کری ایٹر کہاں ہے ؟-تحسین اللہ خان

میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ ”لوگ” کیسے اس خدا سے انکار کرسکتے ہیں جس نے اس عظیم کائنات کو بنایا ہے اور پھر ایک پرفیکٹ طریقے سے چلا بھی رہا ہے ،کائنات میں تقریباً 24 اکٹیلین ستارے موجود ہیں اور ہر ایک ستارے کے گرد سیارے چاند اور لاکھوں خلائی “چٹانیں” گھوم رہی  ہیں۔میں چونکہ اسٹرونومی کے بارے میں تھوڑا بہت جانتا ہوں، لیکن یقین مانیں کہ میں ان 24 اکٹیلین “ستاروں” میں ایک ستارے کی  بھی مکمل ڈایاگرام نہیں بنا سکتا کیونکہ یہ دنیا کا ایک مشکل ترین کام ہے۔  ہمارے سورج کے ساتھ صرف 8 سیارے نہیں بلکہ اسکے ساتھ ساتھ 200 کے قریب چاند اور ہزاروں خلائی چٹانیں بھی ہیں ،جو اس کے اردگرد اپنے  اپنے  مداروں میں گردش کررہی  ہیں ، جب کہ کچھ اجسام اس کے علاوہ بھی ہیں۔

جب کہ سورج ساکن نہیں، بلکہ یہ ان تمام اجسام کے ساتھ  کہکشاں کے گرد رواں دواں ہے، اسی طرح   کہکشاں بھی ساکن نہیں بلکہ   کہکشاں اینڈرومیڈا کہکشاں کی طرف تقریباً 400 بلین ستاروں سمیت رواں دواں ہے۔  ملکی وے اور اینڈرومیڈا کہکشاں جس کلسٹر میں موجود ہیں،  جن کو لوکل گروپ کہتے ہیں وہ بھی ساکن نہیں بلکہ اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہے، اور حیران کُن بات یہ ہے کہ لوکل گروپ جس “سپر کلسٹر” میں موجود ہے، جس کو ہم ورگو سپر کلسٹرز کہتے ہیں، وہ بھی ساکن نہیں بلکہ موشن میں ہے۔

یہ صرف ایک سپر کلسٹر کی بات ہوگئی، جب کہ کائنات میں صرف یہی ایک سپر کلسٹر نہیں، بلکہ اس کے اندر بے شمار ایسے سپر کلسٹرز موجود ہیں، جن میں سے ہر ایک کی یہی کہانی ہے ، ہم یہ نہیں جانتے کہ ہم کائنات میں مخصوص کس مقام پر ہیں ؟؟ یہ بھی نہیں جانتے کہ بگ بینگ کائنات میں کہاں ہوا ہے؟ یہ بھی نہیں جانتے کہ بگ بینگ کیوں ہوا ہے ؟؟ یہ بھی نہیں جانتے کہ “بگ بینگ” کے فوراً بعد کیا ہوا تھا ؟ یہ بھی نہیں جانتے کہ کائنات سے باہر کیا ہے ؟ یہ بھی نہیں جانتے کہ اتنی انرجی “بگ بینگ” کو کس نے دی  ؟ آیا صرف یہی کائنات ہے یا کائنات سے باہر بھی کچھ ہے ؟ کیوں کہ کائنات کے باہر سے ہمیں فوٹانز نہیں ملتے ۔ ہم اتنی کمزور مخلوق ہیں ، کہ محض 20 سے لیکر 20 ہزار فریکوئنسی رینج والی آوازیں ہی سن سکتے ہیں۔ جو ایک انتہائی کم رینج ہے اسکے علاوہ 430Thz سے لیکر 770Thz “فریکوئنسی” کے درمیان ہی دیکھ سکتے ہیں، لیکن اس کے باوجود یہ سرکش انسان انکار کررہا ہے۔

julia rana solicitors london

اسٹیفن ہاکنگ کہتے ہیں جس کا ترجمہ کچھ یوں ہےکہ مجھے یقین ہے کہ سب سے آسان وضاحت یہ ہے کہ کوئی خدا نہیں ہے۔کائنات کو کسی نے نہیں بنایا اور نہ ہی کوئی ہماری تقدیر کو ہدایت کرتا ہے ۔ کائنات کے اس عظیم الشان ”ڈیزائن” کی تعریف کرنے کے لیے ہمارے پاس یہ ایک زندگی ہے، اور اسکے لیے میں بے حد مشکور ہوں”۔اسٹیفن ہاکنگ کے  اس بیان سے بھی ‘ڈیزائنر ثابت ہوتا ہے۔ یعنی ایک جملے میں وہ کہتے ہیں کہ کائنات کو کسی نے نہیں بنایا،  اور پھر اگلے جملے میں کہتے ہیں کہ عظیم الشان ڈیزائن۔ اگر میں غلط نہیں ہوں تو عموماً ڈیزائن کسی ڈیزائنر کا محتاج ہوتا ہے،  گویا اسٹیفن ہاکنگ ڈیزائن پر تو یقین رکھتے تھے لیکن ڈیزائنر پر نہیں وہ تو ایک نامی گرامی سائنسدان تھا ،اس نے کچھ مشاہدات کے بعد انکار کیا، لیکن ہمارا  انکار کس بنیاد پر ہے؟ اسٹرونومی کے ایک طالبعلم کی حیثیت سے میں نہیں جانتا”۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply