کربلا کی جنگ جسے عربی میں مَعْرَكَة كَرْبَلَاء اور اردو میں واقعہ کربلا بھی کہا جاتا ہے دوسرے اموی خلیفہ یزید اول کی طاقتور فوج اور اسلامی پیغمبر حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم کے نواسے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی قیادت میں ایک چھوٹی فوج کے درمیان 10 اکتوبر 680ء یعنی 10 محرم 61 ہجری کو موجودہ دور کے جنوبی عراق کے علاقے کربلا سواد میں لڑی گئی. مذکورہ جنگ کے نتیجے میں حسین ابن علی اپنے 72 ساتھیوں سمیت قتل کر دئیے گئے جبکہ یزیدی فوج جس کی تعداد حسینی کاروان (بشمول خواتین، بچے اور غیرمسلح افراد) کی کل تعداد 145 کے مقابلے میں پانچ ہزار پہ مشتمل تھی میں سے 88 لوگ مارے گئے. یزیدی فوج کے دستوں کی کمان عبید اللہ ابن زیاد، عمر بن سعد، شمر بن ذی الجوشن، الحر بن یزید التمیمی (جو بعد ازاں اموی لشکر سے منحرف ہو گیا) کے پاس تھی. دوسری طرف مقابلے میں لشکر کے دستوں کی کمان حسین ابن علی، العباس ابن علی، حبیب ابن مظاہر اور زہیر بن قین کے پاس تھی.
اسلامی تاریخ میں پہلے فتنے و فساد یعنی تیسرے خلیفہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل کے بعد یہ کربلا کی جنگ دوسرا فتنہ و فساد والا واقعہ سمجھا جاتا ہے. جس کے مشرق وسطیٰ میں اور خاص طور پر مسلمان قوم پہ انتہائی اثرات مرتب ہوئے حتی کہ کم و بیش پندرہ سو سال بعد بھی موجودہ دور میں جدل اور تفریق بدرجہ اتم موجود ہے.
جنگ کے پس منظر کو دیکھا جائے تو پہلے اموی خلیفہ معاویہ اول نے اپنے تقریباً 18 سالہ دور حکومت جو سنہ 661ء سے 680ء پہ محیط ہے کے آخر میں اپنی وفات سے قبل اپنے بیٹے یزید کو اپنا جانشین نامزد کیا. یزید کی نامزدگی کی حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم کے چند ممتاز اصحاب کے بیٹوں نے واضح اور اصولی مخالفت کی جن میں پیغمبر اسلام کے نواسے چوتھے خلیفہ حضرت علی کے بیٹے حسین ابن علی اور زبیر ابن العوام کے بیٹے عبداللہ ابن الزبیر کی تحریکیں قابل ذکر ہیں. 680ء میں معاویہ کی موت کے بعد، یزید نے حضرت حسین سمیت دوسرے مخالفین سے بیعت کا مطالبہ کیا. حضرت حسین بیعت سے انکار کرکے اپنے موقف کی تائید حاصل کرنے کے لیے مکہ چلے گئے. علاوہ ازیں عراق کے مشہور شہر کوفہ جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کا مرکز تھا کے لوگوں سمیت شام میں موجود اموی خلفاء کے مخالفین بھی حضرت حسین سے رابطے میں آئے. مذکورہ علاقے کے لوگوں کا حضرت علی کے گھرانے سے دیرینہ تعلق تھا جس کی بناء پہ انہوں نے حضرت حسین کے موقف کی تائید کے ساتھ ساتھ امویوں کا تختہ الٹنے کی تجویز پیش کرتے ہوئے اپنی معاونت کا بھی پیغام بھجوایا. اس تائیدی پیغام کے جواب میں حضرت حسین نے تقریباً 70 ساتھیوں کے ساتھ کوفہ کی طرف سفر کرنے کا فیصلہ کیا. لیکن اُن کے قافلے کو کوفہ سے پہلے ہی کچھ فاصلے پر یزیدی فوج کے ایک ہزار پر مشتمل لشکر نے روک لیا. یوں حضرت حسین اپنے منصوبے کے برعکس کوفہ پہنچنے میں کامیاب نہ ہو سکے اور 2 اکتوبر کے ایام تک وہ اپنے کاروان کو کوفہ کے شمال میں کربلا کے میدان میں قیام پذیر ہونے پہ مجبور ہو گئے، جہاں 4000 کی تعداد میں ایک بڑی اموی فوج اُن کے مقابلے میں پہنچ گئی. اموی گورنر عبید اللہ ابن زیاد نے حضرت حسین کے سامنے واحد شرط یہ رکھی کہ وہ یزید کی حکومت کو تسلیم کریں ورنہ حضرت حسین کو کوئی محفوظ راستہ نہیں ملے گا، حضرت حسین نے ابن زیاد کی اس شرط کو مسترد کر دیا. حضرت حسین کے اعلانیہ انکار کے نتیجے میں ایک ہفتے کے بعد ہی 10 اکتوبر کو جنگ ہوئی اور حضرت حسین اپنے بیشتر رشتہ داروں اور ساتھیوں سمیت قتل کر دئیے گئے، جب کہ ان کے خاندان کے افراد کو قید کر لیا گیا. یہ جنگ ایک بہت بڑے فتنے کا آغاز ثابت ہوئی. اس بڑے واقعے کے فوری بعد ہی عراق میں حضرت حسین کی موت کا بدلہ لینے کے لیے دو الگ الگ مہمات و تحریکوں نے جنم لیا. پہلی مہم توابین کی طرف سے اور دوسری مہم مختار الثقفی اور ان کے حامیوں نے برپا کی۔
کربلا کی جنگ نے ہی حتمی طور پہ حضرت علی کے حامیوں (شیعان علی) کو اپنی الگ رسومات اور الگ اجتماعی یادداشت کے ساتھ ایک الگ مذہبی فرقے میں بدل دیا. اس واقعے کو شیعہ تاریخ، روایت اور الہیات میں مرکزی مقام حاصل ہے اور شیعہ ادب میں اس کو سب سے زیادہ اہمیت دی گئی. شیعوں نے حضرت حسین کی موت کو حق کے لیے باطل کے خلاف جدوجہد اور ظلم و ناانصافی کے خلاف عدل و حق کے لیے قربانی کی علامت بنا کر اپنے مذہبی عقیدے کے بنیادی ارکان میں شامل کر لیا۔ کربلا کی جنگ کی یاد شیعوں کی طرف سے محرم کے اسلامی مہینے میں سالانہ دس دن کی مدت کے دوران منظم اور وسیع پیمانے پہ منائی جاتی ہے جس کا اختتام مہینے کے دسویں دن ہوتا ہے جسے یوم عاشورہ کہا جاتا ہے۔اس دن شیعہ مسلمان ماتم کرتے ہیں، عوامی جلوس نکالتے ہیں، مذہبی اجتماع کا اہتمام کرتے ہیں، اپنے سینے پیٹتے ہیں اور بعض صورتوں میں خود کو زخمی بھی کرتے ہیں. اسی طرح سنی مسلمان بھی اس واقعے کو ایک تاریخی سانحہ سمجھتے ہوئے حضرت حسین اور ان کے ساتھیوں کو بڑے پیمانے پر مسلمان شہداء کے طور پر یاد کرتے ہیں. یزید کو مسلمان حکمران کے طور پر ترجیح و تائید دینے کے ساتھ ساتھ حضرت حسین کی مزاحمتی مہم پہ تنقید کرنے والی سنی اقلیت کی موجودگی بھی حقیقت ہے۔
واقعہ کربلا کے اصولی، تاریخی اور جدلیاتی تجزیے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ سنہ 656ء میں باغیوں کے ہاتھوں تیسرے خلیفہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل کے بعد جب باغیوں اور مدینہ کے باسیوں نے اسلامی پیغمبر حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم کے چچازاد بھائی اور داماد حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خلیفہ مقرر کیا تو حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھیوں میں سے کچھ جن میں طلحہ بن عبید اللہ، زبیر بن العوام اور معاویہ بن ابی سفیان (اس وقت کے گورنر شام) اور حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم کی بیوہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے انکی بیعت سے انکار کر دیا. انہوں نے حضرت عثمان کے قاتلوں سے انتقام لینے اور شوریٰ (مشاورت) کے ذریعے نئے خلیفہ کے انتخاب کا مطالبہ کیا. ان واقعات نے پہلے فتنے اور پہلی مسلم خانہ جنگی کو جنم دیا. آگے چل کے جب 661ء میں حضرت علی کو عبدالرحمٰن بن ملجم نامی ایک خارجی نے قتل کر دیا تو ان کے بڑے بیٹے حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے جانشینی کے بعد مزید خونریزی سے بچنے کے لیے امیرمعاویہ کے ساتھ صلح کا معاہدہ کر لیا. معاہدے میں حضرت حسن نے اقتدار امیر معاویہ کو اس شرط پر سونپا تھا کہ وہ ایک عادل حکمران ہوں گے اور وہ کوئی خاندانی حکومت قائم نہیں کریں گے. سنہ 670ء میں حضرت حسن کی وفات کے بعد انکے چھوٹے بھائی حضرت حسین رضی اللہ عنہ قبیلہ بنو ہاشم کے سربراہ بنے تو انہوں نے حضرت حسن اور امیر معاویہ کے درمیان صلح کے معاہدے کی پاسداری کی.
لیکن بعد ازاں 676ء میں معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے امیرمعاویہ نے اپنے بیٹے یذید کو جانشین بنایا تو اسکے نتیجے میں پیدا ہونے والا بحران واقعہ کربلا کا حتمی سبب بنا. موروثی جانشینی نے کئی حلقوں سے مخالفت کو جنم دیا تو امیر معاویہ نے دمشق میں ایک شوریٰ یا مشاورتی اسمبلی کو طلب کیا اور بہت سے صوبوں کے نمائندوں کو سفارت کاری اور رشوت کے ذریعے اپنے منصوبے پر راضی کر لیا. اس کے بعد اس نے مروان بن الحکم کو، جو اس وقت مدینہ کے گورنر تھے، جہاں حضرت حسین اور کئی دوسرے بااثر مسلمان مقیم تھے، کو فیصلہ سنانے کا حکم دیا. مروان کو اس اعلان کے خلاف مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا، خاص طور پر حضرت حسین، عبد اللہ ابن الزبیر، عبد اللہ ابن عمر اور عبد الرحمن بن ابی بکر کی طرف سے، جو حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم کے ممتاز اصحاب کے بیٹے تھے اور چند خود بھی خلافت کے عہدے کے امیدوار تھے. مدینے سے ایسی مزاحمت کی خبر سنتے ہی امیر معاویہ خود مدینہ پہنچے اور چاروں اختلاف کرنے والوں کو تسلیم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا اور ان میں سے کچھ کو جان سے مارنے کی دھمکی دی، لیکن انہوں نے پھر بھی انکار کر دیا تو امیر معاویہ وہاں سے مکہ روانہ ہوئے. وہاں جاکر انہوں نے مکہ کے لوگوں کو یہ غلط خبر دیکر قائل کیا کہ اُن چاروں مخالفین نے ان کی بیعت کر لی ہے. یوں امیر معاویہ نے اہل مکہ سے یزید کی بیعت بھی لے لی. مکہ سے پھر مدینہ پہنچ کر اُن چار افراد کے علاوہ دیگر اہل مدینہ سے بھی بیعت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
بہرحال یزید کی جانشینی “اسلامی تاریخ میں بڑی بے ضابطگی” ثابت ہوئی جس کی وجہ سے نظام حکومت “مشاورتی” شکل سے بادشاہت میں بدل گیا. اپریل 680ء میں اپنی موت سے پہلے، امیر معاویہ نے یزید کو خبردار کیا کہ حضرت حسین اور ابن الزبیر اس کی حکومت کو چیلنج کر سکتے ہیں اور اسے ہدایت کی کہ اگر وہ ایسا کریں تو انہیں شکست دینے کیلئے پیشگی تیاری رکھو. یزید کو مزید نصیحت کی کہ وہ حضرت حسین کے ساتھ احتیاط سے پیش آئے اور اس کا خون نہ بہائے کیونکہ وہ حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم کے نواسہ ہونے کی وجہ سے عوام کے دلوں میں مقدس رتبہ رکھتے ہیں۔
حالات یوں آگے بڑھے کہ حکومت سنبھالتے ہی یزید نے مدینہ کے گورنر الولید بن عتبہ ابن ابو سفیان کو حکم بھجوایا کہ وہ حضرت حسین سمیت ابن الزبیر اور عبداللہ ابن عمر سے بیعت لے، اگر ضرورت ہو تو طاقت کے استعمال کا اختیار بھی دیا. ولید نے اپنے اموی رشتہ دار مروان بن الحکم سے مشورہ طلب کیا، جس نے مشورہ دیا کہ ابن الزبیر اور حسین کو بیعت کرنے پر مجبور کیا جائے کیونکہ وہ خطرناک ہیں، جبکہ ابن عمر کو چھوڑ دیا جائے کیونکہ وہ کوئی خطرہ بننے کی حالت میں نہیں ہے. ولید نے حضرت حسین اور ابن الزبیر کو ملاقات کا پیغام بھیجا تو ابن الزبیر کسی کو علم ہونے سے قبل مکہ فرار ہو گیا. حضرت حسین نے ملاقات کرکے بیعت کرنے سے یکسر انکار کر دیا، اور مشورہ دیا کہ سارا معاملہ عوام کے سامنے کھول کر پیش کیا جاۂئے. اس کے بعد مروان نے ولید کو نیا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ حضرت حسین کو فوری گرفتار کر لو اور پھر بھی وہ بیعت نہ کریں تو سر قلم کردو. لیکن حضرت حسین کی شخصیت کے آگے ولید ایسا کمزور فرد تھا کہ وہ ایسی کسی کاروائی کی جرات نہ کر سکا. لیکن حالات کی سنگینی کے پیش نظر کچھ دنوں کے بعد حضرت حسین مدینہ سے مکہ روانہ ہو گئے. وہ مئی 680ء کے شروع میں مکہ پہنچے اور ستمبر کے شروع تک وہیں رہے۔
یہاں اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ حضرت حسین کو کوفہ سے تائیدی پیغامات پہنچنا شروع ہوگئے جبکہ اَس کے مقابل مکہ میں انکو قابل ذکر حمایت حاصل نہیں ہو رہی تھی. حضرت علی نے کوفہ کو اپنا دارالحکومت بنایا تھا جس کی وجہ سے اہل کوفہ حضرت حسین کی قیادت چاہتے تھے. علاوہ ازیں کوفیوں نے پہلی مسلم خانہ جنگی کے دوران حضرت علی کے ساتھ ملکر امویوں اور ان کے شامی اتحادیوں کے خلاف جنگ میں بھرپور کردار ادا کیا تھا. پانچ سالہ خانہ جنگی جو حضرت علی کی شہادت کے بعد ختم ہوئی تھی تب بھی اہل کوفہ حضرت حسن کی دستبرداری کے حق میں نہیں تھے. مختصر یہ کہ کوفہ اموی حکومت کے دشمنوں کا گڑھ سمجھا جاتا تھا. مکہ قیام کے دوران حضرت حسین کو کوفہ میں شیعان علی کے خطوط موصول ہوئے جس میں درج تھا کہ وہ اموی حکومت سے تنگ آچکے ہیں اور اموی اقتدار کو جابر آمریت سمجھتے ہیں. لیکن ان کی قیادت کے لیے کوئی صحیح رہنما بھی موجود نہیں ہے. لہذا انہوں نے حضرت حسین کو قائل کرنا چاہا کہ وہ یزید کے خلاف اہل کوفہ کی بغاوت کی قیادت کرنے کے کوفہ پہنچنے کی تیاری کریں. اہل کوفہ کا کہنا تھا کہ اگر حضرت حسین ان کی قیادت کے لیے رضامند ہو کر کوفہ پہنچ گئے تو اموی گورنر کو ہٹا کر امیوں کے خلاف کامیاب بغاوت کا آغاز کیا جائے گا. حضرت حسین نے اہل کوفہ کو رضامندی ظاہر کرتے ہوئے جواباً لکھا کہ “صحیح رہنما وہ ہے جو قرآن کے مطابق عمل کرے اور ان کی صحیح رہنمائی کرنے کا وعدہ کرے”۔ مکہ قیام کے دوران اپنے چچا زاد بھائی مسلم بن عقیل کو کوفہ کے حالات کا جائزہ لینے کے لیے بھیجا. مسلم ابن عقیل کو کوفہ پہنچنے پہ بڑے پیمانے پر معاونت کی یقین دہانی کروائی گئی تو انہوں نے حضرت حسین کو صورت حال سے آگاہ کرنے کے ساتھ مشورہ بھی بھیجا کہ وہ جلد از جلد مکہ سے کوفہ پہنچنے کی تیاری کریں.
دوسری طرف جب یزید کو کوفہ کے حالات کا علم ہوا تو اُس نے فوری طور پر نعمان بن بشیر الانصاری کو کوفہ کے گورنر کے عہدے سے ہٹا کر عبید اللہ ابن زیاد کو کوفہ کا بااختیار ذمہ دار بنا دیا. ابن زیاد نے اپنے جبر اور سیاسی چالبازیوں کے ذریعے مسلم ابن عقیل کی معاون طاقتوں کو نشانے پہ لیا تو مسلم بن عقیل حالات کی سنگینی کے تحت حضرت حسین کی آمد سے پہلے ہی قبل از وقت بغاوت کا اعلان کرنے پر مجبور ہو گئے. لیکن انکی بغاوت پہلے ہی مرحلے میں ناکام ہو گئی جسکے نتیجے میں مسلم ابن عقیل بھی قتل کر دئیے گئے. امویوں کی مستعدی اور تیاری کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ حضرت حسین نے کوفہ کے علاہ ایک دوسرا قاصد عراق کے دوسرے اہم شہر بصرہ میں بھی بھیجا تھا، لیکن وہ قاصد بھی کوئی حمایت حاصل کرنے میں ناکام ہو کر جلد ہی حکومتی اہلکاروں کے ہاتھوں گرفتار ہو کر قتل ہو گیا۔
لیکن حضرت حسین کوفہ کے حالات میں تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیوں سے بےخبر مکہ سے کوفہ روانگی کی تیاری کر رہے تھے. مکہ میں عبداللہ بن عباس اور عبد اللہ بن الزبیر نے حضرت حسین سے ملاقات کے دوران مشورہ دیا کہ وہ کوفہ نہ جائیں لیکن حضرت حسین کے ارادوں کی پختگی دیکھی تو عورتوں اور بچوں کو اپنے ساتھ نہ لے جانے کی تلقین کی. ابن الزبیر کے مشورے کے اخلاص پر بہت سے مورخین شک کرتے ہیں کیونکہ وہ خود خلافت کے امیدوار ہونے کے ساتھ ساتھ یزید کی حکومت کا تختہ الٹنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے. اپنی منصوبہ بندی کے باوجود ابن الزبیر نے اپنی حمایت کی پیشکش کرتے ہوئے یہ شرط رکھی حضرت حسین مکہ سے ہی امویوں کے خلاف مزاحمتی تحریک شروع کریں.مگر حضرت حسین نے اندیشہ ظاہر کیا کہ مکہ کو مزاحمتی مرکز بنایا گیا تو حرم میں خونریزی ہوگی تو اُس کے تقدس کو پامالی سے بچانے کے لیے مکہ کو مزاحمتی مرکز بنانے پہ قطعی طور پر راضی نہیں تھے. لہذا مکہ سے کوفہ کی طرف سفر کے منصوبے پہ ہی قائم رہے۔

جاری ہے
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں