سوشانت سنگھ راجپوت نے خودکشی کیوں کی؟-محمد ثاقب

سوشانت سنگھ راجپوت میرے دوستو! انڈیا کا مشہور ایکٹر جس نے خودکشی کر لی۔اب 1984 میں پیدا ہونے والا یہ نوجوان جو ایک عزت دار فیملی سے تعلق رکھتا تھا۔پڑھائی میں بھی بہت اچھا اور پیسوں کی بھی کوئی کمی نہیں تھی۔ اور دِلی کے مشہور انجینئرنگ کالج سے اس نے انجینئرنگ کی ڈگری کمپلیٹ کی اور پھر ٹی وی پہ آتا ہے۔ اور ایک اچھے ایپی سوڈ کے ساتھ نیکسٹ سٹیپ پہ آنا شروع کرتا ہے اور پھر ڈانس کمپٹیشن اور الٹیمیٹلی جو انڈیا کے نوجوانوں کا خواب ہوتا ہے کہ فلموں میں آیا اور بڑی بڑی ایکٹریس اور ڈائریکٹروں کے ساتھ کام کیا۔

مہیندر سنگھ دھونی کی زندگی پر جو فلم بنی تھی اس میں بھی ہیرو کا مین کریکٹر اسی ایکٹر کا تھا۔ بہترین حسن، ایسا حسن جس پر کروڑوں لوگ فدا تھے شہرت ایسی کہ 50 کروڑ سے بھی زیادہ لوگ اس بندے کو پسند کرنے والے تھے۔

پیسوں کی کوئی کمی نہیں تھی بہت اچھی فیملی پھر ایسا کیا ہوا؟ سوشانت سنگھ راجپوت کے ساتھ کہ اس نے یہ فیصلہ کیا کہ اپنی لائف کا خاتمہ کروں۔اور اس نے کیسا مشکل طریقہ اپنے لیے استعمال کیا کہ اپنے گلے میں پھندہ لگا لیا۔

پھانسی کا پھندا لگا لیا اپنے کمرے میں اور اس پر جھول گیا۔ایسا نہیں کیا کہ گولیاں کھا لیں یا کوئی آسان طریقہ استعمال کیا۔

ایسا کیوں ہوتا ہے اس کو ہم سمجھتے ہیں مائنڈ سائنس کی روشنی میں کہ ایک شخص جس کے پاس سب کچھ ہوتا ہے دولت ہوتی ہے، حسن ہوتا ہے، اس کے پاس جوانی ہوتی ہے، اس کے پاس صحت ہوتی ہے پھر بھی وہ خودکشی جیسا مشکل فیصلہ کر گزرتا ہے۔

میرے دوستو!

انسان ہیومن بی اِنگ کہلاتا ہے لیکن مائنڈ سائنس یہ کہتی ہے کہ انسان ہیومن بی اِنگ نہیں ہے بلکہ کیمیکل بی اِنگ ہے۔ہم لوگ کیمیکل بی اِنگ ہیں یعنی کچھ ایسے کیمیکلز جو ہمارے پورے مائنڈ کو کنٹرول کرتے ہیں اور ان کیمیکلز کو ہم نیورو ٹرانسمیٹرز کے نام سے بھی جانتے ہیں۔بہت سارے نیورو ٹرانسمیٹرز ہیں لیکن ہم ڈسکس کریں گے اس کالم میں سب سے امپورٹینٹ چار نیورو ٹرانسمیٹرز کو اور جب سمجھ لیں گے آپ لوگ، تو انشاء اللہ یہ فلسفہ یہ فلاسفی آپ کے دماغ میں بالکل جم کے بیٹھ جائے گی ۔ کہ  یہ چار نیوروٹرانسمیٹر ہماری پوری کی پوری باڈی کو کنٹرول کرتے ہیں۔انسان کا دل اس کے پیچھے نہیں ہے بلکہ نیورو ٹرانسمیٹرز ہیں ۔ ان میں جو پہلا ٹرانسمیٹر ہے۔
اس کو ہم کہتے ہیں

Adrenaline . 1
یہ ٹرانسمیٹر ایسا ہے جو آپ کے اندر بے چینی پیدا کرتا ہے۔ یہ ٹرانسمیٹر کہتا ہے کہ آپ کوئی بھی کام جلدی سے کر گزرو یہ پہلا ٹرانسمیٹر ہے۔

2: گابہ Gaba
اس کے بعد آتا ہے گابہ کے نام سے ٹرانسمیٹر۔ یہ ٹرانسمیٹر اگر ہائی ہوگا آپ کے مائنڈ کے اندر تو یہ آپ کے وسوسے ختم کر دے گا۔یہ ٹرانسمیٹر جتنا نیچے ہوگا اتنے ہی وسوسے اتنی ہی پریشانیاں آپ کی باڈی کے اندر بڑھتی جائیں گی۔

Serotonin :3
یہ خوشیوں کے جذبات آپ کے اندر پیدا کرتا ہے۔

Dopamine :4
یہ ٹرانسمیٹر آپ کے اندر تحریک پیدا کرتا ہے آگے بڑھنے کی،یعنی رشتے بنانا، موسیقی سننا، کتابیں پڑھنا اور ٹریولنگ کرنا،یہ ساری کی ساری چیزی اسی کیمیکل کے اندر ہیں۔ یہ ٹرانسمیٹر جب ڈیڈ ہو جاتا ہے یعنی نیگیٹو میں چلا جاتا ہے تو آپ کو لگتا ہے کہ میری زندگی کا کوئی مقصد نہیں ہے ، کوئی رشتے کچھ بھی نہیں ہے میرے پاس۔
تو ایک ٹرانسمیٹر یہ والا اور ایک پہلے والا جو آپ کے اندر تحریک پیدا کرتا ہے نیگیٹو قسم کی، کہ کوئی بھی کام جلدی سے کر گزرو۔
پہلے والا ہائیسٹ فارم میں ہوتا ہے اور یہ لاسٹ والا لویسٹ فارم میں ہوتا ہے۔

جب کوئی بندہ ڈیسائیڈ کرتا ہے کہ میں خودکشی کر لوں؟ تو اس کے اندر جو اچھے ٹرانسمیٹر ہیں جو اچھا انسان ہے وہ کہتا ہے کہ بھائی یہ کیا کر رہے ہو؟ یہ اتنا ناگوار سخت فیصلہ کیوں کر رہے ہو لیکن وہ پہلےوالے ٹرانسمیٹر نے اس کے دماغ کو ایسے جکڑا ہوا تھا وہ کہتا ہے کہ جلدی سے یہ کام کر گزروں اور انہی جذبات کے زیر اثر یا تو پھانسی کا پھندہ،نیند کی گولیاں،کوئی ٹرین کی پٹڑی کے نیچے لیٹ جاتا ہے،کوئی بڑی اونچی بلڈنگ سے چھلانگ مار دیتا ہے،امتحان میں ناکامی ہوگئی محبت میں ناکامی ہوگئی
جاب چلی گئی،کوئی بیماری آ گئی، شوہر نے کوئی بات سخت کہہ دی، بیوی نے کوئی بات سخت کہہ دی ،ماں باپ نے کوئی بہت سخت بات کہہ دی اور اس کیمیکل نے ایسا رش ڈالا آپ کے مائنڈ کے اندر کہ اس رش کے اندر آپ نے یہ ناگوار اور مشکل فیصلہ کر لیا۔

میرے دوستو! جب بھی یہ ایسے کیمیکل تنگ کریں آپ کو تو سب سے پہلے آپ نےفزیکل ایکسرسائز کرنی ہے کونسلنگ کرنی ہے اپنا کوئی ایسا دوست ڈھونڈنا ہے کوئی ایسا سینئر ڈھونڈنا ہے جس کے ساتھ جا کر آپ شیئر کر سکیں شیئر کرنے سے کیمیکل 70، 80 پرسنٹ نکل جائیں گے ۔لیکن آپ نے شیئر ایسے بندے سے کرنا ہے جو رسپانس میں آپ کو خوشیوں بھرا پیغام دے ۔ایسا نہیں کہ آپ کسی بندے کے پاس گئے اور کہا میری تو کوئی لائف ہی نہیں ہے،ہر دن انسلٹ ہو رہی ہے اور میرا دل چاہتا ہے کہ میں اپنی زندگی کا خاتمہ کر دوں اور وہ جواب میں آپ کو کہے کہ میرا بھی یہی دل کر رہا ہے،وہ بھی نیگیٹو آدمی ہے اس کو بھی کیمیکل نے جکڑا ہوا ہے۔

تو آپ نے ایک حوصلہ مند بندے کو ڈھونڈنا ہے تاکہ یہ کیمیکل آپ کی جان چھوڑ دیں۔

تو سوشانت سنگھ راجپوت کے ساتھ بھی میرے دوستو یہی کچھ ہوا ہے،اچھا بھلا آدمی، نوجوان آدمی، پیسوں والا آدمی لیکن اس نے ان دو ہارمونز کو جنیریٹ کر لیا،اور گابہ اور سیروٹونین یہ جنریٹ ہی نہیں ہو رہے ایسے بندے کے اندر جو خوشیاں اس کے اندر لے کے آئیں جو وسوسے کم کریں اس کے اندر سے،اور ان پہلے دو کیمیکلز نے ایسا جکڑا اس بندے کو کہ اس نے خود کشی کر لی۔

تو جب بھی کوئی ایسا ایونٹ ہو آپ کے ساتھ تو کیمیکل کو کم کریں، پیدل چلیں، جوگنگ کریں، جم میں جائیں سینیر بندوں کے پاس جائیں کونسلنگ لیں،ہمارے جیسے ذہنی صحت کے ماہر سے رابطہ کر کے بھی آپ اس پر قابو پا سکتے ہیں۔

آخر میں بات کرتا ہوں ، رسول اللہ ﷺ کے فرمان کی جس کا مفہوم یہ ہے کہ جو بندہ خودکشی کرتا ہے جس طریقے سے اپنی لائف کا خاتمہ کرتا ہے اسی طریقے سے قیامت تک اس کو زندہ کیا جاتا رہے گا اور مارا جاتا رہے گا۔

یعنی وہ چھوٹی سی تکلیف جس سے جان چھڑوانے کے لیے اس نے زندگی کا خاتمہ کیا تھا وہ قیامت تک اس کا پیچھا نہیں چھوڑے گی اس کے بعد بھی بڑا سخت حساب کتاب ہے ان لوگوں کے لیے میرے دوستو جو جذبات میں آ کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر دیتے ہیں۔

زندگی میں مسئلے آ جائیں تو ان کو بہادری سے فیس کریں۔
بطور مسلمان یاد رکھیں کہ ہر مشکل کے بعد آسانی ہے اور آپ کا رب یقیناً آپ کے ساتھ ھے۔ وہ آپ کے لیے آسانیاں لے کے آئے گا،تو زندگی گزاریں آسانی کے ساتھ اور کوئی بندہ آپ کے ساتھ مشورہ کرتا ہے تو اس کو مشورہ دیں امیدوں والا،اس کو مشورہ دیں خوشیوں والا،تاکہ اس کی لائف ایک سٹیپ اوپر جائے اور مشورہ دینے سے آپ کی لائف بھی ایک سٹیپ اوپر جائے گی۔

Advertisements
julia rana solicitors london

تو خوش رہیں خوشیاں بانٹیں، زندگی کو عافیت میں رکھیں،اللہ تبارک و تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

Facebook Comments

محمد ثاقب
محمد ثاقب ذہنی صحت کے ماہر کنسلٹنٹ ہیں جو ہپناتھیراپی، لیڈرشپ بلڈنگ، مائنڈفلنس اور جذباتی ذہانت (ایموشنل انٹیلیجنس) کے شعبوں میں گذشتہ دس برس سے زائد عرصہ سے کام کررہے ہیں۔ آپ کارپوریٹ ٹرینر، کے علاوہ تحقیق و تالیف سے بھی وابستہ ہیں اور مائنڈسائنس کی روشنی میں پاکستانی شخصیات کی کامیابی کی کہانیوں کو دستاویزی شکل دے رہے ہیں۔ معروف کالم نگار اور میزبان جاوید چودھری کی ٹرینرز ٹیم کا بھی حصہ ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply