آئے روز ملحدین کی شرانگیزیوں اور تشکیکوں کے ہرزہ سرائیوں پر آپ کا دماغ گھومتا ہے۔ میرے قریب ان میں اور آپ میں کوئی فرق نہیں ہے دونوں ہی اندھے جذبات کے زیر اثر ہوتے ہیں جہاں دلائل اور مکالمہ بے اثر ہیں۔ دونوں عقل کا استعمال نہیں کرتے۔ میں نے ملحدین میں کسی ایسے شخص کو نہیں دیکھا جو اصلی ملحد ہو۔ کیونکہ الحاد کو میں علم کی پہلی سیڑھی سمجھتا ہوں۔ انسان جب علم کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوب جاتا ہے تو اس کو کچھ سوالات کے جوابات چاہیے ہوتے ہیں۔ اب اگر وہ جذباتیت کا شکار ہوکر ایک اپنا مخصوص نظریہ بنالیں اور دوسروں کو اس پر قائل کریں تو جاہلیت وجود میں آتی ہے۔ اگر اسی ریسرچ کو بنیاد بنا کر وہ آگے بڑھ جائے تو مولانا وحیدالدین جیسے جید عالم بن جاتے ہیں۔ اب فیصلہ ہر انسان کے اپنے ہاتھ میں ہوتا ہے۔
احساس کمتری کے ہم ازلی شکار لوگ ہیں۔ ہم ذاتی زندگی میں بڑے ہی بے شرم ہوتے ہیں مگر معاشرے کے سامنے خود کو شیخ سعدی رحمتہ اللہ کے جیسے مفکرین ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ یہی دوہری شخصیت کہلاتی ہے۔ اور نفسیات کی زبان میں اس ٹرم کو Dissociative identity Disorder کہا جاتا ہے جو بذات خود ایک خطرناک کیفیت ہے۔
میرا ایک ذاتی دوست ہے جو تحریک لبیک کا دیرینہ ساتھی اور مذہبی شدت پسند سوچ کا حامل ہے۔ بات بات پر اسلام کو بیچ میں لاکر سامنے والے کو ڈھیر کردیتا ہے۔ ایک دفعہ متحدہ عرب امارات میں ہم دونوں کا قیام ایک ہی کمرے میں ہوا۔ میں جلد بستر پر جانیوالا بندہ ہوں سو عشاء کی نماز کے بعد شب بخیر کہنے ہی والا تھا کہ دوست نے مجھے ملتجی نگاہوں سے دیکھا۔ میں سٹپٹا گیا۔ میں نے پوچھا آپ سوئیں گے نہیں؟۔ کل ہم نے صبح سویرے ابوظہبی جانا ہے اور سلطان مسجد میں آپ کو نوافل پڑھوانے ہیں۔ جھجھکتے ہوئے کہا
“ان شاءاللہ وہ پڑھیں گے مگر دبئی کا اتنا سنا ہے”۔۔۔۔ میں نے ترنت پوچھا۔
“کیا سنا ہے؟”۔
بالآخر مدعا اس کی زبان پر آگیا۔
“سنا ہے فلپینو لڑکیاں سستی ہوتی ہیں اور کوآپریٹ کرتی ہیں”۔
میں نے تکیہ منہ پر رکھا کہ اب اس کو کیا جواب دوں۔ جان چھڑانے کی خاطر اس سے کہا۔ ” نیچے جاو گروانڈ فلور پر ڈانسنگ کلب ہے وہاں پوچھ لینا۔۔ اوکے میری طرف سے شب بخیر”۔
یہ کہہ کر میں سو گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد انسانی آوازوں سے آنکھ کھلی۔ ملگجا اندھیرا تھا۔ سر گھما کر دیکھا تو موصوف دو زانو ہوکر اورل کررہے تھے۔
پچھلے دنوں سوات میں ایک سیاح کا بدترین قتل ہوا۔ پہلے دن سے معلوم تھا کہ کیس وہ نہیں ہے جو دیکھایا جارہا ہے اب پولیس نے رپورٹ دی کہ قتل کرنیوالے منشیات فروش ہیں۔
مغربی دنیا نے مذہب کو اپنے معاشرے سے کیوں نکال پھینکا؟۔ وجہ بہت واضح ہے کہ کلیسا نے عام انسان کی زندگی کو دوبھر کردیا تھا۔ حتی کہ کلیسا کے مرضی کے بغیر سلطنت کا بادشاہ وقت بھی بے دست وپا ہوجاتا ہے۔ اب یہی مناظر مجھے یہاں نظر آرہے ہیں کہ خودساختہ مذہب پسندوں کیوجہ سے ایک عام بندہ خوف کا شکار ہے کہ کب “توہین” کا الزام لگا کر ان کا سر قلم کیا جائیگا۔ ریاست کے تو ستونوں کی تو ہم بات ہی نہیں کرتے مگر ایک لمحے کیلئے اپنے دماغ کو کھٹکھٹا کر زحمت دیں اور پوچھیں کہ ہم بحیثیت انسان، انسانیت کے کس مقام پر فائز ہیں؟۔
بس یہی ایک سوال خود سے کریں۔ جواب آپ کو مل جائیگا۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں