• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • چنڑے(دنیا کے جھمیلوں سے دور ایک الگ دنیا کی کہانی) -علی ہلال/قسط7

چنڑے(دنیا کے جھمیلوں سے دور ایک الگ دنیا کی کہانی) -علی ہلال/قسط7

لاہورمیں حفظ کے زمانے میں ہمیں صرف اتنا معلوم تھا کہ لاہور ایک گنجان آبادی والا شہر ہے جہاں ملنے والے کھانے پشاوری کھانوں سے زیادہ مشابہت رکھتے ہیں ۔۔ یہاں کی سڑکوں پر بھی پشاور کی طرح تانگے دوڑتے ہیں جن کے آگے بندھے ہوئے جاذب نظر گھوڑے پشاوری گھوڑوں سے رنگ اور حجم میں ملتے ہیں..
ہمیں نہ دہلی دروازے کی تاریخی اہمیت پتا تھی اورنا ہی شاہی حمام اور وہاں ہونے والی سرگرمیوں کا پتا تھا ۔۔
کبھی کبھار ہم شاہی قلعہ بھی جاتےتھے مگر اس وزٹ کا مقصد مغل بادشاہوں کی تلواروں اور اکبر اعظم کے سفید گھوڑے کی زیارت ہرگز نہیں تھی بلکہ وہاں لگے ہوئے جھولوں اور لیموں وجامن کے درختوں میں ہی ہماری تمام تر دلچسپی کاسامان پوشیدہ تھا ۔۔
ہماری نظروں میں مسجد وزیرخان اورسنہری مسجد کے تاریخی پس منظر سے زیادہ پانی والے تالاب کے قریب دودھ فروش کی اس دکان کی اہمیت تھی جہاں سے ہر روز مدرسے کےتمام طلبہ کو مفت دودھ ملتا تھا ۔۔
سلطنت شا ہ عالم دہلی تک تھی یا پالم تک ..ہمیں اس سے کوئی سروکار نہ تھا ہم تو بس شاہ عالم مارکیٹ کے آخری کنارے ملنے والی بابا قلفی کے عاشق تھے ۔۔ تین سے سات روپے تک ملنے والی دودھ اوربادام کی یہ قلفی لاجواب شے تھی ۔۔اب اپنے لنگوٹیا زاہد طالب سے سنتے ہیں کہ سو سے کم پر بابا کے پوتے اس ٹھنڈے مٹکے کی زیارت بھی نہیں کراتے جس میں بابا نے قلفیوں کا سنگِ لبن رکھا تھا..
رنگ محل کے قریب سنہری مسجد کی عقب میں واقع باولی نامی باغ بھی ہماری پسندیدہ جگہوں میں سے ایک تھی ۔۔
قطع نظر اس سے کہ یہاں کہیں لنگڑاتی ہوئی رنجیت سنگھ کی بدذوق اور کانی روح ہمیں دیکھ کر ناخوش ہوتی ہوگی ۔۔
جن دنوں ہماری حفظ کی کلاس برتن بازار کے اندر ایک مسجد میں لگتی تھی ہم صبح ناشتہ کرکے کلاس جانے سے قبل اس باغ کی طواف کرنا کبھی نہیں بھولے ۔..اس وقت ہم سنتے تھے کہ باغ میں رنجیت کی آوارہ اور شریر روح کسی بھٹکے ہوئے پلے کی طرح آکر بڑی بے چینی کے عالم میں چیختی چلاتی اور بھونکتی چنگھاڑتی ہے.. ہمارا تو ننگ پنجاب کی روح سے آمناسامنا کبھی نہ ہوا مگر باولی باغ کے بہت سارے گھنے ، سایہ دار درختوں میں توت اور جامن پر موسم کے لحاظ سے لگے ہوئے پھل توڑتوڑ کر کھا نے میں ہم نے کبھی ہاتھ ہلکا نہیں رکھا ۔۔
کشمیری بازار نکلنے والی تنگ گلی میں ایک فربہ اندام شخص سری پائے کی دیگ لگا تا تھا ۔۔ ساڑھے گیارہ بجے چھٹی کرکے جب بھوک کے ستائے طلبہ اس کی دکان کا رخ کرتے تب تک اس کی دیگ کی بوٹیاں ختم ہوچکی ہوتیں مگر شوربا کا خاصا ذخیرہ ا بھی رہتا تھا ۔ہم انہیں ایک روپیہ دے کر ایک نان خریدتے جس کے ساتھ وہ شوربا سے لبالب بھرا ہوا پیالا مفت دے کر ہمیں بیٹھنے کی دعوت دے کرڈھیر ساری دعائیں لیتے ۔۔
گرمیوں کے موسم میں جناح باغ جاکر ڈھیر سارا جامن جمع کرنا بھی ہمارا ایک خاص مشغلہ تھا…
لاہور میں مولوی اور مدرسے کی معاشرتی اورسماجی حیثیت بے حد کمزور تھی ۔… مولوی کے لیے استعمال ہونے والی زبان سن کر دل میں مولوی بننے کی تمنا مرجاتی تھی ..اب تو نہیں معلوم گئے وقتوں تو زندہ دلوں کے اس شہر میں بندہ ئے مولوی کے اوقات بڑے تلخ تھے.. اس زمانے میں لاہور کے بیشتر مولوی اور ائمہ مساجد سائیکل پر گھومتے تھے اور برتن لیے گھروں سے روٹیاں جمع کرتے تھے.
مدرسے میں پڑھنے والے لاہوری لڑکوں کی ایک عام عادت یہ تھی کہ اکثر لڑکے پورے مولویانہ لباس اور وضع قطع میں حفظ قرآن مکمل کرنے کے بعد جاکر اسکول میں داخلہ لیتے اور چند دن بعد بالکل فریش ہوکر اساتذہ سے ملنے آتے.. جن کی داڑھی ہوتی وہ کاٹتے ..سر کے بال بڑے جدید طریقے سے بنواتے جیسا انہیں پتہ ہی نہ ہو کہ وہ بھی کبھی اس دنیا کے باشندے تھے ..اساتذہ بھی اس تبدیلی پر کوئی اعتراض نہیں کرتے تھے.
قرآن خوانوں کی بے قدری کرنے والوں کے اس شہر میں مگر قرآن خوانیوں کی بڑی اہمیت تھی ۔لاہور کے امیر گھرانے برکت کے لئے بہت اہتمام سے قرآن خوانیاں کرا تے تھے ۔۔ قرآن خوانی میں عمومی طورپر گھر کے تمام افراد مل کر طلبہ کے ساتھ بیٹھتے اورتلاوت قرآن سن کر اس کتاب سے اپنے ڈھیلے ڈھالے رشتے کو چند لمحوں کے لیے تازگی بخش کر اس فریضے سے کچھ عرصے کے لیے سبکدوش ہوجا تے۔
قرآن خوانی کے آخر میں کچھ سورتیں ،فاتحہ اور بقرۃ کا پہلا رکوع پڑھنے کے بعد اونچی آواز سے درود پڑھ پڑھ کر دعا مانگی جاتی تھی.. ۔اکثر قرآن خوانیوں میں مقامی شاعر بھی شرکت کرکے اپنا کلام سناتے تھے ۔۔
قرآن خواںی سے متعلق ہماری انتہائی تلخ یادیں ایک خاتون سے وابستہ ہیں ۔۔ وہ کسی گرلز کالج کی پرپنسپل تھیں… انتہائی با اثر اور بارعب… بڑی باجی کے ساتھ ان کے اچھے مراسم تھے ۔۔ بڑے ڈیل ڈول کی حامل یہ سلجھی ہوئی خاتون اپنے گھر میں قرآن خوانی کی شمع کم اورہمارا خون زیادہ جلاتی تھی۔
اس کے خوبصورتی اورسلیقے سے سجے ہوئے گھرکے اندر کھجور کی گٹھلیوں کے ڈھیر اس کے ظلم وستم اور ہماری مظلومیت کے واحد عینی گواہ تھے ۔۔ وہ اکثر مہینے میں ایک مرتبہ جمعہ کے روز علی الصبح نازل ہوتی اورمدرسے سے لگے ہاتھوں پندرہ بیس طلبہ کو پکڑ کر لیجاتی ۔۔۔ اس وقت ہماری حالت ان افریقی باشندوں کی ہوتی تھی جنہیں پرتگالی مستعمرین پوری پوری بستی پر جال ڈاکر پکڑ تے اور سمندری جہازوں میں بھر کر دور دراز نوآبادیوں میں بیگار کیلیے لیجاتے تھے ۔۔
کھجور کی گٹھلیوں پر آیت کریمہ کا ورد کروانا اس ستم ظریف کا پسندیدہ مشغلہ تھا ۔جس کے لئے اس نے بطور خاص ایسا اہتمام کررکھا تھا کہ دسترخواں پر ایک جانب گٹھلیو ں کے ڈھیر کے پیچھے حفظ کے طلبہ بیٹھتے اور جانب مقابل کالج کی طالبات پھسکڑیاں مارکر بیٹھ جاتیں. صف بندی کے اس عمل کے بعد کچھ دیر کیلیے لہک لہک کر درود وصلاۃ پڑھ کر طرفین اس بوریت بھری مجلس کا آغاز کرتیں۔۔ جس کے بعد آیت کریمہ کی ورد کے نام سے ہونٹوں کو خفیف اور کریمانہ حرکت دینے اور گٹھلی پرگٹھلی گرانے کا ایک لا امتناہی عمل شروع ہوجا تا ۔۔یہ ایک انتہائی تھکا دینے والا مرحلہ ہوتا تھا ۔انگلیوں کے پوروں کے ساتھ ہماری زبانیں تھک جاتیں ۔
اس دوران پانی مانگنا مشکل کام تھا کیونکہ یہ بارعب خاتون کسی ایسی خواہش کو یکسوئی کے لیے مضر قرار دیتے ہوئے پسند نہیں کرتی تھی… بات کرنا ممنوع تھا ۔۔ ہنسی کا تصور تک محال تھا ۔۔نظریں نیچھے رکھنے پرمجبورکرکے ہمیں ظہر تک کچھ کھلائے بغیر بٹھا نے والی یہ خاتون کھجور کے تناور درخت جیسی قد آور تھی مگر طلبہ کے لئے اس کے دل میں قطمیر جتنی مروت اور نقیر جتنا رحم بھی نہیں تھا ۔۔
ظہر کے قریب کہیں جاکر جب بڑی مشکل سے وہ دعا کرانے پر راضی ہوجا تی تو ساتھ میں حاتم طائی کی قبر کی طرح ہمارے خالی معدوں پر سخاوت کا درا مارتے ہوئے ایک ایک چپاتی پر پیلے رنگ کا حلوہ رکھ کر ہمیں مرحمت فرما دیتی بہت عرصے بعد اشعب بخیل کا واقعہ پڑھ کر میری نظروں میں اس کی تصویر تازہ ہوئی ۔ حلوہ کے ساتھ نان کھاکر ہفتے کی اکلوتی چھٹی کا نذرانہ چڑھا کر ہمیں اس کے گھر کی دہلیز سے نکلنے کا پروانہ مل جاتا.

Facebook Comments

علی ہلال
لکھاری عربی مترجم، ریسرچر صحافی ہیں ۔عرب ممالک اور مشرقِ وسطیٰ کے امور پر گہری دسترس رکھتے ہیں ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply