کاہے کا ظلم؟

ہمیں دوسروں کے معاملات میں ٹانگیں اڑانے کا اتنا شوق ہے کہ کیا کہیے ۔ حلب میں بچے شہید ہو رہے تھے ظلم تھا، نا انصافی تھی، ہر دل زخمی تھا۔ لیکن ایک طرف اتنا شور اٹھا کہ آسمان سر پہ اٹھا لیا گیا، شیعہ کو گالی دی گئی، بشار کو گالی دی گئی۔ پھر ترکی میں روس کا سفیر مارا گیا تو ایک موت پر شادیانے بجائے گئے۔ ایمان والوں نے کمال تماشہ لگا رکھا ہے، کسی کی پگڑی اچھالنی ہو تو سرحد پار ہونے والی لڑائی کو جواز بنا لینگے اور یہ موقع میسر نہ ہو تو اپنے ملک میں ظلم پر صم بکم عمیی فہم لا یرجعون کی عملی تصویر بنے ملتے ہیں۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل معمولی بات ہے۔ افسوس ہے کہ فلسطین کے بچوں کے قتل پر اسرائیل کو گالی دینے والا، اور حلب پر شیعہ کی عزت تار تار کرنے والا کیونکر خاموش تھا جب طوبیٰ کراچی میں آخری سانسیں لے رہی تھی؟ حنا بھی اسی خاموشی کی بھینٹ چڑھ گئی، پچھلے سال ساتھی ملک افغانستان میں فرخندہ کو جلا دیا گیا۔ کتنی مثالیں ہیں جو مجھے یاد نہیں، آخر اب کیوں ڈی پی نہیں بدلی گئی؟ ایمانی غیرت کہاں گئی؟کیوں سو گئی؟ کیا یہ نعرے اور جلسے حلب کے بچوں کے لئے تھے؟ کیا یہاں جانور بستے ہیں؟ کیا ان بچیوں کے جسم اتنے ہی ناقص تھے؟ کیا انکے حلق سے ٹپکنے والا خون سفید تھا؟

اسلام بچاؤ والے اب کیوں سو گئے؟ کہاں گئے دلائل؟ کہاں گئے وہ عشق کے دعویٰ جات؟ یہ سب اب حکومت پر کیونکر چھوڑ دیا؟ یاد ہے جب کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے جہاد پاکستان کے نام سے رسالہ شائع کیا؟ سب لسی پی کر سو رہے تھے، ان ظالموں نے ایک ملک میں کارروائی کرنے کا جواز گڑھا ، سب خاموش رہے۔ “فتنہ فلاں فلاں”کے نام سے کتب لکھنے والوں کی زبانیں سل گئیں۔ اور وہ درندے اے پی ایس میں معصوموں کا خون پی گئے تو پھرویڈیوز پیغام جاری ہوا تاکہ یہ اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہے ۔ہر جگہ دفاع اسلام، دفاع ناموس رسالت اور دفاع فلاں فلاں کے نعرے لگانے والے آخر کس جذبے کے تحت ان تمام مقامات پر خاموش رہے؟
طوبیٰ بھی اسی قوم کی بیٹی تھی، اگر عافیہ صدیقی اس قوم کی بیٹی تھی تو حنا بھی اسی قوم کی بیٹی تھی۔ اور وہ بچی جسے مارا گیا، اسکے جسم پر پڑنے والے نشان ؟ وہ کیا ہوئے؟
معاملہ صرف اتنا ہے کہ ہمیں ہر بار اپنے تعصب کی آگ بجھانے کو کچھ نہ کچھ درکار ہوتا ہے۔ حق بات کہنا بالکل بورنگ ہوجاتاہے اگر مد مقابل کو گالی نہ دی جاسکے۔ اب بھلا آپ خود بتائیے کہ ان تمام مرنے والیوں سے متعلق اگر آواز اٹھائی بھی جاتی توبھلا کیوں؟ اگر طوبیٰ کا قاتل شیعہ ہوتا، تو بحمداللہ تعالیٰ جو دھما چوکڑی مچتی وہ زمانہ دیکھتا۔ اگر حنا کا قاتل قادیانی ہوتا، تو دین کے تحفظ کے لئے کچھ بستیاں جلائی جاتیں کچھ لوگ مارے جاتے کوئی مزا آتا۔کوئی جوش والے مولوی صاحب بلائے جاتے جو ایمانی غیرت کو گرماتے۔اب کاہے کا ظلم اور کاہے کا انصاف؟اب بھلا ایسا کیونکر ہو؟

بلاؤ خدایانِ دین کو بلاؤ
یہ کوچے، یہ گلیاں، یہ منظر دکھاؤ
ثنا خوانِ تقدیس مشرق کو لاؤ
ثنا خوانِ تقدیس مشرق کہاں ہیں؟

محمد حسنین اشرف
محمد حسنین اشرف
ایک طالب علم کا تعارف کیا ہوسکتا ہے؟

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *