پینئیم نارتھ امریکہ کی ریاست ہے، یہ ریاست 13 اضلاع پر مشتمل تھی، ان 13 اضلاع کو کیپیٹول شہر سے کنٹرول کیا جاتا تھا۔لگ بھگ 75 برس پہلے پینئیم میں بغاوت پھوٹ پڑی، 13واں ضلع اس بغاوت کی سرپرستی کر رہا تھا۔بغاوت ناکام ہوئی اور کیپیٹول نے 13واں ضلع مکمل طور پر نیست و نابود کرکے ، اس کے کھنڈرات کو باقی کے 12 اضلاع کے لیے نشانِ عبرت بنا ڈالا۔
کیپیٹول نے ناکام بغاوت کو کچلنے کے بعد 12 اضلاع کی عوام کو یرغمال بنا کر گھروں تک محدود کر دیا، کرفیو لگا کر بنیادی حقوق بھی معطل کر دیے گئے۔ریاست نے ڈکٹیٹر شپ اور مارشل لاء کو عوام کا نیا آئین بنا دیا۔بھوک، افلاس، قید و بند، اغواء و قتل، گمشدگی اور لاپتہ ہونا پینئیم کی عوام کے لیے سزائے مسلسل مقرر ہوئی۔لیکن کیپیٹول نے اسے کافی نہیں جانا اور لوگوں کو برابر ڈرانے اور خوفزدہ کرنے کے لیے 12 ضلعوں کی چوک چوراہوں پر فوج کی تعیناتی، مہلک فوجی اسلحے کی نمائش، غیر قانونی جبر و دھونس، دن رات کا تعاقب،جا بے جا نشانہ بازی اور ہراسانی کے ساتھ ساتھ،ٹیلی وژن پر ایک کھیل شروع کیا،جس کا نام “بھوک کے کھیل” یا “The Hunger Games”رکھا گیا۔
“بھوک کے کھیل” کا کچھ پسِ منظر سامنے رکھتے ہیں۔
دراصل یہ کھیل بھی یونانیوں کے اس کھیل جیسا ہے جس میں مفتوح اقوام کے بہادروں کو غلام بنا کر بازاروں میں بیچا جاتا ہے۔
یونانی انہیں بازاروں سے خرید کر، حکومتی اور عوامی سطحوں سے منظور و مقبول شدہ اکھاڑوں میں یرغمال رکھتے، پھر ان کے ہاتھوں میں خونی ہتھیار سونپ کر، یا ہتھیاروں کے بِنا، خالی ہاتھ اور نہتا،موت کے اکھاڑے میں اتارا جاتا۔وہاں ان کے مقابلے آپس میں رکھوائے جاتے یا پھر انہیں بھوکے درندوں سے لڑایا بھڑایا جاتا۔
موت کے اس کھیل پر جوئے لگتے اور بعض اوقات بچ جانے والے گلیڈیئٹر کو آزادی بھی بخش دی جاتی۔
اکھاڑے میں موجود رؤسا، اشرافیہ، وزراء، قاضی اور اثر و رسوخ رکھنے والے افراد خاص جبوترے میں براجمان رہ کر موت کے اس کھیل سے لطف اندوز ہوا کرتے۔آخر میں بچ جانے والے گلیڈیئٹر کی بھی جان بخشی کی اجازت مہمانِ خصوصی سے لے جاتی۔ایسا ہونا بھی عام تھا کہ جب کوئی گلیڈیئٹر جیت جاتا اور اب اسے آزادی ملنا ہوتی لیکن مہمان خصوصی کا دل جان بخشی کا نہ ہوتا تو وہ ہاتھ کے انگوٹھے کو نیچے کر کے اشارہ کرتا کہ اسے بھی قتل کر دیا جائے۔
“دی ہنگر گیمز یا بھوک کے کھیل “بھی ایسی ہی ایک کہانی ہے جس میں بغاوت کی سزاء کو تازہ دم رکھنے اور عوام کو خوفزدہ و ہراساں کرنے کے لیے پینئیم کا کیپیٹول ہر سال 12 ضلعوں کو حکم دیتا کہ وہ ہر ضلعے سے 12 سال سے لیکر 18 سال تک کے دو نوجوان، ایک لڑکی اور ایک لڑکا اس موت کے کھیل کے لیے کیپیٹول کو بھیجیں۔
ان کھلاڑیوں کو کیپیٹول نے رضاکار کا نام دے رکھا تھا۔
ہم اس کھیل کے 74 ویں سالانہ سیزن کی یہاں بات کرنے والے ہیں۔
12 اضلاع کی عوام کی کنپٹی پر رائفل دھر کر، شہروں کے اوپر جیٹ فائٹر اڑا کر، گھر گھر چھاپے مار کر، عورتوں اور بچوں کو گلیوں میں بے لباس گھسیٹ کر،12 اضلاع کی بے بس اور مظلوم عوام سے دو دو رضاکار زور زبردستی وصولے جاتے اور انہیں ٹرین پر شہر شہر گھما کر، ہر ٹرین سٹیشن پر اس ضلع کی جمع شدہ عوام کے سامنے لایا جاتا جہاں انہیں کیپیٹول کے طرف سے دیے گئے پرچے اور
چھٹیاں پڑھنے کے لیے تھمائے جاتے۔
پلیٹ فارمز پر لوگ مایوس اور پتھرائی ہوئی آنکھوں سے رضاکاروں کو دیکھتے ہیں، وہ رونا چاہتے ہیں لیکن انہیں آنسو بہانے کی اجازت نہیں۔
اس بار رضاکاروں میں ایک ضلع سے ایک خاص رضا کار اپنی چھوٹی بہن کی جگہ شرکت کرتی ہے، اس کا نام کیٹنس ایورڈین ہے۔کیٹنس ایورڈین بھوک کے اس بدنام زمانہ کھیل سے تنگ آ چکی ہوتی ہے، کچھ ریلوے سٹیشن پر وہ منتظر عوام کے سامنے کیپیٹول سکرپٹڈ چٹھیاں پڑھتی ہے لیکن وہ جانتی ہے کہ عوام اس سے یہ سب نہیں سننا چاہتے۔
آگے کے سٹیشنز پر ایورڈین چٹھی میں کوئی ایک جملہ ہیر پھیر کرکے بولتی ہے، دیکھتے ہی دیکھتے یہ جملہ 12 اضلاع کے ہر پلیٹ فارم پر ڈسکس ہو رہا ہوتا ہے۔
کیپیٹول چونک جاتا ہے اور وہ اب کیٹنس ایورڈین کے رویہ کے لٹمس پیپر ٹیسٹ کے طور پر پینئم کی عوام پر آزماتا ہے۔
عوام میں اچانک سے آس اور امید جاگ جاتی ہے، کسی ریلوے سٹیشن پر لوگ ایورڈین کے لیے ہاتھ کی تین انگلیاں اٹھا کر انقلاب فرانس والی علامت بناتے ہیں اور سلیوٹ کرتے ہیں۔
تین انگلیوں کا مطلب ہے
“الوداع، شاباش اور ساتھ”
پینئیم کی فوج تین انگلیوں کا نشان بنا کر سلیوٹ کرنے والوں کو وہیں سب کے سامنے قتل کر دیتی ہے۔
لیکن اس بار خوف شاید اپنی حد پار کر چکا ہوتا ہے۔۔۔
یہاں اس سرد جنگ اور بقاء و قضا اور غلامی و آزادی کے ماحول میں ایک گیت “پھندے والا درخت” گونجتا ہے۔
اس گیت کو یہاں اردو میں ترجمہ کر رہا ہوں۔
تم سب اس درخت کے نیچے پہنچو گے کیا؟
جہاں انہوں نے،
تین لوگوں کے قتل کے الزام میں آدمی کولٹکا ڈالا
یہاں ارد گرد نامعلوم حادثات ہوئے ہیں
لیکن کچھ بھی نامعلوم نہیں رہے گا
اگر اس پھانسی والے درخت کے نیچے آدھی رات کو ہم مل بیٹھیں
تم سب اس درخت کے نیچے پہنچو گے کیا؟
مردہ آدمی جہاں سے بچ کر فرار ہونے کے لیے
اپنے محبوب کو آوازیں دیتا رہا
یہاں ارد گرد نامعلوم حادثات ہوئے ہیں
لیکن کچھ بھی نامعلوم نہیں رہے گا
اگر اس پھانسی والے درخت کے نیچے آدھی رات کو ہم مل بیٹھیں
تم اس درخت کے نیچے پہنچو گے کیا؟
جہاں میں نے تمہیں بھاگ نکلنے کے لیے کہا تھا
اس لیے کہ ہم آزاد ہو جائیں
یہاں ارد گرد نامعلوم حادثات ہوئے ہیں
لیکن کچھ بھی نامعلوم نہیں رہے گا
اگر اس پھانسی والے درخت کے نیچے آدھی رات کو ہم مل بیٹھیں
کیٹنس ایورڈین 74ویں بھوک کے کھیل کے اکھاڑے میں باقی کھلاڑیوں کے ساتھ موت کا کھیل کھیل رہی ہے۔
12 ضلعوں کے لوگ اس کھیل کو تب تک دیکھیں گے جب تک آخری کھلاڑی زندہ بچ کر کھیل ختم نہ کر دے۔
لیکن اس دوران انہونی ہوتی ہے، کیپیٹول کو جس کا اندازہ بھی نہیں ہوتا، کیٹنس ایورڈین موت کے اکھاڑے کے کنٹرولنگ سسٹم کو سمجھ کر اسے اپنی چال سے ناکارہ بنا دیتی ہے، اکھاڑہ تباہ ہو جاتا ہے اور بہت سے کھلاڑی جو ابھی بھی زندہ ہیں وہ اکھاڑے سے باہر نکل آتے ہیں۔
کیپیٹول کے رعب اور خوف کی دھجیاں اڑ جاتی ہیں۔
کیپیٹول اس توہین اور بے عزتی پر سیخ پا ہوا لیکن اس بغاوت سے عوام کو ہمت ملی،کیپیٹول ساری مشینری حرکت میں لے آیا۔عوام کے بہت سے شہروں کو جنگی جہازوں کی بمباری اور مشین گنوں کی بوچھاڑ سے راکھ بنا دیا گیا۔لیکن عوام نے قضا کے راستے بقاء کو حاصل کرنے کا عزم کر لیا تھا۔
75 سال بعد عوام ہر رکاوٹ کو توڑتی، قربانیاں دیتی، اپنے پیارے اور اپنی جانیں لٹاتی آزادی کی حد کو چھونے لگی۔کیپیٹول پر عوام نے قبضہ کر کے اختیار اپنے ہاتھ میں لیا اور آمریت کو احتساب کے عمل سے گزار کر عبرت نامہ مرتب کرنا شروع کر دیا۔
“دی ہنگر گیمز یا بھوک کے کھیل ” مووی کو ویتنام نے اپنی زمینی اور سیاسی حالات و واقعات سے مشابہہ پا کر بین کر دیا، اس پر پابندی لگا دی۔
دی ہنگر گیمز میں بتائی گئی کہانی واقعی بہت سے ممالک کی کہانی ہے،جن میں سے ایک قوم شاید ہم بھی ہیں۔
میرا یہاں اپنے ملکی حالات کو سامنے رکھ کر دی ہنگر گیمز کو بیان کرنے کا اور مماثلت دینے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ ہم بھی ریاست کو جمود اور سرد رویوں پر مبنی احتجاج کی آگ میں جھونک دیں
بلکہ اصل معاملہ اس جمہوری سفر کے تسلسل کا ہے جو عوام سے شروع ہوتا ہے، عوام ہی پر ختم ہوتا ہے۔
طاقت کا اصل سرچشمہ کیپیٹول نہیں، حکمرانی کا اصل اختیار واشنگٹن کو نہیں، اختیارات کا جواز ہتھیار اور اسلحہ نہیں ہو سکتے۔
سیاست کا محور عوام ہیں
اقتصادیات کے محرک عوام ہیں
آئین کی ترتیب عوام ہیں
قوانین کا اطلاق عوام ہیں
انتخاب عوام ہے
رائے عوام ہے
مسترد کرنے کا اختیار عوام ہیں
سرفراز کرنے کا جواز عوام ہیں۔
رفعت عباس نے اپنے ناول “نیلیاں سلہاں پِچھوں” میں ایک جگہ لکھا کہ شاہ رکن عالم اور بہاؤالدین اولیاء کے مزاروں کے بیچ پارک اور مسجد کے جڑنے کی جگہ پر ایک توپ بطور سجاوٹ نصب ہے۔رفعت عباس پوچھتے ہیں کہ یہ توپ انگریز نے ہندوستان کی عوام پر قبضہ کے دوران استعمال کی اور خوف اور ہراسانی کی یہ علامت کیا عوامی مقام پر باعثِ لطف و تفریح ہو سکتی ہے؟
رفعت عباس اپنے ایک اور سرائیکی شعر میں اصرار کرتے ہیں
کہ “آپ اپنی فوجیں پیچھے لے جائیں، ہمیں رقص کرنے کے لیے میدان کم پڑ رہا ہے”
ڈارون نے نظریہ ارتقاء پیش کیا اور اس ارتقائی نظریے کی آزمائش کے لیے ہمیں سکول میں ایک تجربہ پڑھایا جاتا تھا کہ دو جوڑی چوہوں کی دم کاٹ دی گئی،پھر ان کا ملاپ کرا کے بچے پیدا کرائے گئے یہ بچے دم کے ساتھ پیدا ہوئے حالانکہ ان کے والدین دُم کے بِنا تھے۔
اس طرح لیبارٹری میں سو جوڑی چوہوں کی دم کاٹ کر بچے پیدا کرائے جاتے رہے لیکن ہر بار نئے چوہوں کے ساتھ دم لگی ہوتی۔
دراصل ارتقاء کے لیے زبردستی تبدیلی پیدا نہیں کی جا سکتی، یہ تبدیلی اندرونی جلتی ہوئی خواہش کے طفیل ہی ممکن ہے۔
ہم بھی اپنی اسلامی تجربہ گاہ میں کہیں زبردستی پولیٹیکل انجینئرنگ کر کے فطرت کے قوانین اور فطرت کے رجحان کے ساتھ چھیڑ خا نی تو نہیں کر رہے؟
عوام کا ڈی این اے اپنی تمناؤں اور جلتی ہوئی خواہشات کے سبب تبدیل ہو چکا ہے، میوٹیٹ ہو چکا ہے، اب اس تبدیل شدہ عوام کو پہلے جیسا اللہ میاں کی گائے نہیں بنایا جا سکتا.
دنیا پر راج کرنے کا شوق کس کو نہیں لیکن دنیا کسی کے شوق پر نہیں چلتی.
سب سے اہم “ساتھ” ہے اور انسانی سماج میں “ساتھ” ہی بقاء کی لازمی شرط ہے.
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں