صحن حرم میں ایک خوبصورت نظارہ ابابیلوں کے اڑنے کا بھی ہے ، صبحِ دم یہ بھی تازہ دم ہوتی ہیں سو ان کی آواز بھی تازہ ہوتی ہے ، لیکن ایک نظارہ مغرب سے کچھ وقت پہلے کا بھی ہوتا ہے ، آسمان پر رات اتر رہی ہوتی ہے اور حرم کے صحن کی روشنیاں پوری طرح روشن ہو چکی ہوتی ہیں ، سو ایسے میں جب یہ آسمان پر اڑتی ہیں اور آوازیں نکالتی ہیں تو وہ ایک کمال منظر ہوتا ہے ۔ لیکن یہ جو کہتے ہیں کہ یہ غول در غول آ کر بیت اللہ کا طواف کرتی ہیں تو یہ ہماری اپنی خوش عقیدگی ہے ، ابابیلوں کو معلوم بھی نہیں ہوتا کہ وہ جو اڑ رہے ہیں یہ طواف ہے ۔
یہ نہیں کہا جا سکتا ہے یہ ابابیلوں کہ وہی نسل ہے کہ جو ابراہہ کے فوجیوں پر بمبار طیاروں کی شکل میں پل پڑی تھی یا حرم کے اطراف میں اس واقعے سے پہلے بھی یہ پرندے موجود تھے ؟
لیکن یہ ضرور کہا جائے گا کہ ایک واقعہ ایسا ہوا تھا جو معمول سے ہٹ کر تھا ، ابرہہ ایک بہانہ بنا کر خانہ کعبہ کو منہدم کرنے واسطے مکہ پر چڑھ دوڑا ۔ بہانہ اس نے یہ بنایا کہ کسی عرب نے اس کے گرجے کے اندر غلاظت ڈال دی ہے اور یوں ارادہ بے حرمتی کی گئی ہے ۔ اب اس بات کو بہانہ بنا کر وہ خانہ کعبہ کو ڈھانے کے واسطے لشکر لے کر آیا ۔قریش نے مقابلے کی ہمت نہ پائی تو شہر چھوڑ کر پہاڑوں پر چڑھ کے بلکہ جناب عبدالمطلب اور ابرہہ کا وہ دلچسپ مکالمہ بھی معروف ہے کہ جب ابرہا کے فوجیوں نے ان کے اونٹ اپنے قبضے میں کر لیے تو وہ اس کے پاس گئے کہ یہ میرے اونٹ واپس کر دو ، اس نے اونٹ واپس کیے اور ساتھ ہی یہ کہا کہ :
“کیا تم کو اپنے اس شہر اور اپنے اس حرم کی کوئی فکر نہیں کہ اس حوالے سے تم نے کوئی بات نہیں کی اور اپنے اونٹ واپس لینے اگئے ہو ”
اس پر جناب عبدالمطلب نے کہا کہ :
“جس کا یہ گھر ہے وہ اس کی حفاظت کرنا خوب جانتا ہے ”
اس پر وہ ہزار غرور اپنے لہجے میں سمو کے کہنے لگا کہ
” اللہ بھی آج اسے میرے ہاتھ سے نہیں بچا سکتا ”
عبدالمطلب نے کہا:
” بہتر ہے وہ جانے اور تو جان ”
عبدالمطلب نے ابرہا سے واپس ا کر اپنے ساتھیوں کو یعنی اہل قریش کو کہا کہ ہم اس کا مقابلہ تو کر نہیں سکتے سو پہاڑوں پر نکل جائیں سب قریشی اس پاس کے پہاڑوں پر چڑھ گئے شہر خالی کر دیا اور عبدالمطلب نے بیت اللہ کی چوکھٹ پکڑ کر یہ دعائیہ اشعار پڑھے۔
«لَاهُمَّ إِنَّ الْمَرْء يَمْ نَع رَحْلَهُ فَامْنَعْ رِحَالك» ***
«لَا يَغْلِبَنَّ صَلِيبُهُمْ وَمِحَالُهُمْ أَبَدًا مِحَالَك»
یعنی ہم بےفکر ہیں ہم جانتے ہیں کہ ہر گھر والا اپنے گھر کا بچاؤ آپ کرتا ہے۔ اے اللہ! تو بھی اپنے گھر کو اپنے دشمنوں سے بچا یہ تو ہرگز نہیں ہو سکتا کہ ان کی صلیب اور ان کی ڈولیں تیری ڈولوں پر غالب آ جائیں
اور پھر اللہ تعالی نے اس گھر کی یوں حفاظت کی کہ ایک تاریخ رقم ہو گئی۔
أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحَابِ الْفِيلِ ۔۔
أَلَمْ يَجْعَلْ كَيْدَهُمْ فِي تَضْلِيلٍ۔۔
وَأَرْسَلَ عَلَيْهِمْ طَيْرًا أَبَابِيلَ۔۔
تَرْمِيهِمْ بِحِجَارَةٍ مِنْ سِجِّيلٍ۔۔
فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَأْكُولٍ۔۔۔
کیا تونے نہیں دیکھا تیرے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کس طرح کیا۔
کیا اس نے ان کی تدبیر کو بے کار نہیں کر دیا؟
اور ان پر جھنڈ کے جھنڈ پرندے بھیج دیے۔
جو ان پر کھنگر (پکی ہوئی مٹی) کی پتھریاں پھینکتے تھے۔
تو اس نے انھیں کھائے ہوئے بھس کی طرح کر دیا۔
اس بار تو مجھے صحن حرم میں یوں بیٹھنے کا موقع کم ملا کہ بنا احرام کے آپ کو صحن حرم میں داخل نہیں ہونے دیتے لیکن بارہ سال پہلے جب میں گیا تھا اور یہ پابندیاں نہ تھیں تب میں روزانہ مغرب کی نماز سے پہلے ہی صحن حرم میں بیٹھ جاتا ۔ اکثر شیخ سدیس نماز پڑھاتے حرم کا صحن سیاہ آسمان کے نیچے چمکتا ہوا اور اس چمکتی روشنی میں ابابیلوں کا اڑنا ، یہ سب کمال نظارہ ہوتا ہے ۔
عموماً ابرہہ کے حملے اور قریشیوں کی مزاحمت نہ کرنے کہ سبب یہ ذہن میں آتا ہے کہ شاید ابرہہ کو کسی انسانی مزاحمت کا سامنا کرنا ہی نہ پڑا تھا تو یہ بات درست نہیں ہے ۔ عربوں نے راستے میں اس کا مقابلہ کیا تھا دو جگہ پر باقاعدہ جنگ ہوئی تھی ۔ لیکن ابرہہ کا لشکر بہت بڑا تھا ، جبکہ مقابلے میں مقامی قبائل آئے تھے جن کی طاقت کم تھی اسلحہ کمزور تھا اور وسائل تھوڑے ۔البتہ طائف والوں نے اس سے لڑائی کی بجائے صلح کی اور تعاون کیا اور ساتھ اپنا رہنما دیا کہ لشکر کو مکہ کے راستے پر چھوڑ دے ۔۔
گو یہ میں سفر نامہ لکھ رہا ہوں لیکن یہاں پر یہ دلچسپ پہلو ذکر کیے بغیر آگے بڑھنے کو جی نہیں چاہ رہا کہ جناب جاوید احمد غامدی نے اس سورت کی تفسیر میں ابابیلوں کے ہاتھوں ابرہہ کے لشکر کے مارے جانے کا انکار کیا ہے ۔ ان کا یہ کہنا ہے کہ ابرہہ کے لشکر پر پتھر قریشیوں نے پھینکے تھے اور اللہ نے اپنی قدرت سے ان تھوڑے قریشیوں کے تھوڑے پتھروں میں بھی اتنی اضافی طاقت بھر دی تھی کہ انہوں نے ابرہہ کے لشکر کو بھوسہ کر دیا ۔ میرے لیے اس میں دلچسپی کا سامان یہ ہے کہ جو اللہ تھوڑے قریشیوں کے تھوڑے پتھروں میں پھینکنے کے بعد میزائلوں والی طاقت پیدا کر سکتا تھا کہ ہاتھی اور ابرہہ کا عظیم لشکر سب بھوسہ بن گئے اس کے لیے ابابیلوں کے منہ سے نکلے ہوئے کنکروں سے یہ کام کرنا کیسے مشکل تھا ؟؟
اور جب مقصود بھی اللہ کا اپنی طاقت کا اظہار ہو کہ ابرہہ نے ابھی کچھ دیر پہلے ہی تو کہا تھا کہ
“آج اللہ بھی بیت اللہ کو میرے ہاتھوں سے گرانے سے نہیں بچا سکتا ”
تو تب بہترین صورت اس غرور کے علاج وہی تھی جو پیش آئی کہ چڑیا سے بھی چھوٹے پرندوں کی چونچوں سے دال کے دانوں جتنے پتھر گر رہے تھے اور لشکر کھایا ہوا بھوسہ بن رہے تھے ۔
ہائے ۔۔۔۔۔۔ مجھے لکھتے ہوئے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی وہ روایت یاد آگئی کہ فرماتی ہیں :
” ابرہہ کے لشکر کے فیل بان اور چرکٹے کو میں نے مکہ شریف میں دیکھا دونوں اندھے ہو گئے تھے چل پھر نہیں سکتے تھے اور بھیک مانگا کرتے تھے۔”
اسی طرح سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں اساف اور نائلہ بتوں کے پاس یہ بیٹھے رہتے تھے جہاں مشرکین اپنی قربانیاں کرتے تھے اور لوگوں سے بھیک مانگتے پھرتے تھے اس فیل بان کا نام انیسا تھا۔
بیت اللہ کا ذکر چل رہا ہے تو بیت اللہ کی عمارتوں کا بھی کچھ بیان ہو جائے ۔ جب شاہ فہد کی موجودہ توسیع نہیں ہوئی تھی تو صحن حرم میں ایک راستہ تھوڑا سا نیچے کو جاتا تھا اس میں سیڑھیاں بنی ہوئی تھیں اور اس راستے کے اطراف میں چند فٹ اونچی دیوار تھی ۔ جدھر سیڑھیاں تھی صرف وہ راستہ کھلا ہوتا تھا اور یہ زم زم کے کنویں کو جاتا تھا ۔ یقیناً یہ حاجیوں کے طواف میں ایک رکاوٹ کی صورت تھی ۔ لیکن زمزم بھی تو پینا ہوتا تھا کہ حاجی جب طواف کر لیتے اور مقام ابراہیم پر دو نفل ادا کر کے زمزم پینا ہوتا تو وہ نیچے اترتے ، وہاں آگے زمزم کی ٹوٹیاں لگی ہوتی تھیں ۔اور اس سے کچھ آگے کنواں تھا ۔
آج سے ٹھیک چوبیس برس پہلے میں حرم میں گیا تھا تو ان سیڑھیوں سے اترا تھا آگے زمزم کا کنواں نظر تو نہیں آ رہا تھا یا شاید میں مزید آگے نہ بڑھا تھا لیکن میں نے وہ عمارت اپنے لڑکپن میں دیکھ رکھی ہے ۔ بیس برس پہلے جب شاہ فہد نے حرم کی توسیع کا سلسلہ شروع کیا تو اس وقت اس کنویں اور اس سے متعلقہ عمارت سب کے اوپر چھت ڈال دی گئی ۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ حاجیوں کے طواف کی ایک بڑی رکاوٹ دور ہو گئی اب صحن حرم میں مطاف میں واحد چھوٹا اس گنبد نما عمارت مقام ابراہیم ہیں اس کے علاوہ حاجی بغیر کسی روک ٹوک کے طواف کر سکتے ہیں ہاں مجھے یاد آیا ہماری بہت سی بہنیں اطراف میں یوں بیٹھی ہوتی ہیں کہ حاجیوں کے لیے وہ کسی منڈیر سے کم نہیں ہوتی اور جو کناروں پہ طواف کر رہے ہوتے ہیں ان کو پھر بہت احتیاط کرنا پڑتی ہے ۔
زم زم کا ذکر آیا تو موجودہ انتظامیہ کے اس حسن انتظام کی تعریف تو بنتی ہے کہ جو انہوں نے وہاں موجود حاجیوں کی خدمت میں زمزم پیش کرنے کا بہترین طریقہ وضع کیا ہے ۔ خاکی رنگ کے کولر جگہ جگہ پڑے ہوتے ہیں ، سٹین لیس سٹیل کے جوکٹھے میں بند یہ چار چار کی تعداد میں ہوتے ہیں ۔ ہر کولر کے نیچے ایک چھوٹی سی ٹینکی بنی ہوتی ہے اور کولر کے ساتھ بنے ایک خانے میں ڈسپوزیبل گلاس اچھی خاصی تعداد میں موجود ہوتے ہیں ، حاجی گلاس پکڑتے ہیں پانی پیتے ہیں اور دوسرے خانے میں ڈال دیتے ہیں ۔ جو اضافی پانی گرتا ہے وہ اس چھوٹی ٹینکی میں جمع ہوتا رہتا ہے ان چاروں کولروں کے پیچھے مزید چار کولر پڑے ہوتے ہیں جو پہلے سے بھرے ہوتے ہیں ۔ جب یہ کولر خالی ہو جاتے ہیں تو خاکی وردی میں ہی ملبوس عملہ بھرے ہوئے کولروں کو ان خالی کولروں کی جگہ پر رکھ دیتا ہے اور ٹھنڈا ٹھار پانی حاجیوں کی خدمت میں پیش کر دیا جاتا ہے ۔ عملہ انتہائی مہذب اور نرم لہجے کے ساتھ حاجیوں کی رہنمائی کرتا ہے جو زیادہ تر بنگاکی اور پاکستانی افراد پر مشتمل ہے ۔ اب حاجی صاحبان اس چھوٹے سے گلاس کے ذریعے بوتلیں بھرتے ہیں ، کچھ پانی نیچے گراتے ہیں ۔ عملہ ان کو منع کرتا ہے اور حاجی دوسرے کولر پر جا کے بیٹھ جاتے ہیں ۔ یوں
کھیلیں آنکھ مچولی آ
کا منظر مستقل چلتا ہے ۔ حاجی زیادہ سے زیادہ زمزم پینا چاہتے ہیں اور یہ زیادہ سے زیادہ پینا اسی صورت میں ممکن ہوتا ہے کہ آپ بوتلیں بھر بھر کر اپنے ہوٹل میں بھی لے جائیں تاکہ وہاں قیام کے دوران بھی یہ پانی استعمال ہو ۔ اس کا دوسرا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اچھے خاصے ریال بچ جاتے ہیں ۔ بازار میں تو بوتلوں میں بند عام پانی کی ڈیڑھ لیٹر والی بوتل کی قیمت غالباً دو ریال تھی لیکن جس ہوٹل میں میں ٹھہرا ہوا تھا وہاں پر ایک لٹر کی پانی کی بوتل بارہ ریال کی تھی ۔یقیناً اس کا سبب یہی تھا کہ وہ ایک پنج تارہ ہوٹل تھا سو ان کے نرخ کچھ اپنے ہی ہوتے ہیں۔
اس نرخ والا پانی پینا آپ کو اشرافیہ میں شامل ہونے کا احساسِ تو دلا سکتا ہے لیکن بعد کے پچھتاوے سے بہتر ہے مفت کا زمزم بھر کے ہوٹل میں لے آئیں ۔ اچھا دو تین ماہ پہلے ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا کہ میرے ایک قریبی عزیز انگلستان سے آئے تو ان کے چھوٹے بچوں کو پانی کا مسئلہ تھا ۔ میں ان بچوں کے لیے پانی لینے کے لیے بحریہ ٹاؤن کے ایک بڑے سپر سٹور پر گیا ۔ ایک لیٹر پانی ایک ہزار روپے کا تھا میں نے کافی زیادہ بوتلیں لیں ، سٹور کے ملازم نے ٹرالی پر رکھیں اور ٹرالی دھکیلتا میری گاڑی تک مجھے چھوڑنے آیا ۔ پانی لیتے وقت مجھے دائیں بائیں کے لوگ کوئی دو دو یا چار چار انچ چھوٹے نظر آنا شروع ہو گئے اور وہ بھی مجھے اچٹتی چور نگاہوں سے دیکھ رہے تھے یہ کہ بندہ فرانس کا پانی پیتا ہے ۔۔۔۔ اللہ مجھے معاف فرمائے ، میرے اندر جیسے کوئی زرداری اتر رہا تھا۔۔۔
حرم کی انتظامیہ نے حرم کی بیرونی دیوار کے ساتھ بوتلیں بھرنے کے لیے بھی ٹوٹیاں لگائی ہوئی ہیں اور وہاں پر بھی حاجیوں کی قطاریں لگی ہوتی ہیں اور خوب زمزم کی بوتلیں بھری جا رہی ہوتی ہیں ۔
جہاں تک آب زمزم کی فضیلت کا معاملہ ہے تو یہاں پر میں یہ بات ضرور کہنا چاہوں گا کہ اس میں موجود خوبیاں اور خصوصیات کا سائنسی تجزیہ کرنا یا نہ کرنا ایک بیکار سی مشق ہے ۔ ہمارے اردو بازار میں پچھلے کچھ عرصہ پہلے اب زمزم کے حوالے سے تقریبا دو سو صفحات پر مشتمل ایک کتاب بھی آئی تھی جس کا مطالعہ کرنے کا مجھے موقع ملا تھا ۔ اس میں زمزم اس کے کنویں کی مکمل تاریخ بھی درج تھی اور ساتھ ساتھ سعودی حکومت کے بہترین انتظام و انصرام کے بارے میں بھی مکمل آگاہی تھی کہ یہ کس کس طرح اس تمام تر معاملے کو منظم و مرتب کرتے ہیں ۔ یہ ایک تفصیلی موضوع ہے لیکن ہمارے بعض دوست زمزم کو معدنی پانی قرار دے کر اس میں موجود صحت بخش اجزاء اور خصوصیات کے “نارملائز” کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ جہاں پر یہ معدنی پانی آئے گا وہاں پر وہاں اس پانی میں ایسی خوبیاں پیدا ہو ہی جاتی ہیں ۔ تو اس پس منظر میں میں ایک بات عقیدے کی کہنا چاہوں گا کہ ہم بطور مسلمان اس پانی میں شفا اور فضیلت کو اس کے سائنسی اور طبی خصائص کی بنیاد پر نہیں مانتے ۔ میں یہ بات تسلیم کرتا ہوں کہ عین ممکن ہے کہ دنیا میں اسی ماحول اور اسی “انوائرمنٹ” میں کہیں اور سے بھی کوئی پانی کا چشمہ ابلے تو اس میں ظاہری خصوصیات ایسی ہی مل جائیں ۔لیکن ہم آب زمزم میں چھپی شفا اور اس کی فضیلت کو صرف ان دو ہونٹوں سے نکلے الفاظ کی بنیاد پر مانتے ہیں
کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زمزم پیتے ہوئے فرمایا :
” ماء زمزم اسی لیے ہے جس کے لیے اسے نوش کیا جاۓ ، اے اللہ میں روزقیامت کی تشنگی دورکرنے کے لیے پی رہا ہوں “
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں