پنجاب میں کریک ڈاون،آپریشن منطقی انجام تک لے جایا جائے

پنجاب میں کریک ڈاون،آپریشن منطقی انجام تک لے جایا جائے
طاہر یاسین طاہر
ملک دہشت گردی کی نئی لپیٹ میں آچکا ہے۔ اگرچہ آپریشن ضرب ِ عضب کے دوران میں دہشت گردی کی شدت میں واضح کمی آئی تھی اور دہشت گرد وں نے بھاری مالی و جانی نقصان اٹھایا ہے۔مگر یہ امر بھی واقعی ہے کہ حالیہ چند دنوں میں دہشت گردوں نے پلٹ کر چاروں صوبوں میں وار کر کے اپنی موجودگی کا پتا دیاہے۔ جن میں سے شدید ترین حملہ مال روڈ لاہور اور درگاہ حضرت لعل شہباز قلندر میں ہونے والا خودکش حملہ ہے۔لاہور دھماکے ،کے سہولت کار کی گرفتاری اس بات کی علامت ہے کہ دہشت گردوں کے سہولت کار ہمارے اردگرد ہی موجود ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ انھیں نشان کر کے نشان عبرت بنایا جائے۔
پاکستان میں دہشت گردی اور دہشت گردوں کے ٹھکانوں،پناہ گاہوں اور سہولت کاروں کی بابت جب بات ہوتی ہے تو ہر صاحب نظر اس بات کا بر ملا اظہار کرتا ہے کہ آپریشن ضرب عضب کے بعد دہشت گرد، شمالی و جنوبی وزیرستان،کے پی کے، کے دیگر علاقوں میں یا تو فورسز کی کارروائیوں سے نشان عبرت بنے،یا افغانستان فرار ہو گئے ہیں۔ جبکہ دہشت گردوں کی دوسرے اور تیسرے درجے کی قیادت اب بھی کہیں ہمارے آس پاس ہی ہے۔جو دہشت گردوں کو مقامی سطح پر رہائش و معاش کی سہولت فراہم کر رہی ہے۔ دہشت گردوں کے خلاف سر جیکل آپریشن کی بابت جب بات ہوتی ہے تو لازمی طور اس بات کا ذکرکیا جاتا ہے کہ جنوبی پنجاب میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے اور دہشت گردوں کے سہولت کار موجود ہیں۔
اس حوالے سے جب بھی رینجرز کے آپریشن کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو سب سے پہلے پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ صاحب اس آپریشن کی مخالفت کرتے ہیں۔حتی ٰ کہ لاہور دھماکے ،کے سہولت کار کی گرفتاری کے بعد بھی ان کا یہ بیان سامنے آیا کہ پنجاب میں رینجرز آپریشن کی ابھی ضرورت نہیں ہے۔البتہ سیکیورٹی ادارے اب حتمی طور اس نتیجے پہ پہنچ چکے ہیں کہ پنجاب میں آپریشن ناگزیر ہو چکا ہے۔
یاد رہے کہ گذشتہ سے پیوستہ روزپنجاب کے مختلف علاقوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سرچ آپریشن کے دوران 24 گھنٹوں میں 205 مشتبہ ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا، جن میں اکثریت افغان باشندوں کی ہے۔پولیس اور خفیہ اداروں کی جانب سے بادامی باغ، رائے ونڈ، سول لائنز، پرانی انارکلی، گلشن راوی، گلبرگ، غالب مارکیٹ، نشتر کالونی، ساندہ، نصیر آباد اور ٹاؤن شپ سمیت دیگر علاقوں میں سرچ آپریشن کیا گیا۔ان علاقوں سے قانون اور سیکیورٹی نافذ کرنے والے اداروں نے 144 مشتبہ ملزمان کو حراست میں لے لیا، جب کہ پولیس نے چھاپوں کے دوران ایک کلاشنکوف، ایک رائیفل، 78 گولیاں اور 2 پستول بھی برآمد کرلیے۔پولیس نے سرچ آپریشن کے دوران بائیومیٹرک مشینوں کا بھی استعمال کیا، جو افراد اپنی شناخت سے متعلق دستاویزات فراہم نہ کرپائے پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا۔نیشنل ایکشن پلان ( نیپ ) کے تحت قانون اور سیکیورٹی نافذ کرنے والے اداروں نے قصور، پتوکی اور چنیاں کے مختلف علاقوں میں کارروائی کرکے 19 افغان شہریوں سمیت 58 افراد کو حراست میں لے لیا۔سیکیورٹی اداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ پتوکی اور قصور کے علاقوں دین گڑہ اور نیاز نگر سے گرفتار کیے گئے افغان شہریوں سے غیر قانونی اسلحہ بھی برآمد کرلیا گیا۔
اس امر میں کسی کلام کی گنجائش ہی نہیں کہ پنجاب ،اور بالخصوص جنوبی پنجاب میں دہشت گردوں کے ٹھکانے اور ان کے سہولت کار موجود ہیں۔ہمیں نہیں معلوم کہ کن وجوھات کی بنا پر پنجاب کے حکمران رینجرز آپریشن کو متنازعہ بنانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔یہ امر طے شدہ ہے کہ وطن کے دشمنوں کو عبرت ناک انجام سے دوچار کرنا ہے۔پنجاب ہو،کراچی ہو، اندرون سندھ ہو،کوئٹہ ہو یا ملک کا کوئی اور حصہ،اب وقت آگیا ہے کہ دہشت گردوں اور انکے سہولت کاروں کے خلاف آپریشن کلین اپ کیا جائے۔لشکر جھنگوی ہو یا کالعدم تحریک طالبان،جماعت الاحرار ہو یا کوئی اور دہشت گرد تنظیم،سب کا فکری الحاق ہے اور سارے اپنے نام نہاد فہم اسلام کو پورے سماج اور دنیا پر نافذ کرنے کے لیے ایک عالمی خلافت کا خواب بھی دیکھ رہے ہیں۔
یاد رہے کہ داعش کے حوالے سے سیکرٹری خارجہ اور امریکہ کے لیے پاکستان کے نامزد سفیر اعزاز چوھدری کا کہنا ہے کہ داعش پاکستان میں آ سکتی ہے۔ یعنی ان کا مطلب تھا کہ داعش کے ہمدرد اورسہولت کار یہاں موجود ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ داعش ابتدائی کارروائیوں کے لیے ان ہی پر تکیہ کرے گی۔ اس لیے ضروری معلوم ہوتا ہے اب کسی بھی تمیز کے بغیر ہر اس شخص اور تنظیم کے خلاف کریک ڈاون کیا جائے جو دہشت گردوں سے ہمدردی رکھتا ہے،اس میں یہ نہ دیکھا جائے کہ وہ کہاں اور کس صوبے میں پناہ گزین ہے، بلکہ اسے صرف “دشمن کا دوست “سمجھ کر اس کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے جو دہشت گردوں کے ساتھ کیا جانا چاہیے۔

اداریہ
اداریہ
مکالمہ ایڈیٹوریل بورڈ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *