور دوسرے پیشے سے معلم ہیں اور شوق سے کہانی کار۔
ایسا تماشا میں نےپہلے کبھی دیکھا نہیں تھا۔ خطا کار غالب بھی تھا جس نے کہا تھا
ہم تو سمجھے تھے کہ غالب کے اڑیں گے پرزے
دیکھنے ہم بھی گیے تھے پہ تماشا نہ ہوا
ایک سیدھا سادا سوال یہ ہے کہ کیا ادیب اور شاعر کی نجی زندگی اور ذات کے عیوب بھی اس کی تخلیق کی طرح پبلک پراپرٹی ہوتے ہیں ؟ کہ جس کا دل چاہے اس کو سنگ دشنام اور تیر الزام کا ہدف بنالے؟ اگر یوں ہوتا تو غالب سے میرا جی اور جون ایلیا تک سب سنگسار ہوتے۔لیکن اب ایسا ہونے کی وجہ سوشل میڈیا ہے جس پر ہر بوالہوس نے حسن پرستی شعار کی ۔ہر میٹرک فیل بی اے پاس اگر شاعر یا افسانہ نگار نہ بنا تو نقاد بن کے میدان میں کود پڑا۔تخلیق کی بات نہیں کر سکتا تھا تو خالق کی ذات پر حملہ آورہو گیا۔
پہلے خلیل الرحمان قمر کے نجی تعلق پر طوفان کھڑا کیا۔ اس کے کامیاب ترین ٹی وی ڈراموں کی بات کسی نے نہیں کی۔ یہ برساتی مینڈک خود ٹرا کے خاموش ہو جائیں گے۔اس کے ڈرامے سپر ہٹ ہوتے رہیں گے۔
پھر علی اکبر ناطق کا بیان سامنے آگیا تو اس کی ذات سے عقیدے تک سب کے بخیے ادھیڑ دیے۔۔لیکن اسکے ناولوں کی ادبی حیثیت پر کسی نے بات نہیں کی ۔ یہ وہی لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ بے عیب تو بس ایک خدا کی ذات ہے۔جو ناول کی تکنیک یا اسلوب پر ایک جملہ نہیں لکھ سکتے۔
غور طلب بات یہ بھی ہے کہ کیا وہ شاعر فرشتے تھے جو رحمت اللہ علیہ کے تخت پر بٹھادیے گئے؟
ناطق کو میں ان فیس بکی حملہ آوروں سے کچھ زیادہ جانتا ہوں۔ اسلام آباد کے سیکٹر ‘ آئی ایٹ’ میں اس نے کتابوں کی دکان “مکتبہ غالب” کھولی تو میرا بھی آنا جانا رہا۔ وہ یہاں ایک کالج میں پڑھاتا رہا۔ کچھ لوگوں نے اسکی مجرد زندگی کو بھی جنسی بد اعتدالی سے منسوب کیا ،سنا کہ اس نے بھائیوں کے ساتھ یہاں کچھ پرانے چرچ بحال کرنے کا کام کیا۔بک فیئر میں پانچ پانچ سیشن بھی کمپیئر کیے۔ مجھے اور فیملی کو کتابیں دیں۔
میں نے اس کے عقیدے کی انتہا پسندی ، اپنی ذات کیلئے خوش گمانی اور نجی زندگی کی بے ترتیبی بھی دیکھی ۔یہاں تک کہ وہ لاہور چلا گیا اور میرا عملاً اس سے تعلق ختم ہو گیا،لیکن میں نے کسی ادبی محفل میں اس کی ذات کو ہدف کبھی نہیں بنایا۔خاموشی سے میں نے اسے فیس بک سے بھی ہٹادیا۔ دیگر اہل ادب کا رویہ بھی کچھ ایسا ہی رہا۔
میں نے اس کے ناول “نولکھی کوٹھی” سے اندازہ کر لیا تھا کہ جو شخص ذات، زبان،عقیدے اور جنم کے دائروں میں قید ہو ،وہ کتنا تعصب رکھتا ہے اور اس کا ذہنی افق کتنا محدود ہے۔عالمی ادب میں شیکسپئر دستووسکی یا موپاساں کو چھوڑیں۔۔ کیا عزیز احمد کرشن چندر،قرۃالعین حیدر، عبداللہ حسین یا شوکت صدیقی کا ادب کسی تعصب سے آلودہ ہے؟ادیب تو ساری انسانیت کا نمائندہ ہوتا ہے۔
یہ ناممکن تھا کہ ناطق بعد میں ان تعصبات کی زنجیروں کو توڑ کے صرف ادبی ناول لکھ سکا ہو ۔اس کیلئے یہ ممکن ہی نہیں۔۔ کیا راشدالخیری یا نسیم حجازی کبھی ادب کی عالمی اقدار پر پورا اترنے والا ناول لکھ سکتے تھے؟ کیا بکرز پرایز یافتہ ناول” ریت سمادھی”( ترجمہ انور سین رائے) مقامی فضا رکھنے کے باوجود سیاسی آلودگی سے پاک نہیں رہے؟
اپنے آخری ناول کیلئے وہ “پاک چائنا سینٹر” میں خود پبلشر کے سٹال پر شال لپیٹے اپنی کتاب بیچ رہا تھا لیکن مجھے دیکھ کر اجنبی بن گیا تو میں نے بھی نوٹس نہیں لیا۔ ایک ڈر تھا کہ اپنی عادت کے مطابق اختلاف کو بھول کر میں نے ہاتھ بھی بڑھایا تو وہ نظر انداز کرے گا۔ اب وہ اپنا آنے والا ناول خود فروخت کرنا چاہتا ہے تو اس میں خرابی کیا ہے۔ شاید اس کے چار ناول آدھی قیمت پر پیش کیے جانے پر اس کو پبلشر سے گلہ ہو کہ وہ اس کی سیل خراب کر رہا ہے۔
اب مجھے یا کسی کو اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں