سفر آپکی آنکھ کھولتا ہے۔اگر آپ سفر نہیں کر رہے اور ساری عمر ایک سے ہی مناظر دیکھے،ایک سے لوگ دیکھے ،ایک ہی نظام کا تجربہ کیا،ایک ہی دھرم اور ثقافت دیکھی ،تو آپ قریب اندھے ہی ہیں۔یا کم از کم آپ کی بینائی اتنی ہی کم ہے جیسے پچھلی عمر میں کوئی بابا،بہت دور بھی دیکھے تو اپنی لاٹھی تک ہی دیکھ پاتا ہے۔
سفر سے حاصل بینائی کا بہرحال ایک ستم بھی ہے۔یہ آپکو دُکھی کرجاتی ہے۔میں کبھی شانزے لیزے نہ دیکھتا تو کتنا خوش رہتا کہ میرے لاہور میں کیسا خوبصورت چوبرجی ہے۔اب کیا کروں،شانزے لیزے پہ موجود آرک دی ٹرائف Arch de Triomphe دیکھ کے میں خوش ہونے کی بجائے کُڑھ رہا ہوں۔عمومی طور پہ اس آرک کو ہی شانزے لیزے سمجھا جاتا ہے مگر شانزے لیزے وہ ایوینیو(سادہ زبان میں سڑک) ہے جس کے ایک سِرے پہ یہ آرک موجود ہے۔یہ سڑک انتہائی خوبصورت،تیر جیسی سیدھی، جس کے اطراف میں قطار اندر قطار ہرے درخت ہیں۔سڑک کے کناروں پہ وسیع فُٹ پاتھ ہے جہاں عمومی طور پہ سیاحوں کا بہت زیادہ رش رہتا ہے۔اور فٹ پاتھ کے ساتھ دنیا کی مہنگی ترین کپڑوں،جوتوں اور خوشبوؤں کی دُکانیں ہیں۔
شانزے لیزے پہلی بار 1640 میں تعمیر ہوئی،بعد میں سترہ سو تیس کے قریب اس کی حدود کا تعین کیا گیا اور حیران کُن طور پہ تین سو سالوں میں وہ حدود جوں کی توں ہیں۔اس دوران شہر کی آبادی کتنے سو گُنا بڑھی ہو گی؟پیدل چلنے والے موٹر کاروں پہ آ گئے،انفراسٹرکچر جدید سے جدیر تر ہوتا چلا گیا ہے،اس شہر پہ جنگیں وارد ہوئی ہوں گی،حکومتیں آئی اور گئی ہوں گی،مگر شانزے لیزے اپنی آب و تاب کے ساتھ قائم دائم رہا۔شانزے لیزے کے کنارے پہ موجود یہ آرک بادشاہ نپولین نے اٹھارہ سو تیس میں مکمل کروائی۔اس آرک پہ ہی اٹھارہ سو چالیس میں بادشاہ کا جنازہ ہوا،اس کے بعد پہلی جنگ عظیم کی “وکٹری پریڈ” اورجنگ عظیم میں “انڈ آف وار” تقریب یہیں پہ منعقد ہوئی۔
یہ آرک بھی دو سو سال پرانا ہے۔مگر یہ اپنی پوری شان کے ساتھ کھڑا ہے۔اس کے آس پاس آپکو فرسودہ دکانیں نہیں،بے ہنگم آبادی اور بے ڈھنگے مکان نہیں ملتے۔پیرس کے پاس دنیا کا ایک بہترین پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام موجود ہے اور ایک اتنے بڑے سیاحتی مقام پہ میٹرو گزارنے کے لئے اس کی شکل نہیں بگاڑی گئی۔
اب ذرا اپنا چوبرجی دیکھیے،اور پھر بِلا وجہ “لاہوڑ لاہوڑ اے” کے نعرے لگانے پہ سوچیے۔چوبرجی بھی بادشاہ شاہ جہان نے سولہ سو چالیس میں بنوایا،عین اسی وقت جب پیرس میں شانزے لیزے بنا۔مگر اب حال دیکھیے اور اپنی بے حسی،بے شرمی کا ماتم کیجیے۔آپ نے اس کے منہ کے اوپر میڑو گزار کے اسکا حسن تباہ کردیا،آپ نے بے ہنگم دکانیں اور مکان کھڑے کردئیے۔اتنے بڑے مانومنٹ کا ستیاناس کرنے کے لیے آپ نے شہر کی بیکار ترین دکانیں اس کے آس پاس تعمیر کردیں۔
ذرا اپنی تنگ نظری اور بے ہنری کا اندازہ لگائیں کہ جو چوبرجی بہت بڑا سیاحتی مقام ہوسکتا تھا آپ نے اسے ایک بھدے سے گول چکر میں تبدیل کردیا۔شانزے لیزے پہ موجود آرک کے آس پاس بھی ایک ٹریفک کا گول چکر ہے،یہاں بھی آبادی بڑھی ہے،یہاں بھی انفراسٹرکچر بنا ہے،مگر یہ لوگ ہنر مند تھے،سلیقہ مند۔
ہماری موجودہ حکمران نسلیں اپنے کندھوں سے بوجھ اتارنے کو اکثر کہتی ہیں کہ “دیکھیں جی جب یورپ میں یہ ہورہا تھا تو ہم پہ بادشاہ مسلط تھے،ہم کیسے ترقی کرتے”۔یہ شانزے لیزے اور چوبرجی ایک مثال پکڑ لیں،دونوں ایک ہی وقت میں بنے،بادشاہوں نے بنائے،آج دونوں کا حال دیکھ لیں۔مان لو کہ ہم بے ڈھنگے، بے ترتیب اور حسِ لطیف سے عاری جنونی سا ہجوم ہیں۔
میں جلتا کُڑھتا آج سہہ پہر کو پیرس سے سپین کے بارڈر پہ موجود تالوز(س) کی طرف نکل رہا ہوں۔اس دوران فیسبک اور انسٹا سٹوریز پہ چھوٹی چھوٹی کہانیاں موجود رہیں گی۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں