اللہ دتہ سپاہی ۔۔۔۔۔منصور مانی

اللہ دتہ سپاہی

رونے والی ماں سے پوچھو ذرا

وہ کیوں کُرلا رہی ہے

یہ کون جوان سال ہے جو

روٹھے بچوں کو 

بہلا رہی ہے

وہ نہیں اب یہاں

تیرا سایہ تھا جو

قربتوں کا نشاں

فرقتوں کی زباں

اللہ دتہ سپاہی

اللہ دتہ سپاہی

یہ دیوار پر کیا لٹکی ہوئی ہے وردی؟

حرمت اور عظمتوں کا جو نشاں ہے وردی!

خاکی وردی،

نہیں 

جس پر کوئی شکن

افسوس 

نہیں اب اس کے نصیب میں 

ُ اس کا بدن!

اللہ دتہ سپاہی

اللہ دتہ سپاہی

وہ بدن جو مر مٹا، تجھ پہ وطن

دے کر اپنا لہو ہو گیا سرُخرو

ماں کا بانکا تھا وہ

دے گیا جو تیری حرمت پہ اپنا لہو

عالیہ شازیہ کا بابا تھا وہ

نہ کوئی ستارہ

نہ کوئی تمغہ

نہ کوئی چرچہ

ہوا تھا اُس کا ، 

وہ ایک سپاہی

وہ ایک سپاہی

ہر ایک سپاہی

وطن کی مٹی پر جو مر مٹے ہیں

اللہ دتہ، کنور سنگھ،پیٹر نہیں ہیں!

وہ سب سپاہی 

نشانِ حیدر 

وہ سب سپاہی

شہیدِ وطن ہیں

وہ سب سپاہی 

ستارہ جرات ہیں اس وطن کا!

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *