نواز شریف کی وطن واپسی:چند سوال/آغرؔ ندیم سحر

نواز شریف کو وطن واپسی پر جو پروٹوکول دیا گیا اور ان کے لیے میدان صاف کیا گیا،اسے سیاسی زبان میں ڈیل یا این آ ر او کہتے ہیں،ہمیں اس این آر او یا ڈیل پر اعتراض نہیں مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس مرتبہ بھی اس ڈیل کا انجام وہی ہوگا جو گزشتہ تین مرتبہ ہوا؟ڈیل یا این آر او کے تحت بننے والی حکومتیں کم سے کم پاکستان کے مفاد میں نہیں ہوتیں،ان کی پہلی ترجیح اسکرپٹ رائٹر کی خوشی ہوتی ہے۔نواز شریف کو چوتھی مرتبہ لانچ کرنے والوں نے عمران خان کی ضد میں ایک ایسی غلطی کر دی جس کا اندازہ انھیں بہت جلد ہو جائے گا،ایسے کردار ہمیشہ اپنی کہانی خود لکھا کرتے ہیں اور نواز شریف جو ہمیشہ سیاسی ڈیل کے تحت لائے گئے،کیا اس مرتبہ بھی وہی غلطیاں کریں گے،جو گزشتہ تین مرتبہ کر چکے۔ڈیل کے تحت اقتدار کی کرسی پر بیٹھنے والے شروع شروع میں تو محب وطن اور قوم کے پسندیدہ لیڈر ہوتے ہیں مگر اڑھائی تین سال بعد اس حب الوطنی کو نظر لگ جاتی ہے،پھر اسکرپٹ رائٹر بھی اور عدالتیں بھی اس سے بدظن ہوجاتی ہیں اور یوں بنا بنایا کھیل بگڑ جاتا ہے،اس کی تازہ مثال عمران خان ہے۔عمران خان پاکستانی اداروں کے پسندیدہ ترین وزیر اعظم تھے،سول اور ملٹری حکام ایک پیج پر تھے،جو فیصلہ اسکرپٹ رائٹر لکھ رہا تھا،عمران خان من و عن اسے تسلیم کر رہے تھے،پھر جانے عمران خان کو کیا سوجھی کہ انھوں نے اسکرپٹ رائٹر کے فیصلے سے اختلاف کرنا شروع کیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے عمران خان کی مقبولیت اور سیاست کا سورج غروب ہو گیا،آج عمران خان جیل میں ہے اور نواز شریف اقتدار میں آنے کے لیے تیار۔

یہ کھیل گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری ہے،ایک لیڈر مقبول ہوتا ہے تو دوسرا جیل میں اور اگر دوسرا مقبول ہوتا ہے تو پہلا جیل میں،کیا یہ کھیل اب ختم نہیں ہو نا چاہیے،کیاایک کو اقتدار میں لانے کے لیے دوسرے کو جیل میں رکھنا ضروری ہے؟نواز شریف جسے پہلے چور،غدار،ملک دشمن،مفرور مجرم اور اشتہاری تک کہا گیا، اب اسے دوبارہ محبت وطن کہنے والے عوام کاسامنا کر سکیں گے؟آج عمران خان ملک دشمن ہے،غدار ہے،چور اور مافیا کا سرغنہ ہے،کل یہی ادارے اسی عمران خان سے صلح کر لیں تو عوام کیا کہیں گے؟مجھے ذاتی طور پر تو اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے کہ سیاست پر کسے بٹھایا گیا اور جیل میں کسے،میرا تو ایک معصومانہ سوال ہے کہ آخر کب تک اداروں کی لڑائی میں سیاست دان پستے رہیں گے؟نواز شریف ہو یا عمران خان،دونوں کو سمجھ جانا چاہیے کہ یہ لڑائی ان کی نہیں ہے اور نہ ہی یہ لڑائی عوام کی ہے،اس لڑائی سے کسی تیسرے کو فائدہ ہو رہا ہے اور وہ تیسرا جب چاہے گا ،نواز شریف کو پھر اقتدار سے بے دخل کر دے گا،یہی عمران خان کے ساتھ بھی ہوا کیوں کہ میں نے پہلے عرض کی کہ ڈیل اور این آر او کے تحت بننے والی حکومتوں کا انجام انتہائی بھیانک ہوتاہے۔

آج اگر نواز شریف کو یہ لگ رہا ہے کہ وہ جمہوریت کے لیے ناگزیر تھے اس لیے واپس لائے گئے تو یہ ان کی خوش فہمی ہے،اس ملک میں جمہوریت کے لیے سیاست دان کبھی بی ناگزیر نہیں رہے،تحریک انصاف ہے یا نون لیگ اور پیپلز پارٹی،یہ سب جمہوری چیمپئن نہیں ہیں،یہ صرف مہرے ہیں،یہ ٹشو پیپر ہیں جو استعمال ہوتے ہیں اور اس کے بعد ڈسٹ بن میں پھینک دیے جاتے ہیں،ایسے مہروں کی اپنی کوئی زندگی نہیں ہوتی۔میثاقِ جمہوریت کے تحت ان سیاست دانوں کو مل بیٹھ کر سوچنا ہوگا کہ ہم کہاں ہیں،کیوں ہیں اور کیسے ہیں؟نواز شریف نے مینار پاکستان جلسے سے خطاب کے دوران بھی سوال کیا کہ‘‘وہ کون ہے؟’’،کیا نواز شریف کو نہیں معلوم کہ وہ کون ہے اور کیوں ہے؟۔آج اگر ریاست تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے تو اس میں جتنا قصور عمران خان کا ہے،اس سے کہیں زیادہ نواز شریف کا ہے۔عمران خان تو پہلی مرتبہ وزیر اعظم بنا تھا،اس سے غلطیاں ہونا فطری بات تھی،نواز شریف غلطی پر غلطی کیوں کر رہا ہے،تین مرتبہ ملک کا وزیر اعظم رہنے والا شخص اگر چوتھی مرتبہ بھی وہی غلطی کرنے جا رہا ہے تو پھر اس کا مطلب ہے نواز شریف نے چالیس سالہ سیاست سے کچھ نہیں سیکھا،اقتدار کی ہوس میں انسان کو اس درجہ کمزور نہیں ہونا چاہیے کہ اسے اچھے اور برے کی تمیز ہی نہ رہے۔

julia rana solicitors london

میں نواز شریف کو مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ انھیں عدالتوں نے جس طرح ریلیف دیا،پاکستان کی چھہتر سالہ تاریخ میں کسی کو نہیں ملا،انھیں چوتھی مرتبہ وزارت عظمیٰ کی کرسی پر بٹھانے کے لیے ایک مرتبہ پھر ملکی ادارے ‘‘آوٹ آف دی باکس’’جا کر سوچ رہے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ کیا نواز شریف اس مرتبہ پانچ سال مدت پوری کر پائیں گے یا اب کے بار بھی تین ساڑھے تین سال بعد ملکی ادارے ان سے تنگ آ جائیں گے؟یاد رہے ملکی ادارے صرف اس وقت تک آشیرباد دیتے ہیں جب تک آپ ان کے ساتھ ایک پیج پر ہوتے ہیں اور جب آپ کا پیج ان سے الگ ہوتا ہے،وہ پیج ہی پھاڑ کر پھینک دیتے ہیں،یہی ہے ہماری چھہتر سالہ سیاسی تاریخ اور ہمیں اسی تاریخ کے ساتھ زندہ رہنا ہے۔مجھے خوشی ہے کہ نواز شریف پر بھروسہ کرنے اور واپس لانے والوں نے آئین و قانون کی پروا کیے بغیر انھیں سپورٹ کیا اوران پر اندھا اعتماد کیا ،کیا نواز شریف یہ اعتماد بحال رکھ سکیں گے؟نواز شریف اگر جمہوری چیمپئن ہیں تو انھیں لیول پلیئنگ فیلڈ مانگنے کی بجائے کھلا میدان مانگنا چاہیے جس میں تحریک انصاف سمیت ملک کی پندرہ سیاسی جماعتیں ہوں،ان سب جماعتوں کی موجودگی میں نواز شریف الیکشن لڑیں اور یہ ثابت کریں کہ مسلم لیگ نون اب وہ راستہ نہیں اپنائے گی جس کا انجام جیل ہے اوراگر لیول پلیئنگ فیلڈ پہ الیکشن لڑنا ہے تو پھر جیالے ہوں-08 یا نون اور جنون،سب فصلی بٹیرے ہیں،سب جمہوری لبادے میں ڈکٹیٹر ہیں اور ڈکٹیٹر شپ کا انجام وہی ہو گا جو تاریخ میں ہوتا آ رہا ہے۔نواز شریف بارِ دگر مبارک باد قبول فرمائیں اور میری ان گزارشات پر ضرور سوچیں کیوں کہ جمہوری راستہ ہی دیرپا ہوتا ہے،باقی تمام راستے ذلت کے راستے ہیں اور ان کا اختتام جیل ہے۔

Facebook Comments

آغر ندیم سحر
تعارف آغر ندیم سحر کا تعلق منڈی بہاءالدین سے ہے۔گزشتہ پندرہ سال سے شعبہ صحافت کے ساتھ وابستہ ہیں۔آپ مختلف قومی اخبارات و جرائد میں مختلف عہدوں پر فائز رہے۔گزشتہ تین سال سے روزنامہ نئی بات کے ساتھ بطور کالم نگار وابستہ ہیں۔گورنمنٹ کینٹ کالج فار بوائز،لاہور کینٹ میں بطور استاد شعبہ اردو اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔اس سے قبل بھی کئی اہم ترین تعلیمی اداروں میں بطور استاد اہنی خدمات سرانجام دیتے رہے۔معروف علمی دانش گاہ اورینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی لاہور سے اردو ادبیات میں ایم اے جبکہ گورنمنٹ کالج و یونیورسٹی لاہور سے اردو ادبیات میں ایم فل ادبیات کی ڈگری حاصل کی۔۔2012 میں آپ کا پہلا شعری مجموعہ لوح_ادراک شائع ہوا جبکہ 2013 میں ایک کہانیوں کا انتخاب چھپا۔2017 میں آپ کی مزاحمتی شاعری پر آسیہ جبیں نامی طالبہ نے یونیورسٹی آف لاہور نے ایم فل اردو کا تحقیقی مقالہ لکھا۔۔پندرہ قومی و بین الاقوامی اردو کانفرنسوں میں بطور مندوب شرکت کی اور اپنے تحقیق مقالہ جات پیش کیے۔ملک بھر کی ادبی تنظیموں کی طرف سے پچاس سے زائد علمی و ادبی ایوارڈز حاصل کیے۔2017 میں آپ کو"برین آف منڈی بہاؤالدین"کا ایوارڈ بھی دیا گیا جبکہ اس سے قبل 2012 میں آپ کو مضمون نگاری میں وزارتی ایوارڈ بھی دیا جا چکا ہے۔۔۔آپ مکالمہ کے ساتھ بطور کالم نگار وابستہ ہو گئے ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply