پھر خدا نے کُن کہا
چنانچہ یہ دو حروف (کاف اور نون) پیدا ہوئے
غرض ان دو حرفوں کو ملا کر خدا نے اپنی خواہش کا اظہار فرمایا۔کاف کا حرف کلمہ اور نون کا حرف نور ﷺ کی نمائندگی کرتا ہے۔گویا اللہ نے نور سے محبت کے سبب اس کائنات کو تخلیق کیا
نور کے حسن کو دیکھ کر وہ اس قدر مسحور ہوا کہ پس جب اس کی جانب متوجہ ہوا تو وہ نور ﷺ رب کا محبوب ہوا۔قلبی عقیدت، محبت، عزت و احترام کے ساتھ درود و سلام اور مدح سرائی ہمارے پیغمبر و رسول محمدِ مصطفیٰ و احمدِ مجتبیٰ ﷺکی بارگاہِ اقدس میں کہ جن کی ذاتِ مبارکہ سے ہی یہ کائنات روشن، یہ جہاں منور، یہ رونقیں آباد اور یہ رعنائیاں شاد ہیں۔
امتِ مسلمہ کو مبارک ہو وہ سعید گھڑیاں جب تاریخ تھی بارہویں اور دن تھا پیر کا، اُترا جب نور روئے زمین پر ربِ کائنات کا،جب افلاک تھا گردش میں اور ستارے تھے جھلملاتے، جب شبنم کے قطرے ہر سُو بکھر بکھر جاتے اور نسیمِ صبح کے جھونکے فضاؤں کو گدگداتے جاتے، جب جن و بشر پر واہ کیے گئے رحمت کے دروازے اور ایفا کردیے گئے تمام ہی وعدے، جب فرش پر تو خوشی کے گیت گائے ہی جاتے مگر عرشِ معلیٰ پر بھی درود و سلام کے نغمے گنگنائے جاتے۔۔۔ وہ شب بارہویں ہی تھی جب مظہرِ نورِ خدا اپنے تمام ترسرمدی حسن و جمال کے ساتھ جلوہ افروز کیے گئے، زمین و آسمان کا ذرہ ذرہ آپ ﷺ کے نور سے منور ہوتا چلا گیا اور فضامیں ترنم بکھرتا گیا کہ مبارک ہو شہِ ہر دوسرا تشریف لے آئے ہیں۔ مبارک ہو محمد مصطفیٰ تشریف لے آئے ہیں۔
ربیع الاوّل اُمیدوں کی دنیا ساتھ لے آیا
دعاؤں کی قبولیت کو ہاتھوں ہاتھ لے آیا
خدا نے ناخدائی کی خود انسانی سفینے کی
کہ رحمت بن کے چھائی بارہویں شب اس مہینے کی
ازل کے روز جس کی دھوم تھی وہ آج کی شب تھی
ارادے ہی میں جو مرقوم تھی وہ آج کی شب تھی
مشّیت ہی کو جو معلوم تھی وہ آج کی شب تھی
جو قسمت کے لیے مقسوم تھی وہ آج کی شب تھی
اُمتِ مسلمہ کو مبارک ہو یہ شب کہ بلاشبہ یہی وہ شب ہے جب قلب و روح کا گوشہ گوشہ پکار اٹھتا ہے۔۔۔۔ الصلوۃ والسلام اے عظیم المرتبت نبیِ محترم و شاہِ اُممﷺ، الصلوۃ والسلام اے رب ذوالجلال کے ماہتاب و آفتاب، الصلوۃ والسلام اے شافع محشر و شفیع عصیاں، الصلوۃ والسلام اے بلندیوں کی صدر نشین و راحتِ عاشقین، الصلوۃ والسلام اے راہِ ہدایت کے چراغ و اجالوں کے آفتاب،الصلوۃہ والسلام اے موجود و مقصود و مطلوب ذات، الصلوۃ والسلام اے وسیلۂِ کبریٰ و وسیلۂِ کامل، الصلوۃ والسلام اے دائمی و ابدی نور علیٰ نور، الصلوۃ والسلام اے صاحبِ جود و کرم و شہہِ کون و مکاں، الصلوۃ والسلام اے ہادیِ اسلام و فاتح بدر و احد، الصلوۃ والسلام اے وجہہ تخلیقِ کائنات اے رحمت اللعالمین اے محبوبِ رب۔۔۔ الصلوہ والسلام اے محمدِ مصطفیٰ ﷺ! الصلوۃ والسلام یارسول یا حبیب ﷺ!
سلام اے آمنہ کے لعل اے محبوبِ سبحانی
سلام اے فخرِ موجودات فخرِ نوعِ انسانی
سلام اے ظلِّ رحمانی اے نورِ یزدانی
ترا نقشِ قدم ہے زندگی کی لَوحِ پیشانی
سلام اے سرِّ وحدت اے سراجِ بزمِ ایمانی
زہے یہ عزت افزائی زہے تشریف ارزانی
ترے آنے سے رونق آگئی گلزارِ ہستی میں
شریکِ حالِ قسمت ہوگیا پھر فضلِ ربّانی
اُمتِ مسلمہ کو مبارک ہو جشنِ عیدِ میلاد النبی ﷺ کہ بلاشبہ اس روز ہی محمد مصطفیٰ تشریف فرما ہوئے۔ مبارک ہو یہ عید کہ اسی عیدِ مبین کے صدقے دو جہاں میں بہار برقرار ہے۔ مبارک ہو اُس ذات کا جلوہ افروز ہونا جن کا نام نامی محمد ﷺ ہے اور جن کا ذکرتمام جہانوں میں ارفیٰ و اعلیٰ ہے۔ مبارک ہو صبح کو کہ شمس الضحیٰ تشریف لے آئے، مبارک ہو شب کو کہ بدر الدجیٰ تشریف لےآئے، مبارک ہو فضا کو کہ بادِ صبا تشریف لے آئے، مبارک ہو افلاک کو کہ ماہتاب تشریف لے آئے، مبارک ہو کشف کو کہ اسرارِ حق تشریف لے آئے، مبارک ہو مظہر کو کہ انوارِ حق تشریف لے آئے، مبارک ہو نوعِ انسانی کو کہ صادق و امین، پیکرِتسلیم و رضا صدق وصفا، دافع رنج و بلا، محبطِ وحیِ خدا، عرش کے مسند نشیں اور بزمِ خلوت کے مکیں محمدِ مصطفیٰ ﷺ تشریف لے آئے ہیں۔مبارک ہو اُمتِ مصطفیٰ کو کہ صاحبِ رجعتِ شمسِ شقُ القمر، فاتحِ بابِ نبوت، ختمِ بابِ رسالت، خلق کے دادرس، ہر ایک کے فریاد رس،آئینہِ حق نما، سرتاجِ رفعت، نسخۂِ جامعیت، مطلعِ الفجر الحق، چشمۂِ علم و حکمت، مظہرِ کُن، سیّد الانبیاء، امین و مامون، حبیب ومحبوب محمدِ مصطفی، احمدِ مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ہیں۔
مبارک ہو کہ دَورِ راحت و آرام آپہنچا
نجات دائمی کی شکل میں اسلام آپہنچا
مبارک ہو کہ ختم المرسلین تشریف لے آئے
جنابِ رحمت اللعالمین تشریف لے آئے!
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں