ارتقاء اور مذہب۔ تنازع یا موافقت(6)-عبدالسلام

 ۱۰۔ ارتقاء اور ناقابل تحلیل پیچیدگی (Irreducible Complexity)
نظریہ ارتقاء کے خلاف اب تک پیش کیا جانے والے سب سے زیادہ علمی آرگیومنٹ یہ ہے کہ کچھ اعضاء یا نظام اتنے پیچیدہ ہیں کہ وہ ناقابل تحلیل پیچیدگی کے حامل ہیں۔ جو لوگ یہ آرگیومنٹ پیش کرتے ہیں وہ کسی حد تک ارتقاء کے عمل میں پائی جانے والی پیچیدگی کو سمجھتے ہیں۔
اس کی وضاحت کچھ یوں ہے۔ نظریہ ارتقاء کا ایک اصول یہ ہے کہ کسی بھی جاندار میں وہ خصوصیت پنپتی ہے جو اُس کی بقاء کے لیے مفید ہو۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جانداروں میں انتہائی پیچیدہ اعضاء ہوتے ہیں۔ مثلاً آنکھ کی ہی مثال لیتے ہیں۔ آنکھ جاندار کو اس کی نسلی بقا میں مددگار ثابت ہوتی ہے، جیسے دشمن سے بچنا، کسی قدرتی آفت سے بچنا، اپنے لیے غذا حاصل کرنا، اپنے جھنڈ کی تلاش کرنا، اور نسل بڑھانے کے لیے صنف مخالف تک پہنچنا۔ آنکھ ایک انتہائی پیچیدہ عضو ہے۔ اس کے اندر خود اس کے اپنے افعال انجام دینے کے مختلف چھوٹے نظام یعنی سب سسٹمز (subsystems) ہوتے ہیں۔ آنکھ کو بیرونی اور اندرونی خطرات سے حفاظت کرنے کا الگ انتظام ہوتا ہے اور پھر اس کا ایک زبردست اعصابی نظام ہوتا ہے جو آنکھ کے سگنل دماغ تک پہنچاتا ہے اور اسی اعصابی نظام سے ہی دماغ آنکھ کو کنٹرول کرتا ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ خود دماغ میں اتنی صلاحیت ہونی چاہئے کہ وہ آنکھ سے حاصل کردہ سگنل سے معلومات حاصل کر سکے۔
اب نظریہ ارتقاء کے مطابق آنکھ ارتقاء کے نتیجے میں بنی۔ لیکن سائنسدان بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ ایک ہی بار اتنے میوٹیشنز نہیں ہوسکتے کہ کسی جاندار کی آنکھ ایسے تیار ہوجائے جیسی کہ اکثر جانداروں میں ہے۔ بلکہ چھوٹے اور معمولی جاندار جیسے پتنگے ہیں، ان کی آنکھ بھی اتنی پیچیدہ ہے کہ ممکن نہیں ہے کہ ان کے وجود میں آنے کے لیے ایک ساتھ میوٹیشنز ہوسکے۔ اس اعتبار سے اوپر جو اتفاقات کا آرگیومنٹ دیا گیا، وہ کسی حد تک صحیح ہے۔ اس مسئلے کا سائنسی جواب یہ ہے کہ پہلی بار کسی جاندار میں روشنی کو ڈیٹیکٹ کرنے کی جو صلاحیت بنی، اگر ہم اس کو آنکھ بھی کہیں، تو وہ ایک انتہائی سادہ ترین چیز تھی جو کہ کچھ اتفاقی میوٹیشنز سے بنی اور اس میں انتہائی سادہ ترین طریقے سے روشنی کے وجود سے فائدہ اٹھانے کی صلاحیت موجود تھی۔ لیکن بعد کے ادوار میں یکا دکا میوٹیشنز کے ذریعے اس خصوصیت میں پیچیدگی پیدا ہوتی چلی گئی۔ اور اسی طرح جانداروں کے دماغ میں بھی میوٹیشنز کے ذریعے ترقی ہوتی چلی گئی۔ اس سلسلے میں بھی وہی اصول کام کر رہا تھا کہ جو خصوصیات جاندار کی نسلی بقا میں مددگار رہیں، وہ باقی رہیں اور جو خصوصیات نسلی بقا میں مددگار نہیں رہیں، وہ جاندار اپنی نسل باقی نہیں رکھ پائے، اس لیے ان کی نسل ختم ہوگئی جس کی وجہ سے وہ میوٹیشن باقی نہیں رہی۔
اس تشریح سے ایک بات لازم آتی ہے کہ جانداروں کے تمام اعضاء سادہ ترین کیفیت سے ارتقاء ہوتے ہوتے اپنی پیچیدہ ترین کیفیت میں پہنچے ہیں۔ اس تدریج کے لیے ایک اہم شرط یہ ہے کہ تدریج کے ہر ہر مرحلے میں جانداروں کے تمام اعضاء بشمول انسانوں کے اعضاء کے، ان کی نسلی بقا میں مددگار رہے ہوں۔ اس معاملے میں سائنس اکثر اعضاء کی تحلیل کر کے یہ بتانے کے قابل ہے کہ وہ اعضاء اپنی ابتدائی کیفیت میں بھی کس طرح مفید رہے تھے۔ آنکھ کے علاوہ، کان، جانداروں کا مدافعتی نظام، خون کے بلڈ کلاٹنگ کے میکانزم وغیرہ وہ پیچیدہ نظام ہیں جن کے بارے میں شدید اعتراض کیا جاتا ہے کہ یہ جبھی مفید ہیں جب یہ ایک پیچیدہ ترین شکل اختیار کر لیتے ہیں، یعنی اس بات پر ارتقاء مخالف حلقے کی طرف سے اعتراض کیا جاتا ہے کہ ان پیچیدہ اعضاء یا نظام کی تحلیل کر کے ہم یہ ثابت نہیں کر سکتے کہ یہ اپنے سادہ ترین یا جزوی وجود کے ساتھ جانداروں کی نسلی بقا کے لیے مفید ہیں۔
دوسری طرف، ارتقاء کے حمایتی حلقے کی طرف سے ان نظاموں کی تحلیل اور ان کی افادیت پر کافی تحقیق موجود ہے۔ اس کی تشریح پیش کرنا اس مضمون کے سکوپ سے باہر ہے۔ اگر کسی کو دلچسپی ہے تو اس موضوع پر انٹرنیٹ پر کافی مواد موجود ہے۔
سائنسی حلقے کی طرف سے اس اعتراض کے کچھ علمی جوابات دیے جاتے ہیں۔ خیال رہے، ان جوابات کی پوری تشریح کے لیے ایک مکمل کتاب کی ضرورت ہے۔ اس لیے یہاں پر جو بھی جوابات دیے جا رہے ہیں، وہ بہت مختصر ہیں۔ اگر آپ ان جوابات کو رد کرنا چاہتے ہیں تو لازمی ہے کہ پہلے گہرائی سے ان کی سٹڈی کرنی پڑے گی۔
ایک جواب تو یہی ہے کہ جس پیچیدگی کو ناقابل تحلیل قرار دیا جاتا ہے، وہ درحقیقت قابل تحلیل ہے اور اس کے لیے فوسلز کے ریکارڈ کے ذریعے ان اعضاء کی تدریج بیان کی جاتی ہے۔
اس کا دوسرا حل Exaptation کہلاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک سسٹم اپنے تدریج کے ایک مرحلے پر ایک مخصوص افعال انجام دیتا تھا، لیکن کسی خاص مرحلے میں پہنچ کر اس میں ایک دوسرے کام کرنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے، جو اس میں پہلے نہیں تھی۔ مثال کے طور پر، پرندوں میں جسم کے درجہ حرارت کو منظم کرنے کے لیے “پر” پیدا ہوئے، لیکن ایک خاص مرحلے پر یہ اڑنے میں مددگار ثابت ہوئے۔ چونکہ اڑنے کی صلاحیت انہیں شکاری جانداروں سے بچنے کی صلاحیت فراہم کر رہی تھی، اس لیے یہ میوٹیشنز (جینیاتی تبدیلیاں) باقی رہیں اور ان پر مزید میوٹیشنز کا ارتقاء ہوتا چلا گیا جو اڑنے کی صلاحیت کو زیادہ مؤثر بناتی گئیں۔
اس کا ایک اور حل Scaffolding ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک پیچیدہ نظام، جسے ہم ناقابل تحلیل سمجھتے ہیں، دراصل ایسے عارضی اجزاء پر مشتمل ہوتا ہے جو اس کی ترقی کے ابتدائی مراحل میں موجود تھے۔ ان اجزاء کی مدد سے نظام ارتقاء پذیر ہوتا ہے۔ بعد میں، ارتقاء کے مختلف فوائد کی وجہ سے، ان اجزاء کی ضرورت ختم ہو جاتی ہے اور ان کا ابتدائی حصہ غیر فعال ہو کر ختم ہو جاتا ہے۔ اس وجہ سے ہمیں یہ نظام ناقابل تحلیل محسوس ہوتا ہے۔ لیکن اگر ہم ان ختم شدہ اجزاء کو بھی مدنظر رکھیں، تو یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ نظام کس طرح بتدریج ارتقاء پذیر ہوا ہوگا۔ مثلاً بیکٹیریائی فلاجیلم (flagellum) میں کچھ سادہ پروٹینز اور اجزاء موجود تھے جو حرکت پیدا کرنے میں مدد کرتے تھے۔ یہ اجزاء اس وقت موجود تھے جب فلاجیلم نے اپنی ابتدائی شکل اختیار کی۔ ارتقاء کے دوران، فلاجیلم کے ارد گرد کچھ اضافی اجزاء (Scaffolding) موجود تھے جو اس کی کارکردگی میں مدد کرتے تھے اور اس کے استحکام کو بڑھاتے تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ، فلاجیلم کے بنیادی اجزاء میں میوٹیشنز اور قدرتی انتخاب کی مدد سے بہتری آتی رہی۔ یہ ابتدائی اجزاء بتدریج غیر ضروری ہو گئے کیونکہ فلاجیلم خود ہی مستحکم اور فعال ہو گیا۔ آخرکار، فلاجیلم نے اپنی مکمل اور پیچیدہ شکل اختیار کر لی۔
اس کا ایک اور جواب جین ڈپلیکیشن ہے۔ یہ ایک دلچسپ عمل ہے جس میں کسی جاندار کے جینوم میں کسی جین کی اضافی نقل بن جاتی ہے۔ اس عمل سے ایک جین کی نقل اپنی اصل فعالیت برقرار رکھتی ہے، جو اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ جاندار اچھی طرح سے زندہ رہے۔ اسی دوران، نقل شدہ جین تبدیلیوں کو جمع کرنے اور وقت کے ساتھ ساتھ ایک نئی فعالیت اختیار کرنے کے لیے آزاد ہوتا ہے۔ یہ ارتقائی میکانزم آہستہ آہستہ جاندار کی جینیاتی پیچیدگی میں اضافہ کر سکتا ہے، جس سے نئے خواص اور صلاحیتیں پیدا ہوتی ہیں۔
مثال کے طور پر، انسانوں میں خون جمنے کا عمل ہے۔ ابتدا میں، اس نظام کا ایک بنیادی ورژن ایک ہی پروٹین پر مشتمل ہو سکتا ہے جو خون جمنے میں مدد کرتا ہے۔ جین ڈوپلیکیشن کے ذریعے، یہ جین اضافی نقلیں پیدا کرتا ہے جو آزادانہ طور پر ارتقاء پذیر ہو سکتی ہیں۔ لاکھوں سالوں کے دوران، مزید نقل اور تبدیلیاں ایک سلسلہ وار پروٹینز کا سبب بنتی ہیں جو پیچیدگی سے خون جمنے کے عمل کو مؤثر طریقے سے انجام دیتے ہیں۔ ہر نیا پروٹین مزید نظم و ضبط یا تخصیص کی تہہ شامل کرتا ہے، جس سے ایک پیچیدہ نظام بنتا ہے۔ اگرچہ یہ حتمی نظام پہلی نظر میں “ناقابل تحلیل” نظر آ سکتا ہے، اس کی ارتقائی تاریخ کو سمجھنے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ نظام جین ڈوپلیکیشن جیسے عملوں کے ذریعے بتدریج ترقی پذیر ہوا، جس سے اس کی پیچیدگی قدرتی ارتقائی میکانزم کے ذریعے مکمل طور پر قابل وضاحت ہو جاتی ہے۔
۱۱۔ انٹیلی جنٹ ڈیزائن:
اوپر بیان کئے گئے ناقابل تحلیل پیچیدگی کے بہت سارے جوابات تو سائنسی حلقے میں موجود ہیں۔ لیکن اس کا ایک جواب جو مذہبی حلقے کی طرف سے آتا ہے وہ انٹیلی جنٹ ڈیزائن کا ہے۔ اس حل کے مطابق ارتقاء کو تسلیم تو کیا جائے، لیکن یہ مانا جائے کہ یہ ارتقاء کسی مدبر ہستی کی منصوبہ بندی اور رہنمائی کے تحت ہوا ہے۔ یہ ایک آسان سا حل ہے اور پیچیدگی سے متعلق تقریبا ہر سوال کا جواب یہاں سے مل جاتا ہے۔ لیکن مروجہ سائنسی حلقہ اس کو درخور اعتناء نہیں سمجھتا۔ یہاں پر ایک مذہبی ذہن آسانی سے یہ سوچنے پر آمادہ ہوسکتا ہے یہ سائنسدانوں کی بدنیتی ہے۔ لیکن بات اتنی سادہ بھی نہیں ہے۔ سائنسدان کیوں اںٹیلی جنٹ ڈیزائن کو قبول نہیں کرتے اس کی مندرجہ ذیل وجوہات ہیں۔ ٍ
۱۔ اس کی پہلی وجہ یہی ہے کہ علمی سائنسی حلقے کے پاس پیچیدگی سے متعلق اکثر سائنسی سوالوں کے جوابات موجود ہیں۔ اور اگر کچھ جوابات موجود نہیں بھی ہیں تو اس کی وجہ ارتقاء کی زمانی وسعت اور پیچیدگی ہے۔
۲۔ انٹیلی جنٹ ڈیزائن کو ماننے کی صورت میں بھی ہم دراصل سائنسی سوال کو حل نہیں کر رہے ہیں بالکل ہم یہی کہہ رہے ہوتے ہیں کہ “ہمیں اس کا جواب معلوم نہیں” اور ایسا کہنے کے لئے ویسے ہی سائنس شرم محسوس نہیں کرتی۔ تو پھر جو اصول ارتقاء کے مسئلے کو سائنسی طور پر حل ہی نہیں کر رہا ہے ایسے کسی اصول کو سائنسی حدود میں کیوں مانا جائے؟
۳۔ سائنسدانوں کی تحقیق کے مطابق جانداروں اور خاص طور پر انسانوں کے جسمانی نظام میں ایسے بہت سارے نقص ہیں جو کسی ذہین اور باشعور منصوبہ بندی کی نفی کرتے ہیں۔ ہمارے حلق میں سانس اور کھانے کی نالی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہےاور ان کے درمیان ایک والو valve ہے جو خوراک کو سانس کی نالی میں جانے سے روکتی ہے۔ یہ واقعی میں زبردست نظام ہے۔ لیکن یہاں پر بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب سانس لینا اور خوراک کھانا دو مختلف عمل ہیں تو ان نالیوں کو ایک دوسرے سے خلط کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ اس سوال کا جواب ارتقاء میں پائی جانے والی تدریج سے تو دیا جاسکتا ہے، لیکن سائنسی حلقہ اس کو ایک خراب ڈیزائن سے تعبیر کرتا ہے۔ سائنسی علوم میں غیر موثر ڈیزائن کی بہت ساری مثالیں دی گئی ہیں، اس موضوع پر کئی کتابیں لکھی گئی ہیں جن میں مشہور ملحد ریچرڈ ڈاکنگ کی کتاب “The Blind watchmaker” بھی ہے۔
۴۔ منصوبہ بندی جانداروں کے شعور کی صلاحیت ہے۔ بغیر کسی مادی ثبوت کے سائنسدانوں کو یہ ماننے پر آمادہ نہیں کیا جاسکتا ہے کہ حیاتیات کے باہر کوئی شعور موجود جو پوری حیاتیات کی پلاننگ کر رہا ہے۔
۵۔ سائنسی ترقی کے ساتھ ساتھ سائنس کا فلسفہ اور سائنسی سوچ بھی پیدا ہوئی جس کی وجہ سے سائنسی علمی حلقے انٹیلی جنٹ ڈیزائن کو قبول نہیں کرتے۔ اس کی مزید وضاحت آگے “کیا سائنسدان بدنیت ہیں” کے عنوان کے تحت نظر آئے گی۔
پچھلی قسط
https://www.facebook.com/groups/justju/posts/7043294669106415/
اگلی اقساط میں مندرجہ ذیل عنوانات کا احاطہ کیا جائے گا۔
۱۲۔ مائکرو ارتقاء اور میکرو ارتقاء
۱۳۔ ایک عام انسان کی تحقیق کی حدود کیا ہیں؟
۱۴۔ کیا سائنسدان بد نیت ہیں؟
۱۵۔ مذہب اور ارتقاء، قضیہ کیا ہے۔
۱۶۔ موافقت کا کوئی امکان؟
۱۷۔ تخلیق آدم و حوا، معجزانہ تخلیق (Special creation)
۱۸۔ آخری بات

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply