سہولت کار کون تھا؟ کون ہے؟

”پہلا منظر، پہلی نسل کے ناظرین”

یہ 1970 کا سال ہے، اٖفغانستان کے بادشاہ ظاہر شاہ اور اسکے وزیر اعظم کے درمیان اقتدار کی کھینچا تانی شروع ہے، آئینی بادشاہت آخری سانسیں لے رہی ہے ، انیس سو تہتر میں باغی رہنما برھان الدین ربانی اور گلبدین حکمت یار پاکستان بھاگ آتے ہیں ، انیس سو ستتر میں ذولفقار علی بھٹو کی حکومت ختم ہونے کے بعد ضیاءالحق اپنے پیشرو کی پیروی کرتے ہوئے اکتوبر 1977 میں کابل کا دورہ کرتے ہیں، دونوں پڑوسی ممالک اپنے معاملات دوستانہ طریقے سے حل کرنے پر اتفاق کرتے ہیں، نیشنل عوامی پارٹی کے پختونستان اور عظیم بلوچستان بنائے جانے کی نیت کے خلاف حیدرآباد ٹریبونل کیس کا فیصلہ آجانے کے بعد بھی افغانستان اور پاکستان کے تعلقات پر فرق نہیں پڑتا، داؤد اس فیصلے کو تسلیم کرتا ہے، یہ اکتوبر 1978 ہے جب نور محمد ترکئی “انقلاب ثور” کی رہنمائی کرتے ہوئے افغانستان کو ایک اشتمالی جمہوریت بنانےکا اعلان کرتا ہے، پاک افغان تعلقات کھٹائی میں پڑ جاتے ہیں، ترکئی، ضیاء تعلقات بحال ہوتے ہیں مگر زیادہ عرصہ قائم نہیں رہتے۔
1979 میں روسی افواج روس نواز، ببرک کمال کی مدد سے بین الاقوامی سرحد کو روندتے ہوئے افغانستان میں داخل ہو جاتی ہیں ، خطے کی سیاسی صورتحال تبدیل ہو جاتی ہے، روس افغان جنگ کے نتیجے میں افغانی پاکستان اور ایران کی طرف ہجرت کرنا شروع کرتے ہیں، پاکستانی حکومت پناہ گزینوں کے لئے کیمپ بناتی ہے، امریکہ کو پتا ہے کہ پاکستان سرد جنگ کا حصہ بن چکا ہے، اس نازک صورتحال میں امریکی صدر نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر کی سربراہی میں اپنا وفد پاکستان بھیجتے ہیں، امریکی وفد 1959 کے اس معائدے کے احیا ء اور توثیق کی بات کرتا ہے) 1959 کے اس معائدے کی رو سے پاکستان سیٹؤ اور سینٹو کا رکن بنا تھا(۔ چونکہ روس افغان جنگ میں پاکستان جغرافیائی اہمیت کا حامل ہے اسلئے امریکہ پاکستان کے معاشی استحکام کیلئے چالیس کروڑ ڈالر کی مدد کی پیشکش کرتا ہے، ضیاء حکومت یہ مدد لینے سے اسلئے انکار کرتی ہے کہ یہ ہاتھی کے منہ میں زیرہ ہے۔ پاکستان کے حکمران امریکہ کو یہ باور کرواتے ہیں کہ پاکستان امریکہ کا مخلص اتحادی ہے۔
1980 میں جنرل ضیاء اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کرنے جاتے ہیں اور امریکی صدرسے گفتگو میں یہ خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ افغانستان کی جنگ پاکستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ وہ امریکی صدر سے مزید امداد کا تقاضا کرتے ہیں،اسلحے کی ترسیل آئی ایس آئی اور جنرل اختر عبدالرحمان سے خفیہ کی جاتی ہے، جنرل اختر عبدالرحمٰن مجاہدین کی تربیت کے فرائض بھی سر انجام دیتے ہیں ۔ نوجوان جہادی تربیت لینے افغانستان جاتے ہیں ، افغانستان کا ببرک کمال بات چیت کے ذریعے معاملات حل کرنے کا مشورہ دیتےہیں، اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنےکو کہتےہیں، گفتگو شروع ہوتی ہے پاکستان اسکا حصہ ہے۔
1981 میں ریگن امریکی صدارت سنبھالتے ہیں ، حالات نہیں بدلتے ، پاکستان کو ڈالر اور اسلحے کی ترسیل جاری رہتی ہے، پہلی امداد کے علاوہ امریکہ پاکستان کو افغان مجاہدین کے لئے دو ارب ڈالر کی خفیہ امداد بھی دیتا ہے، پاکستانی عوام پاکستان کے جنگ کا بلواسطہ حصہ بننے پر احتجاج کرتے ہیں وہ اسے ضیاء کی بیوقوفی قرار دیتے ہیں، ضیاء مظاہروں، احتجاج اور جلسوں پر پابندی لگواتا ہے، لوگوں پر کوڑے برسائے جاتے ہیں ، ضیاء اسلامی نظام کی بات کرتا ہے، افغان جنگ میں پاکستانی کردار پر انگلی اٹھانے والے کو مولوی کے جی بی اور یہودونصارا کا ایجنٹ اور کافر قرار دیتا ہے، مرد مومن مرد حق، ضیاء الحق ضیا الحق کے فلک شگاف نعرے بلند ہوتے ہیں، مساجد میں افغان جہاد اور اسکے فضائل پر سیر حاصل گفتگو ہوتی ہے، کئی تابوت گھروں میں پہنچتے ہیں ، مائیں نالہ و شیون بلند کرتی ہیں ، مولوی نماز جنازہ پر واعظ کرتے ہوئے شہداء کا مرتبہ بتاتے ہیں ۔
1981 میں جنیوا میں بات چیت کا سلسلہ شروع ہوتا ہے ، یہ ایک لمبا کام ہے، 1987 میں گورباچوف حکومت امریکن صدر کو افغانستان سے روسی افواج کے انخلاء کی خبر دیتی ہے، 1988 تک گفتگو شروع رہتی ہے، مجاہدین گفتگو کا حصہ نہیں ہیں مگر پاکستان انہیں مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت کے بارے میں اگاہ کرتا ہے۔ 1988 میں مذاکرات کے اختتام پر ، جنیوا کے تاریخی معائدے پر دستخط ہوتے ہیں ، جس کی رو سے روسی افواج کے انخلاء کے بعد پاکستان اور افغانستان کے باہمی تعلقات کی نوعیت کا تعین کیا جائے گا اور افغان پناہ گزینوں کی واپسی کا لائحہ عمل طے ہو گا، روس اور امریکہ معائدے کے گواہ ہیں، ضیاء الحق چاہتے ہیں کہ درمیانی حکومت کے لئے کچھ شرائط رکھی جائیں لیکن وزیر اعظم محمد خان جونیجو ان سے اتفاق نہ کرتے ہوئے آل پارٹیز کانفرنس بلاتے ہیں ، حکومت سے باہر تما م جماعتوں کی قیادت معائدے پر دستخط کرنے کے حق میں ہے،1988 میں ضیاء کی مرضی کے برخلاف معائدے پر دستخط ہو جاتے ہیں ، جنگ ختم ہو جاتی ہے، 1981 سے 1987 تک امریکہ پاکستان کو تین ارب بیس کروڑ ڈالر دے چکا ہے جبکہ روس کے مطابق افغانستان کی جنگ میں روس نے نو ارب ڈالر خرچ کئے ہیں۔

”دوسرا منظر، پہلی اور دوسری نسل کے ناظرین”

روس کی جنگ ختم ہو چکی ، ڈاکٹر نجیب اللہ افغانستان کے صدر ہیں جنکو روسی آشیرباد حاصل ہے، دہشت گردی اب بھی جاری ہے، ضیاء الحق کا طیارہ بہاولپور کے قریب گر کر تباہ ہو جاتا ہے، 31 لوگوں کی موت ہوتی ہے، آموں کی پیٹی پر شک کیا جاتا ہے، ضیاالحق کی باقیات اور مولوی افغانستان اور نجیب حکومت کے خلاف جہاد کو اب بھی جائز قرار دیتے ہیں، افغانستان کے سرحدی پاکستانی علاقوں میں اب کلاشنکوف عام دکھائی دیتی ہے ، پاکستان میں الیکشن ہوتے ہیں غلام اسحاق خان منتخب صدر اور نواز شریف منتخب وزیر اعظم ہیں اور جنرل مرزا اسلم بیگ چیف آف آرمی سٹاف، روسی ساختہ کلاشنکوف پاکستان میں عام دکھائی دیتی ہے، آزاد کشمیر کے سرحدی علاقوں میں کلاشنکوف تھامے پختون ،سیاہ نمبر پلیٹ والی گاڑیوں میں سوار نظر آتے ہیں، مقامی لوگوں کے ماتھوں پر شکنیں ابھرتی ہیں، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ شہروں اور قصبوں میں مجاہدین کی تنظیموں کے دفاتر کھلتے ہیں ، ایک مخصوص مکتبہء فکر کی مساجد میں جہاد پر درس کا عمل شروع ہوتاہے، سیز فائر لائن کی دوسری طرف کاروائیاں پاکستان کے اخبارات اور سرکاری ریڈیو کی شہ سرخیاں بنتی ہیں، غائبانہ نمازجنازہ کا رواج پڑتا ہے، بھارت افواج پاکستان پر الزام لگاتا ہے، پاکستان کے اندر شیعہ سنی فسادات جنم لیتے ہیں، فسادات ماؤں سے جگر گوشے چھین لیتے ہیں، خالصتان تحریک زور پکڑتی ہے، بھارت پھر شور مچاتا ہے-
1992 میں ڈاکٹر نجیب افغانستان کی صدارت سے استعفٰی دے دیتےہیں، جنرل رشید دوستم اور احمد شاہ مسعود قابل کا کنٹرول سنبھالتے ہیں، معائدہ پشاور ہوتا ہے جس میں تمام اشتمالیت مخالف افغان مجاہدین اکٹھے ہوتے ہیں ، گلبدین حکمت یار معائدے کا حصّہ نہیں بنتے، طالبان شمالی اتحاد لڑائی شروع ہوتی ہے، طالبان کو پاکستان کی اخلاقی حمائت حاصل ہوتی ہے، ڈاکٹر نجیب اللہ ابھی زندہ ہیں وہ پاکستانی حکمرانوں سے گذارش کرتے ہیں کہ افغانستان میں آگ مت لگاؤ یہ آگ آپ کے گھر بھی جلا دیگی، کشمیر کے جہاد کی تربیت کیلئے لوگ افغانستان جارہے ہیں، آزاد کشمیر اور خیبرپختونخواہ میں بھی تربیتی مراکز قائم ہیں، پنجاب ، سندھ اور خیبر پختونخواہ کے نوجوان دھڑا دھڑ تربیت حاصل کرکے کافروں کو جہنم واصل کر رہے ہیں۔ مساجد میں “میرا یار اسامہ بن لادن ” نعت سمجھ کر گایا جا رہا ہے، آزاد کشمیر کی مقامی آبادی مجاہدین کی سر گرمیوں سے خائف ہے، کیونکہ ان کے ساتھ لڑائی جھگڑا ہونے پر پولیس مجاہدین کے خلاف پرچہ درج نہیں کر سکتی ، معذوری ظاہر کرتی ہے، مجاہدین کے گروپ آپس میں بھی لڑ پڑتے ہیں اور مقامی لوگوں سے بھی، آزاد کشمیر میں مجاہدین کے خلاف تحریر اور تقریر کرنے والوں کو ”را” کا ایجنٹ کہا جاتا ہے۔ اگر کوئی زیادہ بات کرے تو مساجد سے کافر اور مرتد کا فتوٰی دیا جاتا ہے۔ اگر کوئی زیادہ پھدکے تو ”چھپے ہاتھ” اسے نشانِ عبرت بھی بنا دیتے ہیں ۔
1996 میں افغانستان کےسابق صدر ڈاکٹر نجیب اللہ قابل میں مجاہدین کے ہاتھوں قتل ہو جاتے ہیں، 1996 میں ہی افغان سول جنگ کا باقاعدہ آغاز ہوتا ہے، طالبان اور شمالی اتحاد طاقت کے حصول کیلئے باہم دست وگریباں ہوتے ہیں، 1999 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کارگل میں جنگ ہوتی ہے پاکستان کی سول اور فوجی بیورو کریسی اس جنگ کو مجاہدین سے منسوب کرتی ہے، معائدہ واشنگٹن سے جنگ کا خاتمہ ہوتا ہے، 1999 میں ہی جنرل پرویز مشرف نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیتے ہیں، جنرل صاحب اعتدال پسند اور روشن خیالی کے حامی ہیں، 2001میں امریکی ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملے کے بعد ، امریکہ افغانستان پر حملہ کرتا ہے تو پاکستان امریکہ کو اپنی زمین استعمال کرنے کا معائدہ کرتا ہے، امریکہ افغانستان کی جنگ میں روس افغان جنگ کی طرح پاکستان ایک انتہائی اہم اتحادی ہوتا ہے، مگر اس بار طریقہ کار مختلف ہے ، پاکستان کا مذہبی طبقہ اس اتحاد سے ناخوش ہے وہ مساجد سے مشرف مخالف تقاریر جاری رکھے ہوئے ہے، وہ ملا عمر اور اسامہ بن لادن کے گن گاتے ہوئے نہیں تھکتا، مشرف کو امریکہ سے ہدایات کے پیش نظر کشمیر میں سر گرم عسکری جماعتوں کی سرگرمیوں کو ختم کرنے کی حکمت عملی وضع کرتے ہیں، مسلکی بنیادوں پر قائم کچھ مذہبی جماعتوں کو بھی کالعدم قرار دیا جاتاہے، مگر ہفتے عشرے بعد کالعدم ہونے والی مذہبی جماعتیں نام تبدیل کر کے پھر سے سر گرم ہو جاتی ہیں ۔ کشمیر میں سرگرم عسکری جماعتیں اپنا کام ختم نہیں کرتیں ، محدود ہو جاتی ہیں ۔ لشکر طیبہ ، جماعت دعوۃ بن جاتی ہے اور کمانڈر انچیف حافظ سعید ہی رہتے ہیں، حرکت الانصار، پہلے حرکت المجاہدین بنتی ہے اورپھر جیش محمد مگر اسکے وارث مسعود اظہر ہی ہو تے ہیں۔ مشرف لال مسجد پر فوجی آپریشن کرتے ہیں ، لال مسجد بند ہوتی ہے، غازی عبدالرشید اور دیگر لوگ آپریشن میں مارے جاتے ہیں، جامعہ حفضہ اور لال مسجد مولوی عبدالعزیز کی سربراہی میں پھر سے چلنے لگتی ہیں۔ شمالی وجنوبی وزیرستان، سوات، دیر، پارا چنار ، مالاکنڈ میں حکومت کی رٹ چیلنج ہوتی ہے ، صوفی محمد ، بیت اللہ محسود ایسے لوگ شریعت نافذ کرنے کے دعوے کرتے ہیں ، تحریک طالبان پاکستان کا نام سامنے آتا ہے، پاکستان کی کئی عسکری جماعتیں اپنے آپ کو تحریک طالبان کے ساتھ جوڑتی ہیں، مذکورہ علاقوں میں پاک فوج کاروائیاں کر کے طالبان سے چھڑاتی ہے، امریکی فوج وزیرستان، مہمند اور کئی دوسری ایجنسیوں میں ڈرون حملے کرکے لگ بھگ چار ہزار لوگوں کو مار دیتا ہے، افغانستان کیلئے نیٹو سپلائی پاکستان کے راستے ہی جاتی ہے، پاکستان ہر ڈرون حملے کے بعد صرف احتجاج کرتا ہے۔دہشت گردی کے ایک واقعے میں پاکستان کی سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو بھی ماری جاتی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں جہاد کرنے والا الیاس کشمیری بھی امریکی ڈرون حملے میں مارا جاتا ہے۔ پاکستان کے بڑے شہروں میں دھماکوں کے بعد کا افسوس اور مذمتی بیانات معمول بنتے ہیں، فوجی چھاونیاں اور ایجنسیوں کے دفاتر بھی محفوظ نہیں رہتے میاں افتخار احمد کا بیٹا اور بشیر بلور بھی دہشت گردی کی بھینٹ چڑھتے ہیں۔ افغانستان کی حکومت زیادہ مستحکم نظر آتی ہے۔

”تیسرا منظر، پہلی ، دوسری اور تیسری نسل کے ناظرین”

پاکستان میں پرویز مشرف اقتدار ، پیپلز پارٹی کو منتقل کر تے ہیں، پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں بھی امن مفقود ہوتا ہے، اندرون خانہ مسلکی بنیادوں پر کوہستان اور بلوچستان میں اہل تشیع کا قتل عام جاری ہے، دھماکوں میں کبھی شدت اور کبھی کمی آتی ہے اب پاکستان کا کوئی بھی حصہ محفوظ نہیں، سب سے بڑا سانحہ آرمی پبلک سکول میں ہوتا ہے ، جہاں کم و بیش ڈیڑھ سو بچے اور اساتذہ مارے جاتے ہیں، نواز شریف گورنمنٹ کے خلاف اسلام آباد میں تحریک انصاف اور عوامی تحریک کا دھرنا رضا کارانہ ختم کر دیا جاتا ہے، ایک قومی کانفرنس میں ملک کی ساری سیاسی جماعتیں متفقہ طور پر دہشت گردی کے خلاف ون پوائنٹ ایجنڈا دیتی ہیں ، مگر ابھی بھی اچھے اور برے طالبان کا فرق موجود ہے، آج بھی فضل الرحمن ، پروفیسر ابراہیم، سراج الحق ، سمیع الحق اور عمران خان طالبان سے مذاکرات چاہتے ہیں، پاکستان مسلم لیگ کی حکومت مولوی عبدالعزیز کے خلاف مقدمہ درج کرنے سے کتراتی ہے، دنیا داعش ، بوکو حرم، الاہرار ایسی دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ جنگ میں ہے، عراق، شام ، یمن حالتِ جنگ میں ہیں، اسلام آباد کا مولوی عبدالعزیز آج بھی داعش کو نجات دہندہ سمجھتا ہے، آپریشن ضرب عضب اور فوجی عدالتیں اسے سزا نہیں دیتیں،سول سوسائٹی اسکے خلاف مقدمہ درج کراتی ہے مگر وزیر داخلہ اسکو بے گناہ قرار دیتے ہیں۔کشمیر میں برہان وانی کی شہادت کے بعد لوگ اندھے بھی ہوئے اور شہید بھی، لیکن تحریک جاری، عسکری تنظیمیں کالعدم ہو چکی مگر اسکے روح رواں دفاع پاکستان کونسل کے ساتھ کام کر رہے، حافظ سعید کی جماعت الدعوۃ پھر کالعدم ہو چکی مگر اسکے تربیتی مراکز نہیں بند ہوئے وہ اب تحریک آزادی جموں کشمیر کے نام سے کام کرے گی۔ سی پیک کے ذریعے پاکستان کی اقتصادی ترقی کا نقارہ بج چکا، اب پی ایس ایل کا فائنل بھی پاکستان میں ہوگا، فوجی عدالتوں نے مجرم دہشت گردوں کو پھانسی بھی دے دی، اب عدالتوں کی مدت میں توسیع پر غور و غوض جاری ہے، خطے میں امریکہ کی بجائے چین کا طوطی بول رہا۔
بدقسمتی سے ایک ہفتے میں پاکستان کے چاروں صوبوں میں سات دھماکوں سے 200 سے زائد لوگ مارے جاتے ہیں، ایک دھماکہ سیہون شریف کی درگاہ پر ہوتا ہے، 90 لوگوں کی موت ہوتی ہے، لوگ کہتے ہیں یہ مسلمانوں نے نہیں کیا، پتا چلتا ہے کہ الاحرار افغانستان نامی تنظیم نے سارے دھماکے کروائے ہیں، ایک سہولت کار پکڑا جاتا ہے وہ ٹی وی پر اقبالی بیان دیتا ہے۔ ناظرین سوچتے ہیں کہ اگر مسلمان ایسا نہیں کرتے تو کل سارے علماء فتوے دیں گے، علماء جمعہ کے دن کوئی فتوٰی نہیں دیتے۔
سہولت کار کا اقبالی بیان ناظرین کو مخمصے میں ڈال دیتا ہے، ناظرین تالیاں نہیں بجاتے، انہیں لگتا ہے کہ ہدائتکار نے پلاٹ میں ردوبدل کیا ہے، مجمعے سے آواز آتی ہے اصلی سہولت کار کو سامنے لاؤ ورنہ اس کھیل کا اختتام حقیقت کے برعکس ہے، پردہ نہیں گرتا، منظر ٹھہر جاتا ہے اور ناظرین اصلی سہولت کار کو دیکھنے کے لئے بے تاب ہیں۔

اظہر مشتاق
اظہر مشتاق
اظہر مشتاق سماج کے رِستے زخموں کو محسوس کرنے والا عام انسان ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 0 تبصرے برائے تحریر ”سہولت کار کون تھا؟ کون ہے؟

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *