جنسی تعلیم کی بحث۔۔شاہد یوسف خان

قصور  شہر میں   ہونے والے درندگی کے واقعہ کے بعد  ملک  بھر  کے تھنک ٹینکس میں  ایک بحث شروع ہوگئی ہے کہ پاکستان میں جنسی تعلیم دینے سے ایسے واقعات کم کیے جا سکتے ہیں۔    ہمارے لوگ تو ‘سیکس’ کا لفظ سُنتے ہی گھوم جاتے ہیں   حالانکہ سیکس کا مطلب  اور معنی جنس ہے  ۔ اس بحث کے بعد مختلف خیالات رکھنے میں حلقہ ارباب  میں اختلاف پایا جاتا ہے ایک وہ گروپ ہے  جو اس تعلیم کا کُلی طور پر مخالف ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ  پاکستان  میں ایسی تعلیم دینے سے واقعات میں کمی نہیں بلکہ اضافہ ہوگا، ان حضرات کی وہی سوچ ہے کہ سیکس کی تعلیم پتہ نہیں کیسی ہوگئی  لیکن  سوچ میں وہی   جذباتیت پائی جاتی ہے جو ہماری قوم کا خاصا ہے  ۔

دوسرا گروپ کہتا ہے کہ  جنسی تعلیم سے ایسے واقعات میں کمی ہوگی  اور جنسی تعلیم بھی وہی ہونی چاہیے  جو بیرونی فنڈڈ ادارے ذمہ لگائیں   حالانکہ ہر خطہ اپنی اپنی سوچ رکھتا ہے    اسے نہیں سوچا جا رہا۔  دو روز پہلے سماجی ادارے کی  ایک خاتون نے تو ٹی وی پروگرام میں وزیر قانون پنجاب  رانا ثناء اللہ سے یہ بھی منوالیا کہ  ان کے ادارے کی طرف سے بنائی گئی کتابیں ہی نصاب میں شامل کی جائیں رانا صاحب نے بھی ہاں میں ہاں ملانے میں عافیت سمجھی۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ بالکل جنسی تعلیم دی جائے لیکن پاکستانی   ثقافتی اقدار اور اسلامی نظریہ کے برخلاف نہ ہو۔   اب اس حوالے سے متعدد سماجی تنطیموں اور محققین ریسرچ بھی کر رہے ہیں   جس پر سب کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے لیکن اس پر کُلی مخالفت ہرگز بہتر نہیں ۔

میرا خیال ہے کہ تیسری سوچ رکھنے والا گروپ ہی حق بجانب ہے لیکن اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ اس سے سو فیصد ہی ایسے واقعات کم ہوجائیں گے۔ دراصل المیہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں  ایسی باتوں کو معیوب سمجھا جاتا ہے  حالانکہ یہ بہت بڑی غلطی ہے جس کا خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے ۔  خاکسار نے ذاتی طور پر اس حوالے سے اپنے دوستوں سے ہی جاننے کی کوشش کی  ہے کہ جب ان میں بلوغت ہوئی یا جنسی تبدیلی پیش آئی تو کیا ان کے والدین یا دیگر سربراہان  خاندان نے انہیں  کوئی اس حوالے سے معلومات دیں یا جنسی تبدیلی کے بارے شعور  و آگاہی فراہم کی لیکن افسوس کہ سو میں سے نوے فیصد نے انکار کیا کہ بالکل بھی کسی  نے ایسی تعلیم نہیں دی  بلکہ کچھ دوستوں نے  تو یہاں تک اظہار کیا کہ انہیں بچپن میں جنسی طور پر ہراساں کیا گیا لیکن شرم  کی وجہ سے وہ اپنے والدین کو بھی نہیں  بتا سکے۔

البتہ   خواتین نے بتایا کہ جنسی تبدیلی کے اوقات میں والدہ یا بڑی بہنوں نے اس تبدیلی اور کچھ ذاتی احتیاط و تدابیر کے بارے آگاہی دی لیکن انہوں نے بھی برملا اظہار کیا کہ جنسی ہراسمنٹ کی بات کی جائے تو یہ ہمارے ہاں روز کا کام ہے ہر چوک چوراہے، بس سٹاپ  اور پبلک ٹرانسپورٹ میں مرد حضرات  کا رویہ انتہائی شرمناک  ہوتا ہے۔

یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بچوں کو تو جنسی تعلیم اور شعور دیا جائے مگر   مرد حضرات کہلانے والے لوگوں کو کون جنسی تعلیم دے گا یا انہیں  کون روک سکے گا۔  ہمارے اہل علم علماء حضرات یا اساتذہ تو اپنے تئیں کوشش کرتے ہیں لیکن ان لوگوں کے ذہنوں میں کیوں بات نہیں اترتی کہ  اپنی عزت ،اپنی بیٹی یا بہن اور دوسری کسی عورت میں  فرق نہیں ہوتا۔ ۔

گذشتہ روز مختلف اداکاراؤں نادیہ جمیل،ماہین خان  اور فریحہ الطاف  نے ٹویٹ کیے  جن میں  انہوں نے بتایا کہ ان کے قاری صاحب سے لے کر، خانساماں اور اساتذہ تک ان سے ایسی حرکتیں کی گئیں  لیکن  انہوں نے اور ان کے خاندانوں نے  چُپ اور خاموشی میں ہی  عافیت سمجھی۔  یہ تو شہر میں رہنے والے ماڈرن قسم کےخاندانوں کی صورتحال ہے جس سے  اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہمارے دیہاتوں میں رہنے والی یا شہروں میں رہنے  والی اکثریتی آبادی  کی کیا صورتحال ہوگی۔

حالت یہ ہے کہ آپ کسی بھی شہر میں ٹرین یا بس کے ذریعے جیسے ہی داخل ہوتے ہیں تو اول تو دیواروں پر مردانہ کمزوری کے اشتہارات کا سامنا ہوتا ہے یا پھر  جنسی معاملات کے اشتہارات لوگ بلا جھجھک آپ کی جھولی میں آ کے پھینکتے ہیں جسے لینے دینے میں کوئی معیوب نہیں سمجھا جاتا لیکن بچوں کو  جنسی آگاہی دیتے ہوئے   گھر کے مرد و خواتین معیوب  سمجھتے ہیں اور اپنے بچوں کی ذمہ داری سکولوں کے اساتذہ کے ذمے لگانا چاہتے ہیں حالانکہ یہ شعور و آگاہی کا پہلا فریضہ  والدین کے ذمہ ہونا چاہیے ۔ لیکن اس وقت جو کرنے کے کام ہیں سب سے پہلے تو ایسے حکیموں سے لے کر ایسے فراڈیے پیروں کے اشتہارات دیواروں سے لے کر اخباروں  تک بین کیے جانے چاہییں ۔ جو نا معقول یہ سمجھتے ہیں کہ یہ تو روزی روٹی ہے لیکن یاد رکھیے  کل ایسا کچھ آپ کے بچے کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے  اگر اسے بر وقت سنجیدہ نہ لیا گیا۔

جنسی تعلیم کو سلیبس میں ضرور شامل کیا جانا چاہیے بلکہ فقیر  تو محکمہ تعلیم سے یہ گذارش کرنا چاہتا ہے کہ سکولز میں  بھی دو تین ماہر نفسیات اساتذہ کی تعیناتی ہونی چاہیے ۔   سلیبس تیار کرنے  میں بہترین اسکالرز جو نطریہ اسلام اور نظریہ پاکستان کے ساتھ ہماری معاشرتی اقدار کے تحفظ کو خوب جانتے ہوں انہیں سلیبس  بنانے کی ذمہ داری دینی چاہیے۔ جو لوگ بالکل ہی مخالفت کر رہے ہیں انہیں یہ بات سمجھائی جائے کہ جنسی تعلیم کا سلیبس بھی ویسا ہوگا جیسا ہماری معاشرتی  علوم کا تیار کیا گیا ہے نہ کہ امریکہ  کی کتابیں یہاں پڑھائی جائیں گی۔

آخری گذارش قانون نافذ کرنے والے تمام اداروں کے سربراہان سے ہے  خدارا اپنے محکموں کو درست کریں، کرپشن بدعنوانی اور درندگی جیسے واقعات کے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچائیں۔ بہتر تو یہ ہے کہ ایسے بھیڑیوں کے لیے سخت سزاؤں کا نفاذ کیا جائے تاکہ ایسی سزاؤں سے بھی  لوگ عبرت حاصل کریں۔ کالی بھیڑیں نکالنے کے نعرے آپ کے جھوٹ کے علاوہ کچھ نہیں ۔ کالی بھیڑیں بھی آپ کی ویسے ہی معطلی کے بعد لاکھوں روپے کے عوض بحال ہو جاتی ہیں ان کالی بھیڑوں کو سفید بنائیں ۔اگر آپ  نے ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سنجیدہ کوشش نہ کی تو کل آپ کی زینب بھی شکار   ہوسکتی ہے۔

شاہد یوسف خان
شاہد یوسف خان
علم کی تلاش میں سرگرداں شاہد یوسف خان ایم اے سیاسیات اور صحافت مکمل کر چُکے ہیں ۔ سیاسی و سماجی موضوعات پر سوالات کرتے رہتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *