ماحولیاتی تبدیلی اور ہم

ما حولیاتی تبدیلی اور ہم
دنیا ماحولیاتی تبدیلی کے وجہ سے کافی تشویش میں ہے ۔ماحولیاتی آلودگی اور تبدیلی کے بارے عوام میں شعور بیدار کرنا ہم سب پر فرض ہے ۔ماحولیاتی تبدیلی کے وجہ سے نئی نسل اور دنیا کے بقا ءکو سنگین خطرات لاحق ہوچکے ہیں۔ تہذیب یافتہ اور ترقی یافتہ اقوام کے صنعتی اور معاشی ترقی سے خاص کر ترقی پذیر ممالک میں ماحولیاتی تبدیلی نے اپنا اثر دکھایا ہوا ہے۔جنگلات کے کٹائی اور گرین گیسز کے اخراج سے گلیشئرز پگھل رہے ہے۔ ترقی یافتہ ممالک سمندر میں ریڈیوایکٹیو فضلات پھینکنے کے وجہ سے آبی حیات کو ختم کرنے کے درپے ہیں ۔اوزون لیئر ز میں دراڑ پڑچکی ہے ۔قدرتی ہوا گندی ہوچکی ہے۔ جنگلات ختم ہونے کی وجہ سے لینڈ سلائڈنگ سے پہاڑ ختم ہو رہے ہیں ۔پانی کی کمی کے وجہ سے زمینیں بنجر ہورہی ہیں۔دنیا میں صاف پانی کی قلت پیدا ہور رہی ہے ۔خدا نہ کریں لیکن قرین قیاس نہیں ہے کہ آئندہ جنگ عظیم شائد پانی پر وقوع پذیر ہوجائے ۔
عالمی برادری ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی کے ایک نئے حکم نامےکے لئے تیار ہے ۔ ترقی پذیر ممالک کو اہم امور جیسےکہ قدرتی وسائل پر اختیار، غربت کے خاتمے کے لئے صلاحیت کی تعمیر، فضلہ ٹھکانے کا نظام ،آزادنہ تجارت اور عالمی منڈیوں تک رسائی،قرض کی ادائیگی ، ضروری ٹیکنالوجیکل وسائل کی منتقلی، صحت کی ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی کارپوریشنز کے نقصان دہ سرگرمیوں کو روکنے سمیت ، ان ممالک کو ترقی کرنے کا حق دینا چاہیے۔ ترقی پذیر ممالک کو دوسری طرف، آبادی پر کنٹرول، جنگلات کے کٹائی، وسائل اور املاک کے حقوق، اور اچھے اسلوب حکمرانی پر توجہ مرکوز کرنی کی کوشش کرنی چاہیے۔
اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے ماحولیاتی تبدیلی کے تباہ کاریوں سے دنیا کو آگاہ کیا گیا ہے ۔پاکستان کے ائین میں دئیے گئے بنیادی حقوق میں ماحولیاتی آلودگی کے متعلق کچھ نہیں کہا گیا ہے۔ دشمنی پر مبنی نظام انصاف صرف شیطان ہی پیدا کرسکتا ہے۔ سادہ الفاظ میں ماحولیاتی تنزلی کو موسمیاتی تبدیلی اور دنیائی تبدیلی سے تشبیہ دیا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں 2009 کو ماحولیات کا سال منایا گیا ہے۔ وزیر اعظم نے باضابطہ طور پر وسیع سرمایہ اور انسانی ماحولیاتی تباہ کاری کی قیمت چکانے پر بات کی۔ ماحولیاتی آلودگی اور ماحولیاتی تبدیلی اٹھارویں ترمیم کے توسط سے صوبوں کی ذمہ داری گردانی گئی ہے۔1972 ءمیں اقوام متحدہ سے منظور شدہ مسودے میں انسانی ماحولیات پر سٹاک ہولم میں کانفرنس منعقد کی گئی ۔ماحولیاتی تبدیلی ایک عالمی مسئلہ ہے اس کے اثرات کو دیکھنے کےلئے کوئی سرحد نہیں یعنی پوری دنیا اس تبدیلی کے زد میں ہے ۔آرٹیکل پندرہ آئین پاکستان کے مطابق جہاں پر تباہی اور ہلاکت کا سنجیدہ خطرہ ہو ،وہاں پر خطرے سے نبرد آزما ہونے کے لئے اثر انگیز اقدامات کئےجائیں گے،تاکہ اس پر قابو پایا جاسکے۔یہ اس وجہ سے ملتوی اور ٹالے نہیں جا سکتے کہ سائنسی ریسرچ اور سٹیڈیز مشکوک مبہم اور دو ٹوک نہیں ہے۔یہ مقولہ ہے کہ علاج پرہیز سے بہتر ہے۔ تباہی سے بچنے کے لئے محتاط لائحہ عمل اختیار کیا جاتا ہے۔پاکستان ترقی پذیر ممالک کے زمرے میں آتا ہے۔ یہ ملک اس کا متحمل نہیں ہوسکتا کہ ماحولیاتی آلودگی اور زمین کی ساخت کی تبدیلی پر سائنسی اور مطالعاتی ریسرچ کرے ۔ اگرچہ خاص قسم کے حالات میں سائنسی ریسرچ اور علم کے مطابق استفادہ لیاجا سکتا ہے۔اس وجہ سے ہمیں ان واقعات کے تناظر میں جنگی بنیادوں پر ماحولیاتی آلودگی اورتبدیلی پر قانون سازی کرنی چاہیے۔کم از کم فیلڈ میں موجودہ قوانین میں ترمیم اور ایزادگی کرکے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکتا ہے اور ممکنہ خطرات کو خاطر خواہ حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔
زندگی کے لیے توانائی کے ضرورت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ،جیسے توانائی پیدا کرنا اور اسے تقسیم کرنے کے بغیر ترقی کے اہداف حاصل نہیں کئے جا سکتے ۔ اس لئے ممکنہ خطرات سے بچاواور معاشی اقتصادی ترقی کے لئے ہمیں توازن کےساتھ محتاط طریقہ کار اختیار کرنا پڑے گا۔ یہ اس طرح ہونا چاہیے کہ ہمیں معاشی اور اقتصادی فائدہ ہو اور ممکنہ ماحولیاتی آلود گی، تباہی اور خطرات سے بچاو کا طریقہ بھی معلوم ہو۔
پاکستان انوائرمنٹ پرو ٹیکشن ایکٹ 1997 کو پارلیمنٹ نے منظور کرکے مملکت کو ماحولیات پر قانون دیا ہے۔ پی پا قانون کے خلاف ورزی پر سزا، جرمانہ اور جیل بھی ہو سکتی ہے۔ہوا میں پیدا ہونی والی آلودگی صنعتوں اور پلانٹس کے سرگرمیوں سے نکلتے زہریلی مواد نائٹ روجن آکسائڈ ، الپر آکسائڈ ، ہائڈروکاربن دیو ہیکل مقدار میں خارج ہوتے ہوئے وسیع علاقے میں پھیلتا ہے۔ اس طرح قابل نفرت مواد اور صنعتی فضلہ جات کو رہائشی علاقوں سے دور کرکے اس کا دیکھ بھال کرنا بہت ضروری ہے ۔
تعمیر کے وقت دھول اٹھنے ، صنعتی اور گھریلو فضلہ جلانے پر پابندی کے حوالے سے شعور اور احکامات پر عمل در آمد کرنا ضروری ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان جو کہ ایک زرعی ملک ہے لیکن تاحال زراعت کو وہ ترقی نہیں دی گئی ہے اور نہ ہی کسانوں اور مزدوروں کی اس مد میں خاطر خوا ہ حوصلہ افزائی ہی کی گئی ہے ۔اس لیے کسانوں کو جدید سائنسی اور ٹیکنالوجیکل آلات کی فی الفور ترسیل اور جدید ٹریننگ کیلئے سیمنارز او رقانون سازی کرنی چاہیے ۔ اس طرح کسان ہاریوں کو ملکیتی زمینیں بھی الاٹ کرنی چاہئیں۔
حکومت کو جنگلات کے تحفظ اور نئی پودوں کو لگانے کے لیے اقوام متحدہ کے توسط سے دس اور بیس سالہ منصوبے بنانے چاہئیں۔چھوٹے چھوٹے دریائی اور آبی ڈیم بنانے چاہئیں۔ سمندر ، دریاوں اور نالوں کو گندگی سے پاک رکھنا چاہئے۔ الغرض ہرجگہ خصوصاً سیاحتی مقامات ،پارک ، ہسپتال ،تعلیمی ادارے اور سڑکوں کو پاک صاف رکھنا چاہیے۔ صاف پانی کو پاکستان میں کھلے ریزروائر اور ڈیموں میں بند کرکے اور یا کھلے آسمان ڈیموں سےپانی کو فلٹر پلانٹ کے ذریعے علاقوں میں ترسیل کیا جانا چاہیے۔اس طرح پانی کے مسائل حل ہوناشروع ہوجائیں گے۔ یوں موسمی اثرات) سوکڑہ ( اور خوشک سالی سے بچا جا سکتا ہے ۔ڈیزل ،پٹرول اور گاڑیو ں کے صفائی کیلئے طریقہ کاربناناچاہیے۔صنعتی فضلات اور ٹی ایم اے کی گندگی کے لئے مخصوص جگہوں مختص کرکے ڈمپ کرنی چاہئیں۔انسانی فضلہ اور ہر قسم کے گندگی کو ٹھکانے لگانے کےلیے قانون سازی کرکےمخصوص علاقوں میں ہر قسم صنعتی اور گھریلو فضلا جات ، میڈیکل آلات ، پولی تھین بیگز، پلاسٹک بیگز،پلاسٹک بوتل ، زنگ آلود سریا ،ٹین کے ڈبے اوردیگر گندگی وغیرہ کو دوبارہ قابل استعمال بنانے کے خاطر پلاننگ کرکے اندسٹریاں لگانی چاہئیں۔

ختم شُد۔
وما علینا الا البلاغ المبین ۔
نصیراللہ خان ایڈوکیٹ ہائی کورٹ

نصیر اللہ خان
نصیر اللہ خان
وکالت کے شعبے سے منسلک ہوکرقانون کی پریکٹس کرتا ہوں۔ قانونی،سماجی اور معاشرتی مضامین پر اخباروں اور ویب سائٹس پر لکھنا پڑھنامیرا مشغلہ ہے ۔ شعوراورآگاہی کا پرچار اپنا عین فریضہ سمجھتا ہوں۔ پولیٹکل سائنس میں ایم اے کیا ہےاس لئے پولیٹکل موضوعات اورمروجہ سیاست پر تعمیری ،تنقیدی جائزے لکھ کرسیاست دانوں ، حکام اعلی اور قارئین کرام کیساتھ اپنا نقطۂ نظر،فہم اور فکر شریک کرتا ہو۔ قانون،تاریخ، سائنس اور جنرل نالج کی کتابوں سے دلی طور پر لگاؤ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *