• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • چنڑے(دنیا کے جھمیلوں سے دور ایک الگ دنیا کی کہانی) -علی ہلال/قسط3

چنڑے(دنیا کے جھمیلوں سے دور ایک الگ دنیا کی کہانی) -علی ہلال/قسط3

اس گاوں کے باشندے آپس کی دشمنیو ں میں الجھے رہتے تھے مگر طالبعلموں کے ساتھ ان کارویہ غیر معمولی حد تک اچھا تھا، گرمی کے موسم میں وظیفہ مانگتے ہوئے ہمیں ہر گھر سے ٹھنڈا پانی فراوانی سے ملتا تھازمین دار لوگ پھل دیتے تھے مدرسہ لیجانے کے لئے برف اور لسی بھی وافر مقدار میں ملتی تھی لوگوں کی اس فیاضی اور سخاوت کے باعث کبھی غذائی قلت کا سامنا نہ ہوا
اس گاوں کا کوئی بھی ڈاکٹر کسی طالب علم کے علاج کے پیسے نہیں لیتا تھاکبھی سوچتا ہوں تو حیرت ہوتی ہے کہ دینی طالب علموں کی زندگی مشکلات سے بھری ضرور ہوتی ہے مگر لوگوں کی محبت اور ہمدردی بھی تو ان کے حصے میں بہت آتی ہے۔ ہم شاید اس ہمدردی کا بدلہ دینے کا نہیں سوچتے۔
اس گا ؤں  میں کسی شے کی کمی نہ تھی مگر مدرسے میں میرا دل سکون اور خوشی سے ہمیشہ خالی رہا۔ہر چیز تھی مگر درد دل کی دوا نہ تھی ۔ گھر سے دور بچپنے کی عمر کس اذیت سے گزرتی ہے یہ ایک طالب علم ہی محسوس کرسکتاہے ۔

ڈوبتا سورج ,بانہیں پھیلاتی ہوئی سرمئی شام اورکائنات پر پھیلتی تاریکی میرے دل کے تار چھیڑتی تھی ،میرے اندر غم اور بے چینی کا لاوا اُبلنے لگتا۔گھروں کے اندر بچوں کی اپنی ماؤں کے ساتھ باتیں سُن کر میں بے چین ہوجاتاتھا اور مجھے انتہائی شدت سے اپنی والدہ اور گھر کی یادستانے لگتی۔میں خود کویتیم تصور کرتا۔
جب میں گھر میں تھا تب بھی شام کو درختوں پر چہچہاتے پرندوں کے بارے سوچتا تھا کہ ان کے ماں باپ کہاں ہوں گے۔ ان کی رات کیسے گزرے گی ان کا آشیانہ ہوگا یا نہیں۔ یہ تو تب کے احساسات تھے جب میں ہرے بھرے گھر میں والدین کے پاس تھا۔ اب والدین سے دوری نے اس احساس کو مزید گہرا کر دیا تھا۔ اس وجہ سے رات کا کھانا مانگتے ہوئے میری آواز رندھ  جاتی تھی گلہ بیٹھ جاتا تھا اور اکثر وبیشتر آنکھیں نم ہوجاتی تھیں،موسم اور حالات کا حاوی ہونا میری طبعی کمزوری ہے جو آ ج تک میرے دل پر گرفت جمائے بیٹھی ہے۔

زمانہ طالب علمی کی مشقتیں دنیاوی مقاصد کے لئے اٹھائی جانے والی صعوبتوں سے زیادہ کھٹن اور اذیت ناک ہوتی ہیں ۔ لیکن جانے کیوں اس زمانے کی یادوں سے ایک حسین اور پرکیف تصور وابستہ ہوتا ہے جنہیں یاد کرتے وقت پیشانی پرشکنیں اورسلوٹیں پڑنے کے بجائے دل اوردماغ پر شگفتگی اور تازگی کی سرسراہٹ سی پھیل جاتی ہے ۔۔
بلا شبہ قرآن کریم جیسی آفاقی کتاب یاد کرنا دنیا کی سب سے بڑی سعادت اور قیمتی متاع ہے مگریہ حقیقت بھی یاد کرنے والے ہی جانتے ہیں کہ اس بیش قیمت خزانے کو دل کی تجوری میں رکھنا کس قدر مشکل ہوتا ہے۔

مجھے وہ لمحات بڑی شدت سے یاد آتے ہیں جب مدرسے میں پہلی رات گزارنے کے بعد صبح پہلاپارہ تھماکر استاذ نے بسم اللہ کرکے ہمیں حفظ شروع کروایا ۔۔ہم دن بھر قرآن یاد کرتے۔۔ رات کو نیاسبق لیتے۔۔۔ مغرب کے بعد اسے یاد کرتے ۔ عشاء کے بعد ہر لڑکا اپنا یاد کیا ہوا سبق کسی ہم درس کو سناتا کیونکہ دوسرے کو سنانے سے یاد ہونے کا یقین ہوجاتاہے اور غلطی کا احتمال باقی نہیں رہتا ۔ اس کے بعد تسبیح پر سینکڑوں دفعہ اسی سبق کو دہرایاجاتاتاکہ اچھی طرح سے ضبط ہو ۔

تاہم حفظ کا سب سے اذیت ناک وقت یہی عشاء والا ہوتا تھا۔ ساڑھے دس اور گیارہ بجے تک بیٹھنے کی پابندی اوراوپر سے بچپنے کی نیند کا خمار ۔ جو کسی بھی صورت سرسے اترنے کا نام لینے پر راضی ہی نہیں ہوتا تھا۔ ہلتے ہلتے نیند سے بے کل ہوکر مصحف پر گرنا اور اٹھ کر پھر دوسری سمت گرنا ایک تکلیف دہ عمل ہوتاتھا۔

نیند کی یہ دیوی کسی ایک لاڈلے پر اکتفا کرنے کے بجائے کلاس کے بیشتر بانکوں کو اجتماعی جھولے جھلواتی رہتی تھی اس پر مستزاد ایک اور مشکل یہ ہوتی تھی کہ اکثر وبیشتر اس دوران استاذ کے بجائے کلاس کی نگرانی کسی طالب علم کے سپرد ہوتی۔چونکہ ہمارے استاذ ایک نیک اور مہرباں انسان تھےمارپیٹ کے وہ قائل نہ تھے لیکن اس کے برعکس ان کے قائم کردہ نگران طالب علم اگر بڑا ہوتا تو وہ خدائی ڈنڈہ بردار بن کر سب کے سروں پر تازیانہ عبرت بن کر برستا کسی کو ہلکا سا سر جھکاتے دیکھ کر وہ دیوی کی بانہوں میں جھولنے کے اس گناہ گار کے سر پر قیامت بن کر پہنچ جاتا اورگال پر زناٹے دار تھپڑ رسید کرتا۔ جس کی ٹھاہ کی آواز سن کر دیگر لڑکے زور زور سے یا ايها الناس کا   ورد شروع کرکے زورزور سے سرہلا کر اپنے بیدار ہونے کی گواہی دینے کی کوشش کرتے ۔تھپڑکی آواز گونجنے کےبعد کچھ دیر کے لیے درسگاہ کے ماحول میں ایک ارتعاش سا پیدا ہوجاتا۔خاموشی اور سکوت کی جگہ اونچی آوازیں ابھرتیں تاہم خوف کے محرک سے پیداہونے والے بیداری اور صحوہ کا یہ عمل دیرپا نہ ہوتا اور تھوڑی دیر بعد دوبارہ کسی دوسرے کے سر پر لگنے کے لیے حماقت کا یہ کوڑا حرکت میں آجا تا ۔

نگرانی اگر کبھی کم عمر لڑکے کو دی جاتی تو وہ اونگھنے والوں کے نام درج کرکے چھٹی کے وقت استاذ کے سپرد کر تا ۔تب ان مطلوب ترین افراد کو سونے سے قبل سزا دی جاتییہ بہر حال ایک تکلیف دہ عمل تھا جس سے دماغ اور روح شدید اذیت سے دوچار ہوتے تھے ۔

کسی طالب علم کو ہم درسوں کا نگران بنانا ایک سراسرنامناسب عمل ہے ۔ وہ دادا بن کر دوسروں سے اپنا حساب پوراکرنے کیلیے انہیں انتقام کانشانہ بنا تا ہے۔

آج سوچتا ہوں کہ رات کو دیر تک بٹھانے کا یہ عمل کسی طور پر درست نہیں تھابلکہ عشاء تاخیر پڑھ کر سونے سے شاید کوئی نقصان نہ ہوتا۔۔درس نظامی میں دیر تک بیٹھنے کے برعکس حفظ کے طالب علم کے لیے جلدی سونا زیادہ مفید ثابت ہوسکتاہے۔

بعد میں بہت سے خوش نصیب ایسے بھی دیکھے جو عشاء کے بعد تادیر بیٹھنے کی اس مشقت کے بغیر بھی اچھے انداز سے حفظ مکمل کرچکے ہیں۔
رات کے اس تجربے کو سہنے کے بعد فجر سے قبل اٹھتے ہی رات والا سبق خود بخود زبان پر جاری ہونے لگتا ۔ہم وضوء کے لئے لوٹا خالی ہونے کے انتظار میں قطار میں کھڑے کھڑے اپنا سبق زبانی دہراتے اوریوں ہمارے دل میں یہ حصہ نقش ہوجاتا ۔۔

حفظ قرآن کے لئے مغرب سے عشاء اور فجر سے پہلے کاوقت غیرمعمولی معجزات کا حامل ہوتا ہے ۔دن بھر جو سبق بڑی محنت سے بھی یاد نہ ہو وہ ان دو وقتوں میں صرف چند بار پڑھنے سے ہی ازبرہوجاتا ہے۔

حفظ کادورانیہ زمانہ ئے طالبعلمی کا بلاشبہ پر آزمائش دور ہوتاہے۔۔۔ ننھے طالب کا دل بیک وقت رحمانی راہنمائی ,قرآنی چاشنی اور شیطانی وسوسوں کی جھولان گاہ بنا رہتا ہے  ۔ نئے طالبعلموں کے لیے یہ پیریڈ کچھ زیادہ ہی اذیت ناک ثابت ہوتاہے اور ایک بڑی تعداد اسی زمانے میں بد دل ہوکر سبق چھوڑ کر بھاگ جاتی ہے ۔

ہمارے ساتھ پہلے پارے تک تو بات ٹھیک تھی مگر شیطان رجیم کے ساتھ چومکی جنگ کا آغاز تب ہوا جب دوسرا پارہ شروع کرنے کے لیے ہمیں مصاحف تھما دئے گئے۔۔۔ سبق پڑھتے پڑھتے جب ہم بے حال ہو جاتے تو دل کو تسلی دینے کی خاطر قرآن کریم کے اوراق گننے لگ جاتے۔ یہ وہ مرحلہ تھا جب دل ڈوبنے لگتا تھا اور سوچتے کہ آخر کو اتنا سارا قرآن ہم یاد کیسے کریں گے۔

قرآن خوانی بھی حفظ کے طالبعلموں کے لیے ایک خاصا تفریحی عمل ہوتاہےتاہم بشرط یہ کہ مدرسہ کی درودیوار سے باہر ہوکیونکہ حفظ کے طالبعلم ایک اسیر اور قیدی کی زندگی گزارتے ہیں۔اور وہ ہروقت کسی ایسی غیبی مدد کے منتظر رہتے ہیں جو انہیں ہواخوری کے چند لمحات دے سکے۔

حفظ کے بعد درس نظامی کے دوران میرے دل میں کئی مواقع پر ایسے وسوسے اور شیطانی خیالات آئے جب مجھے لگا کہ حفظ قرآن پر تین سال کا وقت صرف کر کے میں نے زندگی کا ایک بڑا حصہ ضائع کردیا ہے ۔۔ لیکن بعد میں مجھے اپنے ان خیالات پر نہ صرف شدید افسوس ہوا بلکہ شدید قسم کا خوف بھی محسوس ہونے لگا ۔

ابھی رمضان سے قبل میں مراکش کےایک باشندے احمدالمرزوقی کی کتاب ’’تزممارت الزنزانۃ رقم 10‘‘ پڑھ رہا تھا ۔۔ احمد المرزوقی مراکشی آرمی میں سیکنڈ لیفٹننٹ تھے لیکن بدقسمتی سے انہیں 1971میں مراکشی بادشاہ حسن الثانی کے خلاف الصخیرات کے شاہی محل میں ہونے والی فوجی بغاوت میں گرفتار کرکےجیل بھیج کر دیگر فوجی افسران کے ساتھ تزممارت نامی ایک صحرائی علاقے میں واقع عقوبت خانے میں اٹھارہ برس تک انتہائی اذیت ناک طریقے سے رکھا گیا تھا۔۔

المرزوقی کے مطابق 1973 سے 1991 تک کے اس طویل عرصے میں انہیں سورج دیکھنا نصیب نہ ہوا ۔۔ تاہم المرزقی اوردیگر افسران نے اس کال کوٹھری کے اندر حفظ قرآن مکمل کرلیا ۔۔ وہ لکھتے ہیں کہ ہم نے حفظ کا آغاز سورۃ یاسین سے کرتے ہوئے یہ عہد کیا تھا کہ رہائی نصیب ہونے کی صورت میں شادی کرکے اپنے پہلے بچے کانام یاسین رکھیں گے ۔۔ المرزوقی کو آزادی مل گئی اور ان میں سے چار افراد کے گھروں میں آج یاسین موجودہیں۔

julia rana solicitors london

جاری ہے

Facebook Comments

علی ہلال
لکھاری عربی مترجم، ریسرچر صحافی ہیں ۔عرب ممالک اور مشرقِ وسطیٰ کے امور پر گہری دسترس رکھتے ہیں ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply