مکالمہ کو تیسری سالگرہ مبارک۔۔رمشا تبسم

ہم انسان الگ الگ رنگ رکھتے ہیں۔الگ ہی ہمارا مسکن ہے۔ ہمارے رہنے سہنے کے طور طریقے الگ ہیں اور اسی طرح سے بات کرنے کے طریقے بھی الگ ہیں۔ہمیں غصہ آتا ہے۔ہمیں بات کرنے میں شرم آتی ہے۔ہمیں دوسروں تک بات پہنچانے میں بھی جھجک محسوس ہوتی ہے۔ہماری بات سننے والا اکثر کوئی نہیں ہوتا۔ہم خوبصورت سوچ رکھنے کے باوجود کسی تک خوبصورت پیغام پہنچانے سے قاصر رہتے ہیں۔ہم غلط نظریات رکھ کر اس کے علاوہ ہر نظریے کی نفی کر چکے ہوتے ہیں۔ہم برداشت کرنا بھول بیٹھے ہیں۔ہم چیخنا شروع کر چکے ہیں۔ہم لڑنا شروع کر چکے ہیں۔ہم صبر کا دامن چھوڑ چکے ہیں۔ہماری انا اور ہماری بات کے آگے کسی کی کوئی اہمیت کوئی حیثیت نہیں۔

ایسے میں “مکالمہ” ایک ادارہ نہیں بلکہ ایک سہارا بن کر منظر عام پر آتا ہے۔ایسا سہارا جو پَر پھیلائے ہوئے ہے کہ ہم اس میں سما جائیں۔اور ہم بکھرے ہوئے منتشر اور انا اور تکبر میں مبتلا یا شرمیلے اور جھجکتے ہوئے لوگ اپنی خاموشیاں توڑ کر بات کرنا شروع کر دیں۔
مکالمہ ایک ایسی ماں بن کر آیا جو مختلف رنگ کے بچوں کو ایک سی شفقت اور محبت دے کر انسانیت کا درس سیکھاتی ہے۔مکالمہ ایک ایسا دوست بن کر آیا جس نے ہمیں ہمارے تکبر اور ضد کے بنائے ہوئے بُتوں کو توڑ کر ایک دوسرے سے بات کرنے اور ایک دوسرے کی بات سننے کا حوصلہ دیا۔اب “مکالمہ” صرف ایک ادارہ نہیں بلکہ آپ بھی مکالمہ ہیں۔میں بھی مکالمہ ہوں اور ہم سب مکالمہ ہیں۔

مکالمہ نے کیا دیا؟
کچھ دن پہلے مکالمہ گروپ میں ایک پول منعقد کیا گیا لوگوں کی رائے تھی کہ مکالمہ نے تین سالوں میں صرف اپنے آپ کو ابھی تک قائم ہی کیا ہے اور معاشرے میں فی الحال کچھ مثبت تبدیلی نہیں لایا یا کچھ بھی حصہ معاشرے میں نہیں ڈالا۔
میں اس بات سے قطعی متفق نہیں کیونکہ مکالمہ نے بہت سے ادبی لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب کرنے کے ساتھ ساتھ بہت سے لوگوں میں ادب کا شوق پیدا کیا ہے۔جہاں ایک طرف خاموش لکھاریوں کو اظہارِ خیال کا موقع فراہم کیا۔وہاں ہی لوگوں کو ان خیالات کو پڑھ کر سمجھ کر اپنی رائے قائم کرنے کا بھی موقع دیا۔ڈیجیٹل زمانہ ہے لوگ پڑھنا لکھنا چھوڑ گئے ہیں ایسے میں مکالمہ نے لوگوں کو دوبارہ قلم اٹھانے کا موقع دیا اور ساتھ ہی ساتھ قارئین کو سوچنے اور سمجھنے کے لئے بے تحاشا تحریریں مہیا کیں۔قارئین اب مکالمہ پر تحریریں پڑھ کر سیکھ کر خود قلم اٹھانے لگ گئے ہیں۔

مکالمہ نے ایک استاد بن کر لوگوں کو پڑھتے پڑھتے لکھنا سکھا دیا اور لکھنے والوں کو لکھتے لکھتے بہترین لکھاری بنا کر روشن ستارہ  بنا دیا۔لوگ ذہنی اور دماغی پریشانیوں ,دماغ میں اٹھتی نفرت یا دل و دماغ میں ہلچل مچاتے موضوع , معاشرے کی بے حسی ظلم و ستم تشدد سے پریشان ہو کر گھٹ گھٹ کر مرتے لوگوں کو لکھ کر اس الجھن سے نکلنے میں ایک راستہ فراہم کر کے طبیب کا کردار ادا کیا۔
مکالمہ نے لڑتے ,جھگڑتے ,گالی گلوچ کے ذریعے بات منوانے اور دوسروں کو کمتر ثابت کرنے والوں کو امن کی زبان میں بات دلائل کے ساتھ کرنا سکھا کر ایک امن کی فضا قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔

مکالمہ کی ٹیم میں انعام رانا کی صورت میں ایک با شعور شخصیت موجود ہے جو نا صرف نئے لکھاریوں کو موقع فراہم کرتے ہیں بلکہ ضرورت کے وقت اپنی بہترین رائے سے ہمیں ہر پہلو پر سوچنے پر مجبور کرتے ہیں
اسما مغل کی صورت میں مکالمہ کے پاس ایک ہیرا موجود ہے۔یہ وہ شخصیت ہیں جو اپنا ہُنر ہماری تحاریر پڑھ پڑھ کر کچھ کھو رہی ہیں۔اسما مغل کی خاصیت یہ ہے کہ  مجھ جیسے کئی  لکھاری جو شاید ابھی لکھنا سیکھ رہے ہیں ان کی ہمت بڑھاتی ہیں۔اور اکثر غلطیوں کو دور کر کے ہماری کامیابی میں چار چاند لگاتی ہیں۔اپنی چمک کھو کر ہماری چمک بڑھاتی جاتی ہیں۔اسما مغل کا خاص طور پر شکریہ بھی ادا کرنا چاہوں گی۔انکی محنت اور محبت قابل ستائش ہے۔

احمد رضوان سر اپنی بہترین رائے سے ہمیشہ میرا اور مجھ جیسے نئے لکھاریوں کا حوصلہ بڑھاتے ہیں۔جس سے لکھنے کی لگن مزید بڑھ جاتی ہے۔

معاذ بن محمود کی شرارتیں اور چھیڑ چھاڑ دیکھ کر کبھی طنز سیکھا ،کبھی محبت ،کبھی نفرت ک،بھی دلائل کی روشنی میں بحث کرنا۔معاذ ایک ایسا ہیرا ہے جو لکھنے اور اظہار کا ہر رنگ رکھتا ہے اور جس کو پڑھ کر انسان بہت کچھ سیکھ رہا ہے۔اور کبھی کبھی معاذ کے حوصلہ بڑھانے نے مجھے مزید لکھنے پر مجبور کیا۔

مکالمہ اور میں!
میں مکالمہ کا حصہ مارچ 2019میں بنی۔جب صرف ایک میسج انعام رانا کو کیا اور انہوں نے تحریر ای۔میل میں مانگ لی،اور پبلش کر دی۔اس کے بعد یہ سلسلہ شروع ہو گیا۔مجھے لکھنے کا ہنر نہیں آتا تھا۔اب بھی نہیں آتا بس کوشش کرتی رہتی ہوں۔مگر اس لکھے ہوئے میں مکالمہ کا بہت کردار ہے۔مکالمہ میں مسلسل لکھنے کی وجہ سے مجھ میں بہت بہتری آ رہی ہے۔مجھے یہاں سے سیکھنے کو ملا اور لکھنے کا مزید حوصلہ بھی۔حتی کہ افسانہ لکھنے کا مشورہ بھی اسما مغل نے دیا تھا اور میں نے کوشش کی اور مکالمہ کی ٹیم سمیت مکالمہ قارئین نے بہت سراہا۔
مکالمہ سے مجھے بہت دوست ملے۔جن کو پڑھ کر اور جن سے بات کر کے بہت کچھ سیکھا ہے اور سیکھ رہی ہوں۔خوبصورت قارئین سے بات کا موقع ملا جو نہ صرف تعریف کرتے ہیں بلکہ غلطی اور نا پسندیدگی کی صورت میں کھل کر اظہار کرتے ہیں۔جس سے مزید بہتری کا امکان پیدا ہوتا ہے

مکالمہ سے منسلک ہو کر مجھے بہترین لکھاریوں کو پڑھنے کا موقع ملا جن میں معاذ بن محمود, محمد خان قلندر ,احمد رضوان , صائمہ نسیم بانو,اسما مغل , نوشی ملک ,عدیل عزیز , عبد اللہ خان چنگیزی,فاطمہ حورین , فراست محمود, رابعہ الربا, ہادیہ یوسف, محمد افضل حیدر,ہما جمال,ڈاکٹر خالد سہیل ,علی اختر وغیرہ۔جن کو پڑھ کر نا صرف سیکھا بلکہ اکثر ان کے الفاظوں نے حوصلہ بڑھایا۔
اسکے علاوہ انتہائی خوبصورت قارئین جن کی وجہ سے مزید لکھنا پڑتا اور اسکے لئے مزید سیکھنا پڑتا ہے ۔

مکالمہ ہر شخص کے لئے ضروری ہے۔جس کو بات کہنی ہے جس کو بات کہہ کر سکون ملتا ہے۔جو دماغ کو بات کہہ کر سکون دینا چاہتا ہے۔ جو خود کو احساسِ کمتری سے نکالنا چاہتا ہے۔جو دنیا کو جاننا چاہتا ہے۔جو دنیا کے رنگ میں رنگنا چاہتا ہے۔جو لوگوں کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنا چاہتا ہے۔جو نفرت کی بجائے محبت پھیلانا چاہتا ہے۔جو امن چاہتا ہے۔جو خزاں کی بجائے بہاریں چاہتا ہے۔جو ملک کی بربادی کی بجائے ملک کا امن چاہتا ہے۔اور جو صرف اور صرف انسانیت چاہتا ہے۔اور انسانیت کا مذہب اپنانا چاہتا ہے۔
اس لئے آئیں مکالمہ بنیے۔آئیں مکالمہ کیجیے،اور آئیں مکالمہ  کی ترغیب دیں  ۔
مکالمہ کو سالگرہ بہت بہت مبارک ہو۔
اللہ پاک مکالمہ کو آباد رکھے ۔آمین۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *