راستے کے حقوق ، کچھ التفات ادھر بھی

ارے حضور یہ آپ کیا کر رہے ہیں ۔؟شاید آپ کو نظر نہیں آتا فون کی لائن ڈالنے کے لئے سڑک کی سولنگ اکھاڑ رہے ہیں ۔
وہ تو ٹھیک ہے لیکن انہیں بھرے گا کون ۔؟
ہمیں کیا معلوم کون بھرے گا ۔ ، ہمارے پاس تو صرف سڑک کی سولنگ اکھاڑنے کا پر مٹ ہے ، یہ دیکھیں ، ایک کاغذ اس نے میری آنکھوں کے سامنے لہراتے ہو ئے کہا اس میں سولنگ دوبارہ لگانے کا کہیں بھی ذکر نہیں ہے ۔
یعنی آپ کے پاس سڑک اکھاڑنے کا پر مٹ ہے مٹی ڈالنے کا نہیں ۔؟
نہیں۔۔۔۔ بالکل بھی نہیں ۔ اس نے بتیسی نکالتے ہو ئے جواب دیا ۔اور پھر سے سڑک کی سولنگ اُدھیٹر نے میں مصروف ہو گیا ۔
بالآ خر وہی ہو ا جس کا ڈر تھا انہوں نے اینٹیں نہ لگائیں فقط تار داب کر اوپر مٹی ڈال کر کھسک لیے۔
انسانی حقوق ، جانوروں کے حقوق ، عورتوں کے حقوق بچوں کے حقوق مزدوروں کے حقوق( علی ھذالقیاس) یہ سب اصطلاحات تو ہم سب سنتے رہتے ہیں لیکن سماعتوں کو یہ لفظ شاید نیا اور نامانوس لگے لیکن راستوں کے بھی حقوق ہو تے ہیں ، جی ہاں ٹھیک سنا آپ نے ” راستوں کے حقوق ”
دراصل نہ تو یہ لفظ نیا ہے اورنہ یہ اصطلاح نئی ہے ، آج سے چودہ سو سال پہلے ہادی کامل حضرت محمد ﷺنے راستہ کے حقوق کھول کر بیان فرما دئے تھے جو آج کے اس جدید دور میں بھی ہمارے لئے مشعل راہ ہیں ۔
حسن معاشرت کے لیے ضروری تھا کہ جس معاشرہ میں انسان رہ رہا ہے وہاں اس سے کوئی بھی ایسا عمل سرزد نہ ہو جو دوسروں کے لیے باعث تکلیف ہو ۔لیکن ہمارے ہاں موت فوت ہو شادی ہو مذہبی جلسہ ہو یا سیاسی جلسہ راستوں کو ٹینٹ قناتیں لگا کر بند کر دینا نہ صرف عام بات ہے بلکہ اپنا حق سمجھ کر ایسا کیا جاتا ہے۔ہاں اگر ایسی جگہ پر قنات یا شامیانہ لگا نا جہاں کسی راستہ میں رکاوٹ نہ ہو اور لوگوں کو اس پر تحفظات نہ ہوں تو جائز ہے وگرنہ شریعت میں ایسے عمل کی گنجائش نہیں ۔
ایک روایت میں ہے ۔رسول کریم ﷺ نے لوگوں کو راستے میں بیٹھنے سے منع فرمایا نیز فرمایا اگر راستے میں بیٹھنے سے نہیں رک سکتے تو راستے کے حقوق ادا کر و۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ راستے کا حق کیا ہے ۔؟ آپ ﷺ نے فرمایا ۔ نگاہیں جھکا کر رکھنا ، دوسروں کو اذیت نہ پہنچانا ،تکلیف دہ چیز کو لوگوں سے دور رکھنا، لوگوں کے سلام کا جواب دینا ،نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا ۔‘‘
(بخاری 2465)
گٹروں کا گزرگاہوں پر بہنا جو لوگوں کی تکلیف کا باعث بنتا ہو ، کوڑا کر کٹ ، راستہ میں روک لگا نا، راستے میں گاڑی کھڑی کر کے کسی سے باتیں کر نا اس طرح کہ راستہ بند ہو جائے،حتیٰ کہ نماز وغیرہ کے لیے بھی راستہ بند کرنا اسی ذیل میں آتاہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ۔’’ ایک شخص راستے سے گزر رہا تھا کہ اس نے ایک کانٹا دیکھا اور اسے راستہ سے ہٹا دیا پس اس فعل پر اللہ تعالٰی نے اسے بخش دیا ۔‘‘
(بخاری 2682)
یعنی راستے سے تکلیف دہ چیز کا ہٹانا اپنی ذات میں کس قدر مستحسن عمل ہے اور اجر کے لحاظ سے بھی بہت بڑا ہے کہ خدا تعالٰی ایک شخص کو محض راستے سے تکلیف دہ چیز کے ہٹانے کی وجہ سے بخش دیتا ہے ،
ہم یہ تو جانتے ہیں کہ صفائی نصف ایمان ہے لیکن گھروں کی صفائی کر کے کوڑ ا کر کٹ گلی یا راستے پر پھینک دینا آدھا ایمان نہیں بلکہ سلب ایمان ہے ۔گھروں کو پانی سے دھوتے وقت پانی کا بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے یہ خیال کیے بغیر کہ سارا پانی سڑک پر بہہ رہا ہو تا ہے جو گزرنے والوں کے لیے اذیت کا باعث بنتاہے ،
کھانے پینے کی اشیاء پھینکنے سے تعفن پیدا ہو تا ہے جو تکلیف کا باعث بنتاہے ۔
راستے پر چلنے والے خواہ پا پیادہ ہوں یا گاڑی پر ہر دو کو یہ بات ملحوظ خاطر رکھنی چاہیئے کہ آپ کی وجہ سے کسی دوسرے کو ہر گز تکلیف نہ پہنچے ، بے جا تیز رفتاری ،عجلت ، غلط طریقے سے اوور ٹیک کرنا ، خوامخواہ بلا ضرورت ہارن کا استعمال ، گاڑیوں میں بلند آواز سے میوزک چلانا ، غلط پارکنگ، مکان اور دکان کے لیے سڑک پرتجاوات بنانا،اپنی دکان مکان کے سامنے پیسے لے کر ریڑھی لگانے والوں کو جگہ دیناپھر بھی ایک قبیح عمل ہے ،اس سے راستے دن بدن تنگ ہو رہے ہیں، کیچڑ یا پانی والی جگہوں سے تیز رفتاری سے گزرنا ، ٹریفک قوانین کو خاطر میں نہ لانا جن میں سرخ اشار ے پر نہ رکنا اپنی لین کا خیال نہ کرنا معمول ہے ،۔ بے جا ہارن بجانا توجیسے ہمارا قومی مشغلہ ہے ،بس میں عین ڈرائیور کی سیٹ پیچھے بیٹھے ایک بزرگ کو مسلسل ہارن سے تکلیف سے پہلو بدلتے دیکھا کر جب میں نے ڈرائیور سے کہا بھائی کیوں خامخواہ ہارن بجاکر لوگوں کو تکلیف دے رہے ہو تو پان کی پیک سے سڑک رنگین کرتے ہو ئے پان زدہ لہجے میں بولا اگر زیادہ تکلیف ہے تو ٹیکسی لے کر چلا جا بس میں تو ایسا ہی ہو ہوگا ، میں بزرگ کی طرف دیکھتے ہو ئے اپنا سا منہ لے کر رہ گیا ۔بظاہر معمولی نظر آنے والی باتیں غیر معمولی حادثات کو جنم دیتی ہیں معمولی احتیاط سے کسی بڑے حادثہ سے بچا جا سکتا ہے مثلا ریلوے لائن کو ایسی جگہ سے کراس کرنا جہاں پھاٹک موجود نہ ہو اور ٹرین سے حادثہ ہو جانا ۔ٹرین سے ٹکر ا جانے کی جتنی ذمہ داری ریلوے انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے اس سے زیادہ ذمہ دار حادثہ کا شکار ہونے والے خود ہیں جو یہ جانتے ہو ئے بھی کہ یہاں پھاٹک نہیں ہے چند سیکنڈ کا توقف کر کے دائیں بائیں دیکھ لیتے تو حادثہ سے بچ سکتے تھے ۔
ایسے موقعوں پر مجھے اس حکیم کی بات یاد آتی ہے جس نے پیٹ کے مرض میں مبتلاء ایک شخص کو آنکھوں میں سرمہ ڈالنے کا مشورہ دیا ، حکمت یہ تھی کہ سرمہ ڈالنے سے آنکھیں ٹھیک ہوں تا دیکھ بھال کر کھا سکو نتیجہً پیٹ خراب نہ ہو ۔
ایک المیہ یہ بھی ہے کہ پیدل چلنے والے کا گاڑی کے ساتھ حادثہ میں قصور وار ہمیشہ گاڑی والے کو ہی سمجھا جاتا ہے جب کہ بیشتر واقعات میں ایسا نہیں ہوتا اس میں قصور پیدل چلنے والوں کا بھی ہے۔
وطن عزیز میں دوران ڈرائیونگ ایسے مشاہدات ہو تے رہتے ہیں ، ون وے کراس کرتے وقت بھی بیمار اور پریشان حال روحیں ٹریفک کے بہاؤں کی مخالف جانب دیکھ رہی ہو تی ہیں ،سڑک کو اپنے گھر کا لان سمجھتے ہو ئے ٹہل ٹہل کر پار کرنا ، سڑک کے عین بیچوں بیچ چلنا ، ہارن پر توجہ نہ دینا ،غلط سمت میں چلنا ، ٹریفک بہاؤ کے درمیان کھڑے ہو جانا ، مصروف شاہراہ کو ون وے کے درمیان بنائی گئی جگہوں سے کراس کرنا ،عمررسیدہ بہرے لوگوں کا سڑک کے بیچوں بیچ چلنا ، بچوں کی اچھل کود جیسے عوامل اکثر خطرناک حادثات کا باعث بنتاہے۔
خراب سڑکیں ، جگہ جگہ تعمیراتی کام ، ناقص پلاننگ ،پیادہ وسو ار ہر دو کے لیے وبال جان بنا رہتاہے ۔ہم تو ایسے منصوبہ ساز ہیں کہ جنہیں سڑک پر ڈامر ڈال کر رولر پھیرتے ہوئے یاد آتاہے اوہو پانی اور گیس پائپ لائن تو ڈالی ہی نہیں۔
کم خوابی ، بس ، ٹرک ڈرائیور حضرات کا مسلسل ناکافی نیند کے ساتھ ڈرائیوکرنا اور خود کو بیدا ر رکھنے کے لیے مسلسل نشہ آور اشیاء کا استعمال ، بسوں اور وینوں کے ڈرائیوروں کاکو پابند کیا جاتا ہے ہے کہ وہ وقت پر پہنچیں تاخیر کا مداوا کرنے کے لیے تیز رفتاری سے کام لیتے ہیں جو حادثات کا سبب بنتی ہے ۔ ان سب میں احتیاط کرنا راستے کے حقوق ادا کرنے کے زمرہ میں آتاہے ۔
چناچہ ضرورت اس امر کی ہے کہ بچپن سے راستہ کے حقوق بچوں کو سکھائے جائیں اس میں والدین اور اساتذہ اپنا کردار ادا کریں ترقی یافتہ ممالک میں اساتذہ بچوں کا باہر لے کر جاتے ہیں اور سڑک پر کیسے چلنا سڑک کیسے پار کرنی ہے کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں ،
وطن عزیز میں اس وقت جو صورتحال ہے اسے سامنے رکھتے ہو ئے تعلیمی نصاب میں راستوں کے حقوق کے حوالے سے ایک مضمون شامل کیا جانا چاہیے ۔

مدثر ظفر
مدثر ظفر
فلیش فکشن رائٹر ، بلاگر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *