جہاد فی سبیل اللہ اور رد الفساد

مجھ سمیت ہر مسلمان نبی کریمﷺ کے اس فرمان پر ایمان رکھتا ہے کہ جہاد قیامت تک جاری رہے گا۔ اس فرمان عالی شان کی شرح امام غزالی کے نزدیک یوں ہے کہ امت کو کبھی جہادِ اصغر کی مشغولی ہوگی تو کبھی جہادِ اکبر کی۔ جہادِ اصغر اور جہادِ اکبر دونوں زبانِ نبوت کی ارشاد فرمودہ مشہور اصطلاحات ہیں۔ مسلمان کی شان ہی یہ ہے کہ وہ اگر جہادِ اصغر میں لگا ہوا نہیں ہے یا جہادِ اصغر سے فراغت ہو چکی ہے تو فوری طور پر جہادِ اکبر کی طرف واپس ہوجائے۔

جہاد بمعنیٰ قتال میں چونکہ دشمن اسلحہ و ہتھیار کی زد پر ہوتا ہے اس لیے اس کے بارے میں احکامات بڑے واضح ہیں۔ جب قتل و قتال کا حکم ہو تو اس عمل میں لگے ہوئے لوگوں کو عورتوں، بچوں، بوڑھوں اور غیر محاربین پر ہتھیار استعمال کرنے کی ہرگز اجازت نہیں ہے۔ جس نے ایسا کیا اس کی سخت ترین الفاظ میں مذمت اور اس کے عمل سے بری ہونے کا اعلان زبانِ نبوت سے جاری ہوا ہے۔ اسی طرح مالِ غنیمت میں خورد برد پر جہنم کی آگ کی نوید ہے خواہ یہ عمل کسی صحابی سے ہوا ہو۔ ان تنبیہی احکامات یعنی نواہی کی تعلیم کی وجہ یہ ہے کہ اسلحہ بردار شخص اور تربیت یافتہ جنگجو عام آدمی سے زیادہ قوت والا ہوتا ہے اور اس قوت کے نشے میں اس سے، بشری تقاضے کی وجہ سے، کسی سے زیادتی کر جانا عین ممکن ہے۔ جہاد جیسا نیک عمل اس قسم کی بشری کمیوں سے الگ نہ کیا جائے تو فساد کا موجب بن جاتا ہے۔

وطنِ عزیز کی ریاستی فوج کو بیسویں صدی کی آٹھویں دَہائی میں علاقائی امن و سلامتی کو درپیش شدید خطرے کے پیشِ نظر عملی جنگ میں شرکت کرانے کا فیصلہ ہوا۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں ہوا جب ملک میں فوجی حکومت تھی چنانچہ ریاست اور فوج کا بیانیہ مختلف ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ برادر ہمسایہ اسلامی ملک افغانستان پر چڑھ دوڑنے والے سرخ ریچھ کے خلاف مزاحمت میں ہماری ریاستی فوج نے بھرپور حصہ لیا۔ چونکہ افغانستان والوں کے لیے یہ جنگ بیشتر علما کے نزدیک جہاد کا شرعی حکم رکھتی تھی اس لیے جب ہماری فوج نے کارروائیاں کیں تو اسی جذبہ جہاد کے ساتھ کیں۔ جہاد کا نام آئے اور عام مسلمان کے دل میں نبی کریم کے فرمان پر جان دینے کا جذبہ پیدا نہ ہو، یہ ممکن نہیں۔ چنانچہ سارے ملک میں جہاد میں حصہ لینے کی لہر سی چل پڑی، کہیں کم تو کہیں زیادہ۔

افغانستان میں جاری یہ جہاد ختم ہوا تو اس میں شریک ہتھیار بردار افغان مسلمان جتھوں میں حصولِ حکومت کے لیے مسلح گروہی فساد شروع ہوگیا۔ اس مکروہ خونیں عمل میں بیرونی ہاتھ کی کارفرمائی واضح تھی۔ بس یہاں سے ہمارے ہاں ریاست کا بیانیہ گومگو کا شکار ہوگیا کیونکہ فوج کا بیانیہ مختلف تھا۔ جس فوجی دماغ کو اس افغان جہاد کے لیے تیار گیا تھا اور جس کو معاشرے میں بہت پذیرائی دلائی گئی تھی اسے یک دم اس رخ سے ہٹانا ممکن نہ تھا۔ ریاستی اور نجی اسلحہ بردار اور جنگجو نئی سیاسی حکومت کے بس سے تقریبًا باہر ہوگئے۔ یہ اس لیے بھی ہوا کہ اس افغان جہاد کے پاکستانی سٹیک ہولڈر جنرل محمد ضیاء الحق کو جہاد ختم ہوتے ہی ختم کر دیا گیا تھا۔

خدا کا کرنا، افغانستان پر دوبارہ بیرونی حملہ ہوا۔ اب کی بار امریکہ چڑھ دوڑا تھا۔ وطنِ عزیز کا یہی جہادی ذہن، ریاستی اور نجی دونوں، ایک بار پھر سے کام سے لگ گیا۔ اس سے پہلے یہ لوگ کشمیر کی طرف بھی متوجہ ہوتے رہے تھے۔

اب وطنِ عزیز میں سیاسی حکومتوں کا دور چلا ہے تو ریاست کا نیا دفاعی و جہادی بیانیہ واضح ہونا شروع ہوا ہے۔ اصولی بات ہے کہ بیانیے کی تبدیلی ریاست کا حق ہے۔ اطمینان کی بات یہ ہے کہ ریاست کا بازوئے شمشیر زن بھی، اپنے اندر موجود بعضے ناہم آہنگ عناصر کے دباؤ کے باوجود، اس نئے ریاستی بیانیے کو روبعمل لانے (Implementation) میں سیاسی حکومت کے قدم بقدم ہے اور اپنے پیشہ ورانہ آئینی کردار کو ادا کرنے پر تیار ہے۔ یہ نیا بیانیہ، مختصر الفاظ میں، یوں ہے کہ اب ہر طرح کی فوجی کارروائی کے لیے صرف ریاستی فوج سے کام لیا جائے گا اور مسلح صالحین کے منظم نجی گروہوں کو استعمال نہیں جائے گا اور نہ ان کی پرداخت کی جائے گی۔ آنے والے دنوں میں حقانی نیٹ ورک اور حافظ سعید کے ساتھ معاملہ اس بدلتے ریاستی بیانیے کا رخ بھی واضح کرے گا اور ریاست کے نئے بیانیے کا امتحان بھی ہوگا۔

جو لوگ اور ان کو اکساتی بیرونی قوتیں اس نئے ریاستی بیانیے کے خلاف ہیں اور سماج میں فساد پیدا کر رہی ہیں ان کے اقدامات اور کارروائیوں سے اہلِ وطن کو بچانے کے لیے آپریشن رد الفساد شروع کیا گیا ہے۔ یہ آپریشن ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں ہے اور علاقائی امن و سلامتی کا ضامن ہے۔ ہمیں اس کی بھرپور حمایت کرنی چاہیے اور اس کے بارے میں غلط فہمیاں پھیلانے والوں اور اسے سبوتاج کرنے والوں سے ہوشیار رہنا چاہیے۔

حافظ صفوان محمد
حافظ صفوان محمد
مصنف، ادیب، لغت نویس

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *