جے آئی ٹی کی رپورٹ،حکومتی رویہ اور خدشات

جے آئی ٹی کی رپورٹ،حکومتی رویہ اور خدشات
طاہر یاسین طاہر
جے آئی ٹی نے بالآخر مقررہ مدت میں اپنی تحقیقاتی رپورٹ گذشتہ روز سپریم کورٹ میں جمع کرا دی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ میاں نواز شریف اور ان کے بچے کرپشن میں ملوث ہیں اور ان کے خلاف ریفرنس نیب میں بھیجا جائے۔رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم اور ان کے بچوں کے طرز زندگی اور ذرائع آمدن میں فرق ہے،چاروں لندن فلیٹس 1993 سے اب تک شریف فیملی کی ملکیت ہیں جبکہ نیلسن اور نیسکول آف شور کمپنیوں کی حقیقی مالک مریم نواز ہیں۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ قطری خط ایک افسانہ ہے، خسارے میں چلنے والی کمپنیوں سے لندن میں مہنگی جائیدادیں خریدی گئی ہیں۔رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ مریم نواز کے اثاثے بھی ان کے ذرائع آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے۔رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار جو کہ وزیر اعظم کے عزیز بھی ہیں، انھوں نے اپنے ہی ادارے کو 16 کروڑ خیرات ظاہر کر کے رقم اپنے پاس رکھی اور ٹیکس استثنیٰ لیا۔
یاد رہے کہ جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں ایس ای سی پی کے چیئر مین ظفر حجازی کے بارے لکھا کہ انھوں نے ریکارڈ میں ٹمپرنگ کی اور شریف خاندان کو فائدہ پہنچایا، عدالت عظمیٰ نے ظفر حجازی کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔جے آئی ٹی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مریم اور حسین نواز کے اثاثے 90 کی دھائی میں بے تحاشہ بڑھے۔جے آئی ٹی کے سامنے حسن اور حسین نواز ترسیل زر کے ثبوت پیش نہیں کر سکے۔جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں مزید لکھا کہ نواز شریف اور حسین نواز فنڈز کو بطور تحفہ اور قرض وصول کرتے رہے،جبکہ مریم نواز کو اماراتی شاہی خاندان سے بی ایم ڈبلیو گاڑی تحفہ میں ملی مگر وہ 35 لاکھ روپے کسٹمز ڈیوٹی کے ذرائع نہیں بتا سکیں۔حسن نواز نے 10 کمپنیاں بنائیں، رقم کہاں سے آئی؟ یہ معلوم نہ ہو سکا۔واضح رہے کہ جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں مزید 3 آف شور کمپنیوں کی نشاندہی کی ہے جو شریف خاندان کی ملکیت ہیں۔
دریں اثنا عمران خان نے کہا ہے کہ ہمارے خدشات درست ثابت ہو گئے ہیں،انھوں نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعظم استعفیٰ دیں، نیز پورے خاندان کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے۔جبکہ مسلم لیگ نون کے سینئیر وزرا،احسن اقبال،خواجہ آصف، شاہد خاقان عباسی اور بیرسٹر ظفر اللہ نے جارحانہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے جے آئی ٹی اور اس کی مرتب کردہ رپورٹ کو ،ردی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا، اور مطالبہ کیا کہ جے آئی ٹی کے دوران کی جانے والی ریکارڈنگ کوپبلک کیا جائے۔
دریں اثنا وزیر اعظم کی زیر صدارت اجلاس میں قانونی ماہرین کو جواب تیار کرنے کے لیے کہہ دیا گیا ہے جو کہ سوموار کو سپریم کورٹ میں داخل کردیا جائے گا۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے یہ آبزرویشن دی ہے کہ فریقین کے وکلا دلائل کو دہرائیں نہیں بلکہ جے آئی ٹی کی رپورٹ کی روشنی میں اس پر بحث کریں۔ یقیناًیہ بحث سننے کے بعد عدالت اس پر کوئی مناسب آرڈر دے سکتی ہے۔جے آئی ٹی کی رپورٹ آنے کے فوری بعد وزیر اعظم صاحب کے دونوں بیٹے بیرون ملک روانہ ہو گئے ہیں۔تازہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں اپوزیشن جماعتوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وزیر اعظم کو ٹف ٹائم دیا جائے گا اور انھیں استعفیٰ دینے پر مجبور کیا جائے گا۔جبکہ حکومتی تیور بتا رہے ہیں کہ وہ شریف خاندان کے دفاع میں آخری حد تک جائے گی اور کسی بھی صورت وزیر اعظم ان ہاوس تبدیلی کا فیصلہ نہیں کریں گے۔ اگرچہ مسلم لیگ نون کے اندر ہی تین سے پانچ ایسے وزرا موجود ہیں ،جنھیں یہ امید ہے کہ وہ استعفیٰ کی صورت میں وزراعظم بن سکتے ہیں، لیکن فی الواقع ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا ہے۔حکومت جے آئی ٹی رپورٹ کواپنے خلاف سازش اور نام نہاد ترقی کی راہ میں رکاوٹ قرار دے کر اپنی حمایتیوں کو مشتعل کرنے کی کوشش میں ہے۔
یہ امر واقعی ہے کہ جب اس کیس پر آئندہ ہفتے بحث شروع ہو گی تو کئی نئے پہلو اور زاویے قانونی دریچوں سے سامنے آئیں گے۔ وکلا اور آئینی و قانونی ماہرین کو اس کیس کے ان ہی پہلووں پر بحث کرتے ہوئے سماج کے سیاسی شعور کی بالیدگی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ ہم البتہ یہ سمجھتے ہیں کہ جب ملک کا وزیر اعظم اور حکمران جماعت کے سر بر آوردہ وزرا، ڈنکے کی چوٹ پر، ملک کے پانچ ممتاز اداروں کی مرتب کردہ رپورٹ کو ،ردی کہہ کر مسترد کر دیں ، تو یہ بجائے خود ایک خطرناک رحجان ہے اور حکومت کا ہی اپنے اہم ترین اداروں پر عدم اعتماد ہے۔ اس عدم اعتماد سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت جس کی لاٹھی اس کی بھینس ، فارمولے پر عمل کرنا چاہے گی، اور اگر ایسا ہوا تو حکومت کو عوام ،اور اداروں کے سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ہم یہ سمجھتے ہیں کہ وزیر اعظم صاحب، ان کا خاندان اور حکومتی زعما و وزرا یہ بات سمجھ چکے ہیں کہ رپورٹ مبنی بر حقائق ہے، مگر سیاسی فوائد کے لیے مسلم لیگ نون ، بالخصوص وزیر اعظم صاحب اور ان کے چند قریبی رفقا یہ ضرور چاہیں گے کہ انھیں کرپشن اور لوٹ مار کے الزام میں وزیر اعظم ہاوس سے بے دخل کیا جائے تا کہ وہ اپنی مظلومیت کے اظہار کے لیے اسے اپنے حق میں استعمال کر سکیں۔خدشہ یہ بہر حال موجود ہے کہ کہیں اداروں میں شدید ٹکراو نہ ہو جائے،اگر خدا نخواستہ ایسا ہوتا ہے تو یہ خطرناک ہو گا۔ یہ امکان بھی ہے کہ اگر پی ٹی آئی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے سٹریٹ موومنٹ کا آغاز کیا تو مسلم لیگ کے حمایتی بھی میدان میں آئیں گے اور خدانخواستہ خون خرابہ ہو جائے گا۔ اس لیے وزیر اعظم صاحب کے لیے جو بہترین راستہ ہے وہ استعفیٰ کے سوا کچھ بھی نہیں۔

اداریہ
اداریہ
مکالمہ ایڈیٹوریل بورڈ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *