وجودی اور استعماری بیگانگی /ناصر عناس نیّر

ذلت آمیز بیگانگی کے علاوہ، بیگانگی کی کچھ اور صورتیں بھی نو آبادیاتی باشندے تجربہ کرتے ہیں۔انھیں وجودی بیگانگی کے مغربی تصور کی مدد سے نہیں سمجھا جاسکتا۔
مغربی وجودی بیگانگی، وجود کے مابعد الطبیعیاتی مرکز سے الگ ہوکر بےمعنویت کا تجربہ کرنے سے عبارت ہے، جب کہ استعماری بیگانگی ،اپنی ہی زمین پر ،اپنی زمین سے، لینڈ سکیپ سے، کلچر سے، زبان سے، ادب سے بیگانہ ہونےا ور اس سے پیدا ہونے والی بے معنویت ہے ۔

حقیقی ذلت کے علاوہ بے معنویت ۔ تاہم یہ دہری بے معنویت ہے۔پہلی بے معنویت کو سفید فام علم ، طرز حکمرانی ،جمالیات سے دور کرنے کی سعی کی جاتی ہے۔اس سے مزید بے معنویت جنم لیتی ہے۔وہ اپنی زمین، اپنی زبان ، اپنے کلچر سے ایک نیا فاصلہ پیدا کرلیتا ہے۔ یہ فاصلہ صرف ذہنی اور جذباتی نہیں ہوتا، بلکہ علمی اور ادراکی نوعیت کا ہوتا ہے۔ اپنی زمین پر اپنی ثقافتی وجود سے بیگانگی کا آغاز کلچر کی یورپی تعریف کو تسلیم کرنے سے ہوتا ہے۔

یہ تعریف اس کے اپنے کلچر کو پہلے ہی روز دراصل ’ڈی کلچر‘ کردیتی ہے۔ وہ جتنا یورپی کلچر کو قبول کرتا جاتا ہے، اپنے کلچر کےسلسلے میں شبہات اور حقارت کے جذبات پیدا کرتا جاتاہے ۔ دوسری طرف یورپی کلچر کو قبول کرنے میں خود اس کلچر کی نسل پرستانہ جہت حائل ہوتی ہے۔ وہ اپنے ذہن وحافظے کو یورپی خیالات سے معمور کرسکتا ہے، وہ یورپیوں کی مانند ان کی زبانیں بھی فرفر بول سکتا ہے، مگر اس کے رنگ کے فرق کے سبب، اسے یورپ اپنا حصہ نہیں بناتا۔

رنگ کا فرق اس قدر اہمیت اختیار کرجاتا ہے کہ مذہب کی تبدیلی کے باوجود بھی ، سیاہ فامی ایک ابدی ملامت بنی رہتی ہے۔ مذہب مساوات،انسانی ہمدردی ، مروت، رواداری کا درس دیتا ہے( اور ان اوصاف ِ حسنہ ہی کا ترغیب آمیز بیان سن کر سیاہ فام عیسائیت قبول کرتے ہیں)،مگرسیاہ فاموں کو تبدیلی مذہب کے باوجودیہ مذہبی اخلاقی نعمتیں نصیب نہیں ہوتی۔محض رنگ کی سبب،ان کی سفید فام مقتدر مذہبی گروہوں سے بیگانگی برقرار رہتی ہے۔

julia rana solicitors london

سیاہ فام لوگوں کی زندگی میں عیسائیت کا خدا بھی ایک مقتدر ہستی کے طور پر ظاہر ہوتا ہےجو ان کی پست دنیا میں نہیں آتا ،ان کی پکار کا جواب نہیں دیتا۔ خدا کے گھر میں سفید فام پادری کو توباعزت جگہ ملتی ہے، سیاہ فام عیسائی کی تو فریاد بھی نہیں سنی جاتی۔ ہم اس تحریر کا اختتام تنزانیہ کے سیاہ فام شاعرہیسٹنگز ڈبلیو و آلو تھوجینڈو کی نظم ’خدا کو بتاؤ‘ پر کرنا چاہتے ہیں۔ یہ نظم اس احساس کے تحت لکھی گئی ہے کہ خدا براہ راست سیاہ فام کی التجا نہیں سنتا۔ پادری ہی خدا تک اس کی بات پہنچا سکتا ہے۔ اس نظم میں آئرنی ،شکوے، طنز کے عناصر یکجا ہوئے ہیں ۔ نظم کی ایک ایک سطر میں سیاہ فام شخص کی روح کا وہ کرب سمٹ آیا ہے جس کا باعث نسلی امتیاز اور بیگانگی ہے۔نیز یہ نظم سوال بھی اٹھاتی ہے کہ نسلی امتیاز میں خدا کس جانب ہوتا ہے؟
خدا کو بتاؤ
کہ میں نے اس کے ان بندوں کو گرجا گھر میں جاتے دیکھا ہے
اسے بتاؤ کہ میں نے اس کے پادری کو
انھیں نجات اور بخشش کی دعائیں دیتے دیکھا ہے
لیکن یہ پادری ان میں سے نہیں ہے
کیوں کہ وہ اس جہنم میں کبھی نہیں آئے گا
جہاں یہ مفلس اور کنگلے لوگ رہتے ہیں
اس کا پادری
امرا کی آبادی کی طرف روانہ ہوچکا ہے
جہاں امن ،آرام اور جنت
انسانی محبت کے دکھ اور گناہ سے ماورا ہیں
اسے بتاؤ کہ
میں انسان کی روحانی تکلیف کے شدید احساس سے گزرا ہوں
اور میں نےا سے بارہا پکارا ہے
اسے بتاؤ
کہ میں نے اسے بہت تلاش کیا ہے لیکن وہ کہیں نہیں ملا
میں نے چلا چلا کر اسے آوازیں دی ہیں مگرا س نے جواب نہیں دیا
اسے بتاؤ
کہ میں نے عبادت گاہ میں خون روروکر اس سے التجائیں کی ہیں
لیکن اس نے ہماری طرف نگاہ نہیں کی
خدا کو بتاؤ،اسے بتاؤ
کہ وہ اپنے آسمانوں کے ابدی سکون سے نکلےاور اس جہنم میں آئے
ان کے لیے جو بیمار اور بے یارو مددگار ہیں
یہ اجڑے ہوئے اور بھلائے ہوئے لوگ اسے پکار رہے ہیں
اسے بتاؤ کہ یتیم ،معذورعاشق اور خبطی سب اس کی چاہ میں سلگ رہے ہیں
خدا کو بتاؤ،خدارا بتاؤ
کہ اسے گرجاگھروں اور نئےطرز تعمیر کی شاندار عبادت گہوں میں
رہتے ہوئے بہت وقت ہوگیا ہے
اسے بتاؤ کہ پاک اور مقدس قربان گاہوں میں وہ بہت رہ چکا ہے
اے خدا، وہاں کوئی نہیں ہے
وہاں اس تیرے مقدس پادری کے سوا کوئی نہیں ہے!
خدا کو بتاؤ کہ وہ غریبوں کےمحلوں کی طرف آئے
اسے بتاؤ کہ اب دیر کی گنجائش نہیں ہے
( ’’نیٹو کی کیا سند ہے ، صاحب کہے تو مانوں ‘‘: مابعد نو آبادیات : اردو کے تناظر کے نئے ایڈیشن میں شامل مضمون کا آخری پیراگراف)

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply