ریجنالڈ’کا انجام/خالد قیوم تنولی

دوسری تھی یا تیسری یا پتہ نہیں چوتھی صلیبی جنگ تھی ۔ فرانس ، برطانیہ ، جرمنی ، ہنگری اور باقی یورپ کے سارے بادشاہوں نے دس لاکھ کروسیڈرز جمع کیے اور اسلامی دنیا کے خلاف یہ تہیہ کر کے نکلے کہ اسلام اور مسلمانوں کا خاتمہ کیے بغیر واپسی حرام سمجھی جاۓ گی۔ اس سیلِ بلاخیز کا کمانڈ ریجنالڈ  تھا اور مذہبی تڑکے کی خاطر پوپ اعظم کے ہزاروں نمائندے سب سے بڑی صلیب اٹھاۓ ہمراہ تھے جن کا کام آتش انتقام کو مسلسل دہکاتے رہنا تھا۔ اس عظیم اکٹھ کے شرکاء  میں جرائم پیشہ گروہوں کی بھی اکثریت شامل تھی جنھیں پادریوں نے جنت اور گناہوں سے معافی کا لالچ دے رکھا تھا۔ سفر طویل تھا اور نظم و ضبط کا فقدان بھی۔ گھروں سے دوری کا دورانیہ بڑھا تو شکم کی اشتہا اور جنس کی ہوس نے غلبہ کیا۔ خود عیسائی مورخین کے مطابق لشکر میں شریک ڈھائی لاکھ عورتوں کی عصمت دری ہوئی اور ہزاروں نوخیز لڑکے بھی محفوظ نہ رہے۔ اس بہتی گنگا میں پادریوں نے بھی ہاتھ ہی نہیں دھوۓ بلکہ گہری ڈبکیاں بھی لگائیں۔ اگرچہ شروعات میں سب کے مذہبی جذبے کا پیمانہ بہت اونچا تھا مگر ہنگام سفر ساری نام نہاد اخلاقیات رُل کر رہ گئیں۔ صرف جنسی زیادتیاں ہی نہیں چوریاں چکاریاں اور باہمی قتل و غارت بھی ہوئی۔ بادشاہ اس صورتحال سے سخت گھبراۓ مگر اس بے پناہ ہڑبونگ میں ان کی مانتا کون۔ سختی کرتے تو معاملہ مزید بگڑتا۔ کئی خصی قسم کے پادریوں نے اپنی متروک ہو چکی پارسائی کے بل بوتے پر وعظ و نصیحت کا سارا زور آزما لیا لیکن بے سود۔ ان میں کئی ایسے تھے جو سینٹ (ولی ، پیر اور شیخ) بھی کہلاتے تھے تاہم مذہباً ایک جبکہ کلچر اور زبان کے فرق نے تبلیغ کا ستیا ناس کر دیا۔
پھر ان میں سے کسی کو بھی یہ معلوم نہیں تھا جانا کہاں اور کس طرف سے ہے اور جن کے لیے جا رہے ہیں ان کی حربی اور دفاعی استطاعت کس قدر ہے۔ اصل خرابی تب ہوئی جب تمام لشکریوں کو یہ کھلی چھوٹ دی گئی  کہ مسلم علاقوں سے گزرتے ہوۓ ہر نوع کی لوٹ مار اور ظلم روا ہو گا اور اس ضمن میں کوئی مواخذہ یا مالی احتساب بھی نہیں ہو گا۔ ایسا ہوا بھی لیکن اس سے پہلے بھوکا اپنے ہی ہمراہی بھوکے پر چڑھ چڑھ گیا۔

julia rana solicitors london

آگے ان کی مرمت کا خاطر خواہ انتظام موجود تھا۔ وہ مسلم حکمران جو ایک دوسرے کی شکل دیکھنا پسند نہیں کرتے تھے ، اس مشترکہ خطرے کے سامنے ہنستے مسکراتے ڈٹ گۓ۔ پرایا دیس ، اجنبی راستے ، اندازے کی بے پناہ غلطیاں ، جو کچھ بریف کیا گیا تھا اس کے مطلق برعکس دشمن سے واسطہ پڑا تو جس طرف بھی بھاگتے معلوم ہوتا دور ہونے کی بجاۓ موت کے مزید قریب ہو گۓ ہیں۔ غیر مستند شواہد ہی سہی مگر لکھا ہے کہ چھ لاکھ مارے گۓ۔ جو کچھ راہ میں لوٹا اور سمیٹا تھا وہ مال غنیمت بنا۔ ہزاروں قید ہوۓ اور اتنے ہی انطاقیہ ، دمشق ، حلب ، خراسان ، تبریز ، اصفہان ، بغداد وغیرہ کی منڈیوں میں فروخت ہوۓ۔ ریجنالڈ کا ارادہ تھا کہ مکہ اور مدینہ کے مقدس اسلامی مراکز کو مسمار و تباہ کرنا ۔۔ اس کی خواہش سلطان صلاح الدین ایوبی نے اپنی تلوار سے اس کی گردن اتار کر پوری کی اور مارنے سے پہلے بتایا کہ ”مجھے صرف تمہارا ہی انتظار تھا۔“ یہ بھی لکھا ہے کہ ریجنالڈ نے مرنے سے پہلے پاپاۓ اعظم کو بہت گندی گالیاں دیں اور خود پر ڈھیر ساری لعنت بھیجنے کے علاوہ ایوبی کی بہتیری منتوں کے علاوہ یہ آفر بھی کی کہ وہ اس کے حرم کی ساری خواتین سے بہ یک وقت نکاح کر سکتا ہے۔
آگے تاریخ میں صرف زہرخند قہقہہ ہی درج ملتا ہے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply