پاگل پن۔۔۔وہ جو تاریک راہوں میں مارے گئے/عارف خٹک

میلے کُچیلے بال، لمبی داڑھی اور پھٹے پرانے کپڑے پہنے وہ پٹھان ہوٹل کے تھڑے پر بیٹھا خالی نظروں سے دُور کہیں خلاؤں میں گُھور رہا تھا۔
عشاء کی نماز کے بعد محلے کے بڑے بوڑھوں اور جوانوں کی اس ہوٹل پر جمع ہوکر چائے کےساتھ ساتھ ملک اور محلے کے حالات حاضرہ سمیت نئے معاشقوں پر گفتگو کے دور چلتے رہتے۔محلے میں کوئی نئی فیملی آتی ،تو نوجوانوں کی ٹولیاں کچھ زیادہ بڑھ جاتیں کیونکہ نئی فیملی کی پٹاخہ قسم کی حسین لڑکیاں پرانے محلہ دار نوجوانوں میں ایک نیا جذبہ بھر دیتیں۔اور ہر نوجوان خود کو اس لڑکی کا بہترین پارٹنر سمجھنا شروع کردیتا۔ یا صدیق چچا معراج صاحب کے کان میں یہ بات ڈالنے میں کامیاب ہوجاتے،کہ اس کی بہو آج کل دروازے پر کچھ زیادہ ہی کھڑی ہونے لگی ہے۔

لالو کھیت کراچی کے محلے کی ایک اپنی دہشت تھی۔ اس محلے کو یہ اعزاز بھی حاصل تھا، کہ یہاں کا محمد ندیم فقط دو ماہ بعد ندیم لنگڑا بنا۔ اور ندیم موٹے کو یہ اعزاز حاصل تھا کہ 1992ء کے آپریشن میں وہ بکتربند پر چڑھ کر اندر بیٹھے پولیس والوں کو بُھون کر رکھ دیتا تھا۔ یہاں فیصل واجد جیسا ایک سجیلا نوجوان بھی تھا،جو میڈیکل  تھرڈ ایئر کا سٹوڈنٹ تھا۔باپ ایک سرکاری سکول میں استاد تھا۔ایک رات قانون نافذ کرنے والے ادارے کے ہاتھ لگ گیا۔بہت رویا چلایا کہ صاحب میں مستقبل کا ڈاکٹر ہوں۔ مُجھے چھوڑ دیجیے۔مگر تین راتوں کی مسلسل اذیت سے نجات تب ملی۔جب اُس کی لاش غریب آباد پل کے نیچے پھینک دی گئی ، اور کتے اس کی لاش بھنبھوڑ رہے تھے۔ اُس کا بڑا بھائی نواز واجد جو مقامی ٹیکسٹائل میں ڈیزائننگ انجینئر تھا۔ دو ماہ بعد وہ غائب ہوگیا۔پس سارے شہر میں نواز کانے کا نام گونجنے لگا۔

محلے کی نوجوان لڑکیاں اپنے محلے دار لڑکوں سے محبت کرنے سے کترانے لگیں۔کیوں کہ اُن کو معلوم تھا کہ اُن کی محبت ادھوری رہ جائےگی۔ حالات بدلے،اس تنظیم کے ہاتھوں میں حکومت آگئی۔ سب کچھ بدل گیا مگر نہیں بدلی تو وہ اس محلے کی قسمت تھی۔

سرکاری ایجنسیوں میں آج بھی نقشے میں اس محلے کے اُوپر سرخ دائرہ کھینچا ہوا ہے۔ جو اس بات کا نشان ہے،کہ اس محلے پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔
رات تیسرے پہر اس محلے سے ایک عورت کے  رونے اور بین کرنے کی آوازیں آتی تھیں ۔ اس کے تین جگر گوشے شہادت کا درجہ پا چکے تھے۔ مگر وہ کہتی تھی کہ ان کے بیٹوں کو باقاعدہ مارا گیا ہے۔ شروع شروع میں تنظیم کے لوگ دھمکی آمیز دلاسہ دینے آجاتے،کہ اماں منہ بند رکھو۔ اس سے تحریک کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ بالآخر علاقے میں مشہور ہوگیا،کہ مائی فریدہ پاگل ہوچکی ہے۔ پاگل ہونے کا یقین دلانے کو مائی فریدہ کی ہذیانی چیخیں ہی کافی تھیں۔ان چیخوں کا اب کسی پر اثر نہیں ہوتا تھا بلکہ محلے والوں کو اس چیخ و پُکار سے اب بوریت ہونے لگی تھی۔ مگر ان چیخوں سے صرف ایک یہی پاگل بندہ ڈر جاتا تھا۔ جو پٹھان ہوٹل کے تھڑے پر سوتا تھا۔ اس پاگل بندے کے ساتھ محلے کے کُتے بھی مانوس ہوچکے تھے۔ بچوں نے اس ننگ دھڑنگ پاگل بندے کو چھیڑنا بند کردیا تھا۔ بلکہ سکول جاتے بچے اس کے پاس کچھ دیر کو ٹھہر جاتے،اور اپنے لنچ بکس سے ایک آدھ پیس سینڈوچ کا نکال کر اس کے سامنے رکھ دیتے۔

اس کے بارے میں کسی کو معلوم نہیں تھا کہ کہاں سے آیا؟یا کون ہے۔سوائے اس کے کہ چھ ماہ قبل یہ اس محلے میں آن وارد ہوا۔ کسی سے کوئی بات نہ کرتا،کسی سے نظر نہیں ملاتا تھا۔ بس ایک  سائیڈ پر  بیٹھ کر خلاؤں میں گھورتا رہتا تھا۔ شروع شروع میں لوگوں نے نوٹس کیا ۔کوئی کہتا کہ شاید پولیس کا مخبر ہوگا یا پھر کوئی اور وارداتیا۔مگر آہستہ آہستہ پاگل کے بے ضرر رویے نے سب کو اُس سے مانوس کردیا۔

پٹھان ہوٹل والا کہتا تھا کہ ایسا پاگل ہے کہ چائے بھی نہیں پیتا۔ پہلے پہل لوگوں نے ازراہِ ترحم اس کو چائے پلانے کی کوشش کی۔لیکن وہ چائے کو ہاتھ بھی نہ لگاتا۔ بالآخر سب جان گئے،کہ چائے اس کو پسند نہیں۔

اس پاگل کا سب سے زیادہ خیال سلیم قریشی رکھتا تھا۔ سلیم قریشی کے بارے میں لوگ کہتے تھے،کہ ایک زمانے میں تنظیم کا بہترین شُوٹر رہا ہے۔ مگر دس سال قبل اس نے تنظیم ایک لڑکی کی وجہ سے چھوڑ دی۔ تنظیم نے بڑی کوششیں کیں کہ سلیم واپس آجائے۔ مگر سلیم کو پانچ فٹ کی سعدیہ نے اتنا متاثر کرڈالا کہ لانڈھی چھوڑ کر دُور اس محلے میں آبسا۔ سلیم کی چار بیٹیاں تھیں۔ جو روز صاف ستھرا یونیفارم پہن کر سکول جاتی تھیں۔ سلیم قریشی کمیشن پر دوائیاں شہر کے میڈیکل سٹورز پر سپلائی کرتا تھا۔اُس کے متعلق سرکاری فائلوں میں درج تھا،کہ چار پولیس افسران کے قتل کی منصوبہ بندی میں شامل تھا۔ مگر اُس کے خلاف آج تک کسی ادارے کو ثبوت نہیں ملا۔ کہنے والے تو یہ بھی کہتے تھے کہ جن پولیس افسران کو سلیم قریشی نے مارا،انہوں نے قومیت کی بناء پر بے تحاشا نوجوانوں کا قتل عام کیا تھا۔ مگر سلیم قریشی جو خود کراچی یونیورسٹی کا گریجویٹ تھا۔ کبھی کسی سے ذکر تک نہیں کیا،کہ وہ کون تھا۔اور آج وہ اپنی محبوب بیوی اور چار خوبصورت بچیوں کےساتھ زندگی کی گاڑی گھسیٹ رہا تھا۔

وہ ہر جمعے کو اس پاگل کو محلے کی مسجد کے وضو خانے میں لےجاتا،اس کو زبردستی نہلاتا اور اپنے کپڑے پہنا کر بعد از نماز اس کو گھر لےجا کر کھانا کھلاتا۔ جس دن سلیم کی کام سے جلدی واپسی ہوتی۔وہ رات کا کھانا لاکر اس پاگل کے سامنے رکھ دیتا۔ اگر پاگل کو بھوک لگتی تو کھا لیتا،ورنہ اگلی صُبح سلیم برتن اُٹھا کر گھر لے جاتا۔
سلیم قریشی کی بیوی بھی اس پاگل کا خیال رکھتی،کہتی اللہ کا مہمان ہے۔

محلے میں کچھ دنوں سے عجیب سی سراسیمگی پھیلی ہوئی تھی۔کچھ نئے چہرے دکھانے دینے لگے تھے۔ شہر کے دوسرے سیکٹرز سے کچھ جرائم پیشہ افراد اپنے جاننے والوں کے پاس چُھپنے آئے تھے۔ کیونکہ سی پیک منصوبے کی وجہ سے براہ راست آپریشن شروع ہوگئےتھے،جس کی وجہ سےاس تنظیم پر بھی کافی بُرا وقت آگیا تھا۔فوج براہ راست اس آپریشن کی نگرانی کررہی تھی۔ رینجرز بھی بلاتخصیص ٹارگٹ آپریشن کررہی تھی،محلے میں عجیب سا ڈر،خوف اور بے چینی کی کیفیت چھائی ہوئی تھی۔کوئی کسی پر بھروسہ نہیں کر پارہا تھا،مبادا مخبری نہ  کردے۔ اگلے دن عید تھی،مگر اس عید میں بھی کوئی خوشی نہیں تھی۔ عجیب سا تناؤ اوراُداسی کا ماحول ہر طرف کو محسوس ہورہا تھا۔

سلیم قریشی نے پاگل کو نئے کپڑے پہنائے۔ اس کی بیوی نے شیر خُرمہ بنایا تھا۔چاروں بچیاں بھی ابا سمیت اس پاگل کے پاس بیٹھ گئیں۔ سلیم قریشی نے اپنے نئے جوڑے کی پرواہ کیے بغیر گندی زمین پر بیٹھ کر اس کو اپنے  ہاتھوں سے سویّاں کھلانی شروع کردیں۔ ساتھ ہی ساتھ خود بھی کھانے لگا۔ بیٹیاں ہنس رہی تھیں، چھوٹی والی بیٹی نے ابا سے کہا،کہ چچا جان کو عید مبارک تو بولو ابّا۔ یہ سنتے ہی پاگل کے حلق میں سوئیاں جیسے اٹک گئیں۔آنکھوں کے گوشے نم ہونے لگے۔ پاگل کی یہ کیفیت دیکھ کر سلیم قریشی کا ہاتھ رُکا۔وہ یک ٹک اس کو دیکھنے لگاکہ سات ماہ میں اس پاگل نے کوئی ردِعمل نہیں دکھایا اور آج اس کے آنسو چھلک رہے ہیں،کہ اچانک محلے میں شوروغوغا بلند ہوا، کہ رینجرز نے پورے علاقے کا محاصرہ کرلیا ہے۔ لوگوں کی ادھر اُدھر بھاگ دوڑ شروع ہوگئی۔ رینجرز نے آنے جانے والے سارے رستے سیل کردیئے۔
نہ باہر سے کوئی آسکتا تھا، نہ  ہی محلے سے باہر کوئی جاسکتا تھا۔

دھڑا دھڑ گرفتاریاں ہورہی تھیں۔ لوگوں کے چہروں پر کالا کپڑا ڈال کر گاڑیوں میں ٹھونسا جارہا تھا۔ ایک دو بار فائرنگ بھی ہوئی جس میں دو مطلوب بندے مارے گئے۔ رینجرز والے سلیم قریشی کے گھر کے دروازے پر آئے۔ دو منٹ بعد سلیم قریشی کے منہ پر کالا کپڑا باندھ کر اپنے ساتھ گھسیٹتے ہوئے لے جانے لگے۔شوہر کا یہ حال دیکھ  کر اس کی بیوی سعدیہ اُس کی ٹانگوں سے لپٹ گئی،کہ میرا شوہر بےگناہ ہے۔ دروازے پر کھڑی چاروں بچیاں دھاڑیں مار مار کر رونے لگیں، مگر کوئی بھی کسی کو دلاسہ نہیں دے پارہا تھا۔ سلیم قریشی کی بیوی ننگے سر زمین پر بیٹھ کر بین کررہی تھی۔اور بے بس نظروں سے اپنے شوہر کو گاڑی میں لے جاتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔ اس کی چاروں بیٹیاں اپنی ماں سے لپٹ کر رو رہی تھیں۔اچانک چھوٹی بیٹی بھاگ کر اس پاگل کے گلے لگ گئی،اور بلک بلک کر روتے ہوئےکہنے لگی،چچا وہ ٹلے ابا کو مار دیں گے۔ چچا وہ ابا کو مار دیں گے۔

شام ہوئی ،محلہ اُجاڑ تھا، کسی نے توجہ نہیں دی، کہ آج تو پٹھان کے ہوٹل کے سامنے پڑا ہوا پاگل بھی غائب ہوچکا تھا۔ ہر گھر میں ایک ماتم بپا تھا۔

لیفٹیننٹ کرنل شمشیر انٹیلیجنس سیکٹر آفس میں بیٹھا کچھ فائلیں دیکھ رہا تھا،کہ اس کے اردلی نے آکر بتایا۔سر انٹیلیجنس بیورو کے ڈائریکٹر صاحب آئے ہیں۔ آپ سے ملنا چاہ رہے ہیں، کرنل صاحب نے سر کے اشارے سے بھیجنے کا کہا۔۔دونوں پُرتپاک انداز سے ملے۔ انٹیلیجنس شیئرنگ کے بعد کرنل صاحب نے ان سے کہا کہ رپورٹس کے مطابق لالو کھیت کے جس محلے سے گرفتاریاں ہوئیں ہیں،یہ ان کی فائلیں ہیں۔

اردلی نے میز پر چائے لاکر رکھ دی۔ کرنل شمشیر نے گُھورکر اردلی کو دیکھا اور سرد لہجے میں کہا “آپ کو معلوم ہونا چاہیے، مجھے چائے پسند نہیں ہے۔”
ڈائریکٹر کے جانے کے بعد اس نے دراز سے سلیم قریشی کی فائل نکال دی۔مسکراتے ہوئے اُٹھے،اور فائل الیکٹرک بِن میں ڈال دی۔ اب اس بچی کا باپ کسی ٹلےکے ہاتھ نہیں مرے گا۔
اپنی کرسی پر دراز ہوتے ہوئے اس کی  آنکھوں کے گوشے نم ہوگئے۔

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *