ماہ رمضان میں صدقات و خیرات/عبدالرحمٰن عالمگیر کلکتوی(2)

فضائلِ صدقات
صدقہ ایک ایسا عملِ خیر ہے جس کے بے شمار فوائد ہیں۔ یہ انسان کے گناہوں کو دھو دیتا ہے، اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کو ختم کر دیتا ہے، مؤمن کو دوزخ سے محفوظ بناتا ہے۔ چھوٹے چھوٹے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
إِن تُبْدُوا الصَّدَقَاتِ فَنِعِمَّا هِيَ وَإِن تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا الْفُقَرَاءَ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ وَيُكَفِّرُ عَنكُم مِّن سَيِّئَاتِكُمْ وَاللَّـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ
(البقرة: 271)
اگر تم (بغیر اس کے کہ دل میں نام و نمود کی خواہش ہو) کھلے طور پر صدقات و خیرات کرو، تو یہ بھی اچھی بات ہے اگر پوشیدہ رکھو اور محتاجوں کو دے دو تو اس میں تمہارے لیے بڑی ہی بہتری ہے۔ یہ تمہارے گناہوں کو تم سے دور کردے گی۔
یاد رکھو تم جو کچھ بھی کرتے ہو خدا کے علم سے پوشیدہ نہیں، وہ ہر بات کی خبر رکھنے والا ہے۔

اس آیت میں نکتہ یہ بھی ہے کہ صدقہ سراً کرنا علانیہ صدقہ کرنے سے بہتر ہے۔ کوئی شرعی مصلحت ہو تو صدقہ کا اعلان کرنا جائز ہے۔ بہت حال دونوں صورتوں میں خیر ہے، لیکن سراً صدقہ کرنا زیادہ افضل ہے۔

صدقہ صرف گناہوں کو مٹانے کا ذریعہ ہی نہیں ہے، بلکہ یہ انسان کو دوزخ سے بھی بچاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ
(صحیح بخاری:6023)
جہنم سے بچو! خواہ آدھی کھجور ہی (کسی کو) صدقہ کر کے ہو سکے اور اگر کسی کو یہ بھی میسر نہ ہو تو اچھی بات کر کے ہی۔

صدقہ کرنے کی کوئی خاص رقم یا مقدار مقرر نہیں ہے۔ جو بھی اپنی استطاعت کے مطابق صدقہ کرے، وہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرے گا۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَبَقَ دِرْهَمٌ مِائَةَ أَلْفِ دِرْهَمٍ قَالُوا وَكَيْفَ قَالَ كَانَ لِرَجُلٍ دِرْهَمَانِ تَصَدَّقَ بِأَحَدِهِمَا وَانْطَلَقَ رَجُلٌ إِلَى عُرْضِ مَالِهِ فَأَخَذَ مِنْهُ مِائَةَ أَلْفِ دِرْهَمٍ فَتَصَدَّقَ بِهَا
(سنن نسائي: 2528)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’(کبھی) ایک درہم (کا ثواب) لاکھ درہم سے بڑھ جاتا ہے۔ صحابہ نے پوچھا: وہ کیسے؟ آپ نے فرمایا: ’’ایک آدمی کے پاس کُل دولت دو درہم ہوں، اس نے ان میں سے ایک صدقہ کر دے۔ اور وہیں دوسرا شخص اپنے مال کے ایک حصے سے ایک لاکھ درہم اٹھائے اور صدقہ کر دے۔‘‘

صدقات دینے والا فرشتوں کی دعاؤں کا حقدار بنتا ہے تو وہیں مال کو سینت سینت کر رکھنے والا فرشتوں کی بد دعا کا سبب بن رہا ہوتا ہے۔ یہ وعدہ اور وعید اللہ تعالیٰ کی حکمت، نظامِ حیات میں توازن، دولت کی مناسب تقسیم اور کامل عدل پر مبنی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
مَا مِنْ يَوْمٍ يُصْبِحُ الْعِبَادُ فِيهِ إِلَّا مَلَكَانِ يَنْزِلَانِ فَيَقُولُ أَحَدُهُمَا : اللَّهُمَّ أَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا ، وَيَقُولُ الْآخَرُ : اللَّهُمَّ أَعْطِ مُمْسِكًا تَلَفًا.
(صحیح بخاری: 1442، صحیح مسلم: 1010)
ہر دن جب بندے صبح کو اٹھتے ہیں تو دو فرشتے آسمان سے نازل ہوتے ہیں۔ ایک فرشتہ کہتا ہے کہ اے اللہ! خرچ کرنے والے کو اس کا بدلہ دے۔ اور دوسرا کہتا ہے کہ اے اللہ! مال کو روکے رکھنے والے اور بخیل کے مال کو برباد کر دے۔

صدقہ برکت کے حصول کا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے صدقہ کرنے والوں کو ان کے مال میں برکت اور ترقی کا وعدہ کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
مَثَلُ الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِي كُلِّ سُنبُلَةٍ مِائَةُ حَبَّةٍ وَاللَّـهُ يُضَاعِفُ لِمَن يَشَاءُ وَاللَّـهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ
(البقرة: 261)
جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں، ان کی (نیکی اور اجر میں برکت کی) مثال اس بیج کے دانے کی سی ہے جو زمین میں بویا جاتا ہے۔ (جب بویا گیا تھا تو صرف ایک دانہ تھا۔ لیکن جب بار آور ہوا، تو) ایک دانہ سے سات بالیاں پیدا ہوگئیں، اور ہر بالی میں سو دانے نکل آئے۔ (یعنی خرچ کیا ایک اور بدلے میں ملے سینکڑوں!) اور اللہ جسے چاہے اس سے بھی دوگنا کردیتا ہے۔ وہ بڑی ہی وسعت رکھنے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔

یعنی کہ صدقہ کرنے والے کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے سات سو گنا یا اس سے زیادہ ثواب ملتا ہے۔ جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:
منْ أنفقَ نفقةً في سبيلِ اللهِ، كتبتْ له سبعمائةُ ضعفٍ
(سنن نسائي: 3186)
جو شخص اللہ کی راہ میں ایک خرچ کرے، اس کے لیے سات سو گنا لکھا جاتا ہے۔

معاملہ یہیں پہ نہیں رکتا بلکہ اجر میں خلوص و للہیت کے باعتبار ملٹیپلیکیشن جاری رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
یَمۡحَقُ اللّٰہُ الرِّبٰوا وَ یُرۡبِی الصَّدَقٰتِ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یُحِبُّ کُلَّ کَفَّارٍ اَثِیۡمٍ ﴿۲۷۶﴾
(البقرہ: 276)
اللہ سود کو گھٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے اور (یاد رکھو) تمام ایسے لوگوں کو جو نعمت الٰہی کے ناسپاس اور نافرمان ہیں، اللہ کی پسندیدگی حاصل نہیں ہوسکتی۔

اللہ تعالیٰ صدقہ کو بڑھاتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ صدقہ کو اپنے بندے کے لیے اتنا بڑھا دیتا ہے کہ قیامت کے دن اس کا ایک چھوٹا سا کھجور کا ٹکڑا دیو ہیکل پہاڑ کی شکل اختیار کر لے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:
مَن تَصَدَّقَ بعَدْلِ تَمْرَةٍ مِن كَسْبٍ طَيِّبٍ، ولَا يَقْبَلُ اللَّهُ إلَّا الطَّيِّبَ، وإنَّ اللَّهَ يَتَقَبَّلُهَا بيَمِينِهِ، ثُمَّ يُرَبِّيهَا لِصَاحِبِهِ، كما يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ، حتَّى تَكُونَ مِثْلَ الجَبَلِ
(صحیح بخاری:1410، صحیح مسلم: 1014)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص حلال کمائی سے ایک کھجور کے برابر صدقہ کرے اور اللہ تعالیٰ صرف حلال کمائی کے صدقہ کو قبول کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے داہنے ہاتھ سے قبول کرتا ہے پھر صدقہ کرنے والے کے فائدے کے لیے اس میں بڑھوتری کرتا رہتا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے کوئی اپنے جانور کے بچے کو کھلا پلا کر بڑھاتا ہے تاآنکہ اس کا صدقہ پہاڑ کے برابر ہو جاتا ہے۔

صدقہ نفس کو مختلف قسم کی پاکیزگی اور تزکیہ عطا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
خُذ مِن أَموالِهِم صَدَقَةً تُطَهِّرُهُم وَتُزَكّيهِم بِها وَصَلِّ عَلَيهِم إِنَّ صَلاتَكَ سَكَنٌ لَهُم وَاللَّـهُ سَميعٌ عَليمٌ
(التوبہ: 103)
(اے پیغمبر) ان لوگوں کے مال سے صدقات قبول کرکے انھیں (بخل و طمع کی برائیوں سے) پاک اور (دل کی نیکیوں کی ترقی سے) تربیت یافتہ کردو، نیز ان کے لیے دعائے خیر کرو، بلاشبہ تمہاری دعا ان کے دلوں کے لیے راحت و سکون ہے، اور اللہ (دعائیں) سننے والا اور (سب کچھ) جاننے والا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ سخی بُخل، طمع، غرور، گھمنڈ، تعلی، اخلاقی پستی، اور غریبوں پر ظلم و ستم جیسے رذائل سے پاک ہوتا ہے، اس کا دل رحم اور شفقت سے لبریز ہوتا ہے، اور وہ تزکیۂ نفس کے ذریعہ اللہ کا قرب حاصل کرتا ہے۔

صدقہ کی برکتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ یہ مصائب اور اذیّتوں کو ٹالتا ہے۔ چاہے یہ مصیبت انفرادی ہو یا عمومی، وقتی ہو یا طویل مدتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن کے موقع پر نصیحت فرمائی تھی کہ:
إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ وَإِنَّهُمَا لَا يَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَكَبِّرُوا وَادْعُوا اللَّهَ وَصَلُّوا وَتَصَدَّقُوا
(صحیح بخاری: 1044، صحیح مسلم: 901)
بے شک سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں، اس پہ کسی کی موت و حیات کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا، جب تم انھیں (اس حالت میں) دیکھو تو اللہ کی بڑائی بیان کرو، اللہ تعالیٰ سے دعا مانگو، نماز پڑھو اور صدقہ کرو۔

اللہ تعالیٰ کے نیک بندے مصائب آنے پہ صدقہ کرتے ہیں، کیونکہ یہ مصائب کو دور کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ انسان کی پریشانیوں میں سے بیماریوں میں مبتلا ہونا ہے ایک بڑی پریشانی ہے۔ اللہ تعالیٰ صدقہ کرنے والے کو ان کی بیماری میں رحم فرماتا ہے۔

صدقہ کرنے والا روزِ قیامت ان سات خوش قسمتوں میں سے ہوگا جسے عرش کے نیچے جگہ ملے گی۔ جس دن اللہ کے سایہ کے علاوہ کوئی دوسرا چھاؤ نہیں ہوگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمْ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ الْإِمَامُ الْعَادِلُ وَشَابٌّ نَشَأَ بِعِبَادَةِ اللَّهِ وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ فِي الْمَسَاجِدِ وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللَّهِ اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وَتَفَرَّقَا عَلَيْهِ وَرَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ فَقَالَ إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاهَا حَتَّى لَا تَعْلَمَ يَمِينُهُ مَا تُنْفِقُ شِمَالُهُ وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللَّهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ
(صحیح بخاری: 660، صحیح مسلم: 1031)
سات قسم کے لوگوں کو اللہ تعالیٰ اس دن اپنے سائے میں جگہ دے گا جس دن اس کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہیں ہو گا: پہلا انصاف کرنے والا بادشاہ، دوسرا وہ نوجوان جو اپنے رب کی عبادت میں جوانی کی امنگ سے مصروف رہا، تیسرا ایسا شخص جس کا دل ہر وقت مسجد میں لگا رہتا ہے، چوتھے دو ایسے شخص جو اللہ کے لیے باہم محبت کرتے ہیں اور ان کے ملنے اور جدا ہونے کی بنیاد یہی «اللہ والی» محبت ہے، پانچواں وہ شخص جسے کسی باعزت اور حسین عورت نے (برے ارادہ سے) بلایا لیکن اس نے کہہ دیا کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں، چھٹا وہ شخص جس نے صدقہ کیا، مگر اتنے پوشیدہ طور پر کہ بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہیں ہوئی کہ داہنے ہاتھ نے کیا خرچ کیا تھا۔ ساتواں وہ شخص جس نے تنہائی میں اللہ کو یاد کیا اور (بے ساختہ) آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ۔

اللہ کے سایہ کے ساتھ ساتھ انسان کا کِیا ہوا صدقہ بھی اسے محشر کی تپش سے اس کی حفاظت کر رہا ہوگا۔ فرمانِ رسول ہے:
كلُّ امرئٍ في ظِلِّ صَدَقَتِه حتى يُقْضَى بين الناسِ
(صحيح الترغيب: 872)
(روزِ قیامت صدقہ کرنے والا) ہر شخص اپنے صدقات و خیرات کے سایہ تلے ہوگا یہاں تک کہ اس کا حساب و کتاب مکمل نہ ہو جائے۔

یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ صدقہ کرنے والا اپنے صدقے سے خود کو کتنا زیادہ نفع پہنچاتا ہے۔ اس کا حقیقی علم تو صرف اللہ کو ہی ہے۔ صدقہ کرنے والا صدقہ کِیے جانے والے کی کسی ایک ضرورت کو پورا کر رہا ہوتا ہے۔ لیکن اللہ اس پر دنیاوی و اخروی برکات کی بارش کا وعدہ، بشارت اور سعادت کی نوید جاں فزاں سناتا ہے۔ انسان کو یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ وہ صدقہ کرکے متصدَق پہ احسان کر رہا ہے۔ دراصل اس کے صدقات کی توفیق ملنے اور قبول ہونے سے جو فائدے اسے ملنے والے ہیں وہ انسان کی تصورات سے پرے ہیں۔
صدقہ تقسیم کرنے کا ایک اہم ادب: حسنِ ادائیگی
صدقات کی تقسیم اس انداز میں ہو کہ کسی کے جذبات ٹھیس نہ پہنچے، لینے والے پہ مال کا رعب نہ جھلکے، عمداً یا سہواً کوئی ایسی بات یا اشارے نہ کریں جو ان کی تحقیر کا سبب بنے، ایسا نہ ہو کہ جانے انجانے میں آپ کے صدقات کا بدلہ دنیاوی واہ واہی تک محدود رہ جائے۔ ایک نیک مسلمان اپنے مال کو اس طرح ضائع نہیں کرتا، بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاتا ہے کہ اسے صدقات دینے کی استطاعت صرف اللہ کے فضل و انعام سے میسر ہے، ورنہ وہ جب چاہے دینے والے ہاتھ کو لینے والے ہاتھ میں پھیر دے۔ آپ لوگوں کے ساتھ اُسی طرح اچھا سلوک کریں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ حسنِ معاملہ کیا ہے۔ اخلاص کا دامن چھوٹنے نہ دیں۔ اپنے صدقے کو پھولوں کے گلدستہ کی مانند سجا کر پیش کریں گویا کہ آپ کسی عظیم الشان شخص کی خدمت میں ہدیہ پیش کر رہے ہوں، اور اللہ کے لیے پیش کیے جانے والا مال کیسے تحفے کے آداب سے خالی ہو سکتا ہے۔ صدقہ دیتے وقت چہرے پر مسکراہٹ ہو، میٹھے بول ہوں، پیار بھرا لہجہ ہو، تاکہ وصول کنندہ کو اعتماد اور خوشی محسوس ہو، اس طرح آپ صدقے کے ساتھ ساتھ حسنِ سلوک کا بھی اجر پا لیں گے۔ اگر اس کا خیال نہ رکھا گیا، ریاکاری کا خمار ذہن و دماغ پر حاوی رہا تو آپ کی ساری جد و جہد عبث ہو جائے گی۔ ذرا دیکھیں قرآن کتنی بہترین تمثیل میں وضاحت کرتا ہے:
یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُمْ بِالْمَنِّ وَالْأَذَى كَالَّذِي يُنْفِقُ مَالَهُ رِئَاءَ النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَيْهِ تُرَابٌ فَأَصَابَهُ وَابِلٌ فَتَرَكَهُ صَلْدًا لَا يَقْدِرُونَ عَلَى شَيْءٍ مِمَّا كَسَبُوا وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ
[البقرة: 264] مسلمانو! اپنی خیرات کو احسان جتا کر اور لوگوں کو اذیت پہنچا کر برباد نہ کردو، جس طرح وہ آدمی برباد کردیتا ہے، جو محض لوگوں کو دکھانے کے لیے مال خرچ کرتا ہے، اور اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتا۔ سو ایسے لوگوں کی مثال ایسی ہے۔ جیسے (پتھر کی) ایک چٹان، اس پر مٹی کی تہہ جم گئی، اور اس میں بیج بویا گیا۔ جب زور سے پانی برسا، تو (ساری مٹی مع بیج کے بہہ گئی) اور ایک صاف اور سخت چٹان کے سوا کچھ باقی نہ رہا (سو یہی حال ان ریا کاروں کا بھی ہے) انھوں نے (اپنے نزدیک خیر، خیرات کرکے) جو کچھ بھی کمایا تھا وہ (ریا کاری کی وجہ سے) رائیگاں گیا۔ کچھ بھی ان کے ہاتھ نہ لگا۔ اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ ان لوگوں پر (فلاح وسعادت) کی راہ نہیں کھولتا جو کفر کی راہ اختیار کرتے ہیں۔

رمضان اور صدقات

رمضان عبادت، جود و سخا، احسان اور قربتِ الٰہی کا موسم ہے۔ جس میں لوگوں کے دل سخاوت سے بھرے ہوتے ہیں۔ یہ وہ ماہ ہے جس میں نیک بندے خیر میں مقابلہ کرتے ہیں، ایک دوسرے پہ سبقت لے جانا چاہتے ہیں۔ اللہ کا فیض و کرم جاری رہتا ہے۔ رمضان المبارک کا مہینہ صدقے کے لیے بہترین موقع ہے۔ ماہِ قرآن کی مناسبت سے صدقے کی فضیلت اور ثواب میں بہت زیادہ اضافہ ہو جاتا ہے۔ ماہ رمضان میں صدقات و خیرات کا اجر دیگر اعمال کی طرح دو چند ہو جاتا ہے۔ صدقات و خیرات کے ذریعہ اپنے بھائی کا دست و بازو بننا بہترین اعمال میں سے ایک ہے۔ جس کا اجر دس گنا سے لے کر کئی گنا تک اللہ اپنے فضل سے بڑھا دیتا ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ:
كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ يُضَاعَفُ، الْحَسَنَةُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعمِائَة ضِعْفٍ، قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِلَّا الصَّوْمَ، فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، يَدَعُ شَهْوَتَهُ وَطَعَامَهُ مِنْ أَجْلِي لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ: فَرْحَةٌ عِنْدَ فِطْرِهِ، وَفَرْحَةٌ عِنْدَ لِقَاءِ رَبِّهِ «وَلَخُلُوفُ فِيهِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ»
(صحیح مسلم:1151)
ابن آدم کا ہر عمل بڑھایا جاتا ہے، نیکی دس گنا سے سات سو گنا تک (بڑھا دی جاتی ہے۔) اللہ تعالیٰ نے فرماتا ہے: سوائے روزے کے (کیونکہ) وہ (خالصتاً) میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا، وہ میری خاطر اپنی خواہش اور اپنا کھانا پینا چھوڑ دیتا ہے۔ روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں: ایک خوشی اس کے (روزہ) افطار کرنے کے وقت کی اور (دوسری) خوشی اپنے رب سے ملاقات کے وقت۔ روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ پسندیدہ ہے۔

اسوۂ نبوی
صدقے کا اجر و ثواب سال کے بارہ مہینوں میں عظیم ہے، لیکن رمضان المبارک میں مہینے کی عظمت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس ماہ میں کثرتِ انفاق کی اتباع کے نتیجے میں صدقات کا ثواب اور بھی زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ رسولِ رحمت ماہِ رمضان میں عنایات و نوازشات کی سراپا فیضان بن جاتے تھے۔ اسوۂ کائنات محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جود و سخا کی رفتار رمضان المبارک میں تند ہوا سے بھی زیادہ تیز چلتی تھی۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ:
كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ النَّاسِ وَكَانَ أَجْوَدُ مَا يَكُونُ فِي رَمَضَانَ حِينَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ ، وَكَانَ جِبْرِيلُ يَلْقَاهُ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ فَيُدَارِسُهُ الْقُرْآنَ فَلَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حِينَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ أَجْوَدُ بِالْخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ (صحیح بخاری: 3220)
رسول اللہ ﷺ سب سے زیادہ سخی تھے اور آپ کی سخاوت رمضان شریف کے مہینے میں اور بڑھ جاتی، جب حضرت جبریل علیہ السلام آپ سے ملاقات کے لیے ہر روز آنے لگتے۔ حضرت جبریل علیہ السلام آپ ﷺ سے رمضان کی ہر رات میں ملاقات کے لیے آتے اور آپ سے قرآن کا دورہ کیا کرتے تھے۔ آنحضرت ﷺ خصوصاً اس دور میں جب حضرت جبریل علیہ السلام روزانہ آپ سے ملاقات کے لیے آتے تو آپ خیرات و برکات میں تیز چلنے والی ہوا سے بھی زیادہ سخی ہو جاتے تھے۔

جاری ہے

Facebook Comments

عبد الرحمن عالمگیر کلکتوی
ایک ادنی سا طالب علم جو تجربہ کار لوگوں کے درمیان رہ کر کچھ سیکھنے کی کوشش کرتا رہتا ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply