• صفحہ اول
  • /
  • خبریں
  • /
  • مردوں میں ذہنی دباؤ کی شکایت خواتین کی نسبت زیادہ کیوں ہے؟

مردوں میں ذہنی دباؤ کی شکایت خواتین کی نسبت زیادہ کیوں ہے؟

پریشانی کے عالم میں ضرورت سے زیادہ سوچنا آپ کو ڈپریشن کا مریض بنا سکتا ہے، اسی طرح کی کیفیات بے چینی اور تشویش میں بھی اضافے کا باعث بنتی ہیں۔

عام طور پر دیکھنے میں آیا ہے کہ مرد اپنی پریشانیوں اور ذہنی دباؤ کا ذکر نہیں کرتے شاید یہی وجہ ہے کہ مردوں پر خواتین کے مقابلے میں زیادہ ذہنی دباؤ ہوتا ہے۔

ماہر نفسیات ملیحہ ناز نے بتایا کہ اداسی یا ڈپریشن سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے اس بات کو تسلیم کیا جائے کہ واقعی آپ اس مسئلے سے دوچار ہیں کیوں کہ ڈپریشن ایک حقیقی طبی حالت ہے۔

خواتین کے مقابلے میں مردوں میں ڈپریشن زیادہ عام ہے جو ممکنہ طور پر بعض سماجی عوامل کی وجہ سے مردوں کے لیے مختلف ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ بات حقیقت ہے کہ دنیا بھر میں مردوں کی نفسیات یہ ہوتی ہے کہ وہ کسی بھی پریشانی یا جذباتی تناؤ سے متعلق اپنی بات کسی سے شیئر نہیں کرتے اس کی اہم وجہ یہ بھی ہے کہ انہیں بچپن سے یہ سکھایا جاتا ہے کہ آپ نے رونا نہیں ہے یا کمزوری ظاہر نہیں کرنی۔

ملیحہ ناز نے کہا کہ خواتین کے مقابلے میں مردوں میں ڈپریشن زیادہ عام ہے جو ممکنہ طور پر بعض سماجی عوامل کی وجہ سے مردوں کے لیے مختلف ہیں لیکن مردوں اور عورتوں میں ڈپریشن کی مختلف قسم کی کیفیات ہوتی ہیں۔

julia rana solicitors london

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے معاشرے میں نفسیاتی بیماری کو بیماری تصور نہیں کیا جاتا حالانکہ یہ ایک حقیقت ہے اور ایسی کوئی نفسیاتی بیماری نہیں جس کا علاج موجود نہ ہو۔

Facebook Comments

خبریں
مکالمہ پر لگنے والی خبریں دیگر زرائع سے لی جاتی ہیں اور مکمل غیرجانبداری سے شائع کی جاتی ہیں۔ کسی خبر کی غلطی کی نشاندہی فورا ایڈیٹر سے کیجئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply